خواجہ بندہ نواز حضرت گیسو درازؒ علیہ الرحمہ Khwaja Banda Nawaz Hazrat Gesu Daraz

Abdur Rahim, Gulbarga, WordForPeace.com

مخدوم بندگی حضرت خواجۂ دکن سیدنا بندہ نوازگیسودراز قدس اللہ سرہ العزیز امام زیدمظلوم شہید ابن امام ہمام زین العابدین سیدناسجاد رضی اللہ عنہم کی اولاد سے ہیں یہ سلسلہ نسب طریقت واردات دونوں بائیسویں واسطے سے حضرت سرکارِ کائنات فخرموجودات رحمت عالم رسول اکرمﷺ تک پہنچتا ہے آپ کااسم گرامی سیدمحمدحسینی اورالقاب خواجہ صدرالدین ولی الاکبر الصادق ابوالفتح گیسودراز شہباز بندہ نواز ہے والدماجد کانام سید یوسف حسینی عرف راجا اوروالدہ محترمہ کانام سیدہ بی بی رانی رحمتہ اللہ علیہاہے۔

خواجہ بندہ نواز علیہ الرحمہ 4 رجب المرجب 716ہجری کودہلی میں پیداہوئے۔ والدماجد کے ساتھ20 رمضان المبارک 728ہجری کو دہلی چھوڑکر 17 محرم الحرام 729 ہجری کودولت آباد پہنچے۔ خلداباد میں سکونت پذیرہوئے۔ 5 شوال المکرم 731 ہجری کو والدمحترم نے یہیں انتقال کیااس وقت آپ کی عمردس برس تین ماہ ایک روز تھی اپنے نانا(جوحضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مریدتھے) اوردوسرے بعض ممتازاساتذہ کے زیرتعلیم وتربیت رہے۔ قرآن شریف حفظ کیا آٹھ سال ہی کی عمرسے نمازروزہ کے پابند ہوگئے تھے بارہ سال کی عمر میں رات رات بھر عبادت کرتے تھے خود ارشادفرماتے ہیں ۔’’دوازدہ سالگی خواب نمی درنم کہ چہ باشد تمام شب مشغول بودم‘‘ والدہ محترم کے ساتھ 4 رجب المرجب 736ہجری کو پندرہ سال کی عمرمیں بہ زمانۂ محمدتغلق دہلی آئے ۔19 رجب المرجب کوحضرت پیر خواجہ نصیرالدین محمود روشن چراغ دہلی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے بڑے بھائی سیدچندن حسینی کے ساتھ مرید ہوگئے ۔زیادہ تر اپنے پیرومرشد کی خدمت میں حاضر رہتے تعلیم ،مراقبہ ،ذکر ومجاہدہ ریاضت میں مشغول رہاکرتے جس کودیکھ کرپیرنصیرالدین علیہ الرحمہ ارشادفرماتے کہ ’’بعد ہفتا دسال کود کے مراازسرشورایندہ است واقعاتِ سابق مرایاددہندہ(یعنی مجھے سترسال کی عمرکے ایک نوعمرنے ایساشائق بنایا کہ بزرگوں کے واقعات سابقہ یادآنے لگے ہیں) ۔ساتھ ہی ساتھ آپ نے سلسلہ درس وتعلیم ظاہری کوبھی جاری رکھا۔ مولاناشرف الدین کیتلی مولاناتاج الدین اور قاضی عبدالمقتدرحمہم اللہ تعالیٰ وغیرہ سے تعلیم حاصل کرتے رہے آپ نے سلسلہ درس چھوڑکرتمام تراشغال باطنی میں مشغول ہوجانے کی پیرومرشد سے اجازت چاہی توپیرنصیرالدین علیہ الرحمہ نے فرمایاکہ ’’سلسلہ درس راتمام کن ماراباتوکارہااست‘‘ (یعنی درس کو پوراکرو کیونکہ ہم کوتم سے بہت کام ہیں)۔اُنیس(19) سال کی عمرمیں تمام علوم کی تحصیل سے فارغ ہوکر آپ تمام ترریاضت ،مجاہدہ اوراشغال باطنیہ میں مشغول ہوگئے۔ دہلی میں وباپھیلی اورآپ خلہ کی بیماری کاشکار ہوئے منہ سے خون آنے لگا کھانسی میں شدت ہوگئی پیرومرشد نے حکیم صدرالدین طبیب کوتیمارداری کیلئے بھیجا آرام نہ ہونے سے پیرنے روغن ،خشت روانہ فرمایا اور ہدایت کی کہ دردپرمالش کی جائے اس کے بعدپیرنصیرالدین علیہ الرحمہ روزانہ ایک آدمی خیریت دریافت کرنے کے لئے روانہ فرماتے تھے۔ صحت کلی ہونے کے بعد ایک دن بندہ نواز علیہ الرحمہ اپنے پیرومرشد کی خدمت میں حاضرہوئے بیماری کاحال سن کرپیرنصیرالدین علیہ الرحمہ نے فرط مسرت سے میرے چہرے پردست مبارک پھیرااورفرمایا الحمدللہ رب العالمین اس کے بعد پیرومرشد نے اپنا کمبل اپنے سامنے سے اٹھاکر بندہ نواز کے دونوں ہاتھوں پر رکھا اوربندہ نواز کاہاتھ پکڑکر ارشادفرمایا کہ اگرکوئی کسی کے لئے محنت ومشقت کرتاہے توکسی کے واسطے کرتاہے اس کے بعدپیرنصیرالدین نے فرمایا سیدمحمد اس کام کومیری جانب سے قبول کرو یعنی لوگوں سے بیعت لیاکرو بندہ نواز علیہ الرحمہ نے سرجھکادیا اور خاموش رہے پیرنصیرالدین نے فرمایا تم نے قبول کیا بندہ نواز نے عرض کیا کہ میں نے قبول کیاپھرفرمایا تم نے قبول کیا بند ہ نواز نے کہاقبول کرلیا پھر پیرنصیرالدین نے فرمایا قبول کرلیا جواباً کہا میں نے قبول کرلیا اس کے بعدشیخ نے دو وصیتیں کیں ظاہری اور اد کونہ چھوڑنا دوسرے میرے متعلقین کے ساتھ مروت ورعایت کرنا (سیرمحمدی) ۔18 رمضان المبارک 757کو پیرنصیرنے رحلت فرمائی توان کی میت کوگیسودراز علیہ الرحمہ نے غسل دیا جس پلنگ پرغسل دیاتھا اس کی ڈوریاں پلنگ سے جداکرکے اپنی گردن میں ڈال لیں کہ یہ میراخرقہ خلافت ہے۔ 36 سال کی عمرمیں سیدنا بند ہ نوازعلیہ الرحمہ سجادہ ارشاد پرمتمکن ہوئے۔ جب کہ آپ نے درجہ کمال حاصل کرلیاتھا چالیس سال کی عمرمیں والدہ محترمہ کے حکم پرسیداحمدبن عارف بااللہ سیدجمال الدین مغربی رحمتہ اللہ علیہ کی صاحبزادی بی بی رضاخاتون سے نکاح کیا۔ 7 ربیع الثانی 801 ہجری کودہلی سے روانہ ہوکر مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے دولت آباد پہنچے یہاں خلدآباد میں قیام کیا والدماجد کی زیارت سے مشرف ہوئے یہاں سے آپ الندہوتے ہوئے اوائل 803 ہجری میں تین سال سفرمیں رہ کرگلبرگہ پہنچے۔ سلطان فیروز شاہ بہمنی نے ارکان سلطنت اور عوام کے ساتھ عقیدت مندانہ خیرمقدم کیاقلعہ کے قریب خانقاہ میں قیام رہا آپ کی دعاکی برکت سے فیروزشاہ کاچھوٹابھائی احمدشاہ بہمنی تخت شاہی پر فائز ہوا۔ اور عقیدت کازیادہ سے زیادہ ثبوت دیاگلبرگہ میں آپ نے 22 سال بسرفرمائے جس کی صراحت اس شعر سے ہوتی ہے ؂

دوسال وبست درگلبرگہ بودند

درِ کشف وکرامات راکشووند

گلبرگہ سلاطین بہمنیہ کے پایہ تخت کی حیثیت سے ایک خاص مقام کاحامل رہا ہے گلبرگہ کی ایک زندہ تاریخ ہے قدم قدم پرروحانی نشان کے ساتھ شہدا اولیاء کی یادگار یں نظرآتی ہیں۔ بندہ نواز علیہ الرحمہ کاروحانی فیضان جاری ہے آستانۂ عالیہ کے گرد صبح وشام زائرین کاہجوم رہتا ہے۔ عالم گیر جیسے متشرع کے زبان سے آپکے آستانہ سے متاثر ہوکر یہ کلمات نکلے جوآج بھی گنبد مبارک کے صدر دروازہ کے اوپری چوکھٹ پرتحریرشدہ موجود ہیں۔

زفرق تابہ قدم ہر کجا کہ می نگرم

کرشمہ دامن دل می کشد کہ جااینجااست

(سر سے پاؤں تک جہاں کہیں میں نظر ڈالتاہوں ،دل کے دامن کوکھینچتے ہوئے کرشمہ یہ بتلاتا ہے وہ جگہ یہی جگہ ہے ’’یعنی مجسم کرشمہ ہے‘‘)۔

105 سال کی عمر میں دوشنبہ 16 ذی القعدہ 825ہجری کو اشراق وچاشت کے درمیان آپ واصل بحق ہوئے۔’’ اناللہ واناالیہ راجعون‘‘۔

آپ کے دوصاحبزادے سیدمحمداکبرحسینی اور سید محمد اصغر حسینی اورتین صاحبزادیاں بی بی سبطی فاطمہ ،بی بی بتول ،اوربی بی ام الدین تھیں ۔(بی بی کوخونجہ یاخونزہ بتایاگیاہے) آپ کے تصانیف کی تعداد بھی 105 ہے۔ آپ کامسلک حنفی ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ علیہ کے مسلک کے پیروتھے ۔سلطان احمدشاہ بہمنی کوآپ نے جونصیحت فرمائی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آپ شریعت کے کس قدر سختی سے پابندتھے۔ آپ فرماتے ہیں ’’میں جوتیرے حق میں نیکی کیاہوں اس کوتوخوب جانتا ہے ہمارے لوگوں کے ساتھ رعایت کرنالیکن اس کے ساتھ جوپابند شرع ہو۔ اگرمیرافرزند بھی اگرکوئی خلاف شرع کرے توقطعاً رعایت نہ کرنا۔

حضرت گیسو درازؒ کا فلسفہ سلوک

ڈاکٹر وہاب عندلیب

(سابق صدر کرناٹک اردو اکیڈیمی)

حضرت مخدوم ابوالفتح صدرالدین سید محمد حسینی بندہ نواز گیسودرازؒ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے ان خواجگان اعظم اور اولیائے کبار میں سے ہیں۔ جن کے روحانی فیوض و برکات نہ صرف برصغیر میں بلکہ اقطاع عالم کے دور دراز علاقوں میں تک جاری و ساری ہیں۔ بندگی مخدوم اپنے عہد کے جلیل القدر قطب کامل اور عارف و اصل ہوئے ہیں۔ آپ کی حیثیت، امام وقت اور مجتہد عصر کی تھی، آپ کو نہ صرف علوم حکمت اور علوم فلسفہ میں کمال تھا بلکہ آپ اسرار حقیقت کے بھی محرم راز تھے، حضرت بندہ نوازؒ آٹھویں و نویں صدی ہجری میں تصوف اور روحانیت کے زبردست مبلغ رہے ہیں۔ آپ نے ملفوظات، مکتوبات، تصانیف ، مواعظ اور نصائح کے ذریعہ دنیائے اسلام میں روحانیت کو تازہ کیا، آپ کی روحانی تعلیم کا اصل سرچشمہ قرآن اور احادیث صحیحہ ہے۔ حضر ت بندہ نوازؒ کا تصوف وہ نہیں ہے جس کے بارے میں شیخ علی حزیں نے کہا تھا’’ برائے شعر گفتن خواب است‘‘ بلکہ یہ تزکیہ و تصفیہ اخلاق کا نام ہے۔

تصوف کے تعلق سے عوام اور خواص میں غلط فہمی پائی جاتی ہے ، کوئی کشف کرامات اور تصرفات کو تصوف جانتا ہے، کوئی اشغال، مراقبات اور احوال و کیفیات کو تصوف مانتا ہے۔ کوئی خاص رسوم و عادات کو تصوف سمجھتا ہے تو کسی کے نزدیک تصوف نام ہے ، ریاضت، مجاہدات اور ترک تعلقات کا اور کوئی اسے اسرار و رموزکا مجموعہ قرار دیتا ہے۔ خود مسلمانوں میں اسی نظام فکر کے بارے میں عجیب عجیب سے مخالطے ہیں۔ سب سے بڑی گمراہی تو یہ ہے کہ بعض لوگوں نے تصوف کو شریعت کا مقابل یا اس کی ضدگمان کرلیا ہے، حالانکہ انسان کامل کے دورخ ظاہر و باطن یا قلب و قالب کی طرح دین کامل کے بھی دورخ شریعت و طریقت ہیں۔ شریعت نام ہے، ظاہر یا قالب کے اعمال و احکام کا اور تصوف یا طریقت نام ہے باطن یا قلب کے اعمال و احکام کا، حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں۔ ’’ہمارے طریقہ کی بنیاد کتاب و سنت پر قائم ہے اور جو کچھ کتاب و سنت سے خارج ہے وہ باطل ہے‘‘۔ صوفی وہ ہے جو صفائی قلب کے ساتھ صوف پوشی اختیار کرتا ہے، ہوائے نفسانی کو سختی کا مزہ چکھاتا ہے۔ شرع مصطفوی کو لازم کرلیا ہے اور دنیا کو پس پشت ڈال دیتا ہے، تصوف کوئی غیر اسلامی چیز نہیں ہے۔ قرآن اور حدیث کی اصطلاح میں اس کو ’’احسان ‘‘ کہتے ہیں یہ بھی شرع شریف کی ایک شاخ ہے۔ حضرت غوث شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں۔حقیقت جس کی شریعت تائید نہ کرے الحادوزندقہ ہے، اکابر صوفیا میں سے ایک بزرگ مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ فرماتے ہیں۔ ایک ولی کے لئے ممکن ہے ہوا میں اڑے، پانی پر چلے، اس کے لئے زمین و آسمان کی طنابیں کھینچ جائیں لیکن وہ اس وقت تک ولی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی گفتار رفتار اور کردار میں اپنے پیغمبرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیر ونہ ہو۔

خواجہ دکن بندہ نواز گیسودرازؒ کا ارشاد ہے۔ ’’اگلے پچھلے سب کہتے ہیں کہ حقیقت سر الہٰی ہے مگر میں محمد الحسینی یہ کہتا ہوں کہ شریعت سر الٰہی ہے۔ اس لئے کہ حقیقت کی باتیں تو میں ملحدوں، قلندروں اور زندیقوں سے بھی سنی ہیں، لیکن شریعت کے باتیں اہل دین اور اہل یقین کے سوا کسی کی زبان سے نہیں سنیں ‘‘۔(تاریخی حبیبی)

حضرت بندہ نوازؒ نے مزید فرمایا۔ ’’صوفیہ وہ ہیں جنہوں نے جزوی و کلی اُومر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع کی جن کے باطن مستغرق بحق تھے اور جو از ہمہ صاف و پاک تر تھے۔‘‘(رسالہ قشیریہ) جس سے پتہ چلتا ہے تصوف، شریعت اسلامی سے الگ کوئی نظام فکر نہیں اور صوفیائے کرام طالب غرض و طالب عوض نہیں ہوتے وہ صدق وصفا، لطف و عطا، جو دو سخاکا مہر ووفا اور حب وولا کا پیکر ہوتے ہیں ، غرض صوفی وہ واصل و کامل افراد ہیں، جن کو کلام مجید میں فقراء سے تعبیر کیا گیا ہے تحمل ان کا اشعار توکل ان کا ہتھیار اور عشق ان کی منزل ہے۔ آیئے اس تناظر میں جائزہ لیں کہ عشق کسے کہتے ہیں اور حضرت گیسودرازؒ کا مسلک عشق و محبت کیا ہے؟

عشق کا لفظ ’’عشقہ‘‘ سے ماخوذ ہے اور یہ نام ہے اس بیل کا جس کو ’’لبلاب‘‘ کہا جاتا ہے جو اردو میں’’ عشق پہچان‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیل جس درخت سے لپٹ جاتی ہے اس کو بے برگ و بار کردیتی ہے۔ اسی طرح جب عشق قلب عشق میں پیدا ہوتا ہے تو اس کا درخت وجود تھی معشوق کے جمال کی تجلی میں محور ہوجاتا ہے۔ غیر محبوب اس کے قلب سے فنا ہ ہو جاتا ہے ، خود عاشق کی ذات فنا ہوجاتی ہے اور معشوق ہی معشوق رہ جاتا ہے۔ عارف رومی نے اس راز کو اس طرح افشا کیا ہے۔

جملہ معشوق است و عاشق پردہ

زندہ معشوق است و عاشق مردہ

گویا عشق، محبت میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ افراط محبت یا شدت محبت کا نام عشق ہے۔ محبت جب شدید یا قوی ہو جاتی ہو تو اسے عشق کہا جاتا ہے۔ خواجہ شبلیؒ فرماتے ہیں۔’’عشق وہ آگ ہے جو قلب میں دہکتی ہے تو محبوب کے سواہر چیز کو جلا چھوڑتی ہے۔ ‘‘ غالب نے اس مضمون کو یوں ادا کیا تھا۔

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

شیخ ابوسفر سراج ؒ بھی اس خیال کے حامی ہیں فرماتے ہیں عشق اس آگ کا نام ہے جو عاشقوں کے دل اور سینے میں جلتی رہتی ہے اور خدا کے سوا جو کچھ ہے اسے جلا کر خاکستر کردیتی ہے۔ عشق یہ آگ اور اشتیاق کا شور عاشقو ں کے دل میں اس حد تک ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ اور اس کی انتہا نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اہل عشق کی آگ دوزخ کی آگ کو کھا جاتی ہے۔

حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مطابق ’’ عشق خدا کے ساتھ رہنے اور اپنے دل کو اس کے غیر سے بچالینے کا نام ہے۔ مولانائے روم فرماتے ہیں ’’عشق سے قلب آئینہ کی طرح صاف ہو جاتا ہے اور اس پر تمام کائنات کے راز افشا ہوجاتے ہیں ‘‘ قرآن کریم سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ قدافلح من زکھا و قد خاب من دسھا۔(بے شک جس نے نفس کو صاف کیا کامیاب رہا اور جس نے اس کو میلا کیا ناکام رہا)

مولانا جلال الدین رومی نے عشق کی طاقت پرواز کا اس طرح اندازہ لگایا’’ عشق ہی کے ذریعہ جسم خاکی افلاک کی پنہائیوں میں پہنچ سکتا ہے اور بلندی و عروج کی آخری منزلیں بھی اس کے زیر پا ہوسکتی ہیں‘‘۔عشق کا مرکزی نقطہ’’رضا‘‘ ہے عاشق اپنی مرضی کو خداکی مرضی کے تحت کرکے مسرت کرتا ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ’’رضا‘‘ زہد سے افضل ہے۔ اس لئے کہ زاہد راہ میں ہوتا ہے اور راضی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک عارف نے کہا ہے کہ ’’ عشق میں جان و جہاں کیا ہیں؟‘‘ماسوائے محبوب ہر چیز فدائے محبوب کردی جاتی ہے۔ ہم اس کے اور وہ ہمارا ہو جاتا ہے۔ یحنبھم و یحبونہ کی تفسیر ہے۔ شاعر نے بھی اسی خیال کا اظہار کیاہے۔

دِل میں مقصود و مدعا نہ رہے

تو رہے اور دوسرا نہ رہے

اور یہیں سے من تو شدم تو من شدی کی واردات شروع ہوتی ہے۔ خواجگان چشت کا طریقہ رہا کہ محبت الٰہی کو ماسواپر غالب کرتے ہیں۔حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کا بھی یہی مسلک تھا۔ آپ کی رائے میں راہ سلوک و طلب حق محب و عاشق کے سوا کوئی دوسرا کما حقہ طئے نہیں کرسکتا، آپ کے نزدیک حاصل محبت ’’سوختن‘ ‘ کے سوا کچھ نہیں۔

حاصل عشقش سہ سخن بیش نیست

سوختم و سوختم و سوختم

حضرت خواجہ صاحب نے اسماء الاسرار میں انسان کے عالم وجود میں آنے کا اصل مقصد خداکی محبت و معرفت کا صلہ کا حصول قرار دیا ہے۔ خواجگان چشت کے اہل حصول محبت کے تین طریقے ہیں۔۱۔ذکر،۲۔ مراقبہ، ۳۔ رابطہ یا محبت شیخ، حضرت بندہ نوازؒ نے بھی ان ہی طریقوں سے سالک کی تربیت کی جب سالک طلب حق میں مجاہدہ دریاضت سے کرتا ہے تو منزل مقصود تک پہنچ جاتاہے۔ حضرت بندہ نوازؒ نے عمر کے اسی حصہ کو کارآمد قراردیا ہے۔ جو محبوب حقیقی کی یاد میں گزرتا ہے۔ ان کے نزدیک دل عاقل اور موت دونوں ایک ہیں۔ طالب حق کو اپنے محبوب کے ذکر ، اس کی فیر اور اس کی یاد سے کام ہوتا ہے۔ وہ ہاہو اور بے مصرف بحث و گفتگو سے اپنا دامن بچاتا ہے۔ اسی کیفیت کو کسی عاشق نے اس طرح ادا کیا ہے۔

تھا ترا خیال ہی مستتر، تھی تری تلاش ہی خیمہ زن

مری آہ میں مری واہ میں مرے سوز میں مرے ساز میں

حضرت بندہ نوازؒ نے قاضی اسحاق و قاضی سلمان کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا ہے کہ محبت کی دو قسمیں ہیں، ایک عام اور دوسری خاص ، جب پہلی جلوہ گر ہوتی ہے تو بندہ بجا آوری احکام کی طرف دل لگاتا ہے اور دوسری قسم کی محبت یعنی خاص اللہ تعالیٰ کی دین ہے جو کسب سے حاصل نہیں ہوسکتی، اس کی علامت تزکیہ نفس اور توجہ نام ہے جسے یہ دو نعمتیں نصیب ہوئیں تو سمجھو اسے محبت کی نعمت بھی عطا ہوئی۔ تزکیہ نفس کم کھالینے، کم بات چیت کرنے اور کم ملنے جلنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر توجہ نام بغیر پیرو مرشد کی تلقین کے میسر نہیں ہوئی۔

عشق کے احوال اور اس کی آفتوں کے بارے میں فرماتے ہیں’’ ہرچیز میں ایک آفت ہوتی ہے مگر عشق سے دو آفتیں ہیں۔ ایک ابتدائی آفت، دوسری انتہائی آفت ، ابتدائی آفت یہ ہے کہ طالب پر عشق کا دارومدار طلب معشوق کا عالم اس قدر طاری ہوجاتا ہے کہ اسی میں اس کو لذت کامل ملنے لگتی ہے اور اس کو محبوب تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں ملتا اور وہ جان لیتا ہے کہ سوائے دردو غم کے اور کوئی چیز اس کے نصیب نہیں ہیں اور وہ اسی حال پر قائم ہو جاتا ہے۔ انتہائی آفت یہ ہے کہ جب وہ معشوق کا وصال حاصل کرلیتا ہے تو وصال کی لذت میں مشغول ہوجاتا ہے اور سوزش فراق اور ہجر کا غم اس سے جاتا رہتا ہے اور پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد وصال اس کی عادت اور طبیعت بن جاتا ہے۔ وصال کا ذوق بھی جاتا رہتا ہے۔ گویا بے ذوق وصال اور بے لذت الم و فراق کام کے نہیں ہوتے ، صرف ذوق کی بدولت ہی راحت حاصل کی جاسکتی ہے۔ عاشق سرفراز وہی ہے جو ابتدائی حالت میں لذت فراق اور ذوق الم اور سوزش ہجراں میں مشغول رہے اور انتہاء میں وصال جتنا بڑھتا جائے۔ اس کا ذوق اس سے زیادہ کیا جائے اوراس کی طلب بڑھتی جائے، درد میں اضافہ ہی ہوتا رہے۔ ذوق سے ذوق تو حاصل ہوتا رہے یہ وہ عاشق ہے جس کی عاقبت بخیر ہوئی اور وہ اپنے عشق کا ثمر پاگیا

Check Also

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

By Waris Mazhari In recent years, what is called ‘Islamophobia’ has become a major issue globally, …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *