شعر و سخن کی تخلیقات اور برقی اعظمی

By Syed Wahidul Qadri Arif, WordforPeace.com

سید وحید القادری عارف

       عہدِ حاضر میں جہاں انٹرنیٹ پر موجود متعدد سوشیل ویب سائٹس کے ذریعہ ماضی  کےمشہور و معروف  اساتذہء شعر و سخن کی تخلیقات  کا جاذبِ نظر اور باعثِ تسکینِ قلب و نظر ذخیرہ  میسر ہوا ہے وہیں انہی وسائل نے ہمیں دورِ حاضر کے  بے شمار اصحابِ فکر و فن سے بھی متعارف کیا ہے  ۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس نے مشرق و مغرب’ شمال و جنوب غرض دنیا کے  ہر اس مقام سے جہاں اردو داں طبقہ موجود ہے  ایسی قابلِ قدر ہستیوں کو یکجا کردیا ہے جو اس سے قبل یا تو گوشہء گمنامی کے مکین تھے یا ان کی شہرت ان کے شہر یا وطنِ مالوف تک ہی محدود رہی تھی۔اس طرح جہاں ان شخصیات کا باہم تعارف ہوا وہیں ان کی تخلیقات سے اصحابِ ذوق کی دلجمعی کا بھی خاطر خواہ     سامان  ممکن ہوگیا۔

میرا ماننا ہے کہ  دلی جذبات و کیفیات کاپیرہنِ اشعار میں اظہار کرپانا ہی اصل فنِ شاعری ہے۔  میرا ماننا ہے کہ شاعر بنتا نہیں ‘ہوتا ہے اور شاعری کی نہیں جاتی’ ہوجاتی ہے۔ لیکن شعری تخلیقات  میں ان کیفیات کا  اظہار یا تو   بے حد غیر متناسب انداز میں یوں کیا جاتا ہے کہ یہ شعر  یا شعر نما تخلیقات قاری و سامع کے ذوقِ گوش و نظر  کے لئےسراسر بارِ خاطر ہوتی ہیں یا پھر یہی  اظہار اس خوبصورتی سےہوتا ہے گویا  یہ شعر نہ ہوں  سلکِ مرصّعِ نظم میں خوش  صورت الفاظ و جاذبِ قلب معانی سے آراستہ  موتیاں پرو دی گئی  ہوں جو ذوقِ سماعت سے گذر کر اعماقِ باطن کی پذیرائی کا سبب اور لذّتِ مطالعہ سے بڑھ کربصارت و بصیرت کی کشادگی کا سامان بن جاتی ہیں۔  اصحابِ ذوق کے ذوقِ شعری کی تسکین انہی  اشعار سے ممکن ہوتی ہے۔ دراصل شاعر ایک حساس قلب و نظر کا حامل شخص ہوتا ہے جو اپنی ذات سے وابستہ فرحت و غم کا ادراک تو رکھتا ہی ہے ساتھ ہی کائینات  کی وسعتوں میں پھیلی ہر اس کیفیت کو محسوس کرنے کی قدرت رکھتا ہے جو اس دنیائے  فانی کے ماحول پر مثبت و منفی طور پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ وہ جہاں اپنے آپ کو خوش رکھنا چاہتا ہے وہیں چاہتا ہے کہ چہار دانگِ عالم میں بھی خوشیاں بکھر جائیں۔ جہاں اسے اپنی تکالیف کا احساس ہوتا ہے وہیں وہ   جانتا ہے کہ اہلِ زمانہ بھی حادثاتِ زمانہ سے محفوظ نہیں ہیں۔ جہاں وہ اپنے لئے علاجِ سوزِ دروں کا متلاشی ہوتا ہے وہیں علاجِ غمِ دوراں پر بھی اس کی نظر ہوتی ہے۔ کبھی کوئی شاعر حمد و نعت کی پناہوں میں قلبی آسودگی پاتا ہے’ کبھی کسی شاعر کی تسکین روایتی  اندازِتغزل کو اپناکر ہوتی ہے۔ کوئی اہلِ جہاں کو موجودہ اور متوقع خطرات سے آگاہ کرنے میں منہمک  ہوتا ہے تو کوئی عہدِ رفتہ کی ناقابلِ فراموش ہستیوں کو یاد کرتا   اور اپنے ہمعصر قابلِ قدر شخصیات کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کرتا پایا جاتا ہے۔  لیکن یہ ایک امرِ محال ہے کہ ایک ہی شاعر بیک وقت حمد و نعت کے گوہر بھی پیش کرتا رہے’ غزل گوئی کے اقدار کی بھی کما حقہ پاسبانی کرے’ ماحولیات پر بھی نظم پر نظم کہتا رہے اور اصحابِ علم و ہنر کی خدمت میں خراجِ تحسین بھی ادا کرتا رہےاور پھر بھی کہتا رہے کہ

ہوتا زمانہ ساز تو سب جانتے مجھے کیا خوئے بے نیازی ہے دیوانہ پن مرا
 

وہ صلہ و ستائش سے بے پروا  رات دن قدر و ادب کے خزینوں میں بیش بہا اضافے کئے جاتا ہے اور یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کی اِسی خوئے بے نیازی اور ادبی خدمت نے اُسے ایک   ایسامنفرد  زمانہ ساز کردیا ہے  کہ دورِ حاضر کے ہر اُس شاعر و ادیب  کو جس نے اُس کے اِس اندازِ فکر و فن کو بنظرِ غائر دیکھا ہے    نہ صرف اپنی جانب راغب کرتا ہے بلکہ اس کے  اسی انداز کو اپنانے اور اس کی اقتدا کرنے پر آمادہ کردیتا ہے۔  یہ اندازِ فکر و عرضِ ہنر آسان نہیں لیکن ایمان و اعتقاد کی پختگی اور علمی و ادبی روایات  کی مسلسل  پاسداری کے باعث یہ پیچیدہ راستے آسان ہوتے چلے جاتے ہیں:

بفیضِ احمدِ مرسل ہیں آساں وہ گذرگاہیں نظر آتی تھیں جو پہلے مجھے پیچیدہ پیچیدہ
 
تری طبعِ رسا میں یوں تو بے حد زودگوئی ہے تجھے آخر روایت سے بغاوت کیوں نہیں آتی

وہ جب خالقِ کائینات جلّ شانہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے تو یوں مدح سرا ہوتا ہے

ائے خدا تو نے زندگی بخشی
سبزہ زاروں کو تازگی بخشی
تیرے تابع ہے نظمِ کون و مکاں
تیرا فضل و کرم ہے بے پایاں
جو میسر نہیں فرشتوں کو
آرہی ہے صدائے کُن فیکوں
کیف و سرمستیء و خوشی بخشی
گلعذاروں کو دلکشی بخشی
”چاند تاروں کو روشنی بخشی“
تو نے کوئی نہیں کمی بخشی
ہم کو وہ شکلِ آدمی بخشی
تو نے ہی صوتِ سرمدی بخشی

 

اورجب بارگاہِ سرورِ کائینات صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم میں نذرانہء عقیدت پیش کرتا ہے تو سرار عجز و انکسار بنا کہتا نظر آتا ہے کہ

کیا کوئی کرے شمعِ رسالت کا احاطہ ممکن نہیں اُس نور کی عظمت کا احاطہ
 
قاصر ہوں رقم کرنے سے میں اُن کے محاسن میں کیسے کروں اُن کی فضیلت کا احاطہ

غزل کہنے پر مائل ہوتا ہے تو اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ

احساس کا وسیلہء اظہار ہے غزل
اُردو ادب کو جس پہ ہمیشہ رہے گا ناز
آئنہ دارِ نُدرتِ افکار ہے غزل
اظہارِ فکر و فن کا وہ معیار ہےغزل
 

 

 

اور وہ خود بھی اپنی غزل میں  ِ نُدرتِ افکارکے اسی روایتی اندازِ اظہار کا مظاہرہ کرتا ہے

آنکھوں میں شرابِ شوق لئے دروازہء دل سے یوں گذرے
میخانہء ہستی میں آکر وہ پی بھی گئے چھلکا بھی گئے
لیتے ہیں بار بار کیوں صبر و سکوں کا امتحاں
روٹھے ہیں مجھ سے کس لئے کل کی وہ بات کل گئی

لیکن وہ اپنے سینہ میں ایک دردمند دل بھی رکھتا ہے اور دنیا کی بے ثباتی اور اہلِ دنیا کیمشکلات سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ سمجھتا ہے کہ ایک صاحبِ قلم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان حقائق کو نظر انداز نہ کرے اور وقتاًفوقتاًقارئین کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرتا رہے کہ وہ دنیا کی تابناکیوں میں  گم ہوکر دنیا  کے اس دوسرے رخ سے غافل نہ ہوجائیں

دلکش و دلفگار ہے دنیا
کچھ گلِ سرسبد سمجھتے ہیں
ہے فلسطین اس کی ایک مثال
دیکھتا ہی نہیں ادھر کوئی
اہلِ غزّہ سے پوچھئے جا کر
خونِ انساں یہاں پہ ارزاں ہے
مظہرِ نور و نار ہے دنیا
کچھ کی نظروں میں خار ہے دنیا
جیسے اک کارزار ہے دنیا
کتنی غفلت شعار ہے دنیا
دامنِ داغدار ہے دنیا
جس کا اک کاروبار ہے دنیا
 

وہ وقت کی اس  تلخ روی سے نبرد آزما ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ دنیا ایک جانب تو زخم پر زخم دیتی جاتی ہے اور دوسری جانب اپنے دئے ہوئے انہی زخموں پر مرہم اندازی کا ڈھونگ  بھی کرتی ہے  تو وہ بے ساختہ  پکار  اُٹھتا ہے

اشہبِ وقت اتنا نہ بل کھا کے چل
وقت کے ساتھ یہ زخم بھر جائیں گے
تیری یہ خودسری بس بہت ہوگئی
تیری چارہ گری بس بہت گئی
 

اور اپنی اولوالعزمیاور بلند حوصلوں کا اظہار یوں کرتا ہے

دریدہ ہیں اِس درجہ جیب و گریباں
موجِ طوفانِ حوادث سے گذر جاؤں گا
نہ باقی رہی کوئی حاجت رفو کی
کشتیء دل ہے یہ پروردہء طوفاں جاناں
 

پھر اپنے چاہنے والوں کو اس تلخیء حالات میں مسکرانے کی دعوت  بھی دیتا ہے

نہایت مختصر ہے زندگی آؤذرا ہنس لیں اگرچہ عارضی ہے یہ ہنسی آؤ ذرا ہنس لیں
 

 اصحابِ ذوق کی خوش قسمتی ہے کہ ایسی ہی ایک ہمہ جہت شخصیت اُن کے درمیان موجود ہے جنہیں ہم  ڈاکٹر احمد علی برقی اعظمی کے نام سے جانتے  ہیں اور  جن کا مجموعہء کلام میری دانست میں نہ صرف” روحِ سخن “ہے بلکہ” معیارِ سخن “بھی ہے جو اپنے اسی وصف کے باعث خود میں وہ کشش رکھتا ہے کہ ہر حساس قلب و نظر رکھنے والے کو اپنی جانب ایسے متوجہ کر لیتا ہے  کہ وہ اس سے نگاہیں بچاکر گذر جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا

کدھر جا رہا ہے نگاہیں بچا کر
ادھر دیکھ لے اک نظر جانے والے

میں دست بدعا ہوں کہ محترم برقی صاحب بصحت و عافیت یونہی اپنے منفرد اندازِ سخن کے زرو گوہر لٹاتے رہیں اور اپنے احباب کی ذوقِ شعری کی تسکین کا سامان فراہم کرتے رہیں۔

******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *