سلفی نظریات اور خودکش حملے

WordForPeace.com

تحریر:غلام رسول دہلوی ۔انڈیا
ترجمہ :(سید حیدر)
جب ذاکر نائک جیسے عالمی شہرت کے حامل افراد خودکش حملوں کے حوالے سے محض اپنی ضد پر مبنی فتوے دینے پر تلے ہوئے ہیںاور اس کو جنگی حکمت عملی سے تعبیر کرتے ہیں تو ایسے میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والی دہشتگردی کے خلاف ہمارے چیخنے چلانے سے کو فرق نہیں پڑتاہندوستانی مسلمان جو اسلام کو ایک ترقی یافتہ مذہب سمھجتے ہیں ان کے لیے یہ بات ہضم کرنا مشکل تھی کہ ذاکر نائک صاحب سعودی عرب میں بیٹھ کر سکائپ کے ذریعے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ خودکش حملے جنگی حکمت عملی کے تحت جائز ہیں انتہائی غیر معقول انداز میں انھوں نے اپنی بات کا جواز پیدا کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کا حوالہ دیا جس میںخودکش حملے جنگی حکمت عملی کے تحت کیے گئے تھے حقیت میں ان کی یہ پریس کانفرنس ان پر عائد ان الزامات کا جواب دینے کےلیے تھی ۔جو ان کے خطبات کے حوالے سے ان پر لگائے گئے تھےان پر الزام تھا کہ ان کے ان خطبوں سے متاثر ہو کر ہی دہشتگردوں نے ڈھاکہ میں کاروائی کی تھی ان کے کا بیان دنیا میں پھیلے ہوئےدہشتگردوں کو ان کی کاروائیوں کا جواز فراہم کرتا ہے وہ یہ ہے
“اگر کوئی ملک جنگی حالت میں ہے تو اس کے کمانڈرکی ہدایت پر خودکش حملے جائز ہیں “جب ان سے ان کی ایسی متنازعہ تقاریر کے حوالے سے سوال پوچھا گیا جن میں خودکش حملوں کو جائزقرار دیا گیا ہے تو انھوں نے کہا کہ میں آپ کو چیلنج کرتا ہوں کہ کانٹ چھانٹ کیے بغیر میرا ایسا کوئی بیان سامنے لایا جائے جس میں میںنے موجودہ طرز کے حملوں کی مذمت نہ کی ہو ظاہر ہے اپنے اس بیان میں انھوں نے ہر قسم کے خودکش حملوں کی مذمت نہیں کی بلکہ انھوں نے محض موجودہ طرز کے حملوں کی مذمت کی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی انتہاپسند کسی اور رقم کے خوکش حملے کرتا ہے تو ذاکر نائک صاحب اس کا جواز کیسے پیدا کریں گے انہوں نے یہ ضرور کہا کہ وہ ایسے حملوں کو اسلام کی رو سے حرام سمجھتے ہیں ۔لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تاہم نیست سے علماء اس کو جنگی حکمت عملی کے طور پر جائز سمجھتے ہیں،لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کیا کہ تاہم نست سے علماءاس کو جنگی حکمت عملی کے طور پرجائز سمجھتے ہیں۔پھر وہ بہت سے علما کون ہیں جنہوں نے خودکش حملوں کو جنگی حکمت عملی کے تحت جائز قرار دیا ہے ذاکر نائک نے ایسے چند علماء کا حوالہ دیا ان میں سے سعودی عرب کے معروف مذہبی عالم اور رہنماءشیخ عبدالعزیز بن باز کا تعلق سلفی مکتب فکر سے ہے اور جنہوں نے سعودی عرب کے مفتی اعظم کے طورپر 1993 سے 1999اپنی وفات تک خدمات انجام دی ہیں نائک نے ایک سلفی عالم شیخ عبدالمحسن العباد کا نام لیا جنہوں نے اس قسم کے حملوں کو جہاد قرار دیا عصر حاضر کے سب بڑے سلفی عالم اخوان المسلمین کے نظریاتی امام جن کے فتاوی دنیا بھر کے سلفی وہابی افراد کے لیےشیخ یوسف القرصاوی ہیں ۔ان کا تعلق قطر سے ہے انہوں نے بھی 1990 میں دیے جانے والے اپنے فتوے میں خودکش حملوں کو ایک “دفاع حملہ ـ” قرار دیا ہے شیخ قرضاوی نے بھی ذاکر نائک کی طرح کئی بار کہا ہے کہ وہ واحد عالم ہیں ہے جس نے خودکش حملوں کو جائز قرار دیا ہے۔
خودکش حملوں کے جائز ہونے کے حوالے سے یہ تمام فتاوی سلفی وہابی علماء منسوب ہیں جب کہ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندگی کرنے والے علما اس نوعیت کے حملوں کو حرام سمجھتے ہیں برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت بھی ان فتووں سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کرتی ہے ۔ذاکر نائک کے خیالات وہابی مکتب فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی اکثریت بھی اس قسم کے نظریات سے لا تعلق ہے۔

Check Also

Noted Muslim personalities who played important positive roles in Sikh history

WordForPeace.com By Iqbal R. Sama   Sikh Mazhab Se Mutalliq Motabar Muslim Shaksiyat (Urdu) (“Respected …

2 comments

  1. nice article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *