Extremists misuse the Qur’an in many ways; here’s one instance’امر بالمعروف و نہی عن المنکر’ کے شرعی حدود وضوابط اور متشدد مذہبی جماعتیں: ایک مطالعہ

WordForPeace.com

غلام رسول دہلوی 

 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اسلامی اصول کی آڑ میں انتہا پسند مذہبی جماعتوں نےاسلام کو ایک اخلاقی نظام کی بجائے ایک تفوق پسند سیاسی نظریہ بنا کر پیش کیا……

 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر ((لوگوں کو نیکی کا حکم دینا اور بدی سے روکنا) ایک اسلامی اصول ہے جس کا کا مصدر و ماخذ مندرجہ ذیل قرآنی آیات ہیں:

  • سورہ آل عمران : آیت  110

“(مومنو!) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں”۔

  • سورہ آل عمران : آیت  : 104

“اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں”۔

  • سورہ الاعراف ۔ آیت 157

“وہ جو (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) رسول (الله) کی جو نبی اُمی ہیں پیروی کرتے ہیں جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں۔ اور پاک چیزوں کو ان کے لیے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹہراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سر) پر (اور گلے میں) تھے اتارتے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی۔ اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی۔ وہی مراد پانے والے ہیں”۔

  • سورہ توبہ ۔ آیت 71

“اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے” ۔

 

امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق قرآنی آیات کے مضمرات

 

ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر وأولئك هم المفلحون

‘‘اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں’’۔ ( 3:104 )

مندرجہ بالا آیت میں عربی لفظ ‘يدعون’ کا  مصدر لفظ  ( دعا ) ہے ، جس کا مطلب  دعوت دینا ، بلانا، حکم دینا ، طلب کرنا ، منشیٰ  ظاہر کرنا، وکالت کرنا ،متوجہ کرنا ، راغب کرنا وغیرہ ہے ۔  مذکورہ  الفاظ میں سے کسی سے بھی  اکراہ یا جبر کا معنی ظاہر نہیں ہوتا  ۔ لہذا، لوگوں کو نیکی کی  دعوت دیتے ہوئے طاقت ، جبر ، تشدد، جارحیت، تبدیلیء مذہب (بزور طاقت) یا انسانی حقوق کی کوئی بھی خلاف ورزی واضح طور پر غیر اسلامی ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن نے کئی  مواقع پر اس بات کی مکمل وضاحت کی  ہے کہ  اسلام کی دعوت وتبلیغ   کا طریقہ منصفانہ، پرامن، متوازن ، معتدل، خوش گوار  اور عدم تشدد پر مبنی ہونا چاہئے ۔ یہ امر مندرجہ ذیل قرآنی آیت سے بالکل واضح ہے:

” (اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے رستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے اور جو رستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔ ” (سورۃ النحل 25 )

مندرجہ بالا آیت ہمیں بتاتی ہے کہ لوگوں کو نیکی  کی دعوت دیتے ہوئے  حکمت، نرمی اور رواداری  کا لحاظ ازحد ضروری ہے۔ یہ آیت یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون  راہ ہدایت پر گامزن ہے، اور کسے شقاوت وبدبختی نصیب ہوئی  ہے ۔ لہذا، کسی  بھی انسان کو دوسروں کے بارے میں یہ کہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا کی راہ سے منحرف ہے ، اور اس طرح خود کو راہ ہدایت پر گامزن سمجھتے ہوئے لوگوں کو اپنے خود ساختہ مذہب یا عقیدہ کو قبول کرنے پر بزورطاقت مجبور کرنے کی کوشش کرنے کا بھی  کوئی حق نہیں حاصل  ہے ۔

چونکہ قرآنی آیات کو سمجھنے اور سمجھانے کا سب سے بہترین طریقہ ” تفسیر القرآن بالقرآن ” (قرآن کی تشریح قرآن ہی کے ذریعہ کرنا ) ہے، لہٰذا ہم یہاں ایسی  کچھ متعلقہ قرآنی آیات پیش کر رہے ہیں جو  مندرجہ بالا آیت کی وضاحت کرتی ہیں  اور یہ  ثابت کرتی ہیں کہ  الأمر بالمعروف کا  خدائی حکم حکمت و موعظت  اور محبت  سے بھرپور تبلیغ ، اخلاق حسنہ ، مہربانی ، شرافت  اور خوشگوار وعظ و نصیحت  کا تقاضا کرتا ہے ۔

اللہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو   حکمت کے ساتھ اللہ  کی طرف بلائیں:

(فقولا له قولا لينا لعله يتذكر أو يخشى)

‘‘اور اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ غور کرے یا ڈر جائے’’( : 44 20) ۔

(إن ربك هو أعلم بمن ضل عن سبيله )

(بے شک آپ کا رب سب سے بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بہکا ہوا ہے ) یعنی ، اللہ پہلے سے ہی جانتا ہے کہ کس کی عاقبت خراب ہے  ( مقدر میں جہنم ہے ) اور کس کی عاقبت  اچھی ہے (قسمت میں جنت ہے) ۔ یہ پہلے ہی اس کے ساتھ لکھ دیا گیا ہے اور معاملہ ختم ہو گیا، لہٰذا،  انہیں اللہ کی طرف بلاؤ لیکن طاقت یا جبر استعمال نہ کرو ، اس  لئے کہ انہیں ہدایت دینا تمہارا کام نہیں ہے ۔ تم صرف ایک ڈر سنانے والے ہو، اور تمہارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، اور ان کا حساب و کتاب اللہ ہی کرے گا ۔

(إنك لا تهدى من أحببت)

 (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے) (28:56 )

(ليس عليك هداهم ولكن الله يهدى من يشآء)

 (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ )  (2:72)

( ولا تجدلوا أهل الكتب إلا بالتىهى أحسن إلا الذين ظلموا منهم)

(اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔) (29:46) ۔

اللہ نے انہیں نرمی کے ساتھ بات کرنے کا حکم دیا جیسا کہ اس نے جب موسی اور ہارون کو فرعون کے پاس بھیجا تو انہیں بھی ایسا ہی کرنے کاحکم دیا۔

“امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے لسانی مضمرات

سب سے پہلے ہم عربی لفظ ( أمر ) پر غور کرتے ہیں ۔ عام طور پر لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ یہ لفظ صرف حکم کے نفاذ کےلئے ہی آتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ  أمر ہدایت دینے ،  طلب کرنے ، تاکید کرنے ،حکم دینے، نصیحت کرنے اور  مشورہ کرنے وغیرہ سمیت بہت سے معانی کا احاطہ کرتا ہے ۔

اس تناظر میں أمر کے سب سے مناسب معانی ہیں: ہدایت دینا ، بلانا   اور حکم دینا وغیرہ ۔ اس لئے کہ ان الفاظ میں جبر  کا تھوڑا بھی معنی شامل نہیں ہے۔ آیت سے اس کی مطابقت کی   وجہ کا خاکہ  درج ذیل قرآنی آیت اور احادیث نبوی میں پیش کیا جاتا ہے جن کا استعمال مندرجہ بالا قرآنی آیت کی تفسیروتوضیح کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے:

“خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ” ( 2:185 )

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی تبلیغ میں سختی،  انتہا پسندی، جارحیت ، تشدد اور جبر کی سخت مذمت فرمائی ہے ۔ انہوں نے مذہب کے معاملات میں آسانی، توازن اور اعتدال پسندی پر بہت زور دیا۔ پیغمبر  اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں کہ : “جب کبھی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو راستوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کی ضرورت پیش آئی  تو انہوں نے ہمیشہ مشکل کے بجائے  آسان راستہ منتخب کیا”۔ ( بخاری )

ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا کہ “دین آسان ہے ۔۔۔” [بخاری]

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ، “تمہارا سب سے بہترین مذہب ، سب سے آسان ہے۔” [احمد]

انہوں نے فرمایا کہ  “اللہ نے مجھے  سخت ہونے یا ضرر پہنچانے کے لئے  نہیں  بھیجا ہے  ۔۔۔ بلکہ مجھے سکھانے  اور چیزوں کو آسان بنانے کے لئے بھیجا ہے” [مسلم] ۔

انہوں نے فرمایا کہ “اللہ اس قوم کے لئے آسانی پسند فرماتا ہے اور اس کے لئے  مشقت اور مصیبت کو نا پسند  کرتا ہے۔” [طبرانی] ۔

دین کے معاملات میں آسانی کے لئے اسلامی احکام کو سمجھنے کے لئے ، میں یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے ایک متاثر کن واقعہ نقل کر رہا ہوں:

” ایک بار ایک اعرابی کھڑا ہوا اور مسجد میں ہی پیشاب کرنا شروع کر دیا. لوگوں نے اسے پکڑ لیا ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑنے کا حکم دیا اور اس جگہ  پر  ایک بالٹی یا ایک گلاس پانی ڈالنے کے لئے کہا جہاں اس نے پیشاب کیا تھا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “تم چیزوں کو آسان بنانے کے لئے بھیجے گئے ہو مشکل بنانے کے لئے نہیں” [بخاری] ۔

چونکہ زبردستی دوسروں کونیکی کا حکم دینا یا برائی سے روکنا نہ تو آسان طرز عمل ہے اور نہ ہی پر امن اور مہذہب طریقہ کار ہے-  لہٰذا بہتر یہ ہو  گا کہ ہم قرآن میں اس سیاق میں مذکور لفظ “أمر” سے طاقت یا ہاتھ کا استعمال کرکے کسی حکم کا نفاذ مراد لینے کی بجائے تجویز ، ہدایات یا مشورہ کا معنیٰ اخذ کریں  (اس لئے کہ تبلیغ کے یہ  تمام طریقے  بالکل آسان ہیں ) ۔

اب رہ گئی صحیح مسلم کی وہ مشہور حدیث جو حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ :”تم میں سے جو کوئی منکر کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے ہاتھ سے، اگر اس کی قدرت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اور اس کی بھی قدرت نہ رکھتا ہو تودل سے اس کا ازالہ کرے۔اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے”۔  تو اس کی تشریح میں امام قرطبی نے کیا خوب واضح کیا ہے کہ:

’’علما کا قول ہے کہ معروف کا حکم (یا منکر کا انکار) قوت کے ذریعے حکام کی ذمہ داری ہے، زبان کے ذریعہ علما کی ذمہ داری ہے اور دل کے ذریعے عوام الناس کی ذمہ داری ہے‘‘(الجامع لاحکام القرآن :ج،۴ ص،۲۳)

لیکن دین اسلام کی سیاسی تعبیر ماننے والے  متشدد گروہ جب امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی بات کرتے ہیں تو مذکورہ  بالا تمام  قرآنی آیات اور مستند احادیث  کوچیلنج کرتے ہوئے، انتہا پسندی، اکراہ وزبردستی اور بنیاد پرستی کا راستہ اختیار  کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے ان کا اعتقادی رشتہ  بعض اسلامی نظریہ سازوں  کی انتہا پسندانہ تشریحات سے ملا ہوا ہے۔ اب آئیے اس طرح کی بعض تحریروں پر ایک نظر ڈالیں جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے نام پر ہاتھ اور طاقت  (تشدد ) کا استعمال کرنے والی  ہر جماعت  یا فرد کو  مذہبی جواز فراہم کرتی  ہیں. مَثَلاً: شیخ  ابن تیمیہ  اپنی کتاب ‘‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر’’ (ص 6) میں لکھتے ہیں:

“چونکہ جہاد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کمال کا ایک حصہ ہے، لہٰذا یہ بھی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ کسی بھی اجتماعی ذمہ داری کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگ جو اس کام کے قابل ہیں  اگر پیش قدمی نہیں کرتے تو  اس زمانے میں ہر شخص اپنی  صلاحیت کی حد تک گنہگار ہو  گا ۔ ایسا اس وجہ سے  ہے کہ جب کبھی اس کی  ضرورت پڑے تو ہر مسلمان مرد اور عورت پر  ان کی صلاحیت کی حد تک اس میں تعاون کرنا فرض ہے ۔ “

جہاں تک قرآنی سیاق کی بات ہے تو ‘‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر’’ کا مفہوم و مقصود بھلائی، اچھائی، نصیحت  یا حق کی تلقین ہے ۔ مذکورہ بالا قرآنی آیت میں وارد لفظ “معروف” ایک ایسا عربی کلمہ ہے  جو لغوی طور پر ‘‘معلوم’’ ، ‘‘مسلمہ’’،  ‘‘تسلیم شدہ’’ اور ‘‘مقبول’’ جیسے معنیٰ اور اس کے مترادفات کو شامل ہے ۔ اصطلاح اسلامی میں ‘المعروف’ ان تمام چیزوں کو شامل  ہے جنہیں اسلام میں نیک اور خیر سمجھا جاتا ہے ، مثلاً اللہ تعالی کی عبادت ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ، حسن اخلاق، ضرورت مندوں کی مدد، فلاحی ورفاہی خدمات، دوسروں کے بوجھ کو ہلکا کرنااور  لوگوں کے حقوق کو پورا کرنا وغیرہ ۔

سر دست یہاں ایک حدیث پیش خدمت ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ “میری امت کبھی بھی  گمراہی پر متفق نہیں ہوگی ۔” اس حدیث کو پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ  ایک پورے  معاشرے کی  اتفاق رائے اخلاقی اور قانونی اتھارٹی ہوتی ہے ۔ اس حدیث کے مطالعہ کے بعد کسی فرد یا اسلامی جماعت کو کسی بھی  کمیونٹی پر ان کی اتفاق رائے کے بغیر کوئی حکم یا فرمان نافذ کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں زبردستی ان سب پر مذہب کی خود ساختہ تشریح کو نافذ کرنے کا حق ہے  ۔ لیکن  انتہا پسند جماعتیں  زبردستی تمام مسلمانوں پر نہ صرف یہ کہ مذہب کی خود خودساختہ تشریح نافذ کرتے ہیں ، بلکہ اگر وہ انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو  ان پر سخت مظالم ڈھاتے ہیں ۔

نہی عن المنکر

المنکر ہر اس چیز کو شامل ہے جو اسلام میں بری سمجھی جاتی ہے ، مثلاً اللہ کی نافرمانی کرنا، نبی صلی اللہ علیھ وسلم کے احکامات سے روگردانی کرنا اور لوگوں کے ساتھ برا سلوک کرنا وغیرہ ۔ بعض مفسرین خطاء کرتے ہیں جب وہ المنکر  کے معنیٰ کو صرف بت پرستی ، شرک اور الحاد کے معنی تک ہی محدود کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ المنکر میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جنہیں اسلام نے حرام کیا ہے ۔

انتہا پسند جماعتیں اپنے  سیاسی مفادات کے حصول  کے لئے  اسلام کے تصور  “نہی عن المنکر” کا بھی خوب بےجا استعمال کرتی ہیں ۔ اگر چہ یہ ایک ایساجامع لفظ ہے جو ان تمام چیزوں کا احاطہ کرتا ہے جنہیں اسلام نے ممنوع قرار دیا ہے، لیکن ان کی نگاہیں صرف ایک معنیٰ  پر ٹکی ہوئی ہیں  اور وہ ہے  بت پرستی، جس کا مقصد ان کی ریاستوں میں رہنے والے دیگر مذہبی اقلیتوں کے مذہبی عقائد و معمولات، مقامات مقدسہ مثلا کنیساؤں، گرجا گھروں اور مندروں کو ڈھانا ہے ۔ صرف یہی نہیں، وہ لفظ “المنکر” کا استعمال اولیائے کرام  کے مزارات اور مقبروں  کو منہدم کرنے کے لئے  بھی کرتے ہیں، اور اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ صوفیائے کرام  کا احترام کرنے اور ان کے لئے مقبرے اور مزارات بنانے سے  توحید میں شگاف پڑ جاتی ہیں  اور یہ اولیاء اللہ کو خدا کے ساتھ ملانے، یعنی شرک کا ارتکاب کرنے کے مترادف ہے ۔ لہذا، یہ ان کی نظر میں “المنکر” کی ایک سنگین شکل ہے۔

لفظ ‘منکر’ کی تشریح کرتے ہو ئے شیخ ابن تیمیہ  لکھتے ہیں:

” جہاں تک  منکر  کی بات ہے جسے اللہ اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے ، اس کی آخری اور بدترین شکل اللہ کے ساتھ کسی کو  شریک ٹھہرانا ہے۔ شریک  کا مطلب اللہ کے ساتھ کسی فرد  یا کسی اور چیز کی عبادت کرنا ہے۔ اور شریک سورج، چاند، ستارے یا سیارے، فرشتہ، نبی، نیک اورصالح بندہ یا صوفی شیخ، جنات، تصاویر یا ان میں سے کسی کی قبر یا ہر وہ ایسی چیز جسے ماسواء اللہ  (عزوجل) کہا جاتا ہے۔ شرک  کا مطلب ان میں سے کسی  سے مدد مانگنا  یا مصیبت میں دستگیری کی التجاء کرنا  یا ان میں سے کسی کو سجدہ کرنا بھی ہے۔ وہ تمام اور ان جیسی کوئی بھی چیز شرک ہے اور اس کے تمام نبیوں کی  زبان کے ذریعے اللہ نے انہیں ممنوع قرار  دیا ہے۔”

( ابن تیمیہ ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر)

در اصل، موجودہ دور میں مقبروں اور مزاروں کو تباہ کرنے والے متشدد نظریہ کی جڑیں انہی فقہی عبارات سے پیوست  ہیں جو شیخ ابن تیمیہ نے پیش کی ہیں- بعد کے ادوار میں اس نظریہ کی اشاعت ان کے زبردست پیروکار محمد ابن عبدالوہاب نے بھی “المنکر” کے نام پر کی ۔

‘‘امر بالمعروف و نہی عن المنکر’’ کی یہ اصطلاح حسبہ (تصحیح یا تجزیہ )کے اسلامی اصول کے لئے بھی بنیاد فراہم کرتی ہے جو کہ  تمام مسلمانوں کے لئے اسلامی نظریے کے ایک مرکزی حصہ کی تشکیل کرتی ہے ۔

لیکن آج سعودی عرب کے مطوعین “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کے نام پر جو کر رہے ہیں اسے اس اندوہناک  واقعے میں دیکھا جا سکتا ہے جسے بڑے پیمانے پر عالمی ذرائع ابلاغ اور خود بعض سعودی اخبارات نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ یہ واقعہ 11 مارچ ، 2002 کو  مکہ میں رونما ہوا  جب مطوعین نے ایک جلتے ہوئے اسکول سے طالبات کو  فرار ہونے سے روک لیا، جس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے  سر پر اسکارف نہیں پہنا تھا  اور ان کے ساتھ کوئی مرد حاکم (قوام) نہیں تھا ۔ اس قسم کے ” امر بالمعروف و نہی عن المنکر “ کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ 15 لڑکیوں کی جانیں گئیں  اور 50 زخمی ہو گئیں۔ اس کے علاوہ کمیشن مبینہ طور پر مالی اور انتظامی بدعنوانی کے لئے تنقید کی زد میں آ چکی ہے۔ ایک سعودی اخبار ” عکاظ ” ( Okaz )کے مطابق سعودی عرب کی ایک اینٹی کرپشن کمیشن ” Nazaha ” نے کہا کہ کمیشن کو مبینہ خلاف ورزیوں کے تعلق سے ایک شکایت موصول ہوئی ہے اور یہ کہ تحقیقات کا آغاز کیا جانا چاہئے ۔

آج کے انتہا پسند گروہ جب عام امن پسند شہریوں کو مارتے ہیں، معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں، تشدد کا ارتکاب کرتے ہیں، فرقہ وارانہ فساد کی وجہ بنتے ہیں  اور اپنے سوا دوسرے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دینے اور انہیں قتل کا مستحق قرار دینے کی حد تک چلے جاتے ہیں، تو اس وقت یہ گروپ بزعم خویش نیکی کا حکم دیتے ہیں(امر بالمعروف) اور برائی سے روکتے ہیں (نہی عن المنکر) ۔ وہ یہ یقین کرتے ہیں کہ ایسا کرکے مکمل طور پر وہ اللہ کی اطاعت کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کے قائم کردہ حدود سے انتہائی حد تک تجاوز کرچکے ہیں ۔

اسلامی تاریخ میں ایسی  بہت سی  منحرف اور گمراہ مسلم جماتیں گزری ہیں  خود کو نیکی کا حکم دینے اور بدی سے روکنے والا  مانتی  تھیں  ۔ ان میں سب سے زیادہ متشدد خوارج تھے جن کی جدید اور مختلف شکلیں ہیں، جو کہ اپنے نظریات کی انتہاپسندی کی وجہ سےسب سے زیادہ نقصان دہ، جنونی،  زن بیزار، تمام انسانی معاشرے کے لئے ضرر رساں  اور بنیادی اسلامی اقدار سے صریحا متصادم ثابت ہو چکی  ہیں۔ وہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہیں کہ اللہ نے ” امر بالمعروف و نہی عن المنکر “ کی اصول کی روشنی میں کس چیز کا حکم دیا  ہے، اس کے بار خلاف چلتے ہوئے وہ ‘تغییر منکر’ جگہ ‘تغییر معروف’ میں مبتلا ہیں۔ مذہبی تشدد پسند جماعتوں کے نزدیک اس کا مطلب اس وقت تک ایک  عالمی  جہاد لڑنا  ہے جب تک کہ پوری  زمین پر  ان کا قبضہ نہ ہو جاۓ اور وہ اسلام کے نام پر اپنی مکمل ریاست قائم نہ کر لیں ۔ اس قسم کے ” امر بالمعروف و نہی عن المنکر ” کی وجہ سے پیدا ہونے والا فساد اور افراتفری اس ممکنہ اچھائی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جو کہ اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہے ۔

اس ضمن میں مولانا وارث مظہری کا یہ خلاصہ قابل مطالعہ ہے:

“ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں اور ان سے وابستہ افراد کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ انکارمنکر کے تعلق سے شریعت کا صحیح فہم حاصل کرنے اور اس کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔شریعت مسائل پیدا کرنے کے لیے نہیں مسائل کو رفع کرنے کے لیے آئی ہے۔شریعت کے اجتماعی احکام کی تنفیذ میں خاص طورپر شریعت کے مصالح ومقاصد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے او ر متفقہ طو ر پر ان مقاصد ومصالح کا تعین اور لحاظ موجود حالات و واقعات اور تجربات کی روشنی میں کیا جاتا ہے نہ کہ محض اصول ونظریات کی روشنی میں۔ اس کے بغیر اسلام کی حمایت و سر بلندی کے لیے کیا جانے والا عمل ،خواہ وہ کتنا ہی مخلصانہ کیوں نہ ہو،اسلام کے ساتھ محض نادان دوستی اور اس کو ڈھادینے والا عمل ہے”۔

  دیکھئے  مولانا وارث مظہری کا مضمون “تغییرمنکر کے شرعی حدود وضوابط (tajdid.irst.in)

Check Also

How Indian women smashed patriarchy in a backward region

WordForPeace.com Once very suppressed, women in a community in the impoverished Bundelkhand region of central …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *