رواداری اور بقائے باہم ہمارے ملک کی امانت ہیں Peaceful Co-existence and Harmony are Our National Ethos

  • WordForPece.com ڈاکٹر ساحل بھارتی
    ہمارا ملک صدیوں سے ایک جمہوری رواداری کا ملک ہے۔ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب ہمیشہ اس ملک کے اندر کبھی کبھار اٹھنے والی فرقہ واریت، نفرت و تشدد کی سیاسی فکر پر حاوی رہی ہے۔یہ اس ملک کی مٹی کی فطرت ہے کہ اس نے ہر ایک کو اپنے دامن میں بلا فرق و امتیاز جگہ دی۔بلا تفریق مذہب و ملت ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دینے کی ایسی ہزاروں مثالیں اس ملک کے گوشے گوشے سے مل جائیں گی جو اس ملک کی یکجہتی، باہمی رواداری اور انسان دوستی کی اعلیٰ اور واضح مثالیں ہیں۔ایسی مثالیں کسی وقت اور دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ دور حاضر کو رواداری اور قومی یکجہتی کے لحاظ سے نہایت ہی نازک وقت تصور کیا جاتا ہے لیکن آج بھی ایسی مثالی اور واقعات ہیں جو قدیم ہندوستان کی تاریخی روایات کو نہ صرف زندہ کئے ہوئے ہیں بلکہ سماج میں آئینہ کا کام کر رہی ہیں۔در اصل ملک کا وقار اور اس کی شناخت اسی رواداری کے دم پر ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن عناصر کو اس ملک کی اس اچھوتی فکر اور قومی ہمدردی کی وجہ سے ملک کی بنیادیں ہلانے کا موقعہ نہیں مل پاتا۔ یہ طاقتیں اپنی ایڑی چوٹی کا زرو لگا کر ملک کی اسی روایت کو توڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایک ساتھ عید اور دیوالی کی منائی جانے والی خوشیاں ان سے نہیں دیکھی جاتیں۔سلمان جب اپنے محلے سے عید کی نماز کے لئے نکلتا ہے تو رام سنگھ کے محلے میں سب سے زیادہ صفائی اسے نظر آتی ہے تبھی تو عید کی مٹھائی وہ سب سے پر رمیش کے ساتھ کھاتا ہے۔ یوں ہی دیوالی روشنی صرف ٹھاکر صاحب اور تواری جی کے گھروں کے آس پاس نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ روشنی عبداللہ کے محلے میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔
    ایسی ہی رواداری کا ایک واقعہ جوشیماتھ اترا کھنڈ کے گرودوارا کی ہے۔یوں تو ویسے بھی گردواروں کے بارے میں یہ عام تصور ہے کہ وہاں ہر ایک کو پناہ مل جاتی ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا ان کی اہم خدمات میں سے ہے۔ ایسے ہی گردواروں میں صحت و تندرستی کو لے کر وقفے وقفے سے مفت یا رعایتی میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ مزدوروں، رکشا چلانے والوں اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور ان کی مالی حالت کا خیال رکھتے ہوئے کم قیمت یا مفت میں ان کا علاج کرانے کی سہولت مہیا کرائی جاتی ہے۔بین المذاہب اور قومی رواداری میں سکھوں اور گردواروں کی ایک روشن اور قابل تحسین تاریخ ہے۔ اپنی روایتوں کو برقرار رکھتے ہوئے مذکورہ بالا گرودوارا نے اپنے دروازے مسلم بھائیوں کے لئے کھول دئے۔ابھی حال ہی میں عید الاضحی کی نماز کے لئے جب باہر نماز پڑھنے کی لئے جگہ تنگ ہوگئی تو ان مسلم بھائیوں کے لئے گردوارا کھول دیا گیا تاکہ وہ لوگ اس میں اپنی نماز ادا کر سکیں۔ یہ وہ مثال ہے جو صرف ہندوستان میں مل سکتی ہے۔ یا کم از کم ایسی روایات دنیا میں کہیں بھی ہوں وہ ہندوستان کی دین ہیں۔اسی یکجہتی اور بھائی چارگی کے لئے ملک جانا مانا اور پہچانا جاتا ہے۔ کثیر اللسان او ر کثیر المذاہب ملک میں ایک دوسرے کے مذہب کے لئے اتنی عزت اور انسانوں سے ایسی ہمدردی انسان اور انسانیت کو اب تک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ایسی یکجہتی کی مثالیں صرف گردواروں میں ملتی ہیں۔ یہی عید الاضحی کا موقعہ ہے۔ ممبئی مہاراشٹر میں ہندو بھائیوں نے گنیش پنڈال میں جگہ خالی کرادی تاکہ اس میں مسلمان عید الاضحی کی نماز ادا کر سکیں۔ کیونکہ اس دن باہر بارش ہو رہی تھی۔ عام طور پر عید اور جمعہ کی نماز کے لئے کبھی کبھای مسجد میں جگہ نہیں ہوتی ہے۔ عید گاہ بھی چونکہ کھلی چھت کی ہوتی ہے۔ اس لئے باہر بارش کی وجہ سے نماز پڑھنا مشکل ہو گیا تو وہاں کے ہندو بھائیوں نے اپنے مذہبی رسوم کی ادائکی والی جگہ کو دوسرے مذہب کی رسوم کی ادائگی کے لئے خالی کر دیا۔ایسی سیکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مثالیں روز واقع ہوتی ہیں۔یہی وہ روایتیں ہیں جو ملک کے ہر شہری اور باشندے کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ کر رکھتی ہیں۔یوں ہی عیسائیوں نے اپنے چرچ کو دیگر مذاہب کی مذہبی عبادات کی ادائگی کے لئے کھولے ہیں۔
    مسلمان بھی اس معاملے میں کسی سے کم نہیں بلکہ ان کی فراخ دلی پوری دنیا کے لئے مثال ہے۔ پیغمبر کی زندگی اور ان کے صحابہ کی زندگی کا ہر گوشہ اس بقائے باہم اور آپسی میل جول کے لئے کسی میل کے پتھر سے کم نہیں۔ہر دور میں مسلمانوں نے اپنے اس نمایاں اور امتیازی شناخت سے منہ نہیں موڑا۔ قرآنی آیات اور نبوی پیغامات اس بات کے واضح ثبوت ہیں کہ کسی بھی مذہب ، اس کے مذہبی رہنما اور مذہبی رسومات و عقائد کی نہ توہین کی جائے اور نہ ان کا مذاق اڑایا جائے۔ یہاں تک کہ اگر جنگ کی صورت ہو تب بھی مذہبی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کیا جائے اور نہ ہی مذہبی پیشواؤں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچائی جائے۔ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کے صوفیانہ باب اس کی چمکتی مثالیں ہیں۔ یہ صوفی جب یہاں اسلام لے کر آئے تو اس ملک کی تہذیب اور ثقافت کو اپنا کر انسانیت کا پیغام پھیلایا اور انسانوں کی خدمت عبادت کی طرح کی۔اپنے جملہ وابستگان کو محبت، محبت اور صرف محبت سکھائی۔

Check Also

Attack on Church in Quetta is brazenly Un-Islamic: Ghulam Rasool Dehlvi in Pakistan Christian Post

WordForPeace.com By Ghulam Rasool Dehlvi The Quran say: “Mankind! We have created you from a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *