Unity of Barelvis and Deobandis in the Courtyard of Khwaja Gharib Nawaz خواجہ کی نگری میں بریلی اور دیوبند کا اتحاد

عبد المعید ازہری
ہندوستانی اسلام و تصوف کا مرکز ، خواجہ کی نگری اجمیر شریف اپنی روحانیت ، انسانیت ، ہمدردی و رواداری کے لئے جانی مانی اور پہچانی جاتی ہے ۔ یہ وہ در ہے جہاں سب کو پناہ ملتی ہے ۔لوگ اپنا گلہ شکوہ بھول کر آپسی میل جول کی مثالیں قائم کرتے ہیںْ۔ اتحاد و اتفاق کا عظیم گہوارہ اجمیر، امیر وغریب کے فرق کو مٹاکر انسانی رشتوں میں انسانی اقدار کی تعظیم و توقیر کا درس دیتاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس در غریب نواز پر سبھی اپنی جبین عقیدت بڑی ہی نیاز مندی کے ساتھ جھکاتے ہیں۔بلا تفریق مذہب و ملت، ملک و بیرون ملک سے امن و محبت کی اس فضا کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ یہاں کسی کو پھٹکاراور دھتکار نہیں ملتی ہے ۔ سبھی کو گلے لگایا جاتاہے ۔ جنہیں اس فکر و روایت سے محبت ہے انہیں بھی سینے سے لگایا جاتاہے اور جنہیں نفرت ہے ان کا بھی استقبال کیا جاتاہے ۔ غریب نواز کی غریب نوازی کا عملی نمونہ آج بھی اس چوکھٹ پر نظر آتاہے ۔ جہاں سب کو ایک نظر سے دیکھا جاتاہے ۔ مہمان نوازی ، تکریم و توقیر کی سیکڑوں مثالیں آج بھی در غریب نواز سے ملتی ہے ۔ انسانی دلوں سے منافرت کی بیماری کو محبت سے دور کیا جاتا ہے ۔
ایک بار پھر اسی نگر میں ایک ایسے اتحاد کی خبر آئی ہے جس کی باتیں کئی دہائیوں سے کی جارہی تھیں۔ ۱۳ نومبر کو جمیعۃ علماء ہند کے سالانہ اجلاس کے موقعہ پر دیوبند اور بریلی کے درمیان برسوں سے چل رہے تنازع اور اختلاف کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ دیوبند ی فکر کی نمائندگی مولانا محمود مدنی نے کی اور بریلوی مکتبہ فکر کی وکالت مولانا توقیر رضا خان بریلوی نے کی ۔ ان دونوں نے ہی مل کر ایک ایسے مسئلے و موقف کی حمایت و موافقت کر ڈالی جس کے لئے آج پوری امت مسلمہ پریشان ہے ۔یعنی تین طلاق کو غیر اسلامی قرار دے کر موجودہ حکومت کی مشکلوں کو آسان کر دیا ۔ جمیعۃ علماء کے اس سالانہ اجلاس میں تین بڑے کارنامے یا فریب ہوئے ۔ کارنامے اسلئے کہ جس مقصد کیلئے یہ اجلاس ہوا اور جس کے لئے اجمیر کا انتخاب ہو ا ،اس میں خاطر خواہ کامیابی نظر آرہی ہے ۔ فریب اسلئے کہ ان تینوں ہی کاموں سے امت مسلمہ کا کوئی تعلق نہیں بلکہ نقصان عظیم ہے۔اس اجلاس سے نکلنے ولاے نتیجے سوائے فریب ، ریاکاری اور سیاسی سوداگری کے کچھ نہیں ۔ تنخواہ دار مضمون نگار اس بات بڑا کارنامہ ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن قوم مسلم کے ذ مہ دار اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کر سکتے ۔ دونوں ہی مکتب فکر کے لوگوں کا ان معاملات میں اتفاق ممکن نظر نہیں آتا ۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ دیوبند اور جمیعۃ کا تعلق کس فکر سے ہے ۔ اس فکر کو پوری امت مسلمہ کے سامنے اجاگر کرنے کیلئے آل انڈیا علماء و مشائخ بوڈ نے اسی سال مارچ کے مہینے میں ایک بین الاقوامی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فار م پر لانے کی کوشش کی گئی ۔ اس میں کامیابی بھی ملی ۔ اس اتحاد کے ساتھ پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کرنے والے(بنام) اسلامی افکار و نظریات(وہابیت/دہشت گردی) کی پرزور مذمت کی گئی ۔اس عظیم اتحاد کو پوری دنیامیں سراہا گیا لیکن ہندوستان کے دونوں مکتب فکر کے ان دونوں ہی نمائندوں نے اس کانفرنس کی جم کر مخالفت کی تھی ۔ اس مخالت سے انہوں نے اپنی فکراور منشاء لوگوں پر ظاہر کر دی تھی ۔ اس کانفرنس میں چونکہ تصوف اور صوفیاء کو مرکزی حیثیت میں رکھا گیا تھا اس لئے جمیعۃ نے ہندوستانی تصوف کے مرکز اجمیر کو اپنے اجلاس کے لئے منتخب کیا ۔تاکہ تصوف سے وابستگی کو ظاہر کر سکیں۔ پوری دنیا میں ان دونوں ہی فکروں کا وجود نہ کے برابر ہے ۔ ہندوستان میں بھی ان کے وجود و شناخت کو خطرہ لاحق ہو چکا تھا اسلئے دونوں نے اپنی عافیت اسی اتحاد میں سمجھی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح پوری امت مسلمہ تین (سنی ،وہابی اور شیعہ)فکروں میں بٹی ہوئی ہے ۔ اس کے بعد تینوں میں بھی آپسی اختلافات ہیں۔ الگ مسلک اور مشرب میں منقسم ہیں۔ کبھی کبھی اختلاف کفر شرک تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔آج جس طرح وہابیت پوری دنیا میں سعودی وفاداری میں بے نقاب ہو چکی ہے اسی طرح بریلویت کے بارے میں انکشاف ہوچکا ہے کہ اس نام کا وجود ہندوستان ہی کے چند گوشوں تک محدود ہے ۔ اکثر اہل سنت و جماعت اپنے آپ کو بریلوی کہنا پسند نہیں کرتے ۔ یہاں تک کہ بریلویت جن نے منسوب ہے وہ خود بھی ان باتوں کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم بریلوی نہیں ۔ لیکن سیاست سے ہاتھوں بکی ہوئی چند زبانیں اور ان کو عوام میں جبرا رائج و مشہور کر کے دین کی تجارت کر نے والی غیرت و ایمان سے خالی کچھ تحریریں ان دونوں ہی ناموں کو زندہ کئے ہوئے ہیں ۔ سیاسی گلیاروں میں ان کا سودا ہورہا ہے ۔ مارچ کی کانفرنس کے بعد دونوں ہی کو لگا کہ اب وجود خطرے میں ہے اسلئے دونوں نے ہی پہلے تو مخالفت کی اسکے بعد اس کانفرنس کے جواب کیلئے اتحاد کا ناٹک کیا ۔ اس میں سیاسی جماعتوں کی دلچسپیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ پچھلی دہائیوں سے مسلمانوں کو ایک گجرات کے نام سے ڈرا کر اقتدار حاصل کرنے ولای کانگریس نے اپنے تما م تنخواہ داروں کو میدان میں اتار دیا ۔ کانفرنس کے دوران جنہوں نے قلمی دہشت گردی کا نمونہ پیش کیا ۔
جمیعۃ کے اس اجلاس میں دو ذاتی لوگوں کے اتحاد کو دو مکتب فکر کا اتحاد بتایا گیا ہے ۔ جس میں اردو صحافت نے اپنی(متعصب و فروخت) فکر واضح کرتے ہوئے نمک کا حق ادا کیا ۔پوری دیوبندی فکر کیا بریلوی مکتب فکر کے ساتھ اتحاد کرتی ہے ؟ کیا پوری وہابیت جمیعۃ اور محمود مدنی کو اپنا نمائندہ تسلیم کرتی ہے ؟ جب کہ جمیعۃ اس سے پہلے وہابیت سے توبہ کر کے صوفیا کا دامن پکڑنے کا اعلان کر چکی ہے ۔ اگر جمیعۃ صوفی ہو چکی ہے تو اتحاد کیسا ؟ اب تو دونوں بھائی بھائی ہیں ۔تو اتحاد کا رنگ دے کر فریب کیوں رچا گیا ؟اگر وہابی ہی ہیں تو تو صوفیت کا رنگ لگا کر فریب کاری کیوں کی گئی ؟ اب یہ اتحاد کیسا ہے ؟اگر یہ سیاسی اتحاد ہے تو اتحاد نہیں بلکہ سمجھوتہ ہے یعنی ایک دوسرے کے تعلق سے خیالات وہی پرانے ہیں بس سیاسی فائدے کیلئے دونوں ایک ہیں۔ تو ایسی کیا مجبوری ہے جس کیلئے سیاسی اتحاد کی ضرورت پڑ گئی ؟ کس جماعت کی حمایت اور کس پارٹی کی حمایت میں یہ اتحاد کیا گیا ؟ اگر آر ایس ایس اور بی جے پی کے خلاف یہ اتحاد ہے ۔ چونکہ اب ایسے حالات بنتے جارہے ہیں جس میں مسلمانوں اور دلتوں کو دن بہ دن پریشان کیا جا رہا ہے ۔ تو کیا ایسی صورت حال کانگریس کے زمانے میں نہیں آئی تھی؟ ایک وہ دور بھی تھا جب اٹل وہاری باجپائی وزیر اعظم تھے اورلا ل کرشن اڈوالی نائب وزیر اعظم تھے ۔ جس وقت پوٹا جیسا قانون نافذ کر مسلمانوں کو خوف زدہ اور ہراساں کیا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت کا حادثہ پورے ملک اور اس جمہوریت پر ایک کالا دھبہ بن گیا تو کیا اس وقت کانگریس سے جڑی وہابی تنظیموں نے کانگریس کے خلاف کو اتحاد قائم کیا تھا ؟
اگر مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی وجہ سے اس اتحاد کی ضرورت ہے تو پھر اسی اسٹیج سے دوسرا بڑا فریب ’تین طلاق کو غیر اسلامی ‘ قرار دینے کا غیر اسلامی عمل کیوں کیا گیا ؟ آج ملک کے کونے کونے کا مسلمان روزانہ احتجاج کرتا ہے ۔ نشستیں قائم کرتا ہے ۔ اسلام اور شریعت کیلئے اپنے علماء کے ساتھ پوی جاں فشانی اور قربانی کے ساتھ کھڑا ہوتاہے ۔ لیکن یہ اتحاد ان تمام کروڑوں مسلمانوں کی قربانیوں کو چند روپیوں میں سیاست کے ہاتھوں بیچ دیتا ہے ۔ تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کی لڑائی تو دونوں ہی فریق لڑ رہے ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی ساتھ دے رہے ہیں جو تین طلاق کو نہیں مانتے ۔ لیکن مذہبی آزادی میں دخل اندازای کے خلاف متحد ہیں۔ اسے تو اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ لیکن مہینوں سے چلی آرہی مہم کا سودا بڑی بے باکی سے کر دیا ۔ اس پر مزید تماشہ یہ کہ دونوں ہی فریق کے ذمہ داران خاموش ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ، دیو بند اور اس فکر کی حامی تما م تنظیمیں اور ادارے اس پر خاموش ہیں۔ اسی طرح بریلوی مکتب فکر کا بھی پورا کنبہ خاموش ہے ۔ بین الاقوامی صوفی کانفرنس کی قلمی دہشت گردی سے انانیت اور تخریب پر مبنی مخالفت کو جہاد کا نام دینے والے نام نہاد قلم کار یٰس اختر مصباحی کے قلم کو بھی نیند آگئی یا پھر اپنے سیاسی اور دنیا دار آقاؤں کا اشارہ نہ ملنے کی وجہ سے زنگ لگ گئی ۔ فکری و سیاسی اشاروں پر مہم چلانے والے تحریر کے اس سوداگر کا بھی قلم اچانک ٹوٹ گیا ۔کل کی مخالفت کو دین کا نام دینے والے کا دین کیا آج بک گیا؟ پوری دنیائے سنیت پر اپنی مرکزیت تھوپنے والی پوری بریلویت خاموش ہے ۔ خاندان مذہبی اور سیاسی سوداگری کا شکار ہو گیا ۔
ایک کمرے میں دست بوسی اور قدم بوسی کی کی چاپلوسی کو عالمی صوفی مشن کہنے والے اشتیاق ایوبی اور ٹی وی پر زور زور سے چلاکر تہہ خانے میں صوفی کانفرنس کے خلاف میٹنگ کرنے والے مولانا انصار رضا بھی کسی خانہ میں کونہ بگوش حکم آقا کا انتظار کر رہے ہیں۔
شرک ، کفر اور بدعت کی کاروبار کرنے والی وہابیت بھی چپ ہے ۔اس کا بھی احساس دین و شریعت کسی مجبوری ، حکمت ، مصلحت کی نذر ہو گیا ۔ جمیعۃ کے اجلاس سے پہلے شور شرابہ کرنے والوں کو اچانک شانپ سونگھ گیا ۔آخر ایسا کیا ہوگیا کہ ہر طرف سناٹا سا چھا گیا ۔
اس وقت سنجیدہ اور اہل علم و دانش کی نظروں کا مرکز آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ ہے ۔ اس سنجیدہ معاملے پر اس بورڈ کی خاموشی بھی کئی سوال کھڑے کر رہی ہے ۔
پچھلے دس برسوں سے اپنی بے باکی اور حق گوئی کے لئے معترف و مقبول تنظیم بھی اس غیر معمولی مسئلے میں خاموش ہو تا الجھنیں اور بے چینیاں بڑھتی ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے عظیم اتحاد کی تاریخ رقم کرنے والی اس تنظیم سے ابھی امیدیں وابستہ ہیں ۔ امید یہی ہے کہ اس مسئلے میں بورڈ کے صدر و بانی سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کچھ لائحہ عمل ضرور تیار کر لیا ہوگا ۔ اجمیر میں ہونے والے اس اتحاد ، جمیعۃ کے صوفی شجرہ اور تین طلاق کے غیر اسلامی ہونے کے موقف پر دیو بندی اور بریلوی کے متحدہ اعلان پر اس بورڈ کے موقف کا انتظارہے ۔
*****
Abdul Moid Azhari (Amethi)

 

Check Also

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

By Waris Mazhari In recent years, what is called ‘Islamophobia’ has become a major issue globally, …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *