Disrespect for the Prophet (pbuh) is Antithetical to the Indian Tradition ناموس رسالت کی حفاظت ہندوستانیوں کی موروثی روایت ہے

By Word for Peace Edit Desk

ناموس رسالت کی حفاظت ہندوستانی مسلمانوں  کا مشن اور توہین رسالت کے خلاف سراپا احتجاج بن جانا ہماری موروثی روایت ہے- اوقاف کی مرکزی اورصوبائی وزارتیں اوربورڈ بے شک حکومت کا حصہ ہوتی ہیں لیکن لااینڈآرڈرکوقائم رکھنے میں ایسے سبھی سرکاری ادارے اوراُن کے ارکان وافسران قانونی طورسے براہ راست اوراخلاقی طورسے بالواسطہ ذمہ دارہوتے ہیں۔اظہارِخیال کی آزادی اور کسی کے مذہبی پیشوا پرگستاخانہ جملے کسنا،اُن کی نظر میں بھی جرم ہوتا ہے کیوں کہ وہ حکومت کے نمائندے ہیں،اس لئے ان کی خاموشی بھی جرم ہے اور قانونی جرم کے زمرے میں نہ سہی،اخلاقی جرم کے زمرے میں توضرورآئے گی اوراگرایسے لوگ مسلمان ہیں توخاموشی اخلاقی جرم ہونے کے ساتھ اخلاقی اورمذہبی منافقت بھی ہے جس کی سزاحکومت وعدالت کے قانونی مراحل میں الجھے بغیر بھی دی جا سکتی ہے لیکن اس کے لئے اتحاد شرط ہے اور موقف میں پختگی لازم ہے تاکہ خواص کی ذہن سازی کے ساتھ عوامی رائے عامہ ہمواری میں کوئی دِقت پیش نہ ہو۔

ہم عاشق رسول ہیں اورناموس رسالت کا تحفظ ہماری منصبی اورمذہبی ذمہ  داری اور دینی فریضہ ہے لیکن اپنے ملکی آئین کے تحت ہی مجرموں کوسزادِلوانا ہے اورتوہین رسالت کی حرکت کا سلسلہ بھی بندکرنا ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے جس کوتسلیم کیے بغیرکوئی چارہ نہیں،بہت سے لوگ اسے مسلمانوں کے جذبات کوسردکرنے کاطریقہ بتا سکتے ہیں لیکن کسی بھی دیش میں بنیادی حقوق اورپرسنل لا کی قانونی لڑائی وقتی اورجذباتی نعروں اوریکا دُکا احتجاجوں سے نہیں ہوتی بلکہ اسے مسلسل ،مستقل اورمنصوبہ بند ی کے ساتھ لڑی جاتی ہے اوراِن سبھی مراحل میں ہراُس حرکت سے بچنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے کارروائی کوبٹہ لگ سکے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں انفرادی کے بجائے اجتماعی اوراحتجاج کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کا دستوری طریقہ اپنانا ہوگا،اسے ضلع اورصوبہ کے ساتھ ملک گیر منصوبہ بنانا ہوگا،قانونی ماہرین اورتاریخی مشاہدین کی خدمت حاصل کرنا ہوگی اوراُسے ایک سہ ماہی یاشس ماہی یا پھرپورے ایک سال پرحاوی جماعتی اورمذہبی فریضہ سمجھ کرعملی طورسے مستقل انجام دینا ہوگا۔ بے شک یہ ایک بڑا کام ہے لیکن اگرہم کامیاب ہوجاتے ہیں (اورکامیاب ہی ہوں گے اگرہم نبی آخرالزماں کے سچے امتی اورعاشق ہونے کا ثبوت دیں)توہمارے دیش میں ہماری اپنی نسلوں پرہمارا بہت بڑا احسان ہوگا۔آخر ہمیں بھی تو کچھ کرکے جانا چاہئے ۔

لہذا گستاخ رسول کملیش تیواری کے خلاف احتجاج کرنا ہر مسلمان کی مذہبی ذمہ  داری ہے – خواجہ صاحب کے یہاں  پیغمبرکی شان میں گستاخی کرنے والے کے خلاف خاموش اورپُر امن احتجاج ہونے جارہا کیوں کہ  ناموس رسالت کے ایک عظیم محافظ اورنقیب وپاسبان کی یہ بارگاہ ہے-

یہاں ہمیں تین باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

۱۔آزادہندوستان کا آئین سبھی مذاہب کے ماننے والوں کے بنیادی حقوق کوتسلیم کرتا ہے اورمذہبی جذبات کومجروح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

۲۔لیکن آئین ہند میں توہین رسالت یاکسی ہندومذہبی پیشوا،دیوی دیوتا،یاسکھ اوربدھ مذہب کے مذہبی پیشوا کی توہین کی وجہ سے سزائے موت اورپھانسی کی سزا کا کوئی دفعہ اس میں موجود نہیں۔

۳۔البتہ ایک سال یا چند سال کے لئے جیل کی سزا کا دفعہ ضرورموجود ہے جس پر عمل بھی ہوا ہے اورنیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت اسے نافذالعمل بنایاگیا ہے۔کملیش تیواری پریوپی حکومت نے اسی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی حمایت کی ہے۔

 
اب ہمارے سامنے تین کام ہیں جن کومستقل لگ کرانجام دینا ہوگا:

۱۔گستاخ رسول کملیش تیواری کے جرم کوثابت کردینا کہ واقعی اس نے ہمارے پیغمبرکی شان میں گستاخی کی ہے اوراس کی یہ حرکت،آئین ہند کی توہین اورجمہوریت کی تذلیل ہے۔اورقانونی زبان میں قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے۔

۲۔ نیشنل سکیورٹی ایکٹ،لا اینڈ آرڈرکوقائم رکھنے اورفتنہ وفسادکوروکنے کا ایک اضافی قانونی حیلہ ہے۔توپھرہمیں توہین رسالت کا قانون بنانے اورپارلیمنٹ سے اس کوباضابطہ پاس کرانے تحریک چلانی ہوگی،ورنہ حسب روایت ہمارے احتجاج اورمیمورنڈم دینے کاکوئی نتیجہ نہیں حاصل ہونے والا،کیوں کہ اس کے لئے کوئی قانون ہی نہیں کہ ہمارے مطالبات کوحکومت یاکورٹ عملی شکل دے سکے۔

۳۔ جن ممالک میں توہین رسالت یامذہبی پیشواؤں کی توہین وتذلیل پر قانون موجود ہے،ان کے شواہد بھی پیش کرنے ہوں گے،بطورِخاص امریکہ،برطانیہ اورجرمنی کے آئین کے تناظر میں کیوں کہ بہت حدتک انہی کے قوانین کاچربہ ہمارے دیش کا آئین ہے۔

Check Also

How An Act Of Kindness By An Indian-Origin Muslim Helped A Man To Become Top Jurist In South Africa

An Indian-origin shopkeeper based in South Africa became an overnight sensation after the new deputy …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *