علامہ اقبال کے فلسفیانہ اور سیاسی و سماجی افکار و نظریات میں ایک منطقی ارتقا Logical progression in social and religious thoughts of Allama Iqbal

WordForPeace.com

خطبات اقبال : ایک مطالعہ

غلام رسول دہلوی

علامہ اقبال کی ذات اتنی کثیرالجہات اور ان کے افکار اتنے کثیرالمعانی ہیں کہ متعدد مغربی مفکرین نے ان کے نظریات کو باہم متناقض (Paradoxical) قرار دیا ہے۔ جب کہ درحقیقت ان کی شخصیت اور ان کے فلسفہ میں ایک منطقی ارتقا اور فکری و عقلی تدریج (logical progression) نظر آتی ہے۔ اسی لیے ان کے افکار میں مسلسل گوناگوں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ مثال کے طور پر ان کی انگریزی تحریریں ان کی اردو خامہ فرسائیوں سے بظاہر مختلف نظر آتی ہیں۔ جب ہم مختلف سیاق و سباق سے متعلق ان کے شعری تخیلات پر غور کرتے ہیں تو ہم ان کے اندر کبھی مارکسی، کبھی سیکولر، کبھی مذہبی رہنما، اوربہ یک وقت کبھی تصوف پسند اور کبھی تصوف مخالف عناصر موجود پاتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں ان کی شخصیت جمہوریت پسندبھی نظر آتی ہے اور اسلام پسند (Islamist) بھی۔ لیکن در حقیقت اقبال کی کثیر جہت فکر عصری انقلابات کی گہری فہم اور اقوام و ملل کے تاریخی احوال کے معروضی مطالعہ اور تجزیہ کی پیداوار تھی۔ اس لیے ان کے خیالات کی رنگارنگی اور علمی گیرائی کو فکری تضاد قرار دینا غیر منطقی ہے۔

نہ صرف یہ کہ علامہ اقبال کے فلسفیانہ اور سیاسی و سماجی افکار و نظریات میں ایک منطقی ارتقا تھا، بلکہ ان کی مذہبی فکر میں بھی یہ تدریجی سوچ واضح ہے۔ انگریزی زبان میں ان کی تجدد پسندانہ مذہبی فکر کا شاہکار (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) تجدیدِ فکریاتِ اسلام یا تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ جس کا موضوع اسلام کے اجتہادی اصولوں کے تحت فکر اسلامی کی تشکیل نو ہے، اس دعوی کی بیّن دلیل ہے۔

اقبال ایک طرف امّت مسلمہ کی مذہبی فکر کے ڈھانچے کی تعمیر نو پر اپنے خیالات پیش کر رہے تھے، جبکہ دوسری جانب وہ مسلمانان ہند کو ان کے مذہبی اور سیاسی حقوق کا دفاع کرنے کی ترکیب بھی بتا رہے تھے۔اس لیے کہ ایک آزاد ہندوستان ابھر کر سامنے آنے والا تھا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے مذہبی ادب (literature Islamic) کی تفہیم جدید (reinterpretation) کی ضرورت کا بھی احساس دلایا۔ روایتی اور جدید مسلم افکار و نظریات کا باریکی سے مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ بہت سے ایسے درسیاتی مواد جو طبیعاتی حقائق کے خلاف، فرسودہ اور عقل و نقل سے متصادم ہیں، ہندوستانی دینی مدارس اور فقہ و افتا کی روایت کا حصہ ہیں لیکن وہ امت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ لہٰذا، انہوں نے علمی جسارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی کتاب’’ تجدیدِ فکریاتِ اسلام‘‘ میں مسلمانوں کے ان مذہبی افکار و نظریات کی نشاندہی کی جن کی تشکیل جدید از حد ضروری ہے۔ اس نقطہء نظر کو پیش نگاہ رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی تنقیدی بحث اور critical appreciation کے لیے جن اہم موضوعات کا انتخاب کیا وہ یہ ہیں :Knowledge and Religious Experience (علم اور مذہبی مشاہدہ)، Philosophical Test of the Revelations of Religious Experience (مذہبی واردات کے انکشافات کا فلسفیانہ معیار)، Conception of God and the Meaning of Prayer (خدا کا تصور اور دعا کا مفہوم)، Human Ego- His Freedom and Immortality (انسانی خودی، اس کی آزادی اور لافانیت)، The Principle of Movement in the Structure of Islam (اسلام میں حرکت کا اصول)، The Spirit of Muslim Culture (مسلم ثقافت کی روح) وغیرہ۔

ان مباحث کا لب لباب یہ ہے کہ اسلامی فکر و فقہ کی علمی بنیادوں کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے۔ ان سات مقالوں میں اقبال نے اس نکتے کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ احوال حیات مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، اسی لیے مسلمانوں کو ان سے ہم آہنگ ہوکر اور سائنسی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی الٰہیات میں مسلسل ارتقاء اور تشکیلِ جدید کے امکانات تلاش کرنے ہوں گے۔ اخیر میں انہوں نے ایک مختصر مگر حیرت انگیز عنوان قائم کیا ہے کہ’’ کیا مذہب کا امکان ہے (Is Religion Possible) ؟‘‘ مذکورہ بالا کتاب دراصل اسلامی فلسفے پر علامہ اقبال کے ان سات خطبات کا مجموعہ ہے جو انہوں نے دسمبر 1928ء اور جنوری 1929ء کے درمیان مدراس، حیدرآباد، اور علی گڑھ میں جدید مسلم ذہن کو ایڈریس کرنے کئے کے لیے تیارکئے تھے۔ اس سے قبل انہوں نے ’’اسرارِ خودی‘‘ اور’’ رموز بیخودی‘‘ نامی اپنی مشہور نظموں میں بھی تجدیدی خیالات و نظریات کو پیش کیا تھا۔ تاہم، جب انہوں نے انگریزی نثر میں اپنے اصلاح پسند خیالات کا اظہار کیا، تو اس کی صداے باز گشت شرق سے لے کر غرب تک پہنچ گئی۔

تجدیدِ فکریاتِ اسلام پر اقبال کے یہ خطبات اسلامی فلسفہ سے روایتی علما کی اجارہ داری کو ختم کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ یہ کتاب دور جدید میں معاصر مسلم دانشوری اور فکر اسلامی کی اصلاح کے تعلق سے اٹھنے والی تحریکات کی رہنماہے۔ ایک بڑی تعداد میں مسلم اسکالرس، مذہبی مصلحین (Islamic Reformists) اور ماہرین سماجیات جدید اسلامی فکر پر اقبال کے اس بنیادی کام سے انتہائی متاثر نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر جدید اسلامی فکر کی اساسیات کو سمجھنے میں ایران کے ڈاکٹر علی شریعتی، ملیشیا کے ڈاکٹر عمران نذر حسین اور مصر کے طارق رمضان جو آکسفورڈ میں اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور جنہیں مغرب میں بعض ادارے اسلام کا ’’مارٹن لوتھر‘‘ کہتے ہیں، نے اقبال کے خطبات سے خوب خوشہ چینی کی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال مسلمانوں کے قدامت پسند اور سخت گیر رویہ پر نالاں تھے۔ انہوں نے اسلام میں مذہبی فکر سے جمودکو نکالنے کی تدبیر کی۔ ان کی نظر میں یہ قرآن کریم کے بنیادی حرکی اصولوں سے متصادم او ر امت کے لیے نقصان دہ تھا۔ اپنے خطبات میں اس موقف کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے قرآن مجید سے زبردست شواہد پیش کیے۔ ایک خطبہ میں انہوں نے واضح کیا کہ قرآن حکیم بنی نوع انسان کو اس روحانی ارتقائی سفر کو طے کرنے کی تلقین کرتا ہے، جو کہ خدا کے ساتھ تھا اور جومومنوں کے رشتہ عبودیت کو پختہ کر دیتا ہے۔ اقبال لکھتے ہیں :

“If the aim of religion is the spiritualisation of the heart, then it must penetrate the soul of man, and it can best penetrate the inner man… We find that when Muhammad Ibn Tumart -the Mahdi of Muslim Spain- who was Berber by nationality, came to power and established the pontifical rule of the Muwahhidun, he ordered for the sake of the illiterate Berbers that the Quran should be translated and read in the Berber language and that the call to prayer should be given in Berber.”

’’اگر مذہب کا مقصد دل میں روحانیت پیدا کرنا ہے تو اسے انسان کی روح میں جذب ہونا چاہیے، اور یہ انسان کے باطن میں بہتر طور پر سرایت کر سکتا ہے…ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب (تحریک موحدین کا بانی) مسلم اسپین کا مہدی،محمد ابن تومرت جو قومیت کے اعتبار سے بربر تھا، بر سر اقتدار ہوا اور جب اس نے موحدین کی پونٹی فیکل حکومت قائم کی تو اس نے جاہل بربروں کے لیے یہ فرمان جاری کیا کہ بربر زبان میں قرآن کا ترجمہ کیا جائے اور نماز کے لیے اذان بھی بربر زبان میں ہی دی جائے۔‘‘

مسلم مفکرین نے اس کی شرح یہ کی ہے کہ الہیات اسلامیہ کی ’’تشکیل جدید‘‘ سے علامہ اقبال کی مراد در اصل آفاقی اسلامی تعلیمات اور اخلاقی و روحانی اقدار کی بحالی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علامہ نے مسلم معتقدات اور معمولات کو اسلام کی حقیقی اسپرٹ اور اصل شکل میں بحال کرنے کی وکالت کی۔ یعنی ان کا مقصد کبھی بھی اساسیات اسلام کو تبدیل کرنا نہیں تھا، بلکہ مسلمانوں کے موجودہ مذہبی رویہ میں اصلاح مقصود تھا۔ ان کی نظر میں مسلم مذہبی فکر کی حقیقت روایات میں کھو کر رہ گئی ہے، جیسا کہ انہوں نے ’’ساقی نامہ‘‘ میں اپنے ایک شعر میں کہا ہے:

تمدن، تصوف، شریعت، کلام
بتان عجم کے پجاری تمام
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ کے توسط سے علامہ اقبال نے دراصل مسلم روایت کو حقیقت سے بدلنے کی وکالت کی۔ یہی تجدید اسلامی کی حقیقی روح ہے۔

Check Also

Attack on Church in Quetta is brazenly Un-Islamic: Ghulam Rasool Dehlvi in Pakistan Christian Post

WordForPeace.com By Ghulam Rasool Dehlvi The Quran say: “Mankind! We have created you from a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *