انتہا پسندی کے خلاف مذاہب عالم کے دانشوران اتحاد قائم کریں: غلام رسول دہلوی

دہلی میں فرانس کے بین المذاہب وفد کا مسلم، عیسائی اور ہندو اسکالرز سے مکالمہ

Muhammad Farman Nizami (Word for Peace)

محمّد فرمان نظامی،  ورڈ فور پیس

نئی دہلی: جمعہ، ١١، دسمبر    

 دہلی کے علاقہ جنگ پورہ میں واقع  انٹر فیتھ کولیشن  فور پیس کے زیر اہتمام ایک بین المذاہب مکالمہ کا پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں ملک وبیرون ملک سے مختلف مذاہب کے رسرچ اسکالرز  اور سرکردہ مذہبی و سماجی  شخصیات نے شرکت کی – انہوں نے یورپ میں موجودہ دھشت گردی اور اسکے خاتمے کے بارے میں اپنے اپنے مذہبی نقطہ نظرکو پیش کیا- خاص طور پر فرانس سے دورہ ہند کے لیے تشریف لانے والے  سہ رکنی بین المذاہب وفد نے مذہب اسلام کے علاوہ عیسائیت اور یہودیت کے حوالے سے دہشت گردانہ نظریات کی علمی و فکری تردی کی کوشش کی-

اس سہ رکنی بین المذاہب وفد میں الجیریا کے یوروپی مسلم اسکالر ڈاکٹر سمیر (مقیم حال فرانس)، خاتون  یہودی اسکالر لیافرایڈمن (پیرس) اور عیسائی اسکالر انٹویا نے فرانس کی راجدھانی پیرس پر ہوے حالیہ حملوں کے بعد متعدد یوروپی اور مختلف ایشیائی ممالک کے دورے کیےاوراس بات کی تحقیق کی کہ پیرس پرحملہ کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے تعلّق سے دنیا بھر میں لوگوں کے رجحانات کیا ہیں- اس وفد نے بر جستہ کہا کہ فرانس یا دیگر ممالک کے انصاف پسند محققین اس حقیقت کو مانتے ہیں کہ دھشت گرد نہ تو اسلام کے ماننے والے ہوتے ہیں اورنہ ہی  عیسائی و یہودی مذاہب کو مانتے ہیں بلکہ ان کا  کوئ بھی مذہب نہیں ہوتا ؛ وہ صرف دھشت گرد ہوتے ہیں – انہوں نے مزید کہا کہ فرانس یا دیگر کسی ملک میں مساجد ومدارس کو بند کیا جا رہا ہے یا برقعہ پرجو پابندی لگائ جا رہی ہے تووہ اسلام دشمنی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ  یہ پابندی  صرف احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوے لگائ جا رہی ہے، کیوں کہ  دھشت گردوں نےکافی تعداد میں برقعہ پہن کر حملے کیے ہیں جسکی بنا پر کسی بھی  برقعہ پوش کو خطرہ سمجھا جانے لگا ہے – وفد نے پیرس پر  حملہ کا سبب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بننے والی تصویر چارلی بیڈو  کو بتایا جس میں آپ صلی اللہ علہہ وسلم کا کارٹون بنایا گیا ہے، جیسا کہ دھشت گردوں نے حملے کے بعد کہا تھا کہ یہ اس فلم کا جواب ہے اور خود کو سچا پکّا  مسلمان اور نبی کا ماننے والا ثابت کیا تھا – انہوں نے کہا کہ فرانس کی حکومت اور وہاں کے باشندے اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں اور ہم لوگ بھی یہی مانتے ہیں اور  دل سے اسلام کی عزت کرتےہیں

      کہا کہ : وفد سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام کے مہمان مقرر اور انگریزی صحافی مولانا غلام رسول دہلوی صاحب نے

“یورپ میں سب سے تیزی سے اسلام اسی فرانس میں پھیل رہا ہے جہاں گزشتہ روز حملے کئے گئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جہاں مسلمان تھے ہی نہیں وہاں تو اسلام تیزی سے فروغ پاتا جا رہا ہے جبکہ جہاں اسلام چاروں طرف پھیلا نظر آ رہا تھا وہاں غیر مسلم تو کیا عملا خود مسلمان بھی اسلام کے قریب نہیں آتا ؟ انہوں نے کہا کہ  قرون اولیٰ میں  مسلمان جہاں پہنچتے ان کے اخلاق اور کردار کی عظمت دیکھ کر پورا معاشرہ کلمہ پڑھ لیا کرتا تھا، اس زمانے میں قرآن صفحات پر نہیں بلکہ مسلمان کے قول و عمل میں چلتا پھرتا نظر آتا تھا۔ جبکہ آج کی صورتحال یہ ہے کہ جہاں مسلمان اکثریت میں موجود ہوں وہاں اسلام کے پھیلاؤ کو زک لگ جاتی ہے اور جہاں مسلمان نہ ہوں مگر قرآن کے صفحات ہوں تو وہاں اسلام سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیرس پر دہشت گردانہ حملے کرنے والے خوش ہوں گے کہ انہوں نے ایک بڑی عیسائی ریاست کے دارالحکومت پر حملہ کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ 17 لاکھ مسلم آبادی والے پیرس پر حملہ تھا۔ یہ اس فرانس پر حملہ تھا جہاں اسلام کو دوسرے بڑے مذہب کی حیثیت حاصل ہے-

زکوۃ فاؤنڈیشن کے صدر جناب ظفر محمود صاحب نے ہندوستان میں بقاۓ امن کے حوالے سے بات کرتے ہوے کہا کہ  آج کچھ لوگ ہمارے ملک کی فضاء خراب کر رہے ہیں- انہوں نے گوکشی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ اسلام میں گاے کا گوشت کھانا صرف جائزہے، واجب نہیں، اور اسلام کبھی بھی اپنے ماننے والوں کو کسی کی دل آزاری کی اجازت نہیں دیتا بلکہ ہمیشہ دیگر مذھب کے ماننے والوں کے حقوق کی ادایگی اور اخوت ومروت کا درس دیتا ہے–

ویدی علوم کی محققہ اور دہلی یونیورسٹی کی سابق سنسکرت پروفیسر  محترمہ دیپالی بھانوت صاحبہ اور ودیا جیوتی کالج کے لیکچرر فادر وکٹر اڈون  نے بھی اپنے اپنے مذہبی نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوے کہا کہ آج تمام مذاھب کے پیروکاروں  کو آپس میں اک دوسرے کے ساتھ پیارومحبت اور بھائ چارگی کا برتاو کرنا چاہیے اور کبھی بھی مذہب کہ بنیاد پر نفرت نہیں پھیلانی چاہیے-

اخیر میں انٹر فیتھ کولیشن  فور پیس کے صدر فادر پکیم سیموئیل نے اپنے اختتامی بیان میں اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو سبھی انسانوں کے ساتھ ہمیشہ امن وشانتی کے

Muhammad Farman Nizami (Word for Peace) is an Alim & Fazil and student of higher Arabic and Islamic Studies at Jamia Hazrat Nizamuddin Aulia, New Delhi. 

Check Also

Myth of Ghazwa-tul-Hind: Misusing Religion in Pakistan to Justify Military Adventurers

WordForPeace.com Diary of A Concerned Pakistani Religion has quite frequently been used as an excuse …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *