تکفیری مسئلے میں جامعہ ازہر کا احتیاط.

ابھی 5 مئی بروز جمعہ 2017  کو رئیس جامعہ ازہر سابق ڈاکٹر حسنی عادل کا شیخ الازہر احمدطیب حفطہ اللہ کی جانب سے معزول کیا جانا تکفیری مسئلے کی سنگینی اور اس کی گمبھیرتا کو اجاگر کرتا ہے.
قصہ یوں ہے کہ ایک روز میڈیا کانفرنس میں ڈاکٹر حسنی عادل صاحب رئیس جامعہ ازہر سابق نے ایک اسلام بحیری نامی کو مرتد کہہ دیا.( یہ شخص مصر کا ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہونے والا مسلم اسکالر ہے جو مستشرقین سے بہت متاثر ہے. اور مغربیت زدہ ہے.  مغربیوں کا اس پہ بھوت سوار رہتا ہے ) ان کے مرتد کہنے  کی وجہ یہ تھی کہ وہ صحیح  بخاری اورصحیح مسلم شریف کی حدیثوں کو اپنا ہدف تنقید بناتا ہے.  مجتھدین عظام،  محدثین کرام  ،فقہاء ذوی الاحترام پہ بڑا ہی طعن و طنز اور ان کی شان میں تحقیری اور اہانتی جملے کسا کرتا ہے.  احادیث کریمہ میں تشکیک پیدا کرتا ہے ، اس کی ان حرکتوں کے  تعلق سے میڈیا والوں نے میڈیا کانفرنس میں سوال کیا کہ آپ اسلام بحیری کے بارے میں کیا کہتے ہیں.؟
  اس پر رئیس جامعہ ازہر سابق نے اتنا کہہ دیا کہ وہ تو مرتد ہوچکا ہے.  ان کے اتنا کہہ دینے کی وجہ شیخ الازہر نے انھیں ان کے منصب سے معزول کردیا یہ کہتے ہوئے کہ آپ اس منصب کے اہل نہیں ہیں.  کیونکہ آپ نے منھج ازہر کے خلاف کام کیا ہے.  ازہر کا منھج یہ ہے کہ ازہر کسی بھی کلمہ گو اور اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتا.  اور آپ ازہر کے اتنے بڑے منصب پہ ہوتے ہوئے آپ نے اسلام بحیری کو مرتد کہہ دیا.  بڑے افسوس کی بات ہے آپ اپنا منصب چھوڑیئے. آپ کا یہ قول گویا پورے ازہر کا قول ہے. آپ کی  یہ بات گویا پورے ازہر کی بات ہے. اور ایسا قول ازہر کے منھج کے خلاف ہے.   پھر شیخ الازہر نے کلیہ لغہ عربیہ کے ڈین محمد حسین محرصاوی صاحب کو اس منصب پہ لاکے بٹھا دیا.
واقعہ نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ازہر شریف جو عالم اسلام کا سب سے بڑا علمی مرکز ہے جو ہزار سال سے بڑے کرو فر کے ساتھ اسلام کی خدمات انجام دیتے آرہا ہے مسلمانوں پہ جس کا احسان عظیم ہے.  اس اعظیم ادارے میں کسی کلمہ گو کی تکفیر یا اس کے ارتداد کا قول کرنے والے کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے جب کہ ہمارے ہندوستان کا حال یہ ہے کہ جو جتنی زیادہ تکفیر کرلے اس کا اتنا ہی پرموشن ہوتا جاتا ہے.  اتنے بڑے مناصب دیئے جاتے ہیں.  اور آخر میں پھر اسے خلافت کے تاج زریں سے بھی نواز دیا جاتا ہے.
مجھے نہیں سمجھ میں آتا کہ ہم ہندوستانی اسکین کرکرکے دلوں میں چھپے ہوئے کفر کو نکالنے پہ کیوں مصر ہیں؟  اگر ایک شخص ” بنى الإسلام على خمسة ” کی شہادت دے رہا ہے.  گلہ پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہا ہے کہ میں گستاخ رسول اللہ نہیں ہوں.  پھر بھی ہم اس کو کافر ہی بناکے دم لیتے ہیں. اور جہنم میں پہونچاکر ہی چھوڑتے ہیں.  کون جنت میں جائے گا کون دوزخ میں جائے گا یہ اللہ کا کام ہے ہمارا کام نہیں ہے.اگر ہم اس معاملے کو اللہ کے حوالے کردیں تو یہ زیادہ احوط و انسب بلکہ یہی ہمارا حق بھی ہے.  الا یہ کہ جس کے جنتی اور دوزخی ہونے کا فیصلہ خود قرآ ن حدیث نے کردیا ہو.  جیسے ابو لہب کے جھنمی ہونے کا مسئلہ.  عشرہ مبشرہ کے جنتی ہونے کا مسئلہ.
اسی طرح نفاق کو بھی اللہ کے حوالے کردیں.  کہ کل میدان محشر میں سب کچھ کھلے گا کہ کون منافق تھا اور کون موافق تھا. کون کون ایسے لوگ تھے جو رسول اللہ کی زبان سے گستاخی کا قول نہ کرکے دل میں گستاخی چھپائے ہوئے تھے.  لیکن افسوس یہ ہے کہ سارے کام جو اللہ کے ہیں ہم خود کرنے لگتے ہیں.
اللہ تعالی ہمیں تکفیر مسلم سے محفوظ رکھے.  اور ہمارے سینوں کو اپنی اور اپنے رسول کی محبتوں کا مدینہ بنائے.
اظھار احمد سعیدی ازہری.  جامعہ ازہر قاہرہ مصر فیکیلٹی بلاغہ ونقد.  قیام ٹرین میں ممبئی تا بنارس.  12 / 5 / 2017.

Check Also

The ideological encounter of Islamic violent Extremism on Sufism

for www.WordForPeace.com N.Muhammed Khaleel Email: mhdkhaleelaky@gmail.com   In the Muslim discourse on terrorism, for a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *