نوٹ منسوخی کا اقدام مثبت یا منفی ؟

نوٹ منسوخی کو لیکر ہو رہی افرا تفری اور در پیش مشکلات و مسائل ماہ ختم ہونے تک بھی حل ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں. لمبی لمبھی قطار میں کھڑے لوگوں کی مشکلیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں. اتنے دن گزر جانے کے باوجود اب تک عوام تک نوٹ پہنچانے کے کوئی پختہ انتظامات نہیں کئے جا سکے ہیں. جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف اموات میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں دوسری طرف لوگوں کا اعتماد بھی موجودہ حکومت پر کم ہوتا جا رہا ہے. اب تک ہونے والی پچاس سے زائد اموات کا ذمہ دار کسے مانا جاۓ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب اب تک نہ تو حکومت دے سکی ہے اور نہ ہی نوٹ منسوخی کی وکالت کرنے والے اس کے کسی نمائندے نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے. لائین میں لگ کر ہونے والی اموات میں ہر عمر اور جنس کے لوگ شامل ہیں. اس کے پیچھے کی وجہ کوئی بھی بیماری ہو سکتی ہے لیکن اس کا سبب لمبی اور دیر پا قطار ہی بنی ہے. شادی کیلئے کافی اور مناسبپیسوں کا معقول انتظام و بندوبست نہ ہونے کی صورت میں خود کشی کے واقعات بھی موجودہ حکومت کی نوٹ منسوخی کے تریقے پر کئی بڑے سوال کھڑے کر رہی ہے.

عام طور پر تعلیم یافتہ، سنجیدہ اور بیدار طبقہ اس نوٹ منسوخی کو قبول بھی کر لے تو بھی اس کی تیاری کو لیکر پس و پیش میں ہے. اتنے دن گزر جانے کے باوجود پریشانیوں کا حل نہ نکلنے سے نیت پر شبہ کیا جانا واجب ہے.نوٹ منسوخی کے بعد صرف چار گھنٹے کا وقت دیا گیا اسے تبدیل کرنے کے لئے اس کے بعد دو دن تک بینک بندی نے بھی رہی سہی کسر اور کمر دونوں توڑ دی. دو دن بعد جب بینک کھلا تو اکثر میں پیسے نہیں تھے. اگلے دو دنوں تک صرف پیسہ جمع کیا گیا. جتنا پیسہ جمع کیا گیا اس دس فیصد بھی واپس نہیں دیا گیا. ایک دن میں صرف دو ہزار روپئے ہی نکال سکنے کی پالیسی نے بھی خوب ہمّت توڑی. چار سے پانچ گھنٹے کی لائین کے بعد صرف دو ہزار روپۓ ملے. دو دن بعد پھر سے پانچ گھنٹے کی لائین میں کھڑا ہونا ہے. اس کے اوپر طرفہ تماشہ یہ کہ دو ہزار کی نوٹ پاکر بھی کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے. اب اس نوٹ کیلئے کھلے پیسے نہیں مل رہے ہیں.پہلے اپنے ہی پیسوں سے دور کیا گیا اس کے بعد ایک ایسا نوٹ ہاتھ میں تھما دیا گیا جو مارکیٹ میں صرف دکھانے کے کام آتا ہے .

نوٹ بندی کی وجہ سے ہر چھوٹا بڑا کاروبار متاثر ہو گیا ہے. ایک عام آدمی سے لیکر چھوٹا کاروباری سبھی لائن میں کھڑے نظر آ رہے ہیں. اس کی وجہ سے کئی جگہ سامان مہنگا بھی ہوا ہے. پیسہ ہو کر بھی لوگ بھوکے رہے ہیں. تجارت پر اس کا کافی برا اثر ہوا ہے. آڑھت کے ایک بڑے کاروباری کو، جس کے پاس دس ٹرک ہیں، ہر ٹرک کے پیچھے اسے کم سے کم بیس ہزار روپۓ چاہئے. اب اسے ایک دن میں ایک لکھ روپیوں کی در کار ہے. لیکن اسے صرف چار ہزار روپئے ملتے ہیں. اب وہ اتنے روپیوں میں کتنے ٹرک سامان بھیج سکتا ہے. اتنی سہولت تو ہوئی ہے کہ پٹرول پمپ پر پرانہ چل جائے گا. اس کے علاوہ ٹول ٹیکس کی بھی چھوٹ دی گئی ہے جس کی وجہ سے کافی حد تک راحت تو ہے لیکن مشکلوں سے بالکل نجات نہیں. ان تمام سہولتوں کے باوجود بہ مشکل تمام دو ٹرک سامان ہی مارکیٹ تک بھیج پاۓگا. دس کی جگہ دو ٹرک سامان جاۓگاتوسامانکیقلتکیوجہسےاسساما نکی مانگ بڑھے گی. اس کے بعد اس دام میں اضافہ ہونا سو فیصد طے ہے. ایک تو آدمی کے پاس پیسا نہیں اوپر سے مہنگائی کی مار، عام آدمی کہاں جائے.

اگر اس نوٹ منسوخی کی تیاری حکومتی سطح پر پہلے ہی کر لی جاتی تو شاید یو دن نہ دیکھنے پڑتے. دو ہزار کا نوٹ تو مارکیٹ میں اتر دیا لیکن اسے اے ٹی ایم سے نکالنے کا انتظام نہیں کیا گیا. اے ٹی ایم میں تکنیکی خرابی ہونے کی وجہ نصف فیصد سے زائد مشینیں اچانک خراب ہو گئیں. منہ کے جلے کو دودھ بھی گرم ملا. حکومت کی جانب سے جاری ہدایات پر بھی عمل مکمل نہیں ہو پایا. جس کی وجہ سے سب سے زیادہ تکلیف ایک عام انسان کو اٹھانی پڑی. شادی کے لئے منظر شدہ رقم کیلئے بھی ضرورت مندوں کو ہی دھکّے کھانے پڑے. ان دونوں ہی معاملوں میں اثر و رسوخ والے افراد نے اس کا فائدہ ملا. بنا لائن میں لگے پیسے سیدھے بینک سے لے لیتے ہیں. شادی کی فرضی دعوتی کارڈ بھی ان لوگوں نے بنا کر پیسے لی لئے. یہاں بھی عام آدمی کو سواۓانتظار، دھوکہ اور ضرورت کی مار کے کچھ نہیں ملا. اس کے اوپر انہیں سے پچاس دن کی مہلت بھی مانگی جا رہی ہے. لاٹھیاں بھی کھا رہے ہیں اور صبر کی تلقین بھی انہی کو دی جا رہی ہے.

بے شک اس نوٹ منسوخی کے بڑے فائدے ہوئے ہیں. دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو اس سے کافی نقصان ہوا ہے. حوالہ اور ریل اسٹیٹ مافیا کو بھی کافی دقتیں آئی ہیں. سرکاری خزانے بھی خوب سیراب ہوا ہے. حکومت نے جو آنکڑا دیا ہے اس کے مطابق ستر فیصد سے زیادہ کالا دھن واپس بینکوں میں نہیں آ پاۓگاجس کی وجہ سے سرکاری خزانہ لبالب ہوا ہے.

نوٹ منسوخی کے چند بڑے فائدوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس عمل کے بعد ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا. ہندوستان کی ایک سو پچیس کروڑ کی گھنی آبادی میں کم سے کم تیس فیصد تو ایسے ہیں جو ٹیکس ادا کر سکیں. وہ ٹیکس چاہے ١٠٠روپئےہیکیوںنہہوں. ایکبڑیتعدادایسےکاروباروںکیہےجو ٹنلاکھسےزیادہکاکاروبارکرتےہیںل یکنانکانامٹیکسدینےوالوںکیفہرست میںنہیںہے. یعنیایکبڑیآبادیٹیکسدئےجانےوالی رقمکواپنےکاروبارمیںاستعمالتوکر تیہےلیکنٹیکس ادا نہیں کرتی جس کی وجہ سے ملک کو معاشی نقصان و بحران سے گزرنا پڑتا ہے. ترقی کے بہت سارے مواقع اور مسائل سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے. روزگار میں بھی کمی آتی ہے. تعمیر و ترقی کے کئی راستے مسدود ہو جاتے ہیں. سماج کے ہر شعبے اور طبقے پر اس کا اثر پڑتا ہے. جرائم اور واردات میں بھی اضافہ ہوتا ہے. بد عنوانی بڑھتی ہے. نفرتوں کا بھی خوب فروغ ہوتا ہے. چونکہ ٹیکس نہیں دیا جاتا ہے اس کا مطلب پیسہ بینکوں تک نہیں پہنچتا ہے. اسے جمع کر لیا جاتا ہے. پیسوں کی جمع خوری سے کالا بازاری بڑھتی ہے. دہشت گردی اور انتہا پسندی کو بھی فروغ ملتا ہے. قسم قسم کے مجرمانہ حادثات و واردات کے لئے ان پیسوں کا ناجائز استمال ہوتا ہے.

اس نوٹ منسوخی سے پیسوں کی جمع خوری پر لگام کسی جائےگی. یہ پیسہ یا تو ختم ہو جائے گا یا کم سے کم ٹیکس دینے والوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا. ایک اندازے کے مطابق ستر ٧٠فیصدسےزیادہ پیسہ واپس بینکوں میں جمع نہیں کیاجائےگا. جوتیس فیصد پیسہ جمع ہوگاوہ کئی لاکھ کروڑہیں. جسکا ٹیکس سرکاری خزانےمیں جائےگا. جوپیسہ جمع نہیں کیاجائےگا. اس رقم کےبارے میں الگ الگ راۓہیں. ایک اندازے کےمطابق وہ رقم گیارہ لاکھ ہزار کروڑ کی ہوگی. یہ بڑی رقم بھی سرکاری خزانے کے سپرد کر دیا جائےگا. پچھلے ایک مہینے سے نوٹ منسوخی کے بعد لوگوں کے خرچ بھی کم ہو گئے ہیں. آنے والے چند دنوں میں ایک ساتھ لاکھوں روزگار کی امید بھی کی سکتی ہے. ترقی کے کئی راستے کھلنے کے بھی قوی امکانات ہیں. کئی لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کا بڑا اثر آنے والے یو پی اور پنجاب کے اسمبلی انتخابات پر پڑے گا. تجزیہ نگاروں کی مانیں تو موجودہ حکومت کا یہ اقدام اسی مقصد کے لئے تھا.بی جے پی کا نوٹ منسوخی کا یہ منصوبہ مکمل سیاسی ہے. آنے والے انتخابات میں دوسری سیاسی جماعتوں کو مالی طور پر کمزور کرنے کیلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے.

ان تمام فائدوں کے باوجود مرکزی حکومت کا یہ اقدام تنقید و تنقیص کے نشانے پر ہے. ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے مطابق نوٹ منسوخی کا یہ اقدام پیسوں کی جمع خوری یا بلیک منی کے خلاف ایک اہم اقدام ہے جس دہشت گردی کے ساتھ ساتھ کالا دھن کے سوداگروں کو کڑا سبق سکھایا جائے گا. اس دعوی کو اگر زمینی سطح دیکھا جائے تو اس کے مثبت اثرات سے زیادہ منفی نتائج سامنے آئے ہیں. کالے دھن کے جو بھی بڑے جمع خور ہیں انہوں نے تقریبا اپنا انتظام کر لیا ہے. بینکوں سے ڈائریکٹ نوٹ بدلی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں. سرکاری ملازمین کو نوٹ منسوخی کے اعلان سے پہلے ہی دو مہینے کی تنخواہیں دے دی گئی تھیں. جسے اب وہ جمع کرا رہے ہیں. نوٹ منسوخی کے بارے میں کسی کو بھی خبر نہیں کا دعوی کئے جانے کے باوجود نئے نوٹوں کی گڈیاں نظر آئیں. نئے نوٹ کی ساتھ ہی نقلی نوٹ بھی بازار میں آ گنے.

کل ملا کر نوٹ منسوخی کا یہ اقدام مثبت سے زیادہ منفی اثرات پیدا کر رہا ہے. نوٹ منسوخی کے اول روز سے لے کر اب تک ایک عام آدمی، غریب مزدور اور کسان ہی تکلف اٹھا رہا ہے. کئی مزدور جو شہروں میں یومیہ مزدوری کرتے تھے وہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے. ان مزدوروں کے مطابق خانے پینے اور دیگر ضروریات کی خرید و فروخت کرنے والے بھی سرک پر آ گنے. جن کا کام ان مزدوروں سے ہوتا تھا وہ بھی متاثر ہو گنے.

غریب اور غریب ہو گیا امیر اور امیر ہو گیا. پہلے بڑے بڑے کاروباری بلیک منی کو سفید کرنے کیلئے سو روپیہ دی نوے کا اسی وسلتا تھا اب وو سو کی جگہ ایک سو دس حاصل کرتا ہے. ایک غریب آدمی کو پیٹ کی خاطر ایسا کرنا پڑتا ہے.

اب تک تو یہی ہو رہا ہے لیکن ہمارے مکھیا نے کچھ دن اور انتظار کرنے کو کھا ہے ویسے بھی عوام نے ہمیشہ بھروسہ کیا اور یقین کیا ہے. امرجنسی جیسے حالات بننے کا باوجود، کئی موتیں ہوئیں، ساشن پراساشن نے زیادتیاں کی. اس  کے باوجود عوام سڑکوں پر اتر کر غصّے کا اظہار کرنے کی بجاے مشکلوں کا سامنا کر رہی ہے اس امید کے ساتھ کہ شاید اب اچھے دن آئیں گے. اس سے ایک بات کا اور پتا چلا کو دھرنا، مظاہرہ، احتجاج اور ریلی کے نام پر توڑ پھوڑ، مار پیٹ اور آگ زنی جیسے واقعات عام آدمی کی پسند نہیں. کب ہماری سیاست کو شعور آئے گا؟ کب وہ ملک کی ہر اس شہری کے لئے سنجیدہ ہوگی جو ہزاروں ظلم و جبر سہنے کے بعد بھی کہتا ہے ” سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا”

 

Check Also

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

‘Westophobia’ is Dangerous for Muslims

By Waris Mazhari In recent years, what is called ‘Islamophobia’ has become a major issue globally, …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *