مصر میں پرتشدد تکفیریت اور افتراق امت کا اندوہناک سانحہ

WordForPeace.com

مصر میں پرتشدد تکفیریت اور افتراق امت کا اندوہناک سانحہ

غلام رسول دہلوی
صوفی، شیعہ، یزدی، دروز یا کسی بھی اکثریتی یا اقلیتی مسلم فرقہ کے خلاف حملہ آور ہوتے وقت متشدد مذہبی گروہ اکثر ایک مشہور حدیث رسول، حدیث افتراق امت کا حوالہ پیش کرتے ہیں، جو کچھ اس طرح ہے:
تم سے پہلے اہل کتاب 72 فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور یہ امت 73 فرقوں میں تقسیم ہوگی، 72 ان میں سے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں اور وہ ہے: “جماعت”۔ یعنی وہ جماعت جو آپ ﷺ اور آپ کے اہل بیت و صحابہ کی سنت کی پیروی کرے اور جس پر علماء اسلام کا اجماع ہو، جیسا کہ کچھ روایات میں “سوادِ اعظم”کا وصف آیا ہے، مثلا ابو امامہ کی روایت ابن ابی عاصم کی کتاب “السنَّة” (1 / 34 ) اور طبرانی کی ” المعجم الكبير ” ( 8 / 321 ) میں۔
مصر میں واقع ایک کم آبادی والے جزیرہ نما سینائی کی مسجد الروضہ میں دہشت گردوں نے نمازیوں کو بےدریغ قتل کیا ،جس میں مصری حکام کے مطابق 300 سے زائد افراد مارے گئے ۔ اس مسجد کا تعلق خاص طور پر ایک صوفی سلسلہ سے تھا جس کے پیروکاروں کو انتہا پسند مذہبی گروہ مرتد سمجھتے ہیں کیونکہ وہ صوفیائے کرام کا احترام کرتے ہیں اور ان کے مزاروں پر حاضری دیتے ہیں۔ ہر جگہ کے صوفیاء کی طرح مصر کے صوفیاء کا بھی نظریہ محبت عام ، صلح کل ، رواداری ، نرمی اور ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہے۔
داعش کے ایک مصری کمانڈر نے حال ہی میں یہ بیان دیا کہ وہ اور ان کے ساتھی مزارات کی زیارت ، دیگر مذاہب کا احترام اور ‘‘توسل’’ و “استغاثہ ” سمیت تمام صوفی عقائد و معمولات سے نفرت کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ بر آمد ہوا کہ جب ایک داعشی دہشت گرد نے ایک صوفی بزرگ شیخ سلیمان کو دعا تعویذ کے الزام میں قتل کیا تو مصر اور شام میں اس نظریہ کے حامل فرقہ نے تصوف کو ایک ایسی “بیماری” قرار دے دیا جسے ختم کرنا ‘ وقت کی ضرورت ہے’۔
لیکن چند صوفی علماء کو چھوڑ کر عام ہندوستانی مسلم مبصرین یہ مانتے ہیں کہ مسجد الروضہ پر دہشت گردانہ حملہ غزہ کراسنگ کھولنے اور نام نہاد سعودی امن منصوبہ کو قبول کرنے سے فلسطینیوں کے انکار کا ایک ‘اسرائیلی و امریکی’ رد عمل تھا ۔ واضح رہے کہ مصر اب اسرائیل کے ساتھ مل کر ‘دہشت گردی کا مقابلہ’ کرنے ، ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے اور اسرائیل و مصر کے درمیان سنیائی میں سرنگوں کے ذریعے عملہ کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ سینائی میں بڑھتی ہوئی دا عشی شورش کو کچلنے میں اسرائیلی امداد بھی کامیاب نہیں ہو سکی؟ اس سے السیسی کے انسداد دہشت گردی کے بلند بانگ دعوے اور ان کی حکمت عملی پر گہرے سوالات اور شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
اگر چہ مصر میں اس دہائی کے سب سے مہلک اس حملے کی ذمہ داری بھی تک کسی نے نہیں قبول کی ہے ، لیکن اس واقعہ نے ہمیں انتہائی اہم سوالات میں الجھا کر رکھ دیا ہے۔ ایک اہم سوال بجا طور پر نیویارک ٹائمز کی ایک سابق امریکی صحافی نے اٹھایا ہے کہ “جمعہ کا حملہ نہ صرف یہ کہ لرزہ خیز تھا بلکہ اس حکومت کے لئے باعث تشویش ہے جو بارہا جہادیوں کے خلاف جنگ میں اپنی پیش رفت کا دعوی کر رہی ہے”۔ السیسی نے متعدد موقعوں پر یہ کہا تھا کہ ان کی حکومت کی اہم توجہ مذہبی انتہا پسندوں کا سر کچلنا ہےجنہوں نے ملک میں اعتدال پسند اسلام کو یرغمال بنا لیا ہے۔
بظاہر مصر پہلا ایک ایسااسلامی ملک ہے جس نے ملک کے مذہبی مراکز اور تعلیمی اداروں میں انتہا پسند’سیاسی اسلام’ پر مبنی تمام کتابوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس نے مصر کی نئی نسل میں انتہا پسندا نہ افکار و نظریات کے فروغ پر مکمل طور پر پابندی عائد کرتے ہوئے حسن البنا، سید قطب، مولانا مودودی جیسے تقریبا تمام پولیٹیکل اسلامی مفکرین کی کتابوں کو یونیورسٹیوں اور اسکولوں سے خارج کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے اپنے ایک مضمون میں مصری صدر عبد الفتاح السیسی نے دعوی کیا ہے کہ مصر انسداد دہشت گردی مشن میں سب سے آگے رہا ہے۔
لیکن جمعہ جیسی اہم نماز کے دوران مسجد میں خوفناک اور انتہائی مہلک حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ مذہبی انتہا پسندی مصر میں اب بھی ایک مہلک خطرہ ہے، بلکہ السیسی حکومت کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ لامحالہ، مصری حکومت کے اہلکار اور انسداد انتہا پسندی کے تجزیہ کار اس دہشت گردی اور قتل و غارت گرے کے نظریے سے نمٹنے کے لئے مصری حکمت عملی پر غور و فکر کر رہے ہیں ۔ معروف مصری صحافی محمد صابری کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی مہم کئی سالوں سے بدانتظامی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘مصری فوج کے ظلم و ستم، غیر عدالتی قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بناء پر مقامی حمایت کے فقدان کی وجہ سے یہ مہم کمزور ہو کر رہ گئی ہے’’۔
مصر میں دہشت گردی، مذہب اور سیاست کے باہمی ربط پر ایک گہری نظر ڈالنا از حد ضروری ہے ۔ دنیا بھر میں مختلف صوفی سلسلوں سے تعلق رکھنے والے سنیوں کے ایک قدیم علمی فکری اور مذہبی مرکز مصر کی تعمیر نو فاطمیوں نے کی تھی جو حضرت فاطمہ الزھرا رضی اﷲ عنہا اور ان کے شوہرنامدار حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی نسب سے براہ راست آپ ﷺ کی اولاد ہیں۔ 909 ء میں فاطمیوں نے مصر میں اپنی حکومت قائم کی اور اپنے نئے دارالحکومت کے طور پر ایک عظیم شہر قاہرہ کی تعمیر کی۔ در اصل فاطمیوں کا ظہور اسلامی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔ انہوں نے رائج الوقت مسلم نظام حکومت کے لئے سنجیدہ دانشورانہ سوالات اور جیوپولیٹیکل (جُغرافیائی و سیاسی) تدابیر پیدا کیں ۔ وہ ایک نئے دانشورانہ دینی فلسفہ سے بھی متاثر تھے جو اسلام کے اندر انقلاب اور اس کی حیات نو کا نقیب ثابت ہوا۔ مصر کا یہ فقہی تنوع ایک اہم وجہ رہی ہے جس کی بنا پر یہ ملک انتہاپسند گروہوں کا شکار رہا ۔ مصر کے علما اور مفتیان کرام کی تحریروں میں یہ تشویش شد ید طور پر پائی جاتی ہے کہ خود ساختہ جہادی تحریکات اور ان کے شرپسند عناصر مصری حکومتی عملہ اور مصری فوج کے ساتھ ساتھ ان کے نظریے اور مسلک کی مخالف تمام افراد کو مباح الدم مانتے ہیں۔موجودہ مفتی دیار مصر شیخ شوقی ابراہیم علام جن سے راقم الحروف کو ہندوستان میں ورلڈ صوفی فورم کے موقع پر ملاقات کا شرف ہوا ، کہتے ہیں کہ “تکفیری ذہنیت مسلسل ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ لہذا، ہمیں تکفیری نظریہ کی بیخ کنی کے لئے مختلف شکلوں میں مذہب کے مسلسل استحصال سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ “اسی طرح سابق مفتی اعظم مصر، شیخ علی جمعہ نے بھی تکفیری فرقہ کو اضل الضالین (سب سے زیادہ گمراہ) فرقہ قرار دیا ہے۔
مصر کا متشدد ترین گروہ جماعۃالتکفیر والھجرۃ کے نزدیک چوتھی صدی ہجری کے بعد سارا عالم اسلام ‘کفر وجاہلیت’ کا شکار ہو گیا ہے ۔اسی لئے وہ آج مصر میں مسیحیوں ، قبطیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے علاوہ صوفی اور شیعہ مصری عوام کو براہ راست نشانہ بناتے ہیں اور خاص طور پر عبادت سے متعلق ان کے اپنے منفرد معمولات کی وجہ سے ان سے بغض و عناد رکھتے ہیں۔
یہاں تک کہ سنی مکتب فکر کے سب سے بڑے ادارے الازہر یونیورسٹی کے علماء نے بھی سیدقطب، حسن البنا ، شیخ یوسف القرضاوی سمیت اخوان المسلمین کے تمام نظریہ سازوں کی کتابوں پر پابندی لگانے کے نئی مصری حکومت کے فیصلے کی تائید کی ۔ ڈیلی نیوز مصر نے وزارت برائے مذہبی امور کے اہلکار اشرف فہمی کے حوالے سے ایک رپورٹ میں لکھا کہ ‘‘مساجد میں قائم چھوٹی چھوٹی لائبریریوں سے بھی ان کتابوں کو نکال دیا گیا ہے جن میں انتہا پسندی کی دعوت دی گئی تھی”۔
اس کے نتیجے میں ہندوستان جیسے متعدد جمہوری ممالک نے مصر کو اپنا ایسا حلیف مان لیا جو انتہاپسندی کو ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چند سال قبل السیسی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی انتہاپسندی کے کینسر کو ختم کرنے کے لئے اہم اصلاحی اقدامات شروع کئے گئے ہیں۔
حال ہی میں جامعہ الازہر نے اپنے سینئر علماء اور ائمہ کو فرقہ وارانہ تعصب بھڑکانے والی تمام قسم کی کتابوں سے مصری مساجد کو پاک کرنے کے لئے مقرر کیا ہے۔ الازہرنے اپنے ایک عربی ترجمان میں اس تشویش کااظہار کیا ہے کہ پرتشدد تکفیریت (مسلمانوں کے قتل کا جواز پیش کرنے کے لئے انہیں مرتد قرار دینا) ملک میں سب سے سنگین خطرہ ہے ۔ اس لئے اسلام کے بنیادی پیغام امن کو محفوظ کرنے کے لئے ملک میں مروج شافعی مکتب فکر پر مبنی تعلیمات کی روشنی میں ائمہ مساجد کو تربیت دی جارہی ہے تاکہ وہ پرتشدد تکفیریت (Violent Takfirism) کی بیخ کنی کر سکیں ۔
تکفیری نظریہ کی بھرپور تردید شیخ الازہر احمد الطیب نے بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسلامی درسیات میں کچھ ایسے نصوص ہیں جن کا سالوں سے غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان غلط تصورات نے امت مسلمہ کی ایک بری شبیہ پیش کی ہے، اور انہیں قتل کرنے والی اور تباہی مچانے والی ایک قوم کے طور پر اس دنیا کے سامنے پیش کیاہے۔
مضمون نگار انگریزی، عربی اور اردو میڈیا کے مستقل کالم نگار، متعدد کتابوں کے مترجم، اور Center for Media &Governance میں ریسرچ اسکالر ہیں-grdehlavi@gmail.com

Check Also

Attack on Church in Quetta is brazenly Un-Islamic: Ghulam Rasool Dehlvi in Pakistan Christian Post

WordForPeace.com By Ghulam Rasool Dehlvi The Quran say: “Mankind! We have created you from a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *