ابراہیم موسی کے ساتھ میرا تعلیمی سفر

By Mohammad Ali, WordForPeace.com

محمد علی

(ریسرچ فیلو، شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی)

2017 کا سال تعلیمی لحاظ سے میرے لئے بہت اہم ہے۔ سال کی ابتدا سے ہی مجھے ان علوم کو پڑھنے کا موقع ملاجن کی میں صرف خواہش ہی کیا کرتا تھا۔ ایک ڈسیپلن کی حیثیت سے اسلامک اسٹڈیز کی وسعت و اہمیت کا اندازہ بھی مجھے اسی سال ہوا۔

ہوا یہ کہ سال کے شروع میں ہی میری تفصیلی ملاقات ڈاکٹر وارث مظہری سے ہوگئی۔ تفصیلی سے میری مراد یہ ہے کہ میں انہیں جانتا تو پہلے سے تھا لیکن ان کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا موقع مجھے دسمبر کے آخری دنوں میں ہی حاصل ہوا۔ اور جب مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ ایک عالم آدمی ہیں تو پھر میں ان کے پیچھے لگ گیا۔ پھر ان کی وساطت سے حصول تعلیم کے مجھے جو بے شمار  مواقع ملے ہیں، اس کے لئے میں ان کا ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔

7 جنوری 2017 میں  یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کی جانب سے ہندوستانی اور پاکستانی مدارس کے طلبہ  کےلئے “مدرسہ ڈسکورسس“کے نام سے ایک علمی پروجیکٹ کا آغاز ہونا تھا۔ اس اہم پروجیکٹ کا مقصد  فارغین مدارس  کو عہد وسطی اور عہد جدید کی علمی روایات سے روشناس کرانا تھا تاکہ وہ وسیع النظری اور وسیع الفکری کے ساتھ مسلمانوں کو درپیش علمی و فکر ی مسائل  کا حل تلاش کرسکیں۔ ڈاکٹر مظہری نے مجھ سے اس کا تذکرہ کیا ۔ چونکہ اس کی اہمیت مجھ پر قبل از وقت ہی واضح ہو گئی تھی اس لئے اصرار کر کے میں بھی اس کے ابتدائی اجلاس میں شامل ہو گیا۔ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس پروجیکٹ کے روح رواں اور عالمی شہرت یافتہ مسلم دانشور پروفیسر ابراہیم موسی، جو فی الحال یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم میں اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دے رہیں،وہ بھی اسپروجیکٹ کی  ابتدائی تقریب میں شامل ہوں گے۔ یہ نام میرے لئے نیا تھا، اس کی وجہ ہمارے یہاں کا فرسودہ تعلیمی نظام ہے جو طلبہ کی ذہنیت کو فرسودگی کے خول سے باہر آنے ہی نہیں دینا چاہتا۔ لیکن بھلا ہو انٹرنیٹ کا کہ اس نے بڑی حد تک اس نظام کے منصوبوں پر پانی پھیر رکھا ہے۔ میں نے فورا ہی انٹرنیٹ کے ذریعہ ابراہیم موسی کے متعلق معلومات حاصل کی۔     مجھے علم ہوا کہ بنیادی طور پر آپ کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے، لیکن آپ ہند نژاد ہیں۔ آپ نے مذہبی تعلیم       ہندوستان کی عظیم تاریخی درسگاہوں، دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃالعلما سے حاصل کی۔  ابراہیم موسی کا علمی سفر مدارس کے دوسرے طالب علموں کی طرح فراغت کے بعد تھما نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹیز کا سفر شروع کیا، اوریہاں انہوں نے عہد وسطی کے مسلمانوں کی کھوئی ہوئی قدیم علمی وراثت کو دوبارہ حاصل کیا۔ دوبارہ حاصل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ مدرسوں میں سیکھا تھا وہ بہت ہی مجرد انداز کا علم تھا۔ اس کی ترکیب انہیں سمجھ نہیں آتی تھی۔( یہ بات سچ ہے، اور جنوبی ایشیا کے مدارس میں زیر تعلیم تقریبا ہر طالب علم کو اس پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے) ۔

 لیکن جب انہوں نے جدید سماجی علوم اور فلسفے کا مطالعہ کیا  تو ان پر ان علوم کی ترکیب واضح ہو گئی  کہ کیسے انہیں موجودہ دور کے فریم ورک میںفٹکیا جا سکتا ہے، یا آج ان سے کیسے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ ابراہیم موسی کی اسلامی علوم کے ساتھ دلچسپی ، ان کی جستجو  میں گزرے ایک لمبے اور دلچسپ سفر کی روداد کا  مطالعہ ان کی کتاب What is a Madrasa? میں کیا جا سکتا ہے۔ میں نے حال ہی میں اس کتاب کا مطالعہ کیا ہےاور میں سمجھتا ہوں کہ مدرسے کے ہر ایک طالب علم کو اسے ضرور پڑھنا چاہئے۔ یہ کتاب  ایک اعتبار سے خودنوشت ہے جس میں احساس ہوتا ہے کہ مصنف  ایک شاندار عمارت کے ملبے پر کھڑا ہو کر ، یاد ماضی سے لطف اندوز ہونے کے بجائے، اس کی تعمیر جدید کی فکر میں لگا ہوا ہے۔ وہ اس عمارت کی خوبیوں اور خامیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ پڑھنے والے کو مصنف کی ہوشمندی کا احساس ہوتا ہے ۔ مصنف یہ باور کراتا ہے کہ ماضی کی حس جمالیات موجودہ دور کی حس سے مختلف ہے۔ لہذا اب اس کی فکر کا ارتکاز اس پر ہے کہ کیسے اس ٹوٹی پھوٹی عمارت کو آج کے جمالیاتی پیرائے میں ڈھالا جائے۔ عمارت سے میری مراد مدرسے کی تعلیمی روایت ہے۔ میرے خیال سے ایک مدرسےکے طالب علم کے قلم سےلکھی گئی  اپنے موضوع پر یہ و احد اور اہم کتاب ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر وارث مظہری نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کر دیا ہے، حالانکہ زیور طباعت سے آراستہ ہو کراس کا منظر عام پرآنا  ابھی باقی ہے۔اب اردو داں حضرات بھی اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں!

خیراصل بات ذراپیچھے رہ گئی۔ ڈاکٹر مظہری کی زبان سے ابراہیم موسی کے تذکرے سن کر ان سے ملنے کا ایک شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ شاید 4 جنوری کو ہندوستان آئے تھے۔  ان کا قیام سوریہ ہوٹل میں تھا؛ یہ ہوٹل جامعہ ملیہ اسلامیہ سے قریب ہے۔ ان کے ہوٹل کےاتنے قریب ہونے کی وجہ سے ہم ان سے آسانی کے ساتھ ہوٹل میں جا کر ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن میری ان سے ملاقات 6 جنوری کو جامعہ کے ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز میں ہوئی۔ یہاں انہیں ایک لیکچر دینے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ اگر مجھے ٹھیک سے یاد ہے  تو انہیں جو موضوع دیا گیا تھا وہ اسلامک اسٹڈیز کا نیچر اور امریکی جامعات میں اس کے لئے مواقع کے عنوان پر مشتمل تھا۔ ڈپارٹمنٹ کے تمام اساتذہ اور اکثر طلبہ موجود تھے۔ ڈاکٹر وارث مظہری نے ابراہیم موسی کا تعارف پیش کیا۔  ابراہیم موسی نے لیکچر کے دوران اسلامک اسٹڈیز کو لے کر مختلف ایپروچیس کی وضاحت کی اور موجودہ دور میں ان میں  سے کن کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے اسکا ذکر کیا۔ انہوں نےاس بات پر زور دیا کہ ہمیں غزالی اور دوسرے اسلامی مفکرین و دانشوروں کو مجرد انداز میں نہیں پڑھنا چاہئے۔ ہمیں ان کے نظریات کی موجودہ عہد میں معنویت تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ان دنوں میں اس بارے میں سوچ رہا تھا کہ علمی حلقوں میں مذہب اور اخلاقیات کے تعلق سے جو بحثیں ہوتی ہیں عوام اس سے بالکلیہ ناواقف ہوتے ہیں اور یہ بحثیں چونکہ اتنی دقیق ہوتی ہیں کہ وہ انہیں سمجھ بھی نہیں سکتے، لہذا مجھے یہ خیال ہوتا تھا کہ اگر عوام ، جو سماج کا بڑا حصہ ہوتے ہیں ، ان مباحث سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے تو پھر ان سب کا فائدہ کیا ہے!

لیکچرکے ختم ہونے پر ابراہیم موسی سے میں نے اپنے اس خیال کو سوال کے طور پر پیش کیا۔انہوں نے اس کے جواب میں جو بات کہی اس کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ان مباحث کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ اسکالر حضرات انہیں عوام تک پہنچایئں تاکہ وہ بھی ان سے استفادہ کر یں اور ایک پڑھا لکھا سماج وجود میں آسکے۔

لیکچر ختم ہونے کے بعد ابراہیم موسی اساتذہ کے ساتھ چائے پانی  میں مشغول ہو گئے۔ یہاں ان سے ملنے کا کوئی موقع نہ تھا؛ حالانکہ میں ان سے ملنے کے لئے بڑا بےچین تھا۔ لیکن وارث مظہری نے چونکہ مجھے ان سے ملوانے کا وعدہ کیا تھا تو ایک گونہ اطمینان کی کیفیت بھی تھی۔وہ جمعہ کا دن تھا۔ چائے پانی سے فارغ ہونے کے بعد ابراہیم موسی نے جامعہ کی مسجد میں ہی  وارث مظہری اور پروفیسر محمد اسحق، جو ہمارے شعبے کے ہیڈ بھی ہیں، کے ساتھ جمعہ کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں مسجد کے دروازے پر کھڑا انتظار کر رہا تھا کہ اب یہ لوگ نکل کر آئیں اور میں ابراہیم موسی سے ملاقات کروں۔ سردیوں کے دن تھے، کوٹ پینٹ میں ملبوس  پروفیسر ابراہیم موسی پروفیسر محمد اسحق اور ڈاکٹر وارث مظہری کے ساتھ سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے۔ میں نےبڑھ کر سلام و مصافحہ کیا۔مجھے تعجب ہوتا ہے کہ لوگ سیاسی اور فلمی شخصیتوں سے ملنے کے لئے کیوں اتنے اتاولے ہوتے ہیں! ہم دیکھتے ہیں کہ اگر اس طرح کا کوئی شخص  لوگوں کے درمیان  پہنچ جاتا ہے تووہ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے لئے یقینا یہ ایک عجیب بات ہے! لوگوں کے عام رویہ کے مقابلے میں مجھے علمی شخصیات سے ملنے کا شوق ہے۔ ان سے بات کرنے میں اور ان کے ساتھ وقت گزارنے میں مجھے سب سے زیادہ لطف آتا ہے۔

مسجد سے نکل کر ہم جامعہ کے مین کیمپس کی طرف گئے۔ ان کے ساتھ چلنے میں  ایک طرح کےفخر احساس ہوتا تھا۔ اس کے بعد کی کچھ چیزیں مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، لیکن  اسی دن شام کے تقریبا پانچ بجے ہم لوگ( ابراہیم موسی، وارث مظہری اور میں)  کمیونٹی سینٹر پہ تھے۔ یہیں ہم نے شام کا کھانا کھایا۔ یہ جگہ سوریہ ہوٹل کے پاس ہے جسے لوگ  سی سی بھی کہتے ہیں۔ ابراہیم موسی کے ساتھ کھانا کھاتے وقت میں سوچ رہا تھا کہ جہاں لوگوں کو ان سے ملنے کا موقع نہیں مل رہا ہے میں ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہا ہوں۔ میری خوشی اپنی انتہا پر تھی۔ اس دوران میں نے ان سے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق بہت سارے سوالات کئے۔ میرے لئے یہ ایک عجیب بات تھی کہ ہمارے درمیان  عمر، علم اور رتبے کے لحاظ سے جو ایک بڑا فاصلہ تھا  اس کا انہوں نے مجھے بالکل بھی احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ بڑی شائستگی سے میرے سوالوں کے جواب دیتے جاتے تھے۔ بہت جلد ہی میں بے تکلف ہو کر ان سے گفتگو کرنے لگا۔ مجھے احساس ہوا کہ ابراہیم موسی تبادلہ خیال کو بہت اہمیت دیتے ہیں،کیوں کہ جب ہم بولتے بولتے خاموش ہو جاتے تھے تو  وہ پھر کوئی نیا نکتہ چھیڑ کر ایک نئی بحث شروع کر دیتے تھے۔  اس طرح بحث کا ایک لمبہ سلسلہ جاری رہا۔ رات کے تقریبا 10 یا 11بجے ہم انہیں سوریہ  ہوٹل چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کے لئے روانہ ہوئے۔

آئندہ دو دن،  7 اور 8 جنوری ، ہم بہت مصروف رہے۔ ان دو دنوں میں مدرسہ ڈسکورسس پروگرام میں طلبہ کی بھرتی کے لئے تقریری اور تحریری امتحانات ہونا تھے۔ ابراہیم موسی دراصل اسی امتحان کے انعقاد کی سرپرستی اور طلبہ کی بھرتی کے عمل میں براہ راست حصہ لینے کے لئے امریکہ سے ہندوستان آئے تھے۔   مدرسہ کی تعلیمی روایات میں اصلاح  کی طرف ان کی تصنیفWhat is a Madrasa?  ایک علمی کاوش ہے جبکہ اس کتاب میں اصلاح کا جو ایک نقشہ مرتب کیا گیا ہے ،ابراہیم موسی ا س پروگرام کے ذریعہ اس کے انطباق کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔  بعد میں جب امتحان کے نتائج آئے تو 17 طالب علموں کو(ہندوستان سے) اس پروگرام میں شامل کیا گیا، اور تقریبا اتنے ہی یا اس سے کچھ کم طالب علم پاکستان  سے اسی طرح کے امتحان کے ذریعہ اس پروگرام کا حصہ بنے۔  آج اس پروگرام نے کامیابی کے ساتھ ایک سیمسٹر مکمل کر لیا ہے۔ ہندوستان ، پاکستان ، امریکہ اور دنیا  کے دوسرے خطوں  سے اساتذہ ،  طالب علم اور ماہرین آن لائن حاضر ہوتے ہیں اور علمی استفادہ کرتے ہیں۔  ڈاکٹر وارث مظہری (ہندوستان)، مولانا  عمار خان ناصر (پاکستان) اور مہان مرزا (امریکہ) سےاستاذی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میں بھی ایک طالب علم اور وارث مظہری کے معاون کی حیثیت سے اس پروگرام کا حصہ ہوں۔

آٹھ تاریخ کو شام میں ابراہیم موسی کو جامعہ کے قریب میں ہی دو جگہ لیکچر دینے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ امریکہ یا یورپ میں رہنے والے یا کسی ادارے سے منسلک اسکالرس(چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم)  کے لئے ہندوستانی مسلمانوں( اور شائد یہی صورتحال ایشیا کے دوسرے مسلمانوں  کے ساتھ بھی ہو)کے سامنے امن اور خوداحتسابی کی بات کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ سے آنے والی ہر چیز کو یہاں کے مسلمان شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اس میں ضرور اسلام کے خلاف کوئی امرکار فرما ہے۔ اس کا تجربہ مجھے ان دونوں لکچروں کے درمیان بھی ہوا۔ ان سے جو سوالات ہوئے ان  کے مزاج سے یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم موسی مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار صرف امریکہ کو تسلیم کر لیں۔ اسلامک فقہ اکیڈمی (ایفا) میں لیکچر کے دوران تو ایک صاحب آداب مجلس بھی بھول گئے اور زور زور سے چلانے لگے کہ امریکہ کے خلاف دہشت گرد جو کچھ کر ہے ہیں ، وہ صحیح کر رہے ہیں!

 ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ ابراہیم موسی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ذمہ دار مسلمانوں کو مانتے ہیں؟ جب کہ زیادہ تر کا خیال یہ تھا کہ امریکہ کے ایما پر ہی اسے انجام دیا گیا ہے۔  اس بات پر لیکچر کے ختم ہو جانے کے بعد بھی دیر تک بحث و مباحثہ ہوتا رہا۔ بہر حال ایفا سے نکل کر ہم لوگ ذاکر نگر ہوتے ہوئے تقریبا 10 بجے سوریہ ہوٹل پہنچے۔ہم سوریہ ہوٹل کی نچلی منزل کے صحن میں بیٹھ گئے۔ ہم بہت تھک گئے تھے۔  لیکن جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہ ابراہیم موسی تبادلہ خیال کو بہت اہمیت دیتے ہیں، وہ مزید ایک گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ ہم سے مسلمانوں میں سازشی ذہنیت اور دوسرے موضوعات پہ گفتگو  کرتے رہے۔

میں نے اسی دن معروف اسلامی دانشور فضل الر حمن کے ایک مضمون    Living Traditions and the Prophetic Sunnah  کا مطالعہ کیا تھا، اس کے بارے میں بھی ہم نے گفتگو کی۔ اس مضمون میں فضل الرحمن نے پہلی صدی کے مسلمانوں کے واقعات کو سامنے رکھ کر  یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کیسے انہوں نے بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کے تحت خود کوایڈجسٹ کیا، اور اس سے ان کے اسلام میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ ڈاکٹر فضل الرحمن اور ان جیسے مفکرین   تقریبا پچھلی ایک صدی سے مسلمانوں  کے فکری دھارے کو دورجدید سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اس کے بدلے میں انہیں مسلمانوں کا روایتی طبقہ ملعون و مطعون تصور کرتا ہے۔

9 جنوری کی صبح کو ابراہیم موسی سوریہ ہوٹل سے چیک آوٹ کرنے والے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اب آئندہ ان سے علمی استفادے کا موقع ملے گا یا نہیں۔ لیکن، خدا بھلا کرے ایسی علم دوست شخصیت کا! انہوں  نے اس گفتگو کے دوران بتایا کہ نوٹرے ڈیم  یونیورسٹی میں  وہ  آئندہ سیمسٹر میں، جو  23 جنوری سے شروع ہونے والا تھا، ایک    کورس ،Genealogies of Islamic Thought: Counterpoints in the History of Ideas پڑھائیں گے۔ انہوں نے خود ہی اس کورس کو ڈیزائن کیا تھا۔  چونکہ میں ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پچھلے پانچ سالوں سے زیر تعلیم ہوں ، مجھے تجربہ ہے کہ یہاں اساتذہ اس طرح خود سے کورس ڈیزائن کرکے نہیں پڑھاتے۔ بلکہ انہیں یونیورسٹی کی طرف سے ایک بکلٹ کی صورت میں بنا  بنایاکورس ملتا ہے، جو اصل میں بنا کسی ترمیم و اضافے کے کئے سالوں سے ایسے ہی چل رہا ہے۔ اساتذہ اسی کے مطابق پڑھاتے ہیں۔ میں نے بی اے اسلامک اسٹڈیز میں جو نصاب پڑھا تھا وہ دو دہائی پرانا تھا۔ ایم اے کے نصاب کے مشمولات بھی وہی تھے جو بی اے کے تھے، بس ایم اے میں ایک دو پیپر بڑھا دئے گئے تھے تاکہ دونوں جماعتوں کے سلیبس کے درمیان فرق واضح ہو جائے۔ ہم نے جو کچھ بھی کلاس میں پڑھا اس سے یہ سمجھ میں آتا تھا کہ اس نصاب کا مقصد طلبہ کو صرف مسلم تاریخ میں رونما ہونے والے اہم واقعات سے طلبہ کو روشناس کرا دیا جائے  اور انہیں اسلامی تہذیب کی ایک ہلکی سی جھلک دکھا دی جائے۔لہذا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ طلبہ تاریخ و تہذیب کے معنی سے ہی بے خبر رہتے ہیں اور تعلیم کا اصل مقصد فوت ہو کر رہ جاتا ہے۔بہر حال ابراہیم موسی نے اس کورس کا ایک مختصر تعارف پیش کیا ۔ اس کورس کا مقصد اسلام کی علمی و فکری تاریخ کے  اہم متون کا جائزہ لینا تھا، مجرد انداز میں نہیں بلکہ جدید مغربی مفکرین  و تھیورسٹس کے اصول و نظریات سے مقابلہ کرتے ہوئے۔  یہ میرے لئے بالکل نیا موضوع تھا۔وارث مظہری کہتے تھے کہ اس طرح سے بھی ان موضوعات کو پڑھا اور پڑھایا جا سکتا ہے!  مجھے خواہش  ہوئی کہ کاش میں بھی اس کورس میں شرکت کر پاتا! بظاہرتو  یہ ناممکن سی بات تھی۔ اور ناممکن ہی رہتی اگر ابراہیم موسی مجھے اس کورس کو آن لائن جائن کرنے کی دعوت نہ دیتے۔یہ فخر کی بات تھی۔ میں نے فورا ہی ہاں کہہ دی اور آنے والی  23 تاریخ کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا۔

        اس واقعے کے بعد میں ابراہیم موسی کی شخصیت سے نہایت متاثر ہوا۔مجھے اپنی کلاس میں شامل کرنا ان کے فرائض میں شامل نہیں تھا۔ اور بہر حال باہر کے طالب علم کو آن لائن مدعو کرنا خود بھی ایک زحمت کا کام ہے۔ لیکن انہوں نے یا تو حصول علم کے لئے میرے ذوق کو دیکھ کر یا پھر اشاعت علم کے اپنے جذبے کے تحت ایسا کیا۔  فروغ علم کے لئے فراخ دلی کی ایسی مثال میرے لئے بالکل انوکھی تھی۔میرے علاوہ دو اور طالب علموں کو اس کورس کو آن لائن  جائن کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔

کورس شروع ہونے سے ایک دن پہلے  بذریعہ ای میل  نوید سنائی گئی کہ  ہمیں اس کورس کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ ای میل ابراہیم موسی کی طرف سے آیا تھا۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی کورس کا تعارف، کورس میں شامل کتب و متون کی فہرست،کلاس کا وقت، طالب علموں کی ذمہ داریوں پر مشتمل ایک تفصیلی خاکہ اٹیچ کر کے بھیجا تھا۔ میں نے اٹیچ منٹ کا پرنٹ کرواکر غور سے پڑھا۔کورس کی کل مدت چار مہینے کی تھی۔ہفتے میں پیر کے دن تین گھنٹے کی صرف ایک کلاس ہونا  تھی، جو دلی کے ٹائم کے حساب سے صبح کے دو بجے سے پانچ بجے تک چلتی تھی۔ میرے لئے اس وقت کلاس کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ مجھے میرے دوست تصنیف حیدر کی طرح رات میں جاگنے کی عادت نہیں تھی۔ لیکن اس کے بنا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس خاکے کے شروع میں ہی کورس کا پورا نام، جو میں نے اوپر ذکر کیا ہے، اور تعارف پیش کیا گیا تھا۔جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے یہ کورس اسلام کی علمی اور فکری تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا  تھا۔ لیکن       اس کورس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ اس پوری تاریخ کے ایک حصے یعنی ،  ابن خلدون کے عہد سے شروع ہوکر یورپ میں دور جدید کے آغاز سے ایک صدی پہلے کے عرصے پر محیط تھا۔ابراہیم موسی نے کورس کے تعارف میں وضاحت کی تھی کہ اس کے تحت  اسلامی مفکرین ، مثلا  ابن خلدون ،کے نظریات اور خدمات کو مجرد انداز میں پڑھنے کے بجائے ، جیسا کہ ہمارے جامعات میں ہوتا ہے، جدید مغربیاور مسلم مفکرین اور تھیورسٹس  جیسے Marshal Hodgson, Collingwood, Michel Foucault, Koselleck, طلال اسد، محمد اقبال، فضل الرحمن، جبری، شہاب احمد وغیرہ کی  اسلام، تاریخ ، فلسفئہ تاریخ ، علم، اور          نظریات سے متعلق ایپروچیس کی مدد سے  علوم کے ان مختلف تصورات و تعبیرات اور سیاق وسباق کا مطالعہ اور تجزیہ کیا جائےگا جن کے تحت اسلامی دنیا میں علمی و فکری نظریات وجود میں آتے رہے۔  چونکہ نظریات اور علوم خلا میں پیدا نہیں ہوتے، انکا  اپنے ارد گرد کے سیاسی اور سماجی ماحول سے گہرا تعلق ہوتا ہے، لہذا جب تک ایک طالب علم علوم و نظریات کو ان عوامل سے ملا کر سمجھنے کی کوشش  نہیں کرتا اسکا مطالعہ ناقص ہی رہتا ہے۔ مطالعئہ فکر اسلامی کے لئے ابراہیم موسی کا ڈیزائن کردہ کورس اس نقص سے پاک تھا۔  انہوں نے مطالعہ فکر اسلامی کے اپنےاس انوکھے طرز کی وضاحتایک لفظ counterpoint  سے کی ہے۔ یہ دراصل فن موسیقی کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی کئی لحنوں کو ایک وقت میں ایک ساتھ ملا دینا  ہے۔ چونکہ یہ لفظ کورس کے نام کا ایک حصہ ہے، یہاں اس کے استعمال سے ابراہیم موسی کی مرادان اسلامی نظریات و ideas  کو ان کے سیاق و سباق سے ملا کر مطالعہ کرنا  تھا۔

        تعارف کے نیچے  منتخب کتب و متون کی ایک لمبی فہرست تھی۔ان کتب و متون کے اکثر مصنفین کے نام میرے لئے نئے تھے اوران میں سے کچھ اسکالرس کومیں  جانتا بھی تھا تو صرف نام کی حد تک۔ مجھے اپنےمضمون (اسلامک اسٹڈیز) سے بے تعلقی اور اپنی کم علمی کا احساس ہوا۔ ساتھ ہی یہ بھی احساس ہوا کہ ہمارے جامعات میں  اس مضمون کے اساتذہ اس کا صحیح حق ادا نہیں کر رہے ہیں۔وہ قدیم notes کی مدد سے ایک ہی چیز کوہر سال دہراتے  رہتے ہیں، لہذا ان کی کلاسز اس طرح کے dynamism  سے عاری ہوتی ہیں۔فہرست دیکھنے کے بعد مجھے یہ تشویش ہوئی کہ ساری کتابیں میں کس طرح حاصل کروں گا۔ ان کی قیمت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے میں انہیں خرید نہیں سکتا تھا۔ خدا جزائے خیر دے ابراہیم موسی کو! انہوں نے بنا میرے کہے ان تمام کتب و متون کی اسکین کوپیز مجھے دوسرے میل کے ذریعہ بھیج دیں۔ میں ان کے اس علمی تعاون سےبھی حیرت زدہ تھا۔ میرے خیال سے ہمیں حیرت  تب ہوتی ہے جب ہم کسی نئی اور عجیب چیز کا تجربہ کرتے ہیں۔  ابراہیم موسی کا اس طرح سے آگے بڑھ کر  مدد کرنا میرے لئے نئی چیز تھی ۔ہمارے یہاں کے علمی حلقوں میں ایسی مثالیں ندارد ہیں۔

ہر کلاس کے لئے ابراہیم موسی نے اپنی صواب دید سے دو یا تین متون کو منتخب کردیا تھا۔ کورس میں شامل ہر طالب علم کی یہ ذمہ داری تھی کہ کلاس سے پہلے ان کا مطالعہ کرے اور اس کی بنیاد پر اپنے سوالات، تاثر، یا کوئی ایسی چیز جو سمجھ میں نہ آئی ہو اسے لکھ کر کلاس سے پہلے ہی  Sakai پر اپلوڈ کردے۔ Sakai ایک طرح کی ویب سائٹ ہے جس میں اساتذہ  اور طالب علم کورس سے متعلق چیزوں کو، مثلا اسائنمنٹ، اپلوڈکر سکتے ہیں۔ ابراہیم موسی اسے ڈائری کہتے تھے۔ اس کے بہت سارے فوائد تھے۔ مثلا  اس طرح طالب علم کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ متن کا اچھی طرح مطالعہ کرے۔ لکھے ہوئے تاثر، اور سوالات استاذ کو اس طالب علم کی ذہنی سطح کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔ اس طرح سےتعلیمی سفر کے دوران استاذ اور شاگرد کا  تعلق مضبوط اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے یہاں یہ حال ہے کہ طالب علم صرف امتحانوں کے وقت ہی مطالعہ میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اور جن متون کا وہ مطالعہ کرتے ہیں وہ کسی پرانے طالب علم کے تیار کئے ہوئے ہوتے ہیں، جن کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ہوتا ہے۔اساتذہ کا تعلق بھی  طالب علموں سے بہت گہرا نہیں ہوتا۔  وہ کلاس روم میں آکر صرف لیکچر دینا ہی کافی سمجھتے ہیں۔ان کی حالت اسلامی عہد زوال سے تعلق رکھنے والے اس مسلمان تاریخ داں کی طرح ہوتی ہے جو تاریخ نگاری کا مطلب صرف واقعات کو  بنا کسی تجزیئےکے نقل کرتے چلے جانا سمجھتا ہے۔

ہمیں شامل کرنے کے لئے نوٹرے ڈیم یونیورسٹی کے ہی ایک کلاس روم میں ، جہاں ابراہیم موسی پڑھاتے تھے، پروجیکٹر ، ویب کیم اور مائکروفون کا انتظام کیا گیا تھا۔  ہمارے علاوہ کلاس میں پانچ مقامی طالب علم ، جو اسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، اور پروفیسر مہان مرزا، جو ابراہیم موسی کے ساتھ ہی اسی یونیورسٹی میں تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں،موجود  ہوتے تھے۔ ان میں سے ایک طالب علم کسی نا معلوم سبب کی بنا پر کورس کو پورا نہیں کر    پایا۔ ایک طالب علم نیکولاس رابرٹس، جو  ابراہیم موسی کے ٹیچنگ اسسٹنٹ بھی ہیں، سے بعد میں میری اچھی دوستی ہو گئی۔ کلاس کے علاوہ ہم اسکائپ کے ذریعہ مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ وہ نہایت محنتی طالب علم ہیں۔ ایک دن میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ایک دن میں کتنا پڑھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک یا دو کتابیں۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا! مجھے نہیں یاد ہے کہ میرے پرانے یا موجودہ ساتھیوں میں، یا میں خود ، یا جن اسکالرس کو میں جانتا ہوں اتنا مطالعہ کرتے ہوں گے۔ میں  مختلف مدرسوں میں آٹھ سال رہا ہوں، لیکن میں نے کسی بھی مولوی صاحب کو یا کسی طالب علم کو سوائے ناول یا درسی کتابوں کے دوسری کتابیں پڑھتے نہیں دیکھا۔ بلکہ جب میں کسی غیر درسی کتاب کا مطالعہ کرتا تو وہ مجھے یہ کہہ کر روکتے تھے کہ اگر یہ سب پڑھوگے تو درس کی کتابیں کب پڑھوگے۔ نیکولاس نے مجھے کتاب خوانی کے کچھ ٹپس بھی دئے۔

اسلامی موضوعات پر نیکولاس کا اچھا مطالعہ ہے۔  ایک مرتبہ گفتگو کے دوران انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس روم کے باہر میری کوئی سماجی زندگی نہیں ہے۔مجھے نہیں سمجھ آیا کہ یہ جملہ انہوں نے شکایتا ً کہا تھا یا یہ بتانے کے لئے کہ وہ زیادہ تر وقت مطالعہ کرتے ہوئے صرف کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تو جب لوگ اپنے کام میں بہت مشغول ہو جاتے ہیں تو پھر اس طرح کی شکایتیں کرنے لگتے ہیں۔ میرا اپنا ماننا یہ ہے کہ  انسان کو زندگی کے ایک شعبے میں مکمل نہیں تو بڑی حد تک کامیابی حاصل کرنے کے لئے دوسرے شعبوں سے تعلق کا تیاگ کرنا پڑتا ہے۔ بنا اس کے وہ اس شعبے میں کوئی بڑی خدمت انجام نہیں دے سکتا۔

        میری حیثیت اس کلاس میں auditor کی تھی۔ یہ اصطلاح بھی مجھے اسی کورس کے دوران معلوم ہوئی۔ اس کا مطلب  یہ ہے کہ ایک طالب علم ذاتی دلچسپی کے تحت صرف سامع کی حیثیت سے کسی کورس میں شامل ہوئے، جہاں وہ صرف اساتذہ کے لیکچرز سن سکتا ہے لیکن بدلے میں اسے کوئی ڈگری وغیرہ نہیں ملتی۔ تعلیمی نظام میں اس طرح کے تصور کی موجودگی اس میں ان خواہش مند لوگوں کے لئے گنجائش اور مواقع پیدا کردیتی ہے جن کا رسمی طور پر اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ کلاس کی شکل یہ ہوتی تھی کہ ایک بڑی سی میز کے سرہانے ابراہیم موسی  بیٹھتے تھے اور ان کے سامنے میز کی دونوں طرف طالب علم، جبکہ کلاس کی نوعیت سیمینار کی سی ہوتی تھی، جس میں لیکچر کی جگہ ڈسکشن کو ترجیح دی جاتی تھی۔ غالبا پہلے ہی کلاس میں ابراہیم موسی نے طالب علموں کو مخاطب کرکے کہا کہ میرے نزدیک کوئی بھی سوال بچکانہ نہیں ہے، یعنی ہر کسی کو سوال ،بلکہ اختلاف کرنے تک کی آزادی تھی۔   ہمارے یہاں کا تعلیمی نظام ان تمام اقدار سے بے بہرہ ہے۔ جس کی وجہ سے یہاں کے جامعات امریکہ یا یورپ کے جامعات کا  کسی بھی طرح سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ڈسکشن کی شروعات کبھی ابراہیم موسی یا ان کے کہنے پر کوئی طالب علم کرتا تھا۔ ابراہیم موسی استاذ کی حیثیت سے کسی مبہم بات کی وضاحت کرتے، کسی سوال کا جواب دیتے یا پھر کسی نکتے کو بیان کرتے تھے۔ وہ کئی زبان کے ماہر ہیں۔ عربی، اور اردو بڑی روانی سے بولتے ہیں۔  ان دونوں زبانوں میں (ان کے علاوہ فارسی اور عثمانی ترکی میں بھی) صدیوں سے اسلام کا  ایک بڑا علمی اور تہذیبی اثاثہ جمع ہو تا رہا ہے۔ اسلامی علوم و ثقافت  کے طالب علم کے لئےان زبانوں سے ( اور خاص طور سے عربی  سے) واقفیت بنیادی طور پر  اہم ہے۔ ابراہیم موسی   اسلامک اسٹڈیز کے طالب علموں کو عربی سیکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ ان سے جب میری دلی میں ملاقات ہوئی تو ان کا پہلا سوال یہی تھا ک، کیا تمہیں عربی آتی ہے؟

        عربی اور اردو سے واقفیت کی وجہ سے  وہ موجودہ جنوبی ایشیا ، عرب ممالک، اور عہد وسطی کی اسلامی علمی و ثقافتی روایات سے بالواسطہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور اسی وجہ سے ان کے اسلام کے مطالعے میں اتنی گہرائی اور ہم آہنگی نظر آتی ہے۔ اور چونکہ وہ انگریزی زبان کے بھی ماہر ہیں ،اس لئے  وہ ان تمام روایات کو مغرب کی موجودہ علمی روایات سے بخوبی جوڑ سکتے ہیں۔ ابراہیم موسی کا شمار دور جدید کے ان اسلامی مفکرین  میں ہوتا ہے جو  روایت کو وقت کے ساتھ بہنے والی غیر منقطع اور مسلسل چیز سمجھتے ہیں، جو ارتقا کرتی رہتی ہے۔ یہ خود میں بڑی اہم بات ہے۔ اس تصور کی بنا پر ہم ماضی کی روایات کو موجودہ دور میں فرسودہ سمجھنے کے بجائے  انہیں حال میں جینے کے قابل سمجھ سکتے ہیں۔ بعض مسلم مفکرین کے بر عکس وہ ماضی کو اس کی خامیوں کے ساتھ قبول کرنے کے قائل ہیں۔ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کہیں کہ ماضی میں ہمارے اسلاف نے یہ غلطی کیوں کی، یا ایسا کیوں کیا؟ اچھائی اور برائی ایک تہذیب کا لازمی جز ہوتی ہیں۔ ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرکے اپنی روایات کو آگے بڑھاتے رہنا چاہئے۔

        ابراہیم موسی کا میں شکر گزار ہوں کہ ان کی کلاس میں مجھے ابن خلدون، شہاب احمد، مشیل فوکو، ہوڈسن وغیرہ جیسے نامور مفکرین کو پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ مطالعہ فکر اسلامی میں  میری دلچسپی اس کورس کے بعد اور زیادہ بڑھ گئی، مجھے اس میں نئی جہتیں نظر آئیں اور مطالعے کا شعور پیدا ہوا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ مجھے ایک اچھے معلم کی سرپرستی میں پڑھنے کا موقع ملا۔

 

Check Also

Rohingya Muslims

Editorial by Maulana Wahiduddin Khan MAULANA WAHIDUDDIN KHAN walks us through the story of the …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *