اسلام میں دہشت گردی کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے:سید محمد اشرف کچھوچھوی

Why Islam has no place for Terrorism! says, the founder-ideologue of the World Sufi Forum

By Word for Peace Special Correspondent

 

اسلام نے امن کا جو پیغام دیا ہے اس میں امن اور سلامتی کی ضمانت صرف امہ کیلئے نہیں سب کیلئے ہے ۔ حضور کو خالق کائنات نے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ۔اسلام میں دہشت گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور اسلام کے نام لیوا کسی بھی حال میں تشدد اور دہشت کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے لیکن تیو نیسیا ، مالی ،مصر ،لیبیا ،شام ،عراق ،سوڈان ،سعودی عرب ،افغانستان ،پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت پوری دنیا کے مسلم ممالک میں کہیں نہ کہیں کو ئی بڑا خلفشار ضرور مچا ہوا ہے ۔ خلفشار مچا نے والے لوگ کسی اور مذہب کے ما ننے والے نہیں ۔ وہ بھی مسلمان ہو نے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن داعش یا بوکو حرام یا طالبان جیسی ہتھیار بند تنظیموں کے بیانات اور ان کے جاری کردہ ویڈیوز دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی پیغام امن کو مسترد کر کے کسی ایسی راہ پر چل پڑے ہیں جس پر اسلام ان کی رہنما ئی نہیں کرتا ۔
ان خیالات کا اظہار حضرت مولانا سید محمداشرف کچھوچھوی (بانی وصدرAIUMB) نے یہاں ناگپور ہاؤس واقع جونا جیل خانہ گنجی پیٹھ میں مرکزی جلوس چشتیہ کے زیر اہتمام ایک اہم میٹنگ کو خطاب کر تے ہوئے کیا ۔ یہ میٹنگ مارچ میں ورلڈ صوفی فورم کے انعقاد کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدکی گئی تھی جس میں ایک بین الاقوامی سیمینار اور رام لیلا میدان میں جلسہ عام کا پروگرام شامل ہے ۔ 17مارچ کو ورلڈ صوفی فورم کے انٹرنیشنل سیمینار کا افتتاح ہوگا ، 18اور 19مارچ کو دو دن بیک وقت کئی ہالوں میں سیمینار منعقد ہو ں گے جن میں آج کی دنیا میں تصوف کی تعلیمات کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جا ئے گا ۔ آخری دن 20مارچ کو رام لیلا میدان میں جلسہ عام ہوگا جس میں دنیا بھر کے صوفیا ، علما،دانشور ،اساتذہ ،اسکالر ،ریسرچ اسکالر ،طلبااور دیگر شعبہ جات زندگی کے نما ئندے شرکت کریں گے ۔
حضرت مولانا سید محمداشرف کچھوچھوی نے مزید کہا کہ ہندوستان میں امن کی بحالی کی ضرورت کا تقاضا ہے کہ ایسا ماحول بنا یا جا ئے جس میں تعلیم ، تہذیب ، تربیت اور روزگار کے مواقع حاصل کر نے کی کوشش میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے ۔ اس لئے صوفیوں کی کوشش سے تشکیل پا نے والی گنگا جمنی تہذیب کو بڑھا وا دینا فرض ہو گیا ہے ۔ ملک میں امن و سلامتی کا قیام اور انسانی رواداری کا تحفظ بہت ضروری ہے ۔ بورڈ اس سلسلے میں کوشاں رہا ہے اور عالمی صوفی فورم کا چار روزہ اجلاس اس سلسلے کا ایک بڑا قدم ہے جسے بحسن و خوبی تکمیل تک پہنچا نا ہم تمام لوگوں کا فرض ہے ۔
مولانا سید عالمگیر اشرف (صوبائی صدر مہاراشٹر(AIUMBنے کہا کہ آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ بورڈ کا مشن اسلامی اوصاف امن و سلامتی ،اخوت اور غیر مشروط محبت کو عام کرنے کا ہے ۔ بورڈ اس کے لئے کوشاں ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کے جمہوری ڈھانچے کے اندر چین کی زندگی گزاریں ۔ سیاسی اور انتظامی امور میں انہیں پوری نما ئندگی ملے اور ملت سے تعلق رکھنے والے معاملات میں ان کی بات سنی جا ئے تاکہ پالیسی بنا نے والے افراد اور ادارے نا واقفیت کی بنیا د پر وہ غلطیاں نہ کریں جو آزادی کے بعد سے ابھی تک کی جا تی رہی ہیں ۔
میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے چھتیس گڑھ وقت بورڈ کے چےئرمین اورسینٹرل وقف کونسل کے ممبر حاجی سلیم اشرفی نے کہا کہ اسلام نے ہندوستان کوخواجہ غریب نواز دیا ہے۔ہمارے ملک میں ہرقوم،مذہب وملت کے لوگ مل جل کررہتے ہیں۔اسلام میں تشدد پسندی اورعدم رواداری کے لئے کوئی جگہ نہیں۔
مرکزی جلوس چشتیہ کمیٹی کے صدر حاجی خلیل برہانی نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ آل انڈیا علماء مشائخ بورڈ ملک کے مسلمانوں کا مضبوط مستحکم اور مخلص نمائندہ ادارہ ہے جس نے دہشت گردی کے خاتمے اور صوفی ازم کو فروغ دینے کی مہم وسیع پیمانے پر شروع کی ہے۔ بورڈ دہشت گردی اورتشددپسندی کے خلاف ذہن سازی میں ایک بڑا رول اداکررہاہے اورورلڈ صوفی فورم کے ذریعہ بھی اس کام کوپاےۂ تکمیل تک پہنچانے میں مددملے گی۔میں ورلڈصوفی فورم کے بینر تلے ایک بڑی میٹنگ کرنے کا موقع دینے کے لئے AIUMBکابہت بہت شکریہ اداکرتاہو اوران لوگوں کابھی شکرگزارہوں جنہوں نے اس میٹنگ کوکامیاب بنانے کیلئے بہت محنت کی۔
میٹنگ میں صوفی ایم کے چشتی (چےئرمین گجرات اقلیتی کمیشین) ،حضرت سید معاذ اشرف،مفتی اعظم مہاراشٹرامفتی عبدالقدریر خان،جناب عبدالرشیدقلندرصاحب، مولانا نعیم رضوی صاحب،مرکزی سیرت النبی کمیٹی کے صدر عبدالحسن تاجی وسکریٹری عبدالرزاق تاجی ،جناب فیصل رنگون والا،جناب شیخ فیروز صاحب،جناب کامل انصاری،حاجی سہیل پٹیل،حنیف پٹیل اشرفی،غیاث الدین اشرفی کے علاوہ بڑی تعدادمیں علماء،ائمہ اوردانشورطبقہ کے لوگ موجودرہے۔

Check Also

Pseudo-Sufis In India: How Tasawwuf (Islamic Mysticism) Is Being Transformed Into Dargahiyyat (Petty Business Of Shrine Custodians)

By Ghulam Rasool Dehlvi, Editor, WordForPeace.com Islam emerged in India as the spiritual legacy of …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *