عالمی بحران اور انتہا پسندی کا سد باب تعلیمات صوفیا کے ذریعہ کیا جائے: ورلڈ صوفی فورم کی تیاری زوروں پر

By Word for Peace Correspondent

 قومی راجدھانی دہلی میں 17مارچ سے چار دن کے ورلڈ صوفی فورم کے انعقاد کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کر تے ہو ئے آج یہاں معاذ ہوٹل،نزدچودھری پیٹرول پمپ،اٹاوہ میں آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ دنیا میں انتہا پسندی کے جذبات کا توڑ صرف صوفی روایات اور طریقہ کار پر عمل میں ہے اور صوفیا کی تعلیمات پر عمل کر کے ہم پوری دنیا کو انسانوں کے لئے رہنے کی ایک اچھی جگہ بنا سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان صوفیوں کی سر زمین ہے اور یہاں صوفیا کرام اور بزرگان دین نے انسان سے انسان کی غیر مشروط محبت کا جو پیغام دیا اسی پیغام سے ہندوستان کی یہ گنگا جمنی تہذیب بنی ہے جو پوری دنیا میں ہندوستان کی شناخت ہے ۔ کثرت میں وحدت کا جو تصور ہندوستان میں نظر آ تا ہے یہ خانقاہوں، درگاہوں اورآستانوں میں صورت گیر ہوا ، پنپا ، بڑھا اور ملک کی عالمی شناخت بن گیا ۔ 
حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ ورلڈ صوفی فورم کے تحت چار دن کے اس پروگرام میں 17مارچ کو افتتاحی پروگرام ہو گا ۔ صوفی ازم اور عالمی امن کے موضوع پربیک وقت کئی کانفرنس ہالوں میں الگ الگ نشستوں میں کم از کم 100مقالے اگلے دو دن 18اور 19مارچ کو پڑھے جا ئیں گے ۔ 20مارچ کو رام لیلا میدان میں اجتماع عام ہوگا ۔ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ اس ورلڈ صوفی فورم کا اہتمام کر رہی ہے جو پوری دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اجتماع ہے ۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ رام لیلا میدان میں اجتماع عام میں شرکت کر نے کے لئے بڑی تعداد میں آئیں ۔ 
انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ آزادی سے اب تک یکے بعد دیگرے بننے والی حکومتوں کی نا انصافی کے خلاف گذشتہ دہا ئی سے مسلسل آواز بلند کر رہا ہے اور ان کے لئے حق مانگنے کی جاری کوشش میں یہ کانفرنس بھی ایک نمایاں قدم ہے جس میں پوری دنیا کے علماء ، مشائخ ، دانشور،اساتذہ ،اسکالر ،قلمکار اور دوسرے لوگ شرکت کے لئے آ رہے ہیں ۔ 
حاجی نورالدین منصوری(صدر انجمن حسینیہ )نے کہا کہ حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے ہندوستانی مسلمانوں کی ابتر ہوتی ہو ئی حالت پر بہت سنجیدگی سے غور کر نے کے بعد یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ جدید تعلیم ، مسلم اداروں میں اور مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے سرکاری اداروں میں ہندوستانی مسلمانوں کی جائز نما ئندگی اور ان کے غصب کئے ہو ئے حقوق کی بحالی کے لئے جمہوری ڈھنگ سے تحریک چلا نی ہو گی اور وہ یہ کام پوری مستعدی کے ساتھ ایک دہا ئی سے کر رہے ہیں ۔ 
اس میٹنگ میں حاجی سرفراز،گڈوعباسی،خورشید بھائی،محمدرومی،حاجی شکیل احمدوغیرہ کے علاوہ کافی تعداد میں لوگ موجودرہے

Check Also

Pseudo-Sufis In India: How Tasawwuf (Islamic Mysticism) Is Being Transformed Into Dargahiyyat (Petty Business Of Shrine Custodians)

By Ghulam Rasool Dehlvi, Editor, WordForPeace.com Islam emerged in India as the spiritual legacy of …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *