ذاکر نائک ، میڈیا اور مسلمان:عبدالمعید ازہری

By Maulana Abdul Moid Azhari (Graduate of Al-Azhar University), WordForPeace.com
 

پچھلے کچھ دنوں سے ذاکر نائک کو لیکر میڈیاکی گلیوں سے لیکر ایوان حکومت تک ایک بڑی بحث اب تک زور پکڑتی جارہی ہے ۔ اس بحث سے جہاں ایک طرف ذاکر نائک کی تقریروں پر پابندی کی مانگ کی جارہی ہے وہیں دوسری طرف راتوں رات ذاکر نائک کو غیر معمولی شہرت حاصل ہو گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ ذاکر نائک کی تقریریں اور بیانات زور وشور کے ساتھ شیئر ہونے لگیں۔اب تومیڈیا اور حکومت کے ساتھ عام مسلمان بھی اس بڑی بحث کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔مختلف زبانوں کی پرنٹ میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس موضوع کو بڑی اہمیت دی ۔ایسا لگتا ہے مانو سوئی ہوئی میڈیا جاگ گئی ہو اور برسوں بعد اسے اس بات کا اچانک خیال اور ہو گیا ہو کہ اس ملک میں میڈیا کو جہوریت کا چوتھا پایا ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔یوں تو ذاکر نائک کے حامیوں کی تعداد کم ہے لیکن میڈیا میں اس بات کو اچھالے جانے کی وجہ سے ایک طبقہ کو لگا کی یہ میڈیا ٹرایل ہے ۔ صرف مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کے سوا کچھ نہیں۔ ذاکر نائک کو لیکر مسلمانوں میں شروع ہی سے مختلف خیالات رہے ہیں ۔لیکن اس بار ذاکر نائک کو قید کئے جانے اور ہندوستان سمیت دیگر ممالک میں بھی پابند کئے جانے کی مانگوں کو لیکر بڑا اختلاف سامنے آیا ہے ۔حکومت ہند بھی تشویس میں ہے کہ ذاکر نائک نے ایسے کتنے جرائم کئے ہیں جن کی بنیاد پر نہ صرف اسے پابند کیا جائے بلکہ قید یا کوئی سزا دی جائے ۔
ہندوستان سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کی گروہ بندی کا اگر جائزہ لیا جائے یہ تو بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمان تین بڑے (سنی ، شیعہ اور وہابی/سلفی )فرقوں میں بٹاہوا ہے ۔شیعہ اور سنی کی پہچان اکثر لوگوں کو ہے ۔ سنی اور وہابی درمیان میں فرق و امتیاز ہمیشہ مشکل ہوتی ہے ۔کیونکہ دونوں ہی اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں۔ چند برسوں سے کچھ لوگ اپنے آپ کو وہابی کہنے لگے ہیں ورنہ اس پہلے کوئی اپنے آپ کو ہابی/سلفی نہیں کہتا تھا ۔ان کی تعداد بہت کم ہے ۔القاعدہ ، طالبان ، داعش اور اخوان المسلمین جیسے گروہ اور ان کی انتہا پسند فکر کو وہابی یا وہابی/سلفی فکر مانا جاتا ہے ۔ اس فکر کی کسی بھی طرح سے حمایت کرنے والوں کو بھی اسی گروہ میں شامل کیا جاتا ہے ۔یہ وہ فکر ہے جو اپنے علاوہ کسی کو بھی مسلمان نہیں مانتی ہے۔ سنی مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ انہیں صوفی یا اہل سنت بھی کہتے ہیں۔اس بڑی تقسیم کے بعد بھی یہ تینوں ہی الگ الگ مسلک اور مشرب میں تقسیم ہوئے ہیں لیکن وہ اختلاف اتنا بڑا نہیں جتناکہ اس بڑی تقسیم میں ہے ۔ اگر چہ مسلمانوں کے بارے میں پیغمبر اسلام کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک قوم ہے لیکن یہ آج کی افسوس ناک حقیقت ہے کہ مسلمان فرقوں میں بٹ چکا ہے ۔ اب ان کے اتحاد کی کوئی سورت بنتی نظر نہیں آ رہی ۔ کیوں کہ ہر ایک دوسرے کی نظر میں مسلمان نہیں بچا۔ کچھ کے نزدیک اپنے علاوہ دوسرے گروہ کا قتل بھی روا اور درست ہے ۔ اسی بنیاد پر انتہا پسند تنظیمیں امت مسلمہ کو خاک و خون میں ملاتی نظر آ
رہی ہیں۔
ذاکر نائک کو لیکر معاملہ اس وقت میڈیا کی نظر ہو گیا جب ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گرادانہ حملہ کے قاتلوں کا تعلق ذاکر نائک سے نکلا ۔ حالانکہ وہ تعلق صرف اتنا ہے کہ وہ حملہ ور ذاکر نائک کے فین اور فالوورہیں۔ اب ذاکر نائک نہ صرف میڈیا کی نظروں میں آگئے بلکہ حکومت کی نظروں سے بھی چھپ نہ سکے ۔ ان کے اوپر این آئی اے جانچ بٹھا دی گئی ۔ اس کے بعد پیاز کی طرح پرت در پرت فائلیں کھلتی گئیں اور گھیرا مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ذاکر نائک کے ساتھ کام کرنے والوں نے بھی بڑے الزامات کا خلاصہ کیا ہے ۔ جو میڈیا نے خوب مر چ مسالے کے ساتھ شائع کیا ۔ ذاکر نائک کا غیر قانونی چینل اور عرب و دیگر ممالک سے آئی رقم کی جب جانچ ہوئی تو ذاکر نائک کی اس شبیہ کے بالکل بر عکس نکلی جو چہرہ لوگ ان کے پروگراموں میں دیکھتے تھے۔ذاکر نائک پر پابندی لگانے کا مسئلہ نیا نہیں ہے ۔ ہندوستان ہی کے کئی شہروں میں ذاکر نائک کی تقیریروں پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ سمیت کئی ممالک میں بھی ذاکر نائک پر پابندی ہے ۔ ابھی ڈھاکہ حملہ کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے ذاکر نائک ان کے ٹی وی چینل ’پیس ٹی وی ‘پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ۔
ذاکر نائک سے مسلمانوں کا اکثریتی طبقہ اسلئے ناراض ہے کیونکہ ذاکر نائک نہ صرف دوسرے مذاہب کو شب و ستم کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ خود مذہب اسلام کی توہین سے بھی گریز نہین کرتے ۔ پوری دنیا میں اسلامی اسکالر کی پیچان بنانے والے ذاکر نائک کاعقیدہ پیغمبر اسلام کے تعلق سے نہ صرف بے ہودہ ہے بلکہ توہین آمیز بھی ہے ۔مزارات کو منہدم کرنے ، خود کش بم دھماکوں کو جائز ٹھہرانے ،دہشت گردی کا ساتھ دینے جیسے کئی بیانات ہیں جن سے لوگوں میں ناراضگی ہے ۔ ذاکر نائک سے صرف سنی ہی ناراض نہیں ہے بلکہ شیعہ بھی نالاں ہے کیونہ ذاکر نائک کے نزدیک کربلا کی جنگ سیاسی تھی اور یزیدجو اہل بیت اور معصوموں کے قتل کا مجرم تھا وہ ’رضی اللہ عنہ‘تھا۔اس کے علاقہ اور بھی بہت سارے عقائد و نظریات ہیں جن کی بنیاد پر اکثر ذاکر نائک کو مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔وہابی مکتب فکر کا اہم اور عظیم ادارہ دار العلوم دیو بند بھی ذاکر نائک کے خلاف فتوی دے چکا ہے ۔ کوئی بھی ادارہ ذاکر نائک کو اپنی فکر کا ترجمان ماننے
کیلئے تیار نہیں ۔دور اندیش نظر اور گہرا علم نہ رکھنے والوں کی ایک تعداد ہے جو ذاکر نایک کو پسند کرتی ہے کیونکہ ذاکر نائک انگریزی زبان میں قرآنی آیات کا ترجمہ بتاتے ہیں اور تقابل ادیان کا بھی مطالعہ رکھتے ہیں۔ اس مہارت پر بھی انہیں کے ساتھ رہ چکے شیخ ساجد’جو ذاکر نایک کے پہلے محافظ تھے’ انہوں نے کہا کہ سب بناوٹی ہے ۔ بالکل فلموں جیسا ہے ایکٹنگ کوئی اور کرتاہے ۔ کہانی کسی اور نے لکھی ہے ۔ ڈائرکٹر کوئی اور ہے اوراسے پروڈیوس کہیں اور سے کیا جارہا ہے ۔ ذاکر نائک کے پروگراموں میں سوال کرنے والے پہلے سے فکس ہوتے ہیں ۔ کوئی مذہب تبدیل نہیں کرتا سب مسلمان ہی ہوتے ہیں ۔ عرب ممالک سے پیسے لینے کیلئے ایسا دکھایا جاتا ہے ۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ تصور کا درسرا رخ ان لوگوں کی دلیل ہے جو ذاکر نائک کو پسند کرتے ہیں ۔ذاکر نائک کو پابند نہ کئے جانے کا مطالبہ کرنے والوں میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں ۔ایک تو وہ ہیں’ اندھ بھکت ہیں‘ ۔ وہ کسی نہ کسی طرح بندھے ہوئے ہیں۔دوسرے وہ ہیں جو آزاد پسند اور آزاد خیا ل لوگ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ذاکر نائک نے اپنے کسی بیان میں کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے دہشت گردوں یا دہشت گردی کو تقویت ملتی ہے تب تو اسے نہ صرف پابند کیا جائے بلکہ مناسب سزا بھی دی جائے ۔اور اسی کے ساتھ ایسے تمام لوگوں کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے جو ایک عرصہ سے حکومتوں کی پشت پناہی میں ہندوستانی تہذیب کو زخمی کر رہے ہیں۔ فرقہ واریت کی آگ میں ملک عزیز کو جھونکنے پر آمادہ ہیں۔ذاکر نائک اگر اسامہ بن کی لادن کی تعریف کرنے پر قصور وار ہے تو اسے سزا ملنی چاہئے کیونکہ ہم کسی بھی سورت میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو پسند نہیں کرتے ۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسے لوگوں کو سزا دی جائے جنہوں نے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ رقم کرنے والے مہاتما گاندھی جی کے قاتلوں کو نہ صرف عزت دی بلکہ انہیں اپنا بھگوان بنا ڈالا۔اگر وہانی سلفی فکر انتہاپسندی اور دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہے تو کیا بھگوا دہشت گردی ملک کے امن کے لئے مسلسل خطرہ بنتی نہیں جا رہی ہے۔
عقائد و نظریات کی بنیاد پر قید کرنا یا سزا دینا غیر قانونی ہے ۔ یہ ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے ۔ اپنے مطابق مذہب ، عقیدہ اور نظریہ رکھنے میں سب آزاد ہیں۔اسی گروہ کا الزام ہے کہ یہ سب میڈیا کی سازش ہے جو مسلمانوں کو بہکانے کاکام کر رہی ہے ۔ انہیں ایک ذاکر نائک نظر آتاہے لیکن پروین توگڑیا، یوگی آدتیاناتھ،پرگیا سنگھ اور ساکشی مہاراج جیسے نفرت آمیزاور بھڑکاؤ بیان دینے والے نظر نہیں آتے ۔سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہونا چاہئے ۔ایک اور طبقہ ہے جو ذاکر نایک کی حمایت میں احتجاج کر رہا ہے ۔اس حامی گروہ کے بارے سنی شیعہ اور آزاد خیال طبقہ سب کا کہنا ہے کہ یہ فرقہ وہابی سلفی اور انتہا پسند فرقہ ہے ۔اس حامی گروہ کی دلیل ہے کہ یہ سب مسلمانوں کو فرقوں گروہوں میں بانٹ کر لڑانے کی سازش ہے ۔ان کے علماء نے اتحاد قائم کرنے کی درخواست کی ہے ۔
اس حامی گروہ سے جند سوال کئے گئے کہ جب ڈھاکہ میں حملہ ہوا تو کوئی احتجاج نہیں کیا گیا ،مصر ، عراق ، لیبیاجیسے ممالک ایک ایک کرکے نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں ہی تباہ کئے گئے کوئی احتجاج نہیں۔ مسلمانوں کے سب سے مقدس مقام مدینہ میں بھی حملہ ہوا اس پر بھی کوئی اتجاج نہیں ۔ آخر ذاکر نائک ہی کیلئے احتجاج کیوں ؟ جب گلیوں اور محلو ں میں نکل کر کھلے عام ایک عام مسلمان کو کافر ، مشرک اور بدعتی کہہ کر انتشار پھیلایا جاتا ہے ۔ ایک بیٹے کواس کے باپ سے ہی متنفر کر دیا ہے جاتا اس کے بعد ذاکر نائک جیسے لوگوں کی تقیرریں ان بدعتی مسلمانوں کا خون حلال کر دیتی ہیں تو اس وقت نہ اسلام خطرے میں ہوتا ہے اور نہ کوئی یہودی اور امریکی سازش نظر آتی ہے ۔کیا ایسے وقت میں اتحاد کی ضرورت نہیں ؟
یہ سچ ہے کہ ہندوستان ابھی دہشت گردی کی اس آگ سے محفوظ ہے جس میں ایک ایک کرکے اکثر مسلم ممالک تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ آج کیا ضرورت اس بات کی نہیں ہے کہ دوسرے کے گھروں کی گندگی پر انگلی اٹھانے سے پہلے خود ہی کے گھر کوصاف کر لیا جائے ؟ذاتی طور پر ذاکر نائک یا دوسرے کسی پرست سے کوئی سروکار نہیں لیکن اگر یہ فکر ہندوستانی مسلم نوجوانوں میں پھیل گئی تو اس کا انجام ہم خود سوچ لیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ القاعدہ اورداعش دونوں ہی نے اپنی شاخوں کو ہندوستان اور جنوب ایشیاء تک لانے بات کر چکے ہیں۔ داعش کے جھنڈے اس ملک میں بھی دیکھے جا چکے ہیں۔سوشل میڈیا کے علاوہ تحریری طور پر بھی اس فکر کو حمایت مل چکی ہے ۔ داعش سرغنہ ابو بکر البغدادی کو ایک کھلا خط بھی لکھا جا چکا ہے ۔کچھ ہندوستانی نوجوانوں کی داعش میں شمولیت کی خبر بھی آچکی ہے ۔ ابھی چند روز قبل ہی داعش کا ایک ویڈیوں ٹیپ سامنے آیا جس میں ہندوستان کو ٹارگیٹ کیا گیا تھا۔یہ سب کچھ سیاسی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے لیکن کیا یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ نہیں کہ ایک طرف ہم مذہب اسلام کے امن عافیت کا مذہب بتلاتے ہیں دوسری طرف اسلام ہی کے نام پر ایسے لوگ سامنے آتے جو جن کی فکر و حرکت قطعی طور پر اسلامی نہیں۔بے گناہوں کا خون بدستور جاری ہے اور ہماری بحث یہ ہے کہ سزا پہلے کسے ملے۔ایک مسلمان کیسے کسی ایسے شخص یا فکر کی حمایت کسی بھی سورت میں کر سکتا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔
ہندوستان کے موجودہ حالات ملک میں سماجی اور مذہنی رہنما کیلئے کئی سوال کھڑے کرتے ہیں۔ کیا سماجی کار کن اور لیڈر صرف موقعہ پر ہی اپنی ذمہ داری نبھاتے نظر آئیں گے ؟ کیا مذہنی رہنما اپنی عقیدت گاہوں میں بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے ؟ آخر حالات بگڑنے سے پہلے ان کی تربیت اور ذہن سازی کیوں نہیں ہوتی؟کیا جرم اور گناہوں کا انتظار کیا جاتا ہے کہ اس کے بعد فیصلہ سنایا جائے گا ؟
Abdul Moid Azhari (Amethi) Contact: 9582859385, Email: abdulmoid07@gmail.com

Check Also

In the era of virtual terrorism, all cyber-enabled nations are equal

WordForPeace.com By Daniel Wagner A victory in information warfare can be much more important than victory …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *