خلافت حجاز اور سعودی وہابی قومی ریاست

از قلم: عمران این حسین

                                انگریزی سے اردو ترجمہ: غلام رسول

 

مسجد دارالقرآن، لانگ آئلینڈ، نیو یارک

حقوق مصنف محفوظ ہیں-

طبع اول  1996 میں مسجد دارالقرآن، 1514 ایسٹ تھرڈ ایوینیو، Bayshore، NY 11760، امریکا

 کی جانب سے شائع ہوا-

ای میل: inhosein@hotmail.com

ویب: http://imranhosein.org

انٹرنیٹ ایڈیشن – http://imranhosein.org

 

میرے عزیز بھائی کے عابد صدیقی کے نام

جو نیو یارک کے مسلم سینٹر سے وابستہ ہیں-

فہرست مضامین

پیش لفظ

تعارف

اسلامی خلافت پرمبنی ریاست اوراس کا غیرحقیقی متبادل

مشرقی یوروپ کی عیسائی تہذیب سے جدید دجالی مغربی تہذیب تک

مغربیت پرست سلطنت عثمانیہ سے لے کر مغرب پرست سعودی حکومت تک

خلافت کی تباہی سے لے کرنظام حج کی تباہی تک

باب اول: برطانوی ڈپلومیسی اور خلافت پر حملہ

باب دوم: خلافت عثمانیہ کا سقوط اور سیکولر سعودی وہابی ریاست کا قیام

پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کا خاتمہ

ترکی کے قوم پرست اور خلافت

 خلافت عثمانیہ کے خاتمہ سے متعلق جامعۃ الازہر کا رد عمل

تیسرا باب: خلافت کانگریس، قاہرہ- مئی ۱۹۲۶

چوتھا باب:  خلافت کے لئے پر فریب سعودی وہابی متبادل

بین الاقوامی مسلم اجتماع،  جون۔ جولائی ۱۹۲۶،  مکہ

پانچواں باب: قدیم عالم اسلام: نشأۃ ثانیہ کی آخری کوشش

بین الاقوامی مسلم اجتماع، یروشلیم ، دسمبر۱۹۳۱

اختتامیہ

کچھ باتیں مصنف کے بارے میں!

نوٹس

 

 

 

 

 

 

 

پیش لفظ 

1976 ء میں لکھی گئی  یہ کتاب دراصل جنیوا میں گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز میں بین الاقوامی تعلقات کے سبجیکٹ پر پی ایچ ڈی کے لئے تحریر کے گئے میرے  مقالہ کا ایک باب ہے- اس تحقیقی مقالہ کا عنوان تھا:  ‘خلافت کے بعد کا اسلام اور ایک نئے اسلامی پبلک آرڈر کی تلاش’-

میں پی ایچ ڈی کا یہ مقالہ تقریبا مکمل کر چکا تھا، لیکن مقالے کا دفاع کئے بغیر 1979 میں مجھے جنیوا چھوڑنا پڑا اور اگلے پانچ سال میں نے ٹرینیڈاڈ اینڈ  ٹوباگو  کی حکومت میں وزارت خارجہ سے منسلک ہوکر گزارے- جنیوا سے  جانے کے بعد مجھے یہ شدت سے احساس ہوا کہ آخرت شناسی کے موضوع  پر مزید مطالعہ اور اس کی گہری تفہیم کے بغیر میری یہ تحقیق نامکمل رہ جائے گی-

مجھے آخرت شناسی  کے اسلامی علم پر دسترس حاصل کرنے میں مزید 36 سال لگ گئے، مگر پھر بھی میرا اعتراف ہے کہ مجھے اس موضوع کے بہت سے گوشوں کی بخوبی جانکاری اور مکمل فہم اب تک  نہیں ہو سکی ہے- لیک ان شاء اللہ میں ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جہاں آخرت شناسی ایک اسلامی موضوع کے طور پر پڑھایا جا سکے، کیوں کہ ایسا کوئی ادارہ اب تک مسلم دنیا میں کہیں بھی موجود نہیں ہے-  کتاب کے اس جدید ایڈیشن میں  نظر ثانی کے بعد آخرت شناسی  کے حوالے سے ان تجزیات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو اب تک پہلے ایڈیشن میں ندارد تھے-

آخرت شناسی  کے اس اسلامی علم کی وجہ سے ہم جانتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام  کی آمد کے بعد شاید 25-30 سال میں حضرت مسیح علیہ السلام کی واپسی کے ساتھ ہی اسلامی خلافت بھی دوبارہ واپس آ جائے گی، لیکن  ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ  یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکےگا جب تک عالمی نظام پر یاجوج ماجوج کا تسلّط قائم رہے گا-

—————————-

 

 

 

 

 

 

 

 

خلافت حجاز اور سعودی وہابی قومی ریاست

تعارف

”اسلام میں نظام خلافت کاتصور محض ایک ریاستی دفتر تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کاراس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ۔یہ نظام ایک مکمل ریاست کی ترجمانی کرتا ہے“۔

اسلامی خلافت پرمبنی ریاست اوراس کا غیرحقیقی متبادل

سیکولر قومی ریاستوں کا جدید دجالی نظام ، جس میں ریپبلکن اور بادشاہت ((Monarchies دونو ں ہی شامل ہیں، آج پوری دنیا (بشمول عالم اسلام) کو اسلامی خلافت کے نظام کی بجاے اس کا ایک غیرحقیقی اور غلط متبادل پیش کر رہا ہے۔حیرت کی بات ہے کہ یہ بنیادی بات دور حاضر کے عظیم اسلامی مفکر اور اسکالر ڈاکٹر محمد اقبال کی سمجھ میں بھی نہیں آسکی۔ اس موضوع سے متعلق ان کی فکر،جو کہ ان کی سب سے اہم تحقیقی کتاب “The Reconstruction of Religious Though in Islam” (اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو) میں مذکور ہے، سیکولر ترکی ریاست کے باطل اجتہاد سے مکمل طور پر اتفاق کرتی ہے، جس کا لب لباب یہ ہے کہ :

‘‘اسلام کی روح کے مطابق خلافت یا امامت کو افراد کے مجموعہ کو تفویض کیا جا سکتا، یا کسی منتخب اسمبلی کو“ (ذاتی طور پر میں ترکی کے نقطہ نظر سے بالکل متفق ہوں’’. محمد اقبال، اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو. آکسفورڈ یونیورسٹی پریس. لندن. 1934، باب 6، The Reconstruction of Religious Thought in Islam، صفحہ. 149)

خواہ پاکستان ہو ، یا سعودی عرب، ترکی ہو یا ملیشیا، ایران ہو یامصر، یہ تمام ممالک جدید سیکولر ریاستیں ہیں ، کیوں کہ یہ سب کے سب صیہونی طاقتوں کی قائم کی ہوئی عالمی تنظیم اقوام متحدہ کی سیکولر اتھارٹی کے ماتحت چل رہے ہیں۔ یہ تمام ممالک اس International Monetary Fund (عالمی مالیاتی ادارہ) کی تابعداری کررہے ہیں جس نے سونے کے بنے ہوئے دینار کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔

آج جب مسلمان جدید سیکولر ریاستوں کی سیاست میں حصہ لیتے ہیں، یا ان کے الیکشن میں ووٹ دیتے ہیں، یا نام نہاد اسلامی جماعتیں بنا کر وہاں الیکشن لڑتے ہیں، یا منتخب لیڈر، جیسے بادشاہ حکومت، صدرمملکت، امیر، مقننہ ، د ستورو آئین وغیرہ کی اتباع کو اپنے اوپر لازم کرلیتے ہیں ، تو اس طرح وہ اسلامی خلافت کے جگہ اس کے غیرحقیقی متبادل نظام حکومت کو قانونی جواز فراہم کردیتے ہیں۔

یہ کتاب ایسے ہی مسلمانوں کی اصلاح کے لیے لکھی گئی ہے تاکہ کل قیامت کے دن اپنی مغفرت طلب کرتے ہوئے وہ یہ نہ کہیں کہ :

‘‘ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا’’۔

توپھر آئیے جانتے ہیں کہ اسلامی خلافت پر مبنی ریاست کیا ہوتی ہے؟

دین اسلام کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک  یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ کو ”الملک” یعنی خود مختار بادشاہ اور حاکم اعلی تصور کریں۔ اسی لیے ان پر ضروری ہے کہ وہ حکومت و ریاست کے تمام امور میں اللہ کی خودمختاری اور اسکی شریعت کی فرمانبرداری کریں۔ لیکن اس کے برعکس اگر اللہ کی بجاۓ کسی دوسری حکومت کو خودمختار سمجھ لیا جاۓ، جیسا کہ سیکولرزم میں ہے، تو پھر اس چیز کو شرک اور ارتداد کے مترادف قرار دیا جاۓ گا، جو کہ اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔

 شرک اسلام میں سب سے بڑا گناہ ہے۔ قرآن کریم میں شرک کے بارے میں ےہ بیان کیاگیاہے کہ شرک ہی وہ واحد عظیم ترین گناہ ہے جس کی مغفرت خدا کی بارگا ہ میں نہیں ہوگی۔ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیتوں پر غور کریں جس میں اللہ تعالی نے صاف لفظوں میں یہ بیان فرمایاہے کہ شرک کی مغفرت نہیں ہوگی:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

بیشک اللہ اس (بات) کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور جو (گناہ) اس سے نیچے ہے جس کے لئے چاہے معاف فرما دیتا ہے، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے وہ واقعی دور کی گمراہی میں بھٹک گیا۔

)116قرآن کریم4:)

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا

.

بیشک اللہ اِس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم تر (جو گناہ بھی ہو) جس کے لئے چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے واقعۃً زبردست گناہ کا بہتان باندھا۔

)48قرآن کریم4:)

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

درحقیقت ایسے لوگ کافر ہوگئے ہیں جنہوں نے کہا کہ اﷲ ہی مسیح ابنِ مریم (علیہما السلام) ہے حالانکہ مسیح (علیہ السلام) نے (تو یہ) کہا تھا: اے بنی اسرائیل! تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا (بھی) ربّ ہے اور تمہارا (بھی) ربّ ہے۔ بیشک جو اللہ کے ساتھ شرک کرے گا تو یقیناً اﷲ نے اس پر جنت حرام فرما دی ہے اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور ظالموں کے لئے کوئی بھی مدد گار نہ ہوگا

(قرآن کریم: سورہ المائدہ5: 72)

حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ

صرف اﷲ کے ہوکر رہو اس کے ساتھ (کسی کو) شریک نہ ٹھہراتے ہوئے، اور جو کوئی اﷲ کے ساتھ شرک کرتاہے تو گویا وہ (ایسے ہے جیسے) آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اس کو کسی دور کی جگہ میں نیچے جا پھینکے

(قرآن کریم: سورہ الحج ۲۲: ۳۱)

اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا لیا تھا اور مریم کے بیٹے مسیح (علیہ السلام) کو (بھی) حالانکہ انہیں بجز اس کے (کوئی) حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اکیلے ایک (ہی) معبود کی عبادت کریں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان سے پاک ہے جنہیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔

(قرآن کریم: سورہ التوبہ ۹: ۳۱)

قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ

آپ فرما دیں: اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا رب نہیں بنائے گا، پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو جاؤ کہ ہم تو اﷲ کے تابع فرمان (مسلمان) ہیں۔

(قرآن کریم: سورہ آل عمران ۳: ۶۴)

إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ

 بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور تھا، اس کے مطابق انبیاء جو (اﷲ کے) فرمانبردار (بندے) تھے۔ یہودیوں کو حکم دیتے رہے اور اﷲ والے (یعنی ان کے اولیاء) اور علماء (بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے)، اس وجہ سے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے اور وہ اس پر نگہبان (و گواہ) تھے۔ پس تم لوگوں سے مت ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرا کرو اور میری آیات (یعنی احکام) کے بدلے (دنیا کی) حقیر قیمت نہ لیا کرو، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ کافر ہیں۔

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔

اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کردیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے عوض آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے عوض کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں (بھی) بدلہ ہے، تو جو شخص اس (قصاص) کو صدقہ (یعنی معاف) کر دے تو یہ اس (کے گناہوں) کے لئے کفارہ ہوگا، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ ظالم ہیں۔

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ

اور ہم نے ان (پیغمبروں) کے پیچھے ان (ہی) کے نقوشِ قدم پر عیسٰی ابن مریم (علیھما السلام) کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا اور (یہ انجیل بھی) اپنے سے پہلے کی (کتاب) تورات کی تصدیق کرنے والی (تھی) اور (سراسر) ہدایت تھی اور پرہیز گاروں کے لئے نصیحت تھی۔

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ

اور اہلِ انجیل کو (بھی) اس (حکم) کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے جو اللہ نے اس میں نازل فرمایا ہے، اور جو شخص اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ (و حکومت) نہ کرے سو وہی لوگ فاسق ہیں۔

(قرآن کریم: سورہ المائدہ ۵: ۴۴،۴۵،۴۶،۴۷)

آج پوری دنیا میں جدید سیکولر ریاست کو خودمختار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی اتھارٹی اور اس کے قانون کو بالاتر مانا جاتا ہے۔ اس طرح آج کا انسان ایک عالمی سیاسی شرک میں مبتلا ہے۔ در اصل یہ اس بات کی کھلی نشانی ہے کہ اب ہم دجال کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ دجال نے ہی آج انسان کو غیراللہ کی پرستش پر آمادہ کر دیا ہے۔  دجال ہی موجودہ دور کے اس عالمی نظام کا موجد ہے جس کے بارے میں ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ ۱۰۰۰ لوگوں میں سے ہے ۹۹۹ لوگ جہنم میں جلیں گے۔ مگر افسوس مسلمان بھی اس بات سے ناواقف نظر آرہے ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک خود مختار ہستی کے طور پر اللہ کی ذات کے سوا کسی اور کو تسلیم نہیں  کیا جاتا۔ اسی وجہ سے انہوں نے آئین، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، حکومت وغیرہ کو خود مختار ادارہ کے طور پر تسلیم کبھی نہیں کیا۔ اللہ کی حاکمیت کے معنی دین کی بالادستی اور خاص طور پر مقدس اسلامی قانون اور شریعت کی حکمرانی ہے۔

اسلام میں خلافت کا تصور یہ ہے کہ ریاست اور عوامی زندگی دونوں میں اسلام کی بالادستی قائم ہو جائے۔ خلیفہ جسے دوسرے لفظوں میں امیر یا امام کے طور پر جانا جاتا ہے، وہ مسلم قوم کا صدر اور سربراہ ہوتا ہے۔ بیعت کے ذریعہ مسلمانوں کو عہد کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس کی تابعداری کریں گے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایسی ہی مسلم ریاست کو دارالاسلام نامزد کیا گیا تھا، جس میں خلیفۂ اسلام یا امیر کو آزادانہ اختیار تھا کہ وہ اللہ کے مقدس قانون کو اس علاقے میں نافذ کرے۔

مشرقی یوروپ کی عیسائی تہذیب سے جدید دجالی مغربی تہذیب تک

یوروپ کی عیسائی تہذیب بھی خدائی خودمختاری کے اصولوں پر قائم کی گئی تھی۔ اس تہذیب میں یہ تھا کہ چرچ کو خود مختاری دی گئی تھی اور اسے زمین پر خدا کے نمائندے کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا،  اور اس طرح پوری ریاست چرچ کے تابع ہوا کرتی تھی۔

لیکن یورپ مذہب اور ریاست کے درمیان ایک تنازع کے تجربہ سے گزر چکا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں چرچ کی شکست ہوگئی۔ اس انقلابی تبدیلی کا شاخسانہ یہ نکلا یوروپ میں مذہب اور ریاست دونوں ہی آزاد ہوگئے اور یورپی تہذیب کی بنیادیں ہل گئیں۔

آخرکار مذہب اور ریاست کے درمیان کی اس کشمکش نے یوروپ میں مذہب کی قسمت پر آخری نکیل ٹھونک دی اور ایک لادینی تہذیب کا بیج بودیا جو دراصل امریکی و فرانسیسی انقلاب کی پیداوار تھی۔

 مذہب کے دائرے کو انفرادی اور اجتماعی عبادت تک محدود کر دیا گیا تھا  اور پوپ اور یوروپی عیسائیت کو ریاستی امور میں کوئی عمل دخل نہ رہا۔ خدا کو اب خودمختارذات تسلیم نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کے بجائے لوگ ہی خود مختار تھے- اکبر کا درجہ جو کہ صرف الله کی لئے خاص تھا، اب خود مختار ریاست کو مل گیا تھا-

یہ یورپ کے لئے سیکولرازم تھا، لیکن اسلام، جو کہ ایک دین کامل ہے ، اس  کے لئے یہ شرک سے کم نہیں تھا جو کہ تمام گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے.

تعجب ہے کہ غیر یورپی عیسائیت نے  پیغمبر حضرت داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے لاۓ ہوئے مقدس ریاستی ماڈل  کی اس تباہی کے خلاف کوئی خاطر خواہ جدوجہد نہیں کی. یہ لادینی یورپی تہذیب پوری دنیا کو تبدیل کرنے اور سیکولر ریاست اور بے دین معاشرے کے نئے یورپی ماڈل میں اسے ڈھالنے میں لگ گئی. باقی دنیا کو اس نے اس نے اپنی کالونی بنا لی یا اس کی حقیقی آزادی چھین لی. اس طرح غیر یوروپی ممالک بھی بالآخر سیکولر ہو گئے اور تیزی سے ایک بے دین معاشرے میں بدل گئے.  ان کے ساتھ عالم اسلام بھی شامل ہو گیا. دراصل عالم اسلام ہی بےدین یورپی تہذیب کا خاص ہدف تھا.

اسلامی دنیا کو ایک بے دین معاشرے میں تبدیل  کرنے کا عمل عوامی زندگی کے ساتھ شروع ہوا. پھرسلطنت عثمانیہ کو نشانہ بنایا گیا. لیکن اس کا خاتمہ اس وقت تک نہیں ہو سکا جب تک اسلامی  نظام  خلافت مسلمانوں کے لئے اتحاد امت  کے ایک طاقتور ادارے کے طور پر رہا. اس لئے پہلے  خلافت کو تباہ کر دیا گیا اور اس  طرح سلطنت عثمانیہ کو  تباہ کر دیا گیا.

مغربیت پرست سلطنت عثمانیہ سے لے کر مغرب پرست سعودی حکومت تک

سلطنت عثمانیہ کی تباہی پہلی عالمی جنگ میں ہوئی تھی. اس کا نتیجہ ترکی کے سیکولر ریاست کے قیام کی صورت میں  نکلا. حکومت ایک زیر زمین یہودی تحریک کے ساتھ کر کام کرنے والے سیکولر مغربیت زادہ ترکی قوم پرستوں کے ہاتھوں میں آ گئی. سب سے پہلے انہوں نے  خلافت کو ایک پادری نظام  میں تبدیل کرنے  کی کوشش کی  اور پھر اسے مکمل ختم کر دیا. لیکن عالم اسلام میں سیکولرنظام قائم کرنے کے عمل کو اس وقت تقویت ملی جب حجاز میں عبد العزیز ابن سعود کی حکمرانی قائم ہوئی، جس نے مصطفی کمال (اتاترک) کی فکری ونظریاتی حمایت کی اور ریاست کے مقابلے میں اسلام کی بالادستی کو مسترد کر دیا. اور اس طرح عرب، جو کہ اسلام کا مرکز ہے، اس نے بھی ریاست کے سیکولر ماڈل کو گلے سے لگا لیا. سعودی عرب کی ریاست کی پیدائش اس دار الاسلام کی تباہی کے ساتھ ہوئی جسے  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم کیا تھا.

خلافت کی تباہی اور سعودی عرب کی ریاست کے قیام نے اسلامی تہذیب کے چہرے کو داغدار کر دیا. ان واقعات نے عالم اسلام کو ہجرت سے پہلے کے دور جاہلیت میں پہنچا دیا. حقیقت  یہ ہے کہ  دنیا میں کہیں بھی آج دار الاسلام موجود نہیں ہے.

ہم یقین سے کہ سکتے ہیں کہ قبل از ہجرت اور بعد از ہجرت کے اسلام میں بنیادی فرق اس دار الاسلام کا ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ شریف میں قائم فرمایا تھا.  لیکن اس کے برعکس آج کا عالم اسلام، باقی غیر یورپی دنیا کی طرح، سیاسی امور میں ایک جدید سیکولر اور مادی نظام کو قبول کر چکا ہے. نتیجہ کے طور پر، آج دار الاسلام کہیں موجود نہیں ہے، یہاں تک کہ مکہ اور مدینہ میں بھی نہیں. لہذا ہم یہ نتیجہ نکالنے میں بر حق ہیں کہ  عالم اسلام ایک جدید دور جاہلیت میں داخل ہو چکا ہے.

اسلامی تہذیب و تمدن اب اپنی تاریخ کے ما بعد دور خلافت میں داخل ہو چکا ہے ۔جس طرح 1400سال پہلے مکہ کی حالت ابتر تھی، بالکل ایسی ہی ناگفتہ بہ حالت آج بھی ہو گئی ہے ۔ دنیا بھر کی مسلم کمیونِٹی جاہلیت کو گلے لگا رہی ہے۔ وہ جاہلیت ہے جدید سیکولر اور مادیت پرست مغربی تہذیب جو دور مابعد عسائیت میں  ظاہر ہوئی۔

اسی  زمانے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرما یا تھا کہ  جو شخص بھی بغیر بیعت لیے ہوئے مرے گا وہ یقینا جاہلیت کی موت مرے گا۔ یہ حدیث اس قدر معتبر اور اہم مانی جاتی ہےکہ اسے الازہر شریف نے قاہرہ  میں منعقد ہونے والے عالمی اسلامی خلافت کانفرس کو جواز فراہم کرتے ہوئے  پیش کیا تھا۔ یہ کانفرس ترکی کے گرانڈ نیشنل اسمبلی کے فیصلہ کا جواب تھی جو مارچ 1924 میں خلافت کی منسوخی کے لیے منعقد کی گئی تھی.

یہ کانفرنس  1926 میں ہوئی تھی اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذکورہ حدیث کو اپنا شعار بنایا تھا اور خلافت کے نظام کی ضرورت پر زور دیا تھا- اور اس طرح عالم اسلام کے لئے ایک اسلامی ورلڈ آرڈر کے قیام کی بات کی تھی-

آج امت کے سامنے جو چیلنج ہے وہ صریح اور واضح ہے. اور وہ یہ ہے کہ  امت کی اصل تحریک کو دوبارہ زندہ کریں اور اس کی کوشش کرنے کے لئے ایک بار پھر مدینہ سے مکہ سفر کرنے کے لئے تیار ہوجائیں- ایسا کرنے سے امت کو دوبارہ احساس ہوگا کہ دار الاسلام (یعنی اسلامی پبلک آرڈر) کا قیام ہوگا-

تاہم ریاست کے مقابلے میں اسلام کی بالادستی بحال کرنے میں ہم اسی وقت  کامیاب ہو سکتے ہیں جب ہم مسلمانوں کو اس تاریخ کا بھرپور علم ہو جس میں خلافت کے زوال اور اس کی جگہ اسلام کے قلب میں سیکولر سعودی وہابی قومی ریاست کے قیام کی تفصیل ہے-

خلافت کی تباہی سے لے کرنظام حج کی تباہی تک

یہ تحقیق اور  بھی زیادہ اہمیت کی  حامل ہے کیونکہ وہ دشمن جنہوں نے اسلامی نظام خلافت کو تباہ کر دیا ہے، اب ان کی نظریں حج پر ٹکی ہوئی ہیں- ہزاروں سال قبل جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حج کا نظام قائم فرمایا تھا تب سے لے کر آج تک حج بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے- یہاں تک کہ جب عرب میں بت پرستی عام تھی اس وقت بھی حج ادا کیا جاتا تھا، لیکن آج دشمنان اسلام یہ چاہتے ہیں کہ حج کے نظام کو نیست و نابود کر دیا جائے- یہ ان کے طویل مدتی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے-

حضرت ابو سعید خدری نے حضور علیہ السلام  کی ایک حدیث روایت کی ہے جس کے مطابق:

“لوگ یاجوج ماجوج  کے ظہور کے بعد بھی  کعبہ میں  حج اور عمرہ جاری رکھیں گے”. شعبہ سے مزید مروی ہے کہ: “جب تک کعبہ کا حج ترک نہیں کر دیا جائے گا، قیامت نہیں  قائم ہوگی”-

(بخاری)

ہمارا مطالعہ اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ دشمنان اسلام حج کو روکنا چاہتے ہیں. اس مقصد کے حصول کی لئے ان کا ہدف یہ ہیکہ مسجد اقصی منہدم کر دی جائے- اور اسرائیل کی یھودی ریاست یہ کام کبھی بھی کر سکتی ہے. موجودہ سعودی حکومت یھودی ریاست کے بارےمیں مخدوش ہے. مسجد اقصی کا انھدام سعودیوں کی شدید تر مخالفت کا باعث بنے گا- وہ حج کے موقع پر مسلمانوں کے غم و غصہ کا مقابلہ نہیں کر پائیں گے. خلافت کو کھو دینے کے بعد اگر عالم اسلام حج کے فریضہ کو بھی ضائع کر دے تو یہ در اصل زمانۂ جاہلییت کی طرف واپسی کے مانند ھو گا.یعنی ہماری نا گفتہ حالت اتنی خطرناک ھو جائے گی جتنی کہ قبل ھجرت مکہ میں تھی. صرف ایک مضبوط ترین ایمان ہی ایسے مشکل حالات میں محفوظ رہ سکتا ہے. تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس سلسلے میں کیا کریں ؟ ہمیں مطالعہ کرنا ھوگا اور تنقیدی جائزہ لینا ھوگا اس دور کا جب ہم نے خلافت کو کھو دیا. اسی کام کی کوشش ہم نے اس کتاب میں  کی ہے .

پہلا باب                        

برطانوی ڈپلومیسی اور خلافت پر حملہ

اللہ تعالی جو کہ سب سے زیادہ طاقتور ذات ہے، اس نے اسلام کو ایک کامل مذہب بنا کر بھیجا اور اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اس لئے نازل فرمایا تاکہ اس مذہب کو دیگر تمام مذاہب اور تمام حریفوں پر بالادستی حاصل ہوسکے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اس دین کی اقامت کے لئے پیشگی طور پر ضروری ہے کہ نجی اور عوامی زندگی دونوں میں اسلام کی بالادستی قائم ہو۔

خلافت کے بغیر عالم اسلام کبھی طاقتور نہیں بن سکتا۔ تاہم خلافت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے درمیان ہمیشہ ایک ربط رہا ہے۔ جو کوئی بھی اس ربط کو کمزور کرنے میں کامیاب ہوا اس نے نظام خلافت کو بالآخر مفلوج کیا اور اس طرح عالم اسلام کو کمزور کردیا۔

 امت محمدی کی تاریخ کو 1400 سال گزر چکے ہیں لیکن اب تک (خلفائے راشدین کے عہد کے بعد) کوئی شخص صحیح معنوں میں خلیفہ بننے کا مجاز نہیں ہوسکا۔  کسی نے بھی بیعت کے ذریعہ اپنی خلافت کو قانونی طور پر جواز فراہم نہیں کیا۔ اس وجہ سے امت کے مذہبی و سیاسی شعور میں خلافت کا تصور حرمین شریفین کی قیادت سی جڑا رہا۔ اس گہرے ربط کی بنیاد شریعت میں بھی ہے، کیوں کہ حج ایک ایسا اسلامی فریضہ ہے جس کے پابند یکساں طور پر امت کے تمام افراد ہوتے ہیں۔ اور وہ حج  کی ادائیگی کی خاطر دور دراز سے جسمانی سفر کر کے حجاز تشریف لاتے ہیں۔ لہذا مسلمانوں کا سپریم لیڈر (قائد اعلی) کوئی بھی اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک کہ اس کے اندر  حج کے انتظامی امور کی  ذمہ داری سنبھالنے کی مطلوبہ قابلیت اور اتھارٹی نہ ہو۔ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ حجاج کرام کے لئے مطلوبہ آزادی اور سیکورٹی کو یقینی بنائے۔ لامحالہ اس وجہ سے حجاز پر کنٹرول کرنے کی ضرورت در پیش ہوگی۔

یہی وجہ ہے کہ جب خلافت کی کمان حجاز سے نکل کر کوفہ (عراق)، دمشق، بغداد، قاہرہ اور یہاں تک کہ استنبول میں چلی گئی، اس وقت بھی خلفاء سب سے زیادہ نگرانی ہمیشہ حجاز مقدس کی ہی انجام دیتے رہے۔ یہ سلسلہ بنیادی طور پر اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ پہلی جنگ عظیم میں  عثمانی اسلامی سلطنت کا خاتمہ نہیں ہوگیا۔

ابھی عثمانی اسلامی سلطنت کا خاتمہ بھی نہیں ہوا تھا کہ اسلام کے دشمنوں نے خلافت اور تحفظ حرمین کے درمیان پائے جانے والے ربط کا گہرا مطالعہ کرنا شروع کردیا۔ اس طرح بہت ہوشیاری سے انہوں نے اس بات پر توجہ دی کہ اسلام کو کس طرح کمزور اور ناتواں کردیا جائے۔ یہ ان کی ایک شیطانی حکمت عملی تھی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بندی کے تحت اسلام کو سیکولرائز کرنے اور مسلمانوں کو یوروپ کے لادینی طرز زندگی کا عادی بنانے کی حکمت عملی بنائی۔

اگر مغربی تہذیب اسلام کو شکست دینے میں آخرکار کامیاب ہوئی ہے، تو اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ پہلے اس نے اسلام کو زیر کرنے کے لئے پورے عالم اسلام کو اس نئے سیکولر بین الاقوامی نظام کا اسیر بنادیا جسے خود مغرب نے بنایا تھا۔ اور اس طرح اپنی پالیسی کے تحت حجاز کو مغربی نظام کا تابع بنادیا تاکہ پوری دنیا میں  خلافت کمزور ہو جائے۔ حجاز میں مغربی اثر و رسوخ بڑھنے سے بالآخر اسلامی خلافت کا خاتمہ ہوا۔ جب تک اسلامی خلافت قائم رہی، اس وقت تک اہل مغرب پر ہیبت طاری تھی۔

خلافت کا نظام ہمیشہ مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں ایک کانٹا بن کر چبھتا رہا۔ کیونکہ یہ عوامی زندگی میں اسلام کی حاکمیت کا مظہر تھا۔ یہ نظام بنیادی طور پر اسلامی پبلک آرڈر کی طاقتور علامت تھا۔ عالم اسلام کو خلافت کے اس نظام نے ہمیشہ تقویت پہنچائی اور جنگ کے میدان میں اسے ایک مضبوط اور متحرک قوت بنائے رکھا۔ طاقت اور خلافت کے درمیان یہی وہ ربط ہے جو اسلام کی آماجگاہ میں ایک ناقابل تسخیر ذریعہ بنا رہا۔

 خلافت عثمانیہ کی قانونی حیثیت اور اس کی بقا کے لئے حرمین شریفین اور حجاز مقدس کو جو کلیدی اہمیت حاصل ہے، برطانوی حکومت نے اس کا ادراک کرتے ہوئے پہلی جنگ عظیم میں اپنی پالیسی کو ایک خاص مقصد کے حصول پر مرکوز کردیا۔ اور وہ مقصد تھا عثمانی خلیفہ کے کنٹرول سے حجاز کو الگ کرنا۔ یہ مقصد اس وقت حاصل ہوا جب شریف حسین ، جوکہ مکہ میں سلطنت عثمانیہ کا مقرر کردہ شریف تھا اور اردن کے موجودہ بادشاہ حسین کا دادا بھی تھا، اس کو برطانوی حکومت نے اس بات پر لبھایا کہ وہ عثمانی خلیفہ کے خلاف بغاوت کر کے حجاز پر خود اپنی  اتھارٹی قائم کرے۔ اور یہ سب کچھ برطانوی حمایت اور تال میل کے ساتھ ہوا۔

   ۱۹۱۶تک پہلی جنگ عظیم کے بالکل بیچ میں، عثمانی خلافت مکہ اور جدہ یعنی حجاز پر اپنا کنٹرول کھو چکی تھی۔

اس کا مدینہ پر کنٹرول جنگ کے دوران بھی برقرار رہا لیکن اس کا خاتمہ بھی اس وقت ہوگیا جب  بعض عثمانی فوجیوں نے  مدینہ شہر میں اپنے بہادر رہنما فخری پاشا کے خلاف بغاوت  کرنے کی جسارت کی۔ ان کی حوصلہ افزائی برطانوی کر رہے تھے۔

جب عثمانی خلیفہ نے حجاز پر  اپنا کنٹرول کھو دیا تو صرف چند سالوں تک کے لئے استنبول میں خلافت بچی رہی پھر مکمل طور پر اسلامی خلافت کمزور اور غیرمستحکم ہوگئی۔ برطانوی حکومت کی زبردست تدبیر اور پالیسی کے لئے یہ واقعی ایک شاندار کامیابی تھی ۔ خلافت کے کمزورہوتے ہوئے نظام نے عثمانی اسلامی سلطنت کے پورے ڈھانچے کو غیر مستحکم کردیا اور بالآخر یہ منہدم ہوگیا۔

 سن 1919 میں برطانوی افواج نے جنرل النبے  کی قیادت میں یروشلم پر قبضہ جمالیا. اہم بات یہ ہے کہ جب جنرل مقدس شہر میں داخل ہوا تو اس نے یہ اعلان کیا کہ: “صیلبی جنگیں اب ختم ہوگئیں”.

 اگر جزیرہ عرب میں اسلام کے خلاف برطانوی حکومت کی طرف سے کسی بڑے خطرے کا اندیشہ ہوتا تو النبے کا یہ بیان ایسے اندیشوں کو دور کر دیتا. النبے  کا یہ کہنا تھا کہ اسلام اب محض ایک بغیر دانتوں والا شیر بن کر رہ گیا ہے، اب اس کی قسمت میں ہمیشہ  کمزور اور غیر طاقتور بن کر رہنا لکھ دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے یروشلم پر مسلمانوں کا اقتدار اس طرح قائم نہیں ہو سکا جیسا کہ صلاح الدین ایوبی کے زمانے میں ہوا کرتا تھا، جب یروشلم پر صلیبیوں  نے قبضہ جما لیا تھا- عربوں نے خلافت عثمانیہ کے اقتدار سے یروشلم کو چھین لینے کے لئے النبے سے لڑائی کی- اب یہ دیکھنا ضروری تھا کہ کیا عثمانی خلافت کبھی دوبارہ حجاز پر اپنے اقتدار کو حاصل کر پائے گی یا نہیں-

مارچ 1924 کو جب عثمانی خلافت اپنے اقتدار کو کھو بیٹھی تو یہ واضح ہوگیا کہ اس طرح کا اندیشہ موجود نہیں تھا- 3

اس دن  باقاعدگی سے برطانیہ کے وکیلوں نے ان لاشوں پر نزاع شروع کر دیا جو عثمانی خلافت سے بغاوت کے نتیجے میں رہ گئیں تھیں-

 عثمانیوں کا صیہونیت کے ساتھ ایک جنگ کا تعلق تھا- وہ اس طرح کہ صیہونیت برطانیہ کے ساتھ ایک شیطانی اتفاق رائے قائم کر رہی تھی تاکہ فلسطین میں ایک یہودی قومی ریاست کا قیام ہوسکے- اور یہ آخری فیصلہ تھا 1916 کے معاہدہ اور 1917 کے حتمی بیان کا –

 اور اس وقت کے  “سپر پاور ممالک” اور نام نہاد “منتخب لوگوں” کو اس لئے ملایا گیا تاکہ اس طرح بنی نوع انسانی کے آرام وسکون کی آغوش سے روکا جاسکےاور خارجی حکمت عملی سے اسلامی عوامی نظام کو پورے طور پر برباد کیا جاسکے- اس لئے اس منزل کے حصول کے لئے صیہونیت کی رہنمائی کا سہارا لیا گیا تاکہ اسلام کی طاقت کو کمزور کرکے صیہونیت کو اس کے منصوبہ میں کامیاب کیا جا سکے-

 حالاں کہ اسلامی عوامی نظام کے اہل الذمہ اور الجزیہ کے اسلامی اصول جو ایک مدت دراز تک قائم تھے، پوروپین ممالک کے  دباؤ سے 1855 میں عثمانی اسلامی حکومت میں ہی منسوخ کے جا چکے تھے- لیکن جب تک خلافت کا زمانہ باقی رہا، اسلامی عوامی نظام کا دوبارہ احیاء ہمیشہ ممکن تھا- آخر کار خلافت کے ادارہ پر حملہ اس لئے ہوا کہ اگر اس کا مکمل خاتمہ ہوجائے تو پھر یوروپ کو اپنے صیہونی مقصد میں پوری کامیابی مل جائے گی-

 نیز یہ امر برطانوی حکومت اور صیہونیت دونوں کے لئے بالکل واضح تھا کہ یہودی قومی ریاست کا قیام فلسطین کے  مسلمانوں پر اس وقت تک مسلط نہیں کیا جا سکتا، جب تک ان کے درمیان کوئی ایک بھی ایسا قابل اسلامی خلیفہ موجود ہو جو اپنے اسباب و وسائل کا صحیح استعمال کرکے فوجی مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکے- اور اس طرح برطانوی ڈپلومیسی نے اپنی تمام تر توجہ حجاز پر کنٹرول کرنے کی طرف مبذول کر دی- اس خطہ پر قبضہ کر لینا دراصل اس جزیرہ کی سیاست میں کلیدی اہمیت کا حامل تھا-

لیکن ابن سعود کے تعلق سے برٹش ڈپلومیسی کا رخ کچھ اہم اسٹراٹیجک مقاصد کی طرف مرکوز تھا۔ محض جنگ میں بہت زیادہ غیرجانبداری سے کام لینا اور شریف حسین کو ہٹانا مقصود نہیں تھا-  بلکہ ان کے علاوہ اور بھی بڑے مقاصد کارفرما تھے-  ابن سعود میں کچھ ایسی صلاحیت ضرور تھی، جس کی وجہ سے اب برطانیہ اس کی طرف متوجہ ہو گیا- اور یہ واقعہ شریف حسین کے دعوائے خلافت کے بعد رونما ہوا۔

نجد میں سعودی قوت، جو ریاض پر قبضہ کے بعد ۱۹۰۲ میں دوبارہ ظاہر ہوئی تھی، وہ تعصب پسند اور متشدد وہابی فرقے کے مذہبی لیڈر اور ایک قبائلی چیف کے درمیان ہوئے ایک قدیم معاہدہ کی پیداوار تھی۔ اس معاہدہ میں اس بات کو یقینی بنایا گیا تھاکہ قبائلی چیف کی نسلیں سعودی وہابی اتحاد کی محکومہ زمین پر سیاسی طور پر حکومت کریں  گی، اور مذہبی معاملات وہابی مذہبی لیڈر کی اولاد کے ہاتھوں میں  رہیں گے۔ جس کے بعد یہ لازمی امر تھا کہ نجدی سعودی لوگ وہابیوں کے دباؤ میں آکر سر زمین اسلام (حجاز) کو وہابیت زدہ مذہبی عقیدے کے تابع کردیتے۔

برطانیہ اس بات سے بہت خوش تھا کہ اس نے ابن سعود کو  حسین کے خلاف فوجی چڑھائی کرنے کی ہری جھنڈی دے دی تھی اور یہ اس وقت ہوا جب ہاشمی خاندان نے اپنی خلافت کا دعوی کردیا تھا۔ ابن سعود حسین کے خلاف چڑھائی کرنے کے لیے بے تاب تھا، کیونکہ عجیب بات تو یہ تھی کہ یروشلم پر یہودی قبضے اور حجاز پر وہابی قبضےکو ایک جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اگر اسلامی دنیا کے پاس اس وقت ایک خلیفہ ہوتا، تو نہ کچھ حاصل کرنا ممکن تھا اور نہ ہی کوئی بچنے کی امید کر سکتا تھا۔

ابن سعود کو مدد فراہم کرکے برطانیہ اب اس بات کی یقین دہانی کرا رہا تھا کہ جب تک حجاز پر سعودی وہابی قبضہ ہے، اس وقت تک خلافت کی نشأۃ ثانیہ ممکن نہیں۔ اس کے بعد برطانیہ کو یہ لگا کہ خلافت کے بغیر اسلامی پبلک آرڈر سلامت نہیں رہ سکتا اور اس وقت اسلامی دنیا اتنی کمزور ہو جائے گی کہ اس کو اسرائیل میں یہودی ریاست کا قیام روکنے کے لئے تیار نہیں کیا سکتا۔ برطانیہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ وہابی از خود خلافت کا دعویٰ نہیں کر سکتے کیونکہ دنیا کی ایک بڑی مسلم آبادی ایک وہابی خلیفہ کو قبول نہیں کر سکتی۔ لہذا حسین کی بجائے ابن سعود کی حمایت کرکے برطانیہ ادارۂ خلافت اور الوہیت پر مبنی اسلامی پبلک آرڈر پرمسلسل حملے کر رہا تھا۔

کچھ ہی مہینوں کے اندر ابن سعود مکہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا  اور حسین جدہ فرار ہونا پڑا۔آخر کار برطانیہ نے  مداخلت کر کے اس کو جزیرہ سے نکال کر سپرس میں ایک پرسکون جلا وطنی سے نواز دیا۔ اور پھر جلد ہی مکہ اور مدینہ سعودی وہابی اقتدار کے زیر اثر آ گئے۔

لیکن ایک صدی پیشترجب سعودی وہابی اتحاد مکہ اور طائف پر قبضہ کرنے میں کامیا ب ہو گیا تھا اور جس کی باعث ایک ہولناک قتل عام رونما ہوا تھا اس وقت اپنے متشددانہ جذبہ میں شرشار وہابیوں نے حجاز کے مسلم باشندوں کو مشرک (کفر کا ارتکاب کرنے والے لوگ)قرار دے کر ان کا قتل جائز قرار ٹھہرا تھا۔ استنبول کے خلیفہ نے مصر کے خیدف مملوک محمد علی کو اس کے بیٹے اسماعیل کی قیادت میں ایک فوج لے جانے کا فرمان جاری کیا۔ جس کے بعد سعودی وہابی جنگجؤوں کو یکلخت حجاز سے صحرا کی طرف کھدیڑ دیا گیا۔ لیکن ایک صدی بعد کوئی خلیفہ موجود نہ تھا اور تمام مسلم کمیونٹیز مغربی استعماریت کی محکوم تھیں۔ علاوہ ازیں ابن سعود کواپنے وقت کے سپر پاورگریٹ برطانیہ کی محافظانہ دوستی کا شرف حاصل تھا۔ لہاذا حجاز اور حرمین سے مستقبل قریب  میں سعودی وہابی افواج کے انخلاء کا کوئی  امکان نہ تھا۔

اگر چہ ابن سعود کا پوری طرح حجاز پر قبضہ تھا، لیکن ۱۹۲۴ میں حجاز پر حکومت کے دوران اس کو زبردست پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جیسا کہ اس کو کچھ ایسی اسٹراٹیجی بنانی پڑی جو دوبارہ اس پریشانی کی طویل المیعادامکانیت پر قدغن لگا سکےجو اس گذشتہ سعودی وہابی اقتدار میں پیش آیہ تھی۔ممکن ہے کہ پہلے تو اس نے غیر وہابی مسلمانوں کے ساتھ مصالحت کی پالیسی کےبارے میں سوچا ہو اور پھر یہ کہ وہ اتحاد امت کا مقصد حاصل کرنے کے لیے حجاز پراپنی حکومت کو استعمال کرے گا۔ لہذا مکہ پر قبضہ کرنے  اور اس کے باشندوں سے اپنے آپ کوان کا سلطان تسلیم کرانے کے بعد، اس نے اس سلسلہ میں پوری اسلامی دنیا میں یہ منادی کرا دی کہ حجاز حرمین کے ساتھ ساتھ پوری دنیائے اسلام کا ہے اور ابن سعود  مسلمانوں کی جانب سے محض ایک ذمہ دار  کی حیثیت سے حجاز پر قابض ہے۔ پھر اس نے پورے عالم اسلام کو مدعو کیا کہ وہ اپنے مندوبین کو مکہ بھیجیں تاکہ شوری(consultation) اور اجماع  (consensus) کی بنیاد پر ایک منصفانہ ، مفید اور مثالی حکومت حجاز میں قائم کی جا سکے۔

یہ اہم اعلان اسلامی پبلک آرڈر کے مبادیات سے پوری طرح ہم آہنگ تھا۔ حجاز ابھی بھی وہی دار الاسلام تھا، جس کو پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھا۔ لیکن سعودی ریاست کا ایسا کوئی سراغ نہ تھا جو حجاز پر ‘علاقائی اقتدار’ کا دعوی کرتا ہو۔ دار الاسلام کی سرحدوں میں مسلمانوں کے حقوق کھلے عام تسلیم کیے جارہے تھے اور ان کا احترام کیا جا رہا تھا۔

لیکن بد نصیبی سے اتحاد المسلمین کا یہ مسئلہ اور حجاز کے مقام و مرتبہ سے متعلق اس پرجوش اعلان نے حجاز پر سعودی وہابیوں کے حقیقی مقاصد کو پردۂ خفا میں رکھا۔ کل ملاکر یہ ایک سیاسی مصلحت کا مسئلہ تھا، جس کو عثمانیہ خلافت کی منسوخیت کے فوراَ بعد  جامعۃ الازہر کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم  کے چلتے ڈیزائین کیا گیا تھا۔ یقیناَ جامعۃ الازہر کی ا س پیش رفت نے  حجاز پر ابن سعود اور سعودی وہابی اقتدار کو زبردست نقصان پہچایاتھا۔ علاوہ ازیں اس نے فتحیاب صیہونی اور برطانیہ کے لیے ناموافق ماحول پیدا کر دیا۔ جامعۃ الازہر نے قاہر ہ میں ایک بین الاقوامی اسلامی خلافت  پرایک اجتماع منعقد کرنے کا مشورہ دیا، جس دوسری  اجتماعوں کی طرح اسلامی دنیا کے لیے ایک نیا خلیفہ منتخب کیا جائے گا۔

اگر حقیقی معنوں میں  وہابی اسلام  کے شیدائی ہوتے، تو وہ شریعت کی بنیادی ضرورت یعنی ‘حقیقی خلافت کا قیام ’ کےلئے الازہر کی اس کوشش کا استقبال کرتے۔ وہابیوں نے پہلے ہی یہ مان لیا تھا کہ خلافت راشدہ کے بعد وجود میں آنے والی ہر خلافت ناقابل قبول ہوگی۔اس کی مختلف وجوہات تھیں۔ جن میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ اس خلافت کی تشکیل اسلامی قوانین کے مطابق نہیں ہوئی تھی۔ اب جبکہ یہ ناجائز خلافت منسوخ ہو چکی تھی اور اسلامی علوم و فنون کا مشہور ادارہ   مسئلہ خلافت اور ایک نیا خلیفہ منتخب کرنے کے ایشو پر پر غور و خوض کرنے لیے عالمی سطح پراسلامی کانگریس منعقد کرنے جا رہا تھا، تو اس صور ت میں وہابیوں کو اس پیش رفت کا صرف استقبال ہی نہیں کرنا چاہیے تھا، بلکہ ہر ممکنہ تعاون کے ساتھ، سنجیدگی سے کااس اجتماع میں شرکت کرنا چاہیے تھا، تاکہ یہ یقین دلایا جا سکے کہ یہ حقیقی خلافت کی احیا ہے۔

لیکن وہابیوں کو اسلام سے ایسی کوئی سچی عقیدت نہیں تھی۔ان کا ذہنی رویہ یقیناَ ایک محدود مذہبیت، حکمت عملی، موقع پرستی اور تنگ نظری پر موقوف تھا۔ وہابیہ کو یہ معلوم تھا کہ عالم اسلام کبھی بھی ایک وہابی خلیفہ کو قبول نہیں کر سکتاتھا۔ جس کے بعد اسلامی پبلک آرڈر کی بنیادی ضروریات کو تسلیم نہ کرنا ہی ان کو قرین مصلحت لگا۔انہوں نےقاہرہ کی خلافت میٹنگ کو ناکام بنانے میں اپنی ساری طاقت جھونک ڈالی۔۱۹۲۶ میں حج کے موقع پر مکہ میں ان کی اسٹراٹیجی ایک مد مقابل اجتماع منعقد کرنے کی تھی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ مکہ کااجتماع قاہرہ اجتماع کے بعد ایک مہینے کے اندر ہونے والاتھا، جس کے باعث دونوں اجتماعات میں وفود کے لیےحاضر ہونا  مشکل تھا۔ مکہ کا اجتماع کیونکہ حج کے موقع پر ہونے والی تھا اور اس کو برطانیہ کی زبردست حمایت حاصل تھی ، لہذا اس کو قاہرہ کانفرنس کے بالمقابل فائدہ ہونے والا تھا۔

دوسرا یہ کہ انہوں نے مکہ کانفرنس کے ایجنڈے سے خلافت کا سوال نکال دیا۔ مسئلہ خلافت کو دفن کرنے اور قاہرہ کانفرس کو ناکام بنانے کی یہ نمایا کوشش اسلام اور شریعت کے نام نہاد محافظوں کی حیثیت سے وہابیوں کے کھوکھلے دعووں کو بے حجاب کرنے کے لیےکافی تھی۔

مئی اور جون  ۱۹۲۶ کو قاہرہ میں ہوا خلافت اجتماع اور جولائی ۱۹۲۶ کی مسلم دنیا کی طرف سے کیا ہوا مکہ اجتماع کی مخالفت میں عالم اسلام کا جواب ایک ایسا موضوع ہے، جس کے لیے سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور یہ یقین دلانے میں برطانوی ڈپلومیسی کا کتنا حصہ تھا کہ ہندوستان کی مسلم کمیونٹی جس نے عثمانیہ خلافت کو اس حد تک سپورٹ کیا، کہ اس نے مشکل ترین خلافت تحریک کو ہی قائم کر لیا تھا، وہ کمیونٹی قاہرہ کی خلافت اجتماع سےدور رہےگی اور اس کی بجائے مکہ کی حریف کانگریس میں اس ایجنڈے کی وجہ سے  شامل ہوگی جس کی وجہ سے مسئلہ خلافت کو خاص طور سے خارج کر دیا گیا؟ اس موضوع لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

لیکن اس سے یہ تو واضح ہو گیا  کہ اس رقابت میں مکہ اجتماع کو قاہرہ پر حکمت سے فتح حاصل ہوئی۔ یہ ایک ایسی فتح تھی جس نے نظامِ خلافت اور قدیم اسلامی پبلک آرڈر کی بقا پر متعدد اثرات ڈالےتھے۔ وہ لوگ جنہوں نے قاہرہ  کا اجتماع آرگنائز کیا تھا، انہوں نے سیاسی نظم و ضبط کے روایتی اسلامی نظام کے ساتھ مطابقت کو یقینی بناناچاہا۔ لیکن وہ فکری طور پر اسلامی آرڈر (دار الاسلام )اور عالمی آرڈر کے درمیان فرق کو سمجھنےسے قاصر  رہے۔

دوسری طرف  وہ لوگ جنہوں نے مکہ اجتماع آرگنائز کیا تھا، ذاتی مفادات کی وجہ سے خلافت والے روایتی اسلامی آرڈر (دار الاسلام ) کے تئیں وفاداری کے لیے تیارنہیں تھے، بلکہ انہوں نے سیاسی نظم و ضبط  کے ایک ایسے متوازی نظام کو ترجیح دی جو مارڈن مغربی تہذیب میں ظاہر ہوا تھا، اور جس نے عثمانیہ خلافت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور یہ سسٹم تھا سیکولر نیشن اسٹیٹ کا۔

انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ یہ نیشن اسٹیٹ کے ذریعہ ہی ممکن تھا کہ سعودی وہابی واقعی طور پر حجاز پراپنے اقتدار کے لیے جواز و شناخت حاصل کرتےاور اس طرح سعودی اسٹیٹ کی بقا کو یقینی بنایا جا سکتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے حقیقی مقاصد کو چھپا کر عالم اسلام کوبے وقوف بنانے کی ہر چند کوششیں کیں۔ اور فریب کاری کے اس کھیل میں ان کی کامیابی مکہ اجتماع میں اس وقت پوری طرح کھل کر سامنے آئی جب انہوں نے اس کی نمائندگی کی ذمہ داری اٹھائی۔

قاہرہ اجتماع کے خلاف مکہ کےاجلاس کی زبردست کامیابی نے باقی ماندہ عالم اسلام بشمول اسلام کے مرکزی خطۂ ارض کے لیے راستے ہموار کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ،تاکہ آخر میں مصطفی کمال اوراس کے  ترکی والے سیکولر اسٹیٹ ماڈل کی پیروی کی جا سکے۔۱۹۲۴ سے لیکر عالم اسلام کی تاریخ ایک طرف تو  ایسی برائیوں سے بھری پڑی تھی جن کواس نامانوس سیاسی نظام کے ذریعہ امت مسلمہ کے اندر داخل کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف  نظام ریاست  کی سیکولر بنیادوں پر ایک جدید اسلامی پبلک آرڈر کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے سادہ لوح، منتشراور اسلام کے جدت پسند اہل علم و فن کی دکھاوٹی کوششیں تاریخ کا حصہ بنی ہوئی تھیں۔

ان کوششوں کا مقصد نظام ریاست کے اندر اسلامی اسٹیٹ کا قیام اور نظام اسلام کی تشکیل کرنا تھا۔ لیکن یہ دونوں مقاصد بے فائدہ ثابت ہوئے۔ کیونکہ نیشن اسٹیٹ کے کچھ بنیادی عوامل کا خاتمہ کیے بغیران مقاصد کو حاصل کرنا مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے۔  یہ بنیادی عوامل ایک سیکولر نظام کی حیثیت سے اس کو باقی رکھناکے لیے تھے۔

ڈاکٹر علامہ اقبال اور مولانا ابو الاعلی مودودی نے عہد مابعد خلافت میں اسلامی پبلک آرڈر کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے مسئلۂ اجتہاد کو پیش کرنے کی جسارت کی۔ لیکن ان کی کاوشوں نے ‘اسلامی اسٹیٹ’ کے تصور کا مسئلہ کھڑا کر دیا۔ لیکن بدقسمتی سےاسلامی اسٹیٹ کے قیام کی تمام کوششیں اسلامی پبلک آرڈر یا امت کی سیاسی نظام کے روایتی اسلامی سسٹم کی شکل میں ظاہر ہوئی جس کو  مکمل تاریکی اور گمراہی کی طرف منتقل کیا جارہا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عالم اسلام میں سیاسی فکرکو بری طرح غلط جہت میں لے جایا گیا اور اس وقت کا پیدا کیا ہوا اضطراب و انتشار آج بھی موجود ہے۔

باب دوم

خلافت عثمانیہ کا سقوط اور سیکولر سعودی وہابی ریاست کا قیام

پہلی جنگ عظیم اور خلافت عثمانیہ کا خاتمہ

جہاں تک مسلم دنیا کا تعلق ہے تو اس کے لیے پہلی جنگ عظیم محض ایک یوروپی جنگ نہیں تھی۔ بلکہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس نے مسلم دنیا کے اندر ایسی شورش و تبدیلی پیدا کر دی جو اسکی تیرہ سو سالہ تاریخ میں کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔

اولاَ تو یہ کہ مسلمانوں کی عظیم قوت اور اس وقت کی عثمانیہ خلافت مرکزی طاقتوں کی طرف سے جنگ میں کود پڑی۔ حالانکہ یہ فیصلہ آج بھی زیر بحث ہے۔ کیونکہ عثمانی قیادت آخری وقت تک یہ فیصلہ نہیں لے سکی، کہ اسے جنگ میں شامل ہونا تھا یا نہیں اگر ہاں تو کس کی جانب سے ۔اس سلسلے میں برطانوی یہودی  کردار کے تعلق سے کچھ وجوہات بھی موجود تھیں۔

یہودیت زدہ صیہونی قائدین  نےیروشلم پر یہودی تسلط کے لیے خلیفہ سے ملکر معاملہ طے کرنے کےلیے متعدد ناکام کوششیں  کیں۔ انہوں اس مقدس شہر کو خریدنے کی پیش کش بھی تھی۔ اور برطانیہ نے یہودی صیہونی کوششوں کی پشت پناہی بھی کی تھی۔

اس جنگ میں برطانیہ کے اہم سیاسی اور عسکری مقاصد کے علاوہ کچھ اور بھی مقاصد پوشیدہ تھے جن میں عالمی طاقت کی حیثیت سے اسلام کی تسخیر ، یروشلم کی فتح  اور فلسطین میں ایک ایسی یہودی بستی قائم کرنا جو اہل مغرب کی ایما پر مشرق وسطی کے مسلمانوں کو لگاتار پریشان کر سکے اور ان کی کارروائیوں پر نگاہ رکھ سکے۔

عثمانیہ قیادت نے توقع کے طور پر اپنے جنگی عمل کے لیے پوری مسلم دنیا سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ۲۳ ؍نومبر۱۹۱۴ کو عثمانیہ ریاست کے شیخ الاسلام نے ایک فتوی جاری کیا اور جہاد کا اعلان کرا دیا۔ تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیاکہ وہ متحدہ طاقتوں کے خلاف جنگ کریں۔ لیکن برطانوی ڈپلومیسی جزیرۂ عرب میں عرب وطن پرستی کو اسلام  کے عالمگیر بھائی چارہ پر حملہ کرنے کے لیے ایک مؤثر ہتھیار کی حیثیت سے استعمال کرنے میں کامیاب رہی۔ نتیجہ کے طور پر عربوں نے عثمانیہ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔ کیونکہ برطانیہ نے ان کو قومی آزادی حاصل کرنےکے لئے امداد جوپیش کی تھی۔

جنگ شروع ہونے کے بعد دو سال کے اندرشریف الحسین، جو خود ساختہ شہنشاہ ِعرب ، برٹش کا قریبی ہمنوا اور اردن کے بادشاہ حسین کا جد امجد تھا، نے عثمانیہ حکومت کے خلاف کامیابی کے ساتھ بغاوت چھیڑ دی ، جس کے عوض اس کو سرزمین اسلام یعنی حجاز کا بادشاہ بنا دیا گیا۔ اور مکہ و مدینہ کے ہاتھ سے چلے جانے کے بعد عثمانی خلیفہ کی عالمگیر اسلامی تائید کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔

برطانیہ نے اپنی ترقی کو مزید بڑھانے کے لیے حجاز، عراق اور اردن میں حسین کے بیٹوں کو بادشاہ مقرر کر دیا۔  ۱۹۱۹ تک برطانوی جنرل  المبی عرب فوجوں کے ساتھ مل کر کامیابی کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوا اور یہ اعلان کرا دیا کہ صلیبی جنگیں اب ختم ہو چکی ہیں۔ فلسطین ۱۹۴۸ تک بدستور پوری طرح برطانوی ریاست کا حصہ رہا(جو اس کو لیگ آف نیشنز نے سونپا تھا)۔ اور صیہونی یہودیوں نے اسرائیلی ریاست کے قیام کا اعلان کر دیا۔

اس جنگ میں عثمانیہ سلطنت کی بری طرح شکست ہوئی۔ متحدہ قوتوں نے فوجی طاقت کو نفسیاتی ہتھیار کے ساتھ ملا دیا، جس نے اسلام پر دور رساں اثرات ڈالے۔ برطانیہ اور فرانس (کسی نہ کسی طرح)انڈیا، مغرب اور دوسرے علاقوں سے اسلامی ملٹری کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اور اس طرح عرب اور غیر عرب مسلمانوں نے اپنے ہی مسلم ترک بھائیوں کےخلاف جنگ لڑی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عثمانیوں کی  اسلامی سلطنت نہ صرف شکست سے دو چار ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کی اسلامی بنیادیں بھی  تباہ و برباد ہو گئیں۔

پہلی جنگ عظیم میں عثمانیوں کی شکست کے بعدمصطفی کمال کی رہنمائی میں ترکی کی قومی افواج نے اس حوصلے، عقلمندی اور عزم مصمم کےساتھ ایک کے بعد ایک جنگیں لڑیں کہ جنگ سے شکستہ حال یوروپی طاقتیں، جن کو ان کے ہی لوگوں نے مداخلت کرنے سے روک دیاتھا، وہ ترکوں کو روکنے میں ناکام رہیں۔ اور پھر انہیں ترکوں نے یونانیوں کو شکست فاش کا مزہ چکھایا اور ترکی کو آزاد کیا۔ ۱۹۲۴ میں ہوئے لاؤسیین معاہدہ (The Treaty of Lausanne) نے یہ عالمی شناخت بخشی جس کو ترکی افواج نے میدان جنگ میں حاصل کا تھا۔

وطن پرست ترک اور خلافت

ترکی کی وطن پرست افواج کا سلطان خلیفہ کے ساتھ پچاس سال سے زیادہ تک مسلسل نزاع چلتا رہا۔ تاکہ وہ اس کی افواج پر قانونی آرڈر کے ذریعہ قدغن لگا سکیں اور جس سے آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوسکے۔ ترکی کی وطن پرست افواج کا سیاسی نظریہ کافی سیکولر تھا اور وہ اسلامی سلطنت اور عثمانیہ خلافت پر مغربی تہذیب کی ظاہری تفوق و برتری سے بہت زیادہ متأثر تھیں۔

 مکہ اور مدینہ ہاتھ سے جانے کے بعد اور جنگ میں مسلم برادران کی جانب سے مخالفت کے بعد، انہوں نے محسوس کیا کہ اسلامی دنیا کے ساتھ اب ان کا کوئی گہرا رشتہ باقی نہیں رہا۔ لہذا انہوں نے تیزی سے دار الاسلام  یا بلفظ دیگر اسلامی پبلک آرڈر  جیسے پرانے ماڈل  کو چھوڑ کر مارڈن سیکولر ریاست یعنی دی رپبلک آف ترکی جیسے مغربی ماڈل اپنانے کا فیصلہ کیا۔

اس طرح کی تبدیلی میں یہ ضروری تھا او رآج بھی ہے کہ ریاست اور چرچ کے درمیان میں کچھ تباین ہونا چاہیے۔۔۔ کیونکہ مغربی ماڈل کی یہی تو بنیاد تھی۔(۵)مجوزہ جدید ماڈل کے تئیں وفادار ترکی کی جدید گرانڈ نیشنل اسمبلی نے عبد المجید کو ۱۹۲۲ میں اسلامی ‘چرچ’ کا سربراہ مقرر کر دیا۔ لیکن افسوس کہ اس کی خلافت مذہبی امور کی بھینٹ چڑھ گئی۔

یہ تو یقینی تھا کہ یہ نیا ماڈل ترکی کے اسلامی ماحول میں ضرور ناکامی کا شکار ہو گا۔ اسلام کے تعلق سے وہ سب کچھ ہونا محال تھا جو اہل یورپ نے رومن سلطنت کےٹوٹنے کے بعد عیسائیت کے ساتھ کیا تھا۔ خلیفہ نہ تو پوپ کے مساوی تھا اور نہ ہی ہو سکتا تھا۔(۶) اسلامی نظام میں سیاسی سیکولرزم کے لیے کوئی جگہ موجود نہ تھی۔ کیونکہ روایت پسند اسلام نے چرچ اور ریاست کے مابین کسی تقسیم کو تسلیم ہی نہیں کیا تھا۔ یقینا اسلام میں ‘اسلامی چرچ’ جیسی کوئی جیز موجود نہیں تھی۔

یہ بہت جلد واضح ہو گیا کہ ماڈرن ریاست کا جدید ماڈل اس وقت تک سامنے نہیں آسکتا جب تک نظام خلافت موجود ہے۔ کچھ ایسی علامتیں بھی سامنے آئیں(جیسے کہ انڈیا میں تحریک خلافت کے لیے برطانیہ کی حمایت) جن کو کمال پاشا کی جمہوری حکومت دوسری حکومتوں کو کمزور بنانے کے لیے استعمال کر سکتی  تھی۔ اور آخر کار مصطفی کمال کو دستبردار ہونا پڑتا۔ ترکی کی نیشنلسٹ افواج کو بہت جلد اور صاف طور پر یہ سمجھ میں آگیا کہ اس اسلامی ماحول میں نیشن اسٹیٹ یا تو اسلام پر قبضہ کر نے کے لیے ہمت جٹائےیا اس کو اسٹیٹ کے تابع بنانے کی کوشش کرے یا اسٹیٹ پر اپنا قبضہ جما کردار الاسلام کی بازیابی کرے۔

لہذا اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ترکی کی گرانڈ نیشنل اسمبلی نے ۳؍ مارچ ۱۹۲۴ کو خلافت منسوخ کرنے کے لیے ایک دوسرا قانون  اپنایا۔ اس قانون کے آرٹیکل نمبر( ۱) میں مذکور ہے:

‘‘خلیفہ کو معزول کیا جاتا ہے۔ خلافت کا آفس اب منسوخ  ہے، کیونکہ لفظ خلافت کی معنویت اور اہمیت لازمی طور پر گورنمنٹ (حکومت)اور ریپبلک ( جمہوریت) میں موجود ہے’’۔

اس قانون کی منظوری نے تاریخِ امت میں ایک فیصلہ کن لمحے کورقم کیا۔ تیرہ سو سالہ عرصے کے بعد  جس میں نظام خلافت کو تقریبا تمام مسلمانوں (مثلا سنی مسلمان) نے اپنے مذہب کے لیے اس صورت میں بھی تسلیم کر لیا تھاجب خلافت مختلف زاویوں سے اسلامی  اصولوں کے خلاف تھی، لیکن آج اسلامی دنیا چودھویں صدی میں خلیفہ کے بغیر کھڑی ہوئی تھی۔ یقینا یہ تبدیلی اتنی مستقل اور واضح تھی کہ اس کا یہ نتیجہ نکالنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عالم اسلام کا وجود اب عہد مابعد خلافت میں داخل ہو چکا تھا۔

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ سے متعلق جامعۃ الازہر کا رد عمل

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کی اہمیت قانونِ منسوخیت کےاندر ہی پوشیدہ تھیــ یعنی کہ خلافت کی جگہ اب ماڈرن سیکولر نیشن اسٹیٹ کو لایا جا رہا تھا۔ ایک ایسا نظام جو مذہب اسلام کا جز سمجھا جاتا تھا، اب اس کومغربی تہذیب اور سیاسی فکر کے زیر اثرایسے سیاسی نظام سے بدلا جا رہاتھا جو مغربی دنیا کا پروردہ تھا۔ اور (حکومت و جمہوریت) جیسی اصطلاحات جو قدیم روایتی ماڈل میں استعمال ہوئی تھیں، اب ان کو ایک جدید ماڈل کی مناسبت سے نئے معنوں میں استعمال کیا جارہا تھا۔ حتیٰ کہ علامہ اقبال جیسا مفکر بھی تبدیلی کے اس حقیقی نیچر کو کما حقہ سمجھ نہ پایا۔ (۸)

کسی حد تک یہ بات تو بالکل واضح تھی کہ خلافت مذہب اسلام کاایک حصہ ہے، کیونکہ ایک  بہت بڑی اور قابل مذمت بدعت کا ارتکاب کیا جا رہا تھا۔ اوراس کو ایک مناسب مذہبی محرک کی ضرورت تھی۔ ترکی کے گرانڈ نیشنل اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے ۲۰ دن بعد، جامعۃ الازہر قاہرہ کے سربراہ نے یونیورسٹی اور مصرکے سرکردہ علمائے کرام سے ملاقات کی اور خلافت کی بابت مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا گیا:

‘‘خلافت، جو کہ امامت کا مترادف ہے، دین ودنیا کے معاملات میں  ایک عام قیادت (ریاست) ہے۔ اس کا بنیادی عمل ملت کےمفادات اور اس کے نظم و نسق  کاخیال رکھناہے’’۔

اعلامیہ میں ‘جنرل لیڈرشپ ’کو امام کے قائم مقام رکھا گیا۔ جو مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہے:

“۔۔۔۔ مذہبی  دفاع  اور اس کے احکام و فرامین کے اطلاق  نیز شریعت کے مطابق دنیاوی معاملات کے نظم و نسق میں مذہبی قوانین کی نشرو اشاعت کرنے والے کا نائب۔”

” امام  یا توبیعت کے ذریعہ ان لوگوں کا امام بن جاتا ہے جو اصحاب حل و عقد شمار کیے جاتے ہیں یا پھراس کے پیش رو نےاس کو اپنا خلیفہ منتخب کیا ہو”۔

‘‘امامت فتح کے ذریعہ بھی حاصل کی جا سکتی ہے اور وہ اس معنی کہ اگر حزب مخالف نے خلیفہ کو شکست دے دی ہو یا پھراس کی جگہ  کوغصب کر لیا ہو۔ اس صورت میں خلیفہ کا منصب باقی نہیں رہے گا۔ اور بعض اوقات فتح کے ذریعہ حصولیابی  کو بیعت سے تقویت ملتی ہے۔ یا پھر سابقہ خلیفہ نےاس کو منتخب کر دیا ہو، جیسا کہ ماضی میں اکثر خلفا کےمعاملہ میں ہوا ہے’’۔ (۱۰)

اب اس پائدار صورت حال کی طرف رخ کرتے ہیں جو انہیں در پیش تھی۔ اس قرار داد کو بدعت مان کر( اسلام میں اس کی کوئی نظیر نہ ہونے کے وجہ سے) خلافت کے لیے عبد المجید کے انتخاب کو مسترد کر دیااور اس کی ذمہ داری ترکی کی گرانڈ نیشنل اسمبلی نے لے لی۔ اور دوسری طرف خلافت منسوخ ہو گئی۔

یہ بدعات کیونکہ پوری طرح مذہبی اصولوں کے خلاف تھیں۔ لہذا علمائے کرام نے یہ فیصلہ کیا کہ اسلامی  مجلس منعقد کی جائے، جس میں تمام مسلم ممالک کے نمائندگان کو دعوت دی جائے اور اس بات پر غور و خوض کیا جائے کہ اسلامی خلافت کی ذمہ داری کس کے کاندھوں پر رکھی جائے۔

خلافت عثمانیہ کی منسوخی کے تعلق سے اسلامی دنیا کا یہ پہلا سنجیدہ جواب تھا۔ لیکن یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس تجویز نے اسلام کے روایتی ماڈل کے بر عکس ایک جدت پسند سیاسی نظام پیش کیا۔ آپ اسے بدعت سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔ حالانکہ جامع الازہر کے علمائے کرام ایک نیا خلیفہ مقرر کرنے کے لیے تمام اسلامی ممالک کے نمائندگان کے ساتھ ایک اسلامی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دے رہے تھے۔اسلامی تاریخ کے پہلی صدی کے نصف اول سے لیکر اب تک کسی خلیفہ کو لوگوں نے منتخب نہیں کیا تھا۔ اور نہ ہی اسلام کی پوری تاریخ میں اس کو کسی اسمبلی یا اسلامی ممالک کے نمائندگان نے منتخب کیا تھا۔

اس تجویز کو بہت سی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اجتماع کرانے کے لیے تیار بیٹھی کمیٹی نے نزاع سے بچنے اور صورت حال کے مزید عملی تجزیہ کے پیش نظر خلیفہ کے انتخاب کا  ہنگامہ خیز مسئلہ چھیڑ دیا۔ لیکن سب سے بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے کی تاریخ میں ابتدائی دور سے لیکر اب تک پہلی مرتبہ یہ نظریہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک مبارک جماعت کے ذریعہ عام کیا گیا۔ تاکہ امت کے اہم مسائل پر مباحثہ کیا جا سکے اور ایک اسلامی اسمبلی یا تمام مسلم ممالک کے نمائندگان کے ذریعہ فیصلے لیے جا سکیں۔

یہ طے کر پانا نہایت مشکل ہے کہ کیا اس کو مغربی تہذیب کے اثرات کی رہین منت کہا جائے جیسا کہ ٹائنبی(Toynbee)  کا ماننا ہے۔ (۱۲) لیکن یہ سچ ہے کہ مجوزہ کانگریس یقینا شوریٰ اوراجماع کو استعمال کرتی اگر یہ خلافت کے نظریہ کے مطابق روایتی اسلام کے قریب ہوتی، جیسا کہ ابتدائی ادوار سے ظاہر ہوتا ہے۔

 

 

 

 

 

page36

 

from chapter 3 to 51

تیسرا باب

خلافت کانگریس، قاہرہ- مئی ۱۹۲۶

ایجنڈہ


بالآخر مئی ۱۹۲۶ کو قاہرہ میں جمع ہونے والی خلافت کانگریس کے ایجنڈہ میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل تھیں:

۱۔ ’’خلافت کی تعریف اور خلیفہ کے لئے مطلوبہ شرائط۔
۲۔ کیا خلافت اسلام میں ضروری ہے؟
۳۔ خلافت پر معاہدہ کا طریقہ کیا ہونا چاہیے ؟
۴۔ کیا موجودہ دور میں ایسی خلافت نافذ کرنا ممکن ہے جس میں شریعت کے تمام شرائط موجودہوں؟
۵۔ اگر چوتھے نکتہ کا جواب نفی کی صورت میں ہو، تو کیا اقدام کیاجائے گا؟
۶۔بالفرض کانگریس اگر خلیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ لیتی ہے ، تو اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟
وفود
کانگریس میں شرکت کرنے والے وفود مصر، لیبیا، تیونیسا، مغرب، ساؤتھ افریقہ، ڈچ ایسٹ انڈیز(موجودہ انڈونیشیا)، یمن، حجاز(موجودہ سعودی عربیہ کا حصہ)، فلسطین، عراق اور پولینڈ وغیرہ ملکوں سے آئے تھے۔اس کانگریس میں اسلامی ملکوں اور مسلم طبقوں کے بہت سے وفود شریک نہیں ہوئے، جن میں ترکی ، پرشیا( موجودہ ایران)، افغانستان، نجد( موجودہ سعودی عربیہ کا حصہ)،اورروس ، چین اور انڈیا کی مسلم جماعتیں قابل ذکر ہیں۔
ترکی نے دبے لفظوں میں یہ کہکر دعوت ٹھکرا دی کہ اسے خلافت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔شیعہ ملک ایران  نے بھی سنی خلافت کانگریس میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ۔ایک تعصب زدہ ماحول میں جی رہیں روس، چین اور انڈیا کی تمام مسلم اقلیتوں نے ایک عام رویہ اختیار کر لیا۔انہوں نے مئی ۱۹۲۶ میں ہوئی قاہرہ کانفرنس سے بھی یہ سوچ کر کنارہ کشی اختیارکر لی تھی کہ یہ صرف ایک اکیڈمک مشق اور ایسی مجلس ہے، جو انہیں تحفظ و تعاون فراہم نہیں کر سکتی۔ لیکن ایسا کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عبد العزیز ابن سعود جیسی بڑی طاقت نے دوسری حریف کانفرنس منعقد کر لی تھی۔در اصل اس کو خلافت کی نشأۃ ثانیہ سے غیر معمولی خوف تھا، کیونکہ اس نے صرف اپنے شاہی خاندان کے لئے مکہ معظمہ اور مدینہ منوّرہ پر ہی قبضہ کیا تھا۔آخر کار قاہرہ میں موجود وفود کے درمیان سنوسائی سلسلہ کے سربراہ، السید ادریس السنوسائی تریپولی اور برکا کے امیر نامزد کیے گئے۔ایک افواہ یہ پھیلی ہوئی تھی کہ اگر کانگریس نے کسی کو خلیفہ منتخب کرنے کا فیصلہ کیاتو انہیں کو خلیفہ منتخب کیا جائے گا۔
کانگریس کے اجلاس
کانگریس نے ۱۹۲۶ میں ۱۳،۱۵ ،۱۸،اور۱۹؍ مئی کو چار اجلاس میں میٹنگ بلائی۔ابتدائی اجلاس میں پہلی کمیٹی کو ‘‘تجاویز اور ان سے متعلق تحقیقات کو کانگریس کے سامنے پیش کرنے کے لئے منتخب کیا گیا’’۔کمیٹی نے فوراََہی مشورہ دیا کہ کانگریس کی کارروائیاں کو ’ پوشیدہ‘ رکھا جائے۔یہ تجویز چوتھے کل اجلاس میں اس نتیجے پر مسترد کر دی گئی کہ ایک پبلک دستاویز کی حیثیت سے کانگریس کے تمام  رکارڈ پر ہمارا حق ہے۔
دوسری اور تیسری کمیٹی دوسرے کل اجلاس میں منتخب کی گئیں۔دوسری کمیٹی نے کانگریس کے ایجنڈے کا پہلا اور دوسرا نکتہ کا جائزہ لیااورتیسری کمیٹی نے ۴ویں، ۵ویں اور ۶ویں نکتے کی تحقیق کی۔ان رپورٹز پر مبنی مباحث و فیصلے اور دوسری و تیسری کمیٹی کی رپورٹز نے کانگریس کے مشاغل کی بنیاد رکھی۔اور اب ان رپورٹز کے تجزیہ کی بنیاد پر ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔
دوسری کمیٹی
نفاذ خلافت کی تعریف میں دوسری کمیٹی نے الموردی اور ابن خلدون جیسے اسکولرز کے مستند تصانیف کو بنیاد بنایا۔اس نے بالخصوص اس حقیقت پر زور دیا کہ ایک خلیفہ کو دینی اور دنیاوی قیادت کا جامع ہونا چاہیے۔دوسری بات یہ کہ ایک وقت میں ایک ہی خلیفہ ہو سکتا ہے، کیونکہ دوسری چیزوں کے علاوہ نفاذ خلافت کا مقصد امت کو متحد رکھنا بھی ہے۔(۱۵)
کمیٹی کے سامنے دوسرا سوال (کیا اسلام میں خلافت ضروری ہے؟)کسی حد تک ناقابل یقین تھا۔اب تک ایک ایسا حکومتی ادارہ ہواکرتا تھا، جس نے سنی مسلمانوں کے معاشرتی نظام میں ایک بنیادی کردار ادا کیا اورجو مسلمانوں کے ساتھ وفات رسول کے وقت سے چلا آرہا تھا۔اپنی پوری تاریخ میں نہ یہ کہ صرف امت نے خلافت کو اپنائے رکھابلکہ اس کے گوشہ ذہن میں خلافت کے متبادل کا خیال تک نہیں گزرا۔
خلافت کا متبادل تجویز کرنا یقیناًناممکن تھا۔اس دوران ارتکاب بدعت کے گناہ عظیم کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔لیکن پھر بھی مصطفی کمال ترکی کے دور حکومت میں عالم اسلام نے خلافت کانگریس کے سامنے یہ سوال اٹھایا کہ۔۔۔کیا اسلام میں خلافت کی ضرورت ہے؟
اوریہ ایسا اہم سوال تھا ،جس کا جواب امت نے شایدہی اپنی پوری تاریخ میں دیاہو۔عین وقت پر کمیٹی نے اس بات کی توثیق کی کہ اسلام میں خلافت ضروری ہے ، لیکن اس وقت اس کے بارے میں سوچنا مناسب نہیں۔(۱۶) بلفظ دیگر اللہ نے ان پر ایک ایسی ذمہ داری عائد کر دی تھی ،جس کو یہ اس وقت ادا نہیں کر سکے۔مگر یہ اطمینان بخش جواب نہیں تھا۔ کیونکہ اللہ جو عالم الغیب ہے ،اپنے بندوں پر ایسی ذمہ داری نہیں ڈال سکتا جو ان کے بس میں نہیں۔
اس صورت میں یا تو خلافت اسلام میں ضروری نہیں تھی یا ضروری تھی ،لیکن اس کوپورا کرنا مشکل تھا۔بہر صورت تعمیر خلافت میں ناکامی ایک مجموعی گناہ تھا، جس کے لئے مسلمان سزا کے حقدار تھے۔تیسرے سوال (خلافت کا قانونی حکم کیا ہو تا ہے؟) کا کمیٹی نے مندرجہ ذیل جواب دیا:
۱۔ ‘‘سابق خلیفہ کے ذریعہ تعین۔
۲۔ ‘‘اثرو رسوخ والے مسلمانوں کے ذریعہ تعین، مثلاََلوگوں میں محترم اشخاص جیسے علما، امرا، اصحاب الرائے والحکومت۔
۳۔ کسی مسلمان کی فتح کے ذریعہ، اگرچہ اس میں دوسرے شرائط موجود نہیں۔
دوسری کمیٹی کی ریورٹ نے عراقی وفد میں آئے تیونیسیا کے پرفیسرعبد العزیز الافندی اور مصری وفد کے سربراہ شیخ محمد الاحمدی الظواہری کے درمیان اسلام کے نظریاتی اصولوں کا اطلاق اور ضرورت اجتہاد پرایک بہت اہم اور دلچسپ بحث کا ماحول پیدا کر دیا۔
ثعلبی افندی:
’’اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ مسئلہ خلافت بہت اہم ہے اور اس کو سلجھانا کافی مشکل ہے۔اس لئے میں کانگریس کو اگلے سال تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیتا ہوں، تاکہ ہم مسئلہ کے تمام پہلوؤں کا تفصیل سے مطالعہ کر سکیں۔اس مسئلہ کو محض نظریاتی سطح پر جانچنا کافی نہیں ہوگا۔زمان و مکان ، احوال کوائف اور اسلامی اداروں پر پڑنے والے خارجی قوتوں کے اثرات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے’’۔
شیخ الظواہری:
’’ ہمارے پاس آئے ہوئے دینی مسائل کی جانچ کے دوران ہم نے اجتہاد کی طرف رجوع کرنے اور کوئی نیا اصول بنانے کی کوشش نہیں کی۔بلکہ ہم انہیں اصولوں تک محدود ر ہے ہیں، جو اسلام کے مسلمہ عقائد سے مأخوذ ہیں۔اور جہاں تک ان اصولوں کے اطلاق کا تعلق ہے، تو یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہوگا۔کیونکہ یہ ہماری صلاحیت سے باہر ہے’’۔
ثعلبی افندی:
’’ میں نہ تو کسی نئے عقیدہ کی وکالت کررہاہوں اور نہ اجتہاد کی۔میں تو بس آپ کی رائے چاہتا ہوں۔اگر آپ اُن اصولوں کی توثیق کرتے ہیں، جو ہمارے عہد میں قابل اطلاق نہیں ، تو پھر کیا حالات ہوں گے’’؟
شیخ الظواہری:
’’ عہد کے تعلق سے شریعت کے اصول و ضوابط پر انطباقیت کا سوال اٹھانا اسلام کے لئے خطرناک ہے۔ہمیں لگتا ہے کہ مذہب کے عام اصولوں کا اطلاق کسی بھی استثناء کے بغیر ہونا چاہیے،اور ہمارا خیال ہے کہ زمانے کی ضروریات کے لحاظ سے نئے شرائط لاگو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں’’۔(۱۹)

بیشک شیخ الظواہری اپنے مطالبے میں پوری طرح حق بجانب تھے ،کیونکہ شریعت یا بلفظ دیگرخدا کا نازل کردہ اسلامی مقدس قانون ،مختلف حالات و زمان کے مطابق ترمیم و تنسیخ کی کی اجازت نہیں دیتا۔شریعت کااپنی ہیئت اصلیہ پر رہنا ضروری ہے، خواہ مسلمان ایک خاص زمانے میں اپنے اوپر اسکا اطلاق کر سکیں یا نہیں۔لہذا شیخ الظواہری کے نزدیک خلافت کی بحالی ایک دینی فریضہ تھا۔ وہ بالکل درست تھے!
ثعلبی افندی کا سوال اٹھانا بھی بالکل درست تھا۔یعنی اگر خلافت کی بحالی مسلمانوں کا ایک مذہبی فریضہ ہے، تو ناکامی کی صورت میں کیا نتائج ہوں گے؟  لیکن اس سوال کا جواب افندی کو نہیں مل سکا۔
ظواہری اور ثعلبی افندی کی سوچ میں ایک بنیادی کمی یہ رہی، کہ وہ اس تعلق سے قرآن کا کھلا ہوا بیان سمجھنے سے قاصر رہے کیونکہ ’’ اللہ نے ہر مذہبی جماعت کے لئے شریعت اور طریقت دونوں کو نازل فرمایا ہے۔(۲۰)نتیجہ کے طور پر جس ناقابل تبدیل مقدس قانون پر ظواہری اصرار کر تے ہیں، اس کے علاوہ ایک دوسرا آسان راستہ نکل سکتا تھا، جس میں انسان کی ذہنی صلاحیت تحفظِ قانون کے ساتھ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو پیش کر سکتی تھی۔
ایک بنیادی مسئلہ جس کودوسری کمیٹی اور یہ اجلاس سمجھنے اور حل کرنے میں ناکام رہے اور جو کانگریس کی وجہ ناکامی بنا، وہ عالمی نظام کا اسلامی تصور اور اسلامی نظم و نسق ( دار السلام) کی نام نہاد روایتی تشریح پر نظر ثانی کرنے  کا مسئلہ تھا۔خلافت کا نظام کسی خلا میں معلق نہیں ہوا کرتا۔بلکہ یہ دار الاسلام کا ایک حصہ رہا ہے۔۱۹۲۴ میں دنیا سے دار الاسلام کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔مکہ اور مدینہ میں بھی اس کا وجود باقی نہ رہا۔اور اب اسلامی دنیا اپنے ماقبل زمانہ ہجرت میں لوٹ چکی تھی۔
اب اس مسئلہ کا حل اسلامی دنیا کے تمام حصوں میں مختلف جماعتوں کا قیام ہوگا۔جن کے اپنے اپنے امیر و امام ہوں گے، جو جماعت کے ممبران سے بیعت لیکر ہر ممکن حد تک اس کے معاملات بخوبی ادا کریں گے، تاکہ شریعت کی پیروی ہو سکے۔اور جب کبھی حجاز پر سعودی وہابی تسلط کے خاتمہ کا امکان ہوا اور مسلمانوں نے کبھی حجاز پر مکمل آزادی حاصل کی ، تواس وقت دار الاسلام کی بازیابی ممکن ہوگی۔پھر دار الاسلام کا ایک امیر ہوگا اور اور دنیا کی ہر جماعت کے ہر امیر کو دار الاسلام کے امیر سے بیعت لینی ہوگی۔
یہ فرمان رسول تھا کہ اگر دو شخص ایک ہی وقت میں مسلمانوں کی جماعت پر امیر بننے کا دعوی کر رہے ہوں(مثلا دار الاسلام میں) ،تو ان میں سے ایک کو قتل کر دینا چاہیے۔
یہ سمجھنانہایت ضروری ہے کہ قرآن کی آیت ‘‘اور ایمان والوں! اللہ کی اطاعت کرو، اور پیغمبر خدا کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی اطاعت کرو جوتمہارے درمیان قابل اعتبارہیں (شرعی طور پر مقرر کردہ)’’۔
(قرآن، النساء، ۵۹:۴) نے بھی لفظ ‘اس’ (فرد واحد)کی اطاعت کا حکم نہیں فرمایا ،اگر چہ وہ اتھورٹی میں ہو۔بلکہ آیت میں ’جو لوگ اتھورٹی‘ (صیغہ جمع)میں ہو ان کی تابعداری کا مطالبہ کیا ہے۔ لہذا قرآن نے  دار الاسلام نہ ہونے کی صورت میں قیادت کے لئے (عارضی )امکان کثرت کو تسلیم کیا ہے۔
پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور میں امت نے پوری کمیونٹی کے اوپر ایک شخص کو حقدار بنادیا تھا۔اسلام کے معاشرتی نظام کے لئے یہ اس وقت بھی ناگزیر تھا اور آج بھی ہے۔اور اسی وجہ سے قبیلہ قریش میں  اس کے بعد قائدکومنتخب کرنا ضروری ہو گیا۔اسی قبیلے سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا۔
اگر چہ شخصی قیادت بمشکل ایک صدی تک قائم رہ سکی ۔اس کے بعدمشترکہ قیادت کا ظہور ہوا ۔اور پھر امت اپنی پوری تاریخ میں دوبارہ شخصی قیادت کو بحال نہ کر سکی۔حالانکہ ایک دینی ساخت کی حیثیت سے اس کا وجود قائم رہا، جس کے لئے امت خواہشمند تھی۔
لیکن یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ جمہوری قیادت کے امکان نے امت کو تدریجاََ شخصی قیادت بحال کرنے کاموقع دے دیا، جو عارضی طور پرجمہوری قیادت کو تعدد جماعت پر تسلیم کرے گی۔اور یہ اس وقت تک ہے جب تک دار الاسلام کا وجود نہ پایا جائے۔
دوسری کمیٹی اس امکان کو بھانپ نہ سکی، اور آخر کار اجلاس کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔دوسری کمیٹی کی رپورٹ میں ایک بڑی کمی اور بھی تھی – – – ا یسی کمی جس کا تعلق اسلام کی قدیم سیاسی نظریہ سے تھا۔قرآن، سنت نبوی اور خلفائے راشدین کی پوری تاریخ میں اس عقیدہ کی کوئی بنیاد نہیں کہ اسلام میں قیادت کا حصول فتح و نصرت یا سابق خلیفہ کی نامزدگی سے کیا جا سکتا ہے ۔ اس تعلق سے یہ جاننا سبق آموز ہوگاکہ اسلام کی زیادہ تر تاریخ بلکہ موجودہ مسلم دنیا میں بھی قیادت ہمیشہ سے یاتو خاندانی بادشاہت کے طور پر قائم کی گئی ہے یا فتوحات کے ذریعہ۔(موجودہ دور کا فوجی تسلط فتوحات پر مشتمل ہے)-
مسلم اسکالرز کی پیشرو نسلوں نے اوّل خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ خلیفہ ثانی کی مبینہ نامزدگی کے حقیقی تصورکا غلط مفہوم پیش کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے سنی علمانے پوسٹ فیکٹو نظریہ سازی کے دور میں اسلام کے اندر خاندانی بادشاہت کو نظریاتی جواز پیش کرنے کے لئے غلط تصورات کا خوب فائدہ اٹھایا۔در حقیقت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر کو اس لئے منتخب نہیں کیا تھاکہ عہدۂ خلافت نے ان کو ایسا کرنے کا حق دیا تھا، بلکہ جن لوگوں کے پاس نیا خلیفہ منتخب کرنے کا حق تھا، انہوں نے آپ کو یہ حق دیا تھا۔
بلا شبہ علما یہ فیصلہ کرنے میں ظاہری طور پر غلط تھے کہ شریعت نے موجودہ خلیفہ کو اپنا جانشین منتخب کرنے کی اجازت دی ہے۔ جس کے نتیجہ میں خلافت کی پوری تاریخ حتی کہ آج بھی اموی، عباسی، عثمانی، سعودی عربیہ میں سعودی، اردن میں ہاشمی، مغرب میں شریفین اور خلیج کی دوسری متعدد خاندانی باشاہتوں کواس سے مدد مل رہی ہے۔
اور پھر معاملات کو مزید الجھانے کے لئے علما نے حضرت ابو بکر، عمر، عثمان اور علی( رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کوخلفا راشدین کے لقب سے سرفراز کر دیا۔ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ خلافتِ معاویہ اور ان کے معاونین کے اندر ضرور کچھ خامیاں تھیں۔اوّل خلفائے اربعہ کی خلافت کا اہم پہلو یہ تھا کہ اس میں خاندانی بادشاہت اور فتح کے ذریعہ حصولِ منصب کا کوئی شائبہ موجود نہیں تھا۔( ہم جانتے ہیں کہ کچھ لوگ خلفا راشدین کے ساتھ حضرت علی کو شمار کرنے میں علما کی حکمت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ان کا یہ اصرار ہے کہ حضرت معاویہ کو بھی اس میں شامل کیا جائے۔حالانکہ سنی اسلامی علماء کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم ہے)۔
۱۹۲۶ کی خلافت  کے لئے ہوئے اجتماع میں علما کی مشکل جو آج بھی موجود ہے، بڑی بریشانی کی وجہ بنی۔۱۹۲۴ میں انہوں نے خلافت عثمانیہ کی مخالفت کی، جو در اصل خاندانی بادشاہت تھی۔اور ۱۹۲۶ میں وہ پوری طرح، یہاں تک کہ فکری تجزیہ کے معیار پر،خاندانی بادشاہت کے غیر اسلامی نظام کو اس دار الاسلام سے بدلنے میں ناکام رہے،جو تمام مذہبی ضروریات کا منبع تھا۔
اسلامی ماڈل میں قیادت کے عوامل و محرکات سے متعلق قرآن کی بنیادی آیت نے بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کو اپنے معاملات باہم مشورے سے سلجھانا چاہیے:

“اور ان کے معاملات آپسی مشورے کی بنیاد پر قرار پاتے ہیں”۔ (قرآن، الشوریٰ، ۵۸:۴۲)-

اس آیت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ اسلامی کمیونٹی میں کسی لیڈر کا انتخاب، اس کی برخاستگی ، اور اس کا متبادل (جو اہل ایمان کے مجموعی معاملات کا سب سے اہم حصہ ہے)تمام مسلمانوں کے باہمی مشورہ سے کیا جانا چاہیے۔فتح کے ذریعہ حاصل کئے گئے منصبِ خلافت اور اپنا جانشین متعین کرنے کے متعلق علما پوری طرح قرآن کے مخالف تھے، کیوں کہ اہل ایمان کو اللہ کے عطا کردہ حق سے محروم کیا جا رہا تھا۔
یہ سچ ہے کہ امت کی پوری تاریخ میں اہل ایمان کو اس سے بڑا اور کوئی زخم نہیں ملا تھا۔قیادت کے عہدوں پر منظوری دینے کے لئے ان کی جانوں کے عوض ان کو بلایا جاتا تھا۔کیونکہ یہ بات ظاہر تھی کہ عہد ہ کو تسلیم نہ کرنا سرکشی گردانہ جاتاتھا، اور خلیفہ وقت، جو محض اپنی حکومت کے لئے قانونی جواز کا خواہاں رہتاتھا ، کے لئے ایک ظاہری خطرہ سمجھا جاتا تھا۔

خلافت کو آئینی شکل کیسے دی جاتی ہے؟ اس تعلق سے دوسری کمیٹی کا جواب ایک طرح سے ناکافی تھا۔جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ پہلا اور دوسرا طریقہ(نامزدگی اور فتح)قرآن کے خلاف تھے اور نہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفا راشدین کے کردارو عمل سے اس کی کوئی تائیدہوتی ہے۔مذکورہ دوسرے طریقے ،  یعنی۔۔‘عوام کا انتخاب’، کی بابت بھی دوسری کمیٹی ایسا نظام پیش کرنے میں ناکام رہی ،  جو۱۹۲۶ میں اس ضابطہ کار کو نافذ کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
بالآخر ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دوسری کمیٹی کے خیالات نے واضح طور پر یہ انکشاف کر دیا کہ جامعہ اظہر کے علما، جنہوں غالبا جدید فکر کا مطالعہ نہیں کیاتھا، در حقیقت جدید ریاستی نظام کے حقیقی رخ سے نا واقف تھے۔اور یہی نظام اب اسلامی دنیا پر مسلط ہونے والا تھا اور مسلمانوں کے سیاسی شعور کو محبوس و مقید کرنے والا تھا۔

تیسری کمیٹی

تیسری کمیٹی اپنے خیالات میں اس تعلق سے  واضح طور سے حقیقت پرمبنی  اپنی رپورٹ میں جرأتمند ثابت ہوئی تھی کہ:خلافت کو۔۔۔ مسلمانوں کے موجودہ حالات کے پیش نظر صحیح معنوں میں سمجھ پانا مشکل ہے۔(۲۳)
اس کی کچھ وجوہات تھیں:
’’اوّل تو مستند اشخاص کی ایک ایسی جماعت کا روناتھا جو شرعی طور پر ادائیگی بیعت کی حقدار ہو‘‘۔(۲۴)
تیسری کمیٹی یہ قبول کرنے کے لئے تیار تھی کہ قدیم نظام عمل( اصحاب حل و عقد)،جو لوگوں کی پسند کا فیصلہ کیا کرتا تھا، سال ۱۹۲۶ میں زنگ آلود ہو چکا تھا۔ایمانداری کی بات تو یہ تھی تیسری کمیٹی ماضی کو یاد کرتی کہ ا س نظام عمل نے در حقیقت اسلامی تاریخ میں کبھی پوری طرح کام ہی نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ اس اقبال جرم کے لئے پوری طرح ایماندار تھی کہ:
’’۔۔۔خلافت، اسلامی قانون کے مطابق صحیح معنو ں میں صرف ابتدائے اسلام میں موجود تھی’’۔(۲۵)

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اس اجلاس میں تمام ملکوں کے نمائندگان کو قاہرہ میں جمع کرنے کی کوشش ہو رہی تھی، تاکہ وہ نئی خلافت کی امکان پر غور و فکر کر سکے۔لیکن کمیٹی نے یہ بتایاکہ کانگریس پوری دنیا کی نمائندہ نہیں ہے۔ کیونکہ مسلم دنیاکی بہت سی تنظیموں نے اپنے نمائندگان نہیں بھیجے تھے۔ہمیں جاننا چاہے کہ اس بیان میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اجتماع پوری دنیا کے نمائندگان کو متوجہ کر سکتا تھا۔ لیکن اس سب کے باجود ایسا انتخاب پوری اسلامی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوتا۔
لیکن شاید سب سے دلچسپ پہلو ، جو تھرڈ کمیٹی نے ایک خاص وقت میں حصول خلافت کے امکان کو بیان کرنے کے لئے پیش کیا ، یہ تھا کہ:
’’۔۔۔ کہ متعین کردہ خلیفہ اس قابل نہیں ہوگا کہ دار الاسلام پر مؤثر اختیارکی بنیادی ذمہ داری کو بروئے کار لا سکے۔دار السلام کے بہت سے حصے غیر ملکی اختیار میں تھے ،اور جو آزاد و خود مختار تھے ان پر قوم پرست شورش کا قبضہ تھا، جو ایک جماعت کو دوسری جماعت کی قیادت قبول کرنے سے روکتا ہے، پھر اس کے عام معاملات میں مداخلت کی اجازت دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا’’۔
ایسا لگتا تھا کہ کمیٹی ذرہ برابر بھی اس سچائی سے واقف نہیں تھی کہ دار الاسلام کا سیاسی تصور مغرب کی سیکولر سیاسی فکر کے اخلاقی حملے سے دو چار اور خود فراموشی کا شکار ہونے والا تھا۔
اور اس بھی زیادہ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے چند خطے ، جو غیر ملکی تسلط میں تھے، ان کو دار الاسلام کہا جانا چاہیے۔غیر ملکی قبضے کی وجہ سے اب وہ دار الاسلام کا حصہ نہیں تھے(کیونکہ دار الاسلام کی تعریف مطالبہ کرتی ہے کہ یہ ایک ایسے علاقے میں ہو جہاں اللہ کی عظیم حاکمیت غیر مسلموں کو بھی شامل ہو۔اور دوسری بات یہ کہ اگر باقی مسلم دنیا پر ایک خلیفہ کما حقہ اقتدار نہیں کر سکا تو یقیناًیہ اسلام میں کچھ نیا تھا۔ اور یہ خلافت اسی طرح تیرہ سو سال تک جلتی رہی۔
درحقیقت تیسری کمیٹی کو یہ بتانا چاہیے تھاکہ شہر مکہ اور مدینہ بھی سعودی وہابی قبضہ میں تھے۔ نتیجہ کے طور جو بھی خلیفہ منتخب کیا گیا، اس کو حرمین پر کنٹرول کرنے کے لئے اہلیت کی بے شمار ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ۔ جس وقت کوئی خلیفہ نہیں تھا اور عام حالا ت کے بر عکس ادارہ بھی حملے کی زد میں تھا، اس وقت یہ ضروری ہو گیا کہ جوبھی منصب پر منتخب کیا جائے اس کو حرمین اور حج پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ لہذا یہی وہ وجہ تھی جس کی وجہ سے شریف الحسین نے اپنے لئے خلافت کا دعوی کیا تھا۔

Page 51 to 79

حرمین پر قابض سعودی وہابی حاکم نے اس حقیقت کا برملا اظہار کیا تھا کہ وہی ایک قابل لحاظ طاقت ہے ،نیز یہ کہ اس کو خلافت سے ذرہ برابر دلچسپی نہیں تھی۔ مگراسی میں خلافت اجتماع کا بنیادی قضیہ پوشیدہ تھا۔
کمیٹی کو جو کرنا چاہیے تھا،  حالانکہ اس نے نہیں کیا،  وہ یقیناًایک معمولی تصفیہ تھا کہ جب تک حرمین اور حج پر اہل مغرب کا  تسلط ہے، اس وقت تک کسی خلیفہ کا تعین اور مسلمانوں کی شناخت بچا پانا آسان نہیں۔ اورجب تک حرمین وہابیوں کے قبضے میں ہے، مغرب کا سیاسی تسلط یوں ہی قائم رہے گا ۔اس لئے اب جزیرۂ عرب میں برٹش ڈپلومیسی کو جوابی کارروائی دینے اور سعودی نما برٹش کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے اسباب وذرائع تلاش کرنا وقت کا اہم تقاضہ تھا، تاکہ حرمین دوبارہ امت مسلمہ کے قبضہ میں آ جائے۔
تیسری کمیٹی کی رپورٹ نے اجلاس سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ خلافت کی عقدہ کشائی اور خلیفہ کے تعین کو لیکر دل برداشتہ نہ ہو۔ ‘‘اجلاس کے لئے صرف یہ جاننا کافی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے مرض کی تشخیص اور اس کی تدبیر تلاش کرنے میں قابل قدر خدمت انجام دی ہے’’۔
تدبیر یہ تھی کہ  ‘‘ مسئلہ خلافت حل ہونے تک مسلمان مختلف اسلامی ملکوں میں بیک آواز ہوکر اجتماعات قائم کرتے رہیں، تاکہ مسلسل ہونے والے تبادلہ خیالات سے ان کو واقفیت رہے۔
اجلاس کی قراردادیں
تیسری کمیٹی کی رپورٹ نے اجلاس  کو کبیدہ خاطر کر دیا تھا۔شیخ الظواہری نے تو اس کو‘‘اسلام کے جنازہ پر خطبہ’’  کا نام دیا۔ جو وفود ابتدا میں اجلاس کو عوام و پریس کے لئے کھلا رکھنے کے حق میں تھے ، اب انہیں کا فیصلہ تھا کہ  اجتماع کا کوئی بھی اقتباس پریس نیوز میں نہیں جانا چاہئے۔(۲۹) تھرڈ کمیٹی رپورٹ کی مخالفت کرنے والے شیخ الظواہری نے کمیٹی کے سامنے ایک قرار داد پیش کی جو اس نے منظور کر لی۔(۳۰)قرارداد میں اس بات کی تصدیق تھی کہ خلافت پر غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔اور ایک دوسرا اجتماع منعقد ہونا چاہئے جس میں تمام مسلمانوں کی نمائندگی کی جائے اور قیام خلافت کے تئیں ایسے اقدامات لئے جائیں جن میں شرعی قوانین بدرجہ اتم موجود ہوں۔ مختصر یہ کہ کانگریس ایک نیا خلیفہ منتخب کرنا چاہتی تھی۔

اس پرامید تبادلہ خیال کے ساتھ یہ اجلاس  اختتام پزیر ہوئی۔لیکن اجلاس کی مسترد کردہ تھرڈ کمیٹی کو احساس ہوا کہ اس کے شکوک و شبہات آخرکار صحیح ثابت ہوئے، کیونکہ مجوزہ اجلاس جس کو نیا خلیفہ منتخب کرنا تھا، کبھی معرض وجود میں نہ آ سکی۔در اصل اسلامی دنیا ایک مابعد عہد خلافت میں داخل ہو رہی تھی۔اور اس کی بنیادی وجہ حرمین اور ارض حجاز پر سعودی وہابی اقتدار ، نیز سعودی عربیہ میں سعودی وہابی ریاست کو اس حیثیت سے قائم کرنا تھا جو بے دین اہل مغرب کی کھل کر وکالت کر سکے۔
جس وقت حالات ایسے ہوئے کہ خلافت عثمانیہ کی منسوخی جامعہ الاظہر پر موقوف ہو ئی، یہ بات ظاہر تھی کہ تعصب زدہ برطانیہ  اور صیہونی اسٹراٹیجی کو ایک زبردست کامیابی حاصل ہوئی، یعنی: اسلام ما بعد خلافت۔

چوتھا باب

خلافت کے لئے پر فریب سعودی وہابی متبادل
بین الاقوامی مسلم اجتماع،  جون۔ جولائی ۱۹۲۶،  مکہ

جولائی ۱۹۲۶ء کو مکہ میں ہونے والےبین الاقوامی مسلم اجتماع کی جڑیں جزیرۂ عرب اور بیت سعود سے ختم ہونے والی خلافت عثمانیہ سے منسلک ہیں، جس نے حال ہی میں عرب پر اپنے قدم جمائے تھے۔
عبد العزیز ابن سعود نے اپنی اسٹوری بک‘ریاض پر ابتدائی قبضہ ۱۰۹۲’ کے بعدنجد کو دوبارہ حاصل کر لیا۔لیکن وہابی تحریک کی مذہبی بنیاد پر آل سعود کی حکومت میں سیاسی فضا قائم کرنا ضروری تھا ۔تاکہ بوقت ضرورت کوئی وہابی نجدی حجاز کو چیلنج کرسکے اور اسلام کے مرکزی خطہ ارض کو وہابیت زدہ نام نہاد عقیدے کے لئے مجبور کیا جا سکے۔
یہ موقع اس وقت آیا جب شریف الحسین (خلافت عثمانیہ کا متعین کردہ امیر) نے اول جنگ عظیم میں متحدہ قوتوں کی شہ پر ۱۹۱۶ میں عثمانی ترکوں سے حجاز کو چھین لیااور وہاں پر حسینی ہاشمی خاندان کی حکومت مسلط کردی۔ایسا کرنے کے لئے اس نے وہابیو ں کو حج سے روک دیا۔وہابیوں کے ساتھ دینی اختلافات کے علاوہ وہ ان پر پابندی لگانے کا حامی تھا۔کیونکہ وہ اِس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھا کہ حجاز میں وہابی نجد ہی ا س کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
حسین اور ابن سعود دونوں نے جنگ کے دوران برٹش کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ بندی تک بھی ابن سعود حجاز حاصل نہ کر سکا۔اختتام جنگ پر عقل سلیم نے مہمیز لگائی کہ حجاز پر دوبارہ قبضہ کے تعلق سے اسے استنبول میں بیٹھے خلیفہ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب خلافت تقریباََ ختم ہو چکی تھی ۔اوراب حسین کے خلاف حملہ بولنے کا وقت آ چکا تھا۔حسین بھی اس چال سے اچھی طرح واقف تھا۔لیکن اب ابن سعود کے خلاف مسلم دنیا کی حمایت حاصل کرنا بے سود تھا ،کیونکہ اس نے خود ۷؍مارچ۱۹۲۴ کو(خلافت عثمانیہ ختم ہونے کے چار دن بعد) اپنی خلافت کی دعویداری کی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال ۱۹۲۴ء اسلامی تاریخ  کا واقعات سے بھرا دورثابت ہوا۔کیونکہ ابن سعود نے حجاز پر حملہ کر کے حسین کے دعوئے خلافت کا جواب دیا۔ابن سعود کی نجدی فوجوں نے ۵؍ ستمبر ۱۹۲۴ کو طائف،۱۳؍ اکتوبر کو مکہ اور ۵ ؍ دسمبر کو مدینہ پر قبضہ کر لیا۔ایک سال بعدہی ۱۹؍ دسمبر ۱۹۲۵ کو جدہ حاصل کرلیا گیااور بے چارہ ’خلیفہ‘ اور ’ بادشاہ عرب‘ کو جلا وطن ہونا پڑا۔مقام حیرت نہیں کہ مکہ کی معزز شخصیات نے فیصلہ لیا کہ اب ابن سعود کو حجاز کا بادشاہ تسلیم کر لینا ہی قرین مصلحت ہے۔
جزیرۂ عرب ، جو اب سعودی وہابی راج کا حصہ تھا،نے جلد ہی امت کی قیادت کا دعوی شروع کر دیااور ساتھ ہی اس نے مسلم خلافت کے بجائے مسلم اتحاد کا راستہ فراہم کیا،جس کا مطلب تھا ؛ خود مختار اسلامی ریاستوں کے اندر بین الممالک اسلامی یکجہتی کا راستہ۔
حجاز کے سعودی وہابی حاکم کو یہ معلوم تھا کہ مسلم دنیا  وہابی قیادت کو قطعاََ تسلیم نہیں کرے گی۔لہذا سعودی وہابی خلافت تقریبا محال تھی۔دوسری طرف اگر دنیا بھر کے مسلمانوں نے متحد ہو کرکسی کو اپنا خلیفہ چن لیا تو حجاز میں سعودی وہابی حکومت کے لئے خطرہ پیدا ہو جائے گا۔جس کی وجہ اس  تلخ    تجربہ کا اعادہ ممکن تھا کہ جب مصری فوجوں نے ایک صدی پیشتر وہابیوں کو حجاز سے باہر کیا تھا۔
مئی؍ ۱۹۲۶کو مصر میں منعقدہوئے خلافت اجتماع سے سعودیوں کو کچھ خطرات لاحق ہوئے ۔جس کے چلتے انہوں نے خلافت کی بجائے ایک متبادل سیاسی نظام اورفورم کی تلاش شروع کر دی۔ یہ متبادل ان کو اسلامی ریاست اوربین الممالک باہمی تعاون اور یکجہتی میں نظر آیا۔(۳۱)مصطفی کمال نے ترکی میں قیام جمہوریت کے ساتھ ہی خلافت کی پرانی کرسی پر نئے نظام کی بنیاد رکھ دی تھی، جو سعودی وہابیوں کے لئے بالکل مناسب تھا۔
انہیں اس بات کی کوکوئی پرواہ نہیں تھی کہ نظام ریاست ،  جوجدید مغربی سیکولر کا سیاسی نتیجہ تھااور جس نے سماج کے جدیدسیکولر ماڈل کی بنیاد کو آئینی شکل فراہم کی تھی،وہ اسلام کے شرعی نظم و نسق کے  اصولوں سے  متصادم ہے۔ان کے لئے یہی اہم تھا کہ اسلامی ریاست کا نظام سعودی وہابی حکومت کو حجاز میں ایک ناقابل تسخیر مقام فراہم کرے گا۔وہ وہابی اسٹیٹ جو بدعت کا زبردست مخالف تھا، اب وہی تاریخ امت کی سب سے بڑی بدعت کا حامی اور تجویز دینے والابن گیا تھا۔
لہذا سعودی وہابی حکمت عملی کا مقصد مئی؍ ۱۹۲۶میں ہوئی خلافت اجلاس کے بالمقابل ایک مخالف اجلاس قائم کرنا تھا۔انہوں نے اس کو المؤتمر العالم الاسلامی (بین اقوامی مسلم اجتماع) کا نام دیااور جولائی؍ ۱۹۲۶ کو مکہ میں اس کا انعقاد کیا گیا۔
۱۹۲۶ میں مروجہ طریقہ نقل و حمل کے باعث دونوں کانفرنس میں شریک ہوناکافی دشوار تھا،  لہذا وہابیوں نے ایک پر فریب اور دانستہ سیاسی اقدام لیا۔ جس کی روسے مسلم دنیا کو کم از کم ایک کانفرس میں شرکت کرنا لازمی تھا۔
سعودی کفالت والی اس اجلاس کا واحد مقصد پوری دنیا کے سامنے اسلام کاعام روایتی ضابطہ پیش کرنا اور اسلامی نیشن اسٹیٹ کے جدید نظام کی طرف رہنمائی کرنا تھا۔جدید بین الاقوامی ضابطہ اسلام کے تحت یہ سعودی وہابی حجاز پر اپنی حکومتی شناخت کے خواہاں تھے۔
تا ہم کانگریس کی پیہم تیاریوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی لیڈر نے اپنے آپ کو تمام حاضرین کے روبرواسلام کا قائد بنا کر پیش کیا اور جزیرہ ٔعرب میں حقیقی اسلام کی بازیابی کا وعدہ کیا۔
یہ پہلے ہی مذکور ہو چکا ہے کہ وہابیوں کو معلوم تھا ،کہ ان کی وہابی خلافت کو اسلامی دنیا  بآسانی قبول نہیں کرے گی۔لیکن عبد الوہاب پہلے ہی ابن تیمیہ جیسے دقاق مفکر کے افکارو نظریات سے متأثر تھا۔ان کا موقف تھا کہ غیر منصفانہ طور پر تشکیل دی گئی  خلافت نے افتراق امت میں ایک آلہ کا کام کیا تھا۔اس حیثیت سے خلافت مسلم اتحاد کی بنیاد و شناخت نہیں بن سکتی ۔بلکہ یہ ذمہ داری شریعت کے کاندھے پر ہونی چاہیے۔
لہذا یہ فطری بات تھی کہ نجدی وہابی  اور حجازمصر کی خلافت اجلاس کے ہم نوا نہیں ہو سکتے تھے ۔اور اسی اسٹراٹیجک موقف کے چلتے انہوں نے اسلام کی مرکزی زمین پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔اور یہ متوقع تھا کہ سعودی وہابی قیادت ضرور اس موقع کا فائدہ اٹھائے گی جو اسے خلافت عثمانیہ کے زوال اور قلیل مدتی خلافت کی شکست سے میسر ہوا تھا ،تاکہ وہ ایک جدید فکر وحدت کے ساتھ امت کی رہنمائی کر سکے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بین الاقوامی مسلم اجتماع کے لئے ابن سعود کی متعین کردہ تاریخ جون۔جولائی؍ ۱۹۲۶ تھی،(مصر میں ہوئی خلافت اجلاس کے ایک مہینہ بعد) جس کا مقصد واضح طورپر یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ اجلاس  خلافت اجلاس کے متبادل کی حیثیت سے منعقد کی جارہی ہے۔
مکہ میں بین الاقوامی مسلم اجتماع منعقد کرنے کی ایک اور وجہ تھی۔در اصل ابن سعود چاہتا تھا کہ اس مقدس سر زمین پر اس کی حاکمیت کو عالمگیر اسلامی شناخت حاصل ہو جائے۔وہابیوں کے لئے یہ مسئلہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا ،کیونکہ ان کے اور باقی عالم اسلام کے مابین نا گفتہ بہ حد تک مذہبی اختلافات تھے۔حقیقت کا یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ وہابیہ  حنبلی مکتب فکر کے پیروکار تھے جن کی تعداد دنیا میں کافی کم تھی ،جبکہ اکثریت حنفی ، شافعی اور مالکی مکتب فکر کے متبعین کی تھی۔
ٓاٹھارہویں صدی میں وہابیوں نے جب کچھ مدت کے لئے عرب کی مقدس سر زمین پر قبضہ کیا، توانہوں نے متشددانہ جذبہ کے تحت زبردست قتل عام کیا۔دنیائے اسلام میں ہر چہار جانب غصہ اور برگشتگی کا ماحول پیدا ہو گیاتھا۔ آخر کار حجاز میں بھیجی گئی مصری آرمی نے ان کو شکست دیکر صحرا میں بھگا دیاتھا۔لیکن اس مرتبہ وہابیوں نے یہ یقین دلانا چاہا کہ مسلم دنیا اس مقد س سر زمین پر ان کی حکومت تسلیم کرے گی۔یہی وہ دوسرا بنیادی مقصد تھا جس کی خاطر بین الاقوامی مسلم اجتماع منعقد کیا گیا تھی۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے وفود
جون۱۹۲۶ کو مکہ میں منعقد ہونے والا بین الاقوامی مسلم اجتماع  اسلامی تاریخ  کامنفرد اجتماع تسلیم کیا گیا۔یہ اجتماع ابن سعود کی کوششوں کا نتیجہ تھا ۔ابن سعود نے اپنے افتتاحی خطبہ میں از خود کہا:‘‘اپنی ہیئت اور مقصد کی رو سے، آپ کا مجتمع ہونا یقیناتواریخ اسلام میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے’’۔
ابتدا ہی سے یہ ایک مکمل تنظیم تصور کی گئی تھی۔ ‘‘خدا برتر سے ہماری دعا ہے کہ ہم اسی طرح ہر سال حج کے موقع پر ملتے رہیں’’۔
مصر کی خلافت اجلاس  کے بر عکس، مکہ کانفرنس  نے  اجلاس کے نمائندگان کو متأثر کرنے اور  معیری نمائندگی پیش کرنے کی کوشش کی۔پیرس کے علاوہ تمام سرکردہ اسلامی جماعتوں اور خود مختار اسلامی ممالک نے اپنی موجودگی درج کرائی ۔برصغیر ساؤتھ ایشیا سے تمام اہم اسلامی تنظیموں کے اعلی نمائندگان تشریف لائے۔مثال کے طور پر سید سلیمان ندوی نے ہندوستان کی تحریکِ خلافت کی نمائندگی کرنے والے وفد کی سربراہی کی(۳۷)۔وفد کے دیگر تین ممبران مولانا محمد علی جوہر، ان کے بھائی مولانا شوکت علی اور بہنوئی شعیب قریشی بھی موجود تھے۔ایک وفد رابطہ علما ہند کی نمائندگی کرنے والے سید محمد کفایت اللہ اور دوسراعلما اہل حدیث ہند کی نمائندگی کرنے والے شیخ ثناء اللہ کی سر پرستی میں موجود تھا۔ فلسطین کے مفتی اعظم سید امین الحسینی نے فلسطینی وفد، جنرل غلام جیلانی خان نے افغانی وفد، ادیب سیروٹ نے ترکی وفد، شیخ الظواہری نے مصری وفد اور رضاء الدین فخر الدین نے روسی مسلمانوں کے وفد کی سر براہی کی۔اس وفد میں فخر الدین کے ہمراہ اوفہ، استراکان، کزان ، کریمیا، سائبیریا اور ترکمانستان کے وفود بھی موجود تھے۔نیز جاوا، سیریا، سوڈان، نجد، حجاز اور یمن وغیرہ کے وفود بھی تھے۔
کچھ افراد کو بالخصوص اجلاس میں مدعو کیا گیاتھا۔اس گروپ میں شیخ عبدہ کے شاگرد اورسیریاکے مشہور اسلامی اسکولر شیخ راشد رضااورلندن میں مقیم افغانی اسکولرسردار اقبال علی شاہ، جنہوں نے برٹش پبلی کیشن کے لئے کانفرنس کے متعلق سلسلہ وار مقالات لکھے تھے ، بھی موجود تھے۔کانفرنس میں شرکت نہ کرنے والے اہم ممالک میں ایران، چین، سنوسی آف لیبیا اور پورا خطہ مغرب شامل تھا۔
مکہ میں ہوئی کانفرنسیں قاہرہ کی کانفرنس سے ایک دوسرے اہم زاویہ سے بھی بالکل مختلف تھیں۔قاہرہ میں کوئی وفد سرکاری تسلیم نہیں کیا گیا اور تمام وفود نے انفرادی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ مکہ میں ایسا نہیں تھا۔مؤخر الذکر کانفرنس میں اسلامی ممالک اور جماعتوں نے اپنے اپنے سرکاری وفود بھیجے اور ایسا کرنے کے لئے انہوں نے مکہ فورم اور اتحاد کے تئیں فکر جدید کو ترجیح دی۔اور یہاں پر اسلام کی معاصر دنیا کو نظام ریاست کی حیثیت سے آرگنائز کرنے کی ایک معمولی مگر بنیادی وجہ  موجودتھی۔بلفظ دیگرمسلم اکثریت نے  بغیر چون چرا دو وجوہات سے اس کا انتخاب کیا:
اس مایوس کن  صورت حال کے باعث جو مسلم دنیا کو در پیش تھی۔
اور کیونکہ علما مؤثرانہ انداز میں اسلامی نظم و نسق (دار السلام) اور عالمی ضابطہ پر مشتمل اس اسلامی تصور کی مکمل تشریح نہیں کر سکے، جس میں دار الاسلام موجود تھا۔

کنگ اور کانگریس
اجلاس کو کنگ عبد العزیز کی طرف سے دو مراسلات موصول ہوئے۔پہلے میں اجلاس  کا افتتاحی خطبہ تھا، جس میں کنگ نے حسین کی مطلق العنانی پر ختم ہوئی حجاز کی اس افسوس ناک تاریخ کا حوالہ جس نے‘‘ حجاز کو غیر مسلم خارجی اثر کے حوالے کر دیا تھا’’۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے کیونکہ اس کی ممانعت فرمائی تھی۔ لہذا حجاز پر نجدی فتح کا جواز پیش کیاگیا۔ کنگ یہ بیان کرکے بڑا خوش ہوا کہ اس فتح کے بعد مکہ میں اب حفاظتی انتظام موجودتھا۔اس تحفظ او ر مکمل آزادی کے ماحول میں اجلاس کو سیشن منعقد کرنے کے لئے مدعو کیا گیا۔اس اجلاس کی راہ میں حائل ہونے والی بندشیں صرف اسلامی قانون کی پابندیاں تھیں نہ کہ بین الاقوامی سیاست اور اختلافات میں مداخلت کرنے والی پابندیاں، جو  قوموں کو ان کی حکومت سے محروم کردیتی  ہیں۔
اور پھر ابن سعودبھی افتتاحی خطبہ میں زیادہ ایماندار نہ تھے، کیونکہ وہ بھی جزیرۂ عرب پر برطانوی اثر کی حمایت اور ہمت افزائی میں اتنے ہی مجرم تھے جتنا کہ حسین۔
کنگ کے خطاب میں دو چیزیں صاف ظاہر تھیں۔پہلی یہ کہ وہابی قیادت اجلاس کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنا ممکنہ چہرہ ہی ظاہر کر رہی تھی۔لہذاتحفظ اور مکمل آزادی کا وعدہ کیا گیا۔اور دوسری بہت اہم بات یہ کہ اجلاس کے مباحث میں عالمی سیاست پرلگائی گئی بندش اس بات کی دلیل تھی کہ سعودی وہابی ریاست کی سلامتی اور متحالفین (بالخصوص برٹین)کے ساتھ اس کے مضبوط روابط کو علما کی سوچی سمجھی آراپر ترجیح دی گئی، حتی کہ تاریخِ اسلام کی ایک بے مثال اسلامی کانفرنس کی رائے کو بھی بے وقعت بنا دیاگیا۔
کنگ نے اجلاس پریہ ذمہ داری عائد کی کہ وہ مقدس مقامات کو اسلامی تعلیم و ثقافت کے عظیم مراکز بنانے کے لئے ضروری وسائل کی جانچ کر ے جو خوشحالی اور صحت مندانہ ماحول کے اعتبار سے پوری طرح مناسب جگہ ہو۔ اور سعودی عربیہ  کو ایک ایسا مسلم ملک بنایا جائے جو اپنی اسلامی شناخت کے لئے پوری طرح جاذب النظرہو ۔(۴۱)
اس خطاب سے پوری طرح ظاہر تھا کہ کنگ اجلاس  کے ساتھ مذہب اور سیاست کے درمیان ایک مصنوعی تقسیم کر کے گندم نما جو فروشی کی کوشش کر رہا تھا۔  اور اس تعلق سے ایک جدید نظریہ کہ اسلامی اجتماعات میں بحث و تمحیص کا موضوع سخن ‘مذہب ’ اور‘مذہبی مسائل ’ ہیں۔اور یقیناًیہ ایک قابل مذمت بدعت تھی ،جوقرآنی توجیہات ،سنت نبوی اور اسلام کی بنیاد  سے پوری طرح متصادم تھی۔در اصل کنگ ‘الاسلام’ یا  ‘الدین’ کوایسے تنگ نظر اور مسخ شدہ مفہوم والے مذہب میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا تھا ،جس کی اصطلاح بعد میں سیکولر مغربی ثقافت میں استعمال کی گئی۔
۲؍ جولائی ۱۹۲۶، ۱۵ ویں عام اجلاس کے موقع پر کنگ نے  اجلاس  کو دوسرے پیغام کے لئے خطاب کیا، جس کے ذریعہ اس نے وہابی اقدام کا ایک اہم مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی؛ یعنی حجاز پر سعودی وہابی تسلط کی قبولیت اور اس کی بین الاقوامی اسلامی شناخت۔
مندرجہ ذیل پیش ہے حجاز کے لئے کنگ کا بیان کردہ سیاسی داؤ :
۱۔ ‘‘اس مقدس ملک میں کوئی بیرونی مداخلت ہمیں کسی صورت میں منظور نہیں۔
۲۔ ‘‘ ہمیں ایسی مراعات منظور نہیں جن سے کچھ لوگ فیضیاب ہوں اور دوسرے محروم ۔ اس ملک میں ہر چیز کی تصدیق و توثیق اب شریعت کرے گی۔
۳۔‘‘ حجاز کا ایک خاص غیر جانبدارانہ نظامِ دستور ہوگا۔یہ کسی پر حملہ کرے گا اور نہ اس پر حملہ کیاجائےگا؛اور تمام خود مختار مسلم ریاستوں کو اس غیر جانبداری کی ضمانت دینی ہوگی۔
۴۔ ‘‘اسلامی ممالک سے حجازکو ہونے والی اقتصادی امداد، طریقہ تقسیم اور مقدس مقامات کو ہونے والی منفعت کی جانچ ہونی چاہیے’’۔
اس خطاب میں کنگ کی یہی کوشش رہی کہ اسلام کا ایک جدیدسیاسی نظریہ  تجویز کیاجائے۔یہ ایسا تھا گویا سعودی وہابیوں کو یقین ہو کہ وہی حقیقی مسلمان ہیں اورمقبوضہ نجدو حجاز حقیقی دار السلام ۔اس لحاظ سے نجد و حجاز (آج کا سعودی عربیہ )کے علاوہ تمام ریاستیں اور سرحدیں غیر ملکی تھیں۔اور جب بھی کنگ نے حجاز میں خارجی مداخلت کو روکنے کی بات کہی، تواس نے بالخصوص اس مداخلت کا حوالہ دیا، جس نے ایک صدی پیشتر وہابیوں کو حجاز سے باہر نکالا تھا ۔کنگ نے پورے عالم اسلام کو غیر ملکی بتا کر ارتکاب کفر کی دہلیز پر قدم رکھ دیاتھا۔
دوسرا نقطہ یعنی شرعی احکام کا مساویانہ اطلاق یقیناًقابل ستائش تھا۔لیکن یہ پہلے کے منافی تھا۔مسلم دنیا کو ‘غیر ملکی ’ کا درجہ دیا جا رہا تھا۔ جس کی رو سے وہ ان تمام رعایات و اختیارات سے محروم ہو جائیں گے جو سعودی وہابیوں کے لئے تھے۔مثلاََ  غیر ملکیوں کو حجاز میں داخل ہونے حتی کہ ادائے حج کی لئے ویزے کی ضرورت ہوگی۔اور سعودی وہابیوں کو ویزے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی، کیونکہ وہ سعودی عربیہ کی جدید ریاست کے شہری ہیں۔اس لئے حجاز بھی انہیں کی ملکیت ہے۔غیر سعودی مسلمانوں کو مدت ویزا ختم ہونے کے بعد حجاز میں قیام کرنے پر قید میں ڈالا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ غیر ملکی تھے اور حجاز نہ تو اب دار الاسلام تھا اور نہ ہی اس کا ان سے کوئی تعلق ۔سعودی وہابی اپنی منشا کے مطابق جب تک چاہتے حجاز میں قیام کر سکتے تھے کیونکہ حجازاب ان کاتھا۔
کنگ نے در اصل اس دار الاسلام کو منہدم کر دیاتھا،جس کی بنیادخود پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام نے حجاز میں رکھی تھی۔اور عالم اسلام کو اس کی مرکزی زمین سے محروم کر دیا گیا ،مسلمانوں کی بے حرمتی کی گئی  اور چھ عشروں تک بے خوف و خطر کرسی صدارت پر ماموررہا۔
کنگ کے خطاب کا تیسرا نقطہ  قابل لحاظ تھا۔بلا شبہ اس میں بدعت کا واضع بیان تھا۔قرآن، سنت نبوی اور پوری اسلامی وراثت میں کہیں بھی حجاز کی غیر ‘جانبداری’  کا کوئی تصور ہی موجودنہیں ۔ یقینایہ بیان کہ حجاز جہاد کے ذریعہ اسلام کی مرکزی خطہ زمین کو حاصل نہیں کرے گا،قرآن کے واضع احکامات سے پوری طرح متصادم تھا۔ کنگ ایک بار پھر  کفر کے راستے پر چل رہا تھا۔
کنگ کا یہ مطالبہ کہ تمام خود مختار اسلامی ریاستوں کو اس کی سلطنت کی غیر جانبداری تسلیم کرنی چاہیے،یہ ظاہر کرتا ہے کہ حجاز پر سعودی وہابی حکومت کے لئے مسلم ورلڈ سے شناخت حاصل کرنے کی یہ ایک مخفی کوشش تھی۔
کانفرنس نے کنگ کی پیش کردہ آزادی کا کھلا مگر دانشمندانہ استعمال کرکے کنگ کے خطاب کا جواب دیا۔ لیکن کانفرنس کی لفظ بہ لفظ رپورٹ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت کی طرف سے کچھ بھی غلط نہیں ہوا  تھا۔اس میں شک نہیں کہ بعض مواقع پر حجاز کے وفود کو کافی ووٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔
کل ملاکرکانفرنس نے مسلط کردہ پابندیوں کی پیروی کی اور عالمی سیاست سے کنارہ کش رہی۔اسی طرح خلافت کا سوال بھی ہمیشہ کے لئے دفن کردیا گیا۔مسلم یکجہتی کے لئے جدید طریقہ کار کی یہ زبردست کامیابی تھی۔مگرکا نفرنس قرار داد پاس کرکے کاسیاست میں داخل ہوگئی(۴۴)۔ اس قرار داد میں مان اور عقابہ کو حجازی قبضہ میں واپس کرنے کا مطالبہ کیا گیا، کیونکہ ان سرحدوں کو ٹرانس جورڈن (جہاں برٹش کی مکمل حکومت تھی)میں ملحق کر کے برٹش نے راشد رضا کے اس دعوی کی خلاف ورزی کی تھی ،جس میں حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جزیرہ عرب تمام غیر اسلامی اثرات سے منزہ رہنا چاہئے۔(۴۵)
جب ابن سعود نے حجاز کے لئے اپنی سیاسی خواہش ظاہر کرتے ہوئے عالمی سیاست کو اجلاس  کا حصہ بنایا ، تو اجلاس نے بلا کم و کاست اس مسئلہ پر بحث چھیڑ دی۔ اور پھر کنگ کی مطلوبہ شناخت کو ٹھکرا کر حقیقی اسلام کے تئیں اپنی وفاداری، یکجہتی اور ذہانت کا بخوبی اظہار کیا۔ اجلاس  نے صرف کنگ کا بیان نوٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔گزشتہ ساٹھ دہائیوں میں امت مسلمہ کی کسی نمائندہ جماعت کا یہ پہلا اہم فیصلہ تھا۔
ابن سعود کے لئے یہ ایک کاری ضرب تھی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلے بارہ سالوں تک کااجلاس  معطل رہی اور پھر کبھی مکہ میں منعقد نہ ہو سکی ۔ حالانکہ اس کا وجود مکہ میں ہوااور یہی پر ہر سال حج وقت ہوا کرتی تھی۔
لیکن دوسرے تشدد آمیز مسئلہ پر اجلاس  کو لگا کہ اپنے مہمان کی خواہشات مان لینا ہی دور اندیشی ہے۔ابن سعود نے ریاست کا ایک سربراہ ہونے کی حیثیت سے اجلاس  کی توجہ اس طرف مبذول کرائی تھی کہ اگر چہ تمام مسلمان اپنے اپنے مکاتب فکر کے مطابق اس مقدس سر زمین پر عبادت کیلئے آزا د ہیں، لیکن وہابی حکومت ایسے کسی عمل کو برداشت نہیں کرے گی جو شریعت سے متنازع ہو۔اس مسئلہ نے اجلاس  کے اندر ایک زبردست بحث و مباحثہ چھیڑ دیا۔
شیخ الظواہری نے آپسی سمجھوتے والا قرار داد پیش کر کے حل نکالنے کی کوشش کی، جس میں صرف کچھ مذہبی رسومات کی آزادی کا مطالبہ اور اصحاب رسول کی قبور والے ان متنازع علاقوں میں جانا ممنوع تھا، جن کو وہابیوں نے منہدم کر دیا تھا۔
اس مسئلہ نے وہابیوں کو ہلا کر رکھ دیا، حالانکہ اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ ابن سعود کی بات مان کر زبردست دور اندیشی کا مظاہرہ کر رہے وفود کو کسی طرح کے بحران میں ڈالاجائے۔ ہندوستانی وفد پھر بھی تلخ احساسات لیکرواپس آیا۔اس واقعہ سے کسی قدروضاحت ہوتی ہے کہ یہ اجلاس مکہ میں دوبارہ کیوں نہ ہو سکی، حالانکہ یہیں اس کا معائدہ طے ہوا تھا۔
در حقیقت یہ انڈین مسلم لیڈر مولانا شوکت علی کی شخصیت تھی، جس نے۱۹۲۶ ء کی دو کانفرنسوں کے بعد ۱۹۳۱ء میں تیسری عظیم اسلامی کانفرنس کوبروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کیا۔اور انھوں نے بلا تردد مکہ کے بجائے یروشلیم کو مقام اجتماع کی حیثیت سے منتخب کیا ۔
مکہ کانفرنس کے کچھ بہت نفع بخش کام بھی تھے، جن سے حج کا بہتر نظم و نسق منسلک تھا؛ نقل و حمل (بالخصوص حجاز ریلوے)، طبی سہولیات، خوردو نوش کی فراہمی اور استحصال سے حفاظت وغیرہ ایسے مسائل تھے جنہوں نے سال در سال حجاج کرام کو متأثر کیا۔ کانگریس نے ان مسائل پر تفصیل سے غور و خوض کیا اورمتعدد کار آمد قرار داد بھی پاس کیں۔

پانچواں باب

قدیم عالم اسلام: نشأۃ ثانیہ کی آخری کوشش
بین الاقوامی مسلم اجتماع، یروشلیم ، دسمبر۱۹۳۱


۱۹۲۶ء کی دو کانفرنس کے بعد پانچ سال تک دنیائے اسلام کی طرف سے کوئی ایسی منظم کوشش نہیں کی گئی جو زوال خلافت اوردوسرے قابل لحاظ ،دشوار طلب اور اس دنیا کا خاتمہ کرنے والے خطرناک انقلابات کا جواب دے سکے۔ دار الاسلام نے اپنی آخری سانس دسمبر ۱۹۳۱ء کو یروشلیم میں منعقد ہوئی کانفرنس میں لی ،جو انڈو ۔فلسطین کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔(۴۶)  اس کانفرنس کا یہ مقصد تھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اس زوال پزیر قدیم نظام کے اتحاد کی کچھ پرتو بحال ہو جائے۔لیکن اس کی کوشش رائگاں گئی۔ قاہرہ اور مکہ اجلاس  کی طرح یہ بھی ایک نا مکمل سفر ثابت ہوئی۔یروشلیم کے مفتی اعظم حاج امین الحسینی کے مطابق سال ۱۹۲۶ اور ۱۹۲۳ کے درمیان فلسطینی مسلمانوں کے اندر صیہونیت کے بڑھتے ہوئے بد شگون قدموں نے اسلام کے لئے ایک خطر ہ پیدا کر دیا تھا۔ اسلام کی متحدہ قوت ہی اس خطرہ پر قدغن لگا سکتی تھی۔اور پھر موجودہ اسلامی فکر کی کچھ سادہ لوحی، بھولا پن اور معصومیت درکار تھی جو اس بات پر بحث کرے کہ برطانیہ  کے مقبوضہ یروشلیم میں اس خطرہ سے نپٹنے کے لئے ایک اور اسلامی کانفرنس کی جائے۔یقیناًصلاح الدین ایوبی اپنی قبر میں افسردہ ہوں گے۔ایسا لگتا تھا جیسا کہ عالم اسلام کی علمی شان و شوکت کا رشتہ استوار اس حقیقت سے کٹ گیا ہو کہ اسلام کی بنیاد ہی قوت و آزادی اور ایمان پر قائم ہوئی تھی۔
اگست ۱۹۲۹ میں یروشلیم کی دیوار گریہ کے چلتے مسلم اور یہودیوں میں دنگا فساد ہوگیا۔لیگ آف نیشنز نے معاملے کی تفتیش کے لئے ایک کمیشن روانہ کی، جس مطابق دیوار گریہ پر مسلمانوں کے ‘مالکانہ حقوق’ تھے مگر یہودیوں کو بھی اس کے سامنے ‘عبادت کرنے کا حق’ حاصل تھا۔ اس رپورٹ سے نہ تو مسلمان خوش ہو سکے اور نہ یہودی، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس نے بالواسطہ اسلامی کانفرنس کے لئے راہ ہموار کر دی۔
۱۹۳۱ کے اوائل  میں جب انڈین مسلم لیڈر مولانا محمد علی جوہر کویروشلیم کے حرم میں دفن کیا گیا،  تو ان کے بھائی مولانا شوکت علی اور حاج الامین الحسینی کے ما بین ایک کانفرنس منعقد کرنے کیا معائدہ ہوا۔ چند مہینوں کے بعد، جون؍ ۱۹۳۱ میں دیوار گریہ کمیشن کی رپورٹ کو اجاگر کر دیا گیا، اور فلسطین کی سپریم مسلم کانسل نے کانفرنس کے لئے اعلان عام کردیا۔
۴؍ ستمبر ۱۹۳۱ کو یروشلیم کی مسجد اقصٰی میں نماز ظہر کے بعدمولانا شوکت علی نے اپنے خطاب میں کانفرنس کی تاریخ اور انعقاد کے لئے معائدہ شدہ اعلان سنا دیا۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں نے دنیائے اسلام میں قیادت اور غیر معمولی اہمیت و انفرادیت کا رتبہ حاصل کر لیا تھا۔

تاریخ اور مقام اجتماع

یہ جنرل اسلامی کانفرنس ۶ سے ۱۶؍ دسمبر ۱۹۳۱ بمطابق ۲۷؍ رجب المرجب سے ۷؍ شعبان المعظم تک منعقد کی گئی۔یہاں پر اسلامی کیلنڈر کا حوالہ دینا بھی اس لئے ضروری لگا،کیونکہ ۲۷ رجب المرجب کو افتتاحی اجلاس کے لئے مسجد اقصٰی کا انتخاب کیا گیا تھا۔(۴۸)
اب ذرا دیکھیے  کہ خلافت اجتماع   ایک نام نہاد آزاد مصر میں منعقد ہوا جو برطانیہ کے زیر اثر تھا،جبکہ بین الاقوامی مسلم اجتماع ایک ایسے حجاز میں قرار پایا جو برطانیہ  کے زیر اثر تھا اور اب اقصیٰ اسلامی کانفرنس بھی ایک ایسے مقام پر ہونے والی تھی جس پر پوری طرح برطانیہ  کا تسلط تھا۔ یروشلم اتنا بے بس تھا کہ ایک مقبوضہ علاقے کی طرح اپنی حیثیت عرفی بچانے کے لئے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے تھے کہ مقبوضہ علاقہ دار الحرب تسلیم کیا جائے ۔

اسلامی دنیا کے لئے مقبوضہ زمین پر بین الاقوامی مسلم اجتماع کے تئیں جمع ہونا یقیناًایک غیر معمولی منظر رہا ہوگا ،اور وہ بھی عام شرعی قوانین کی بازیابی کے لئے۔اس لحاظ سے یروشلم کی یہ عام اسلامی اجلاس  پوری اسلامی تاریخ میں بے نظیر و بے مثال تھی۔در اصل اس واقعہ نے اسلامی دنیا کی اس اندوہ ناک صورت حال کو اجاگر کر دیا، جس کے لئے اسے مجبور کر دیا گیا تھا۔برٹش گورنمنٹ اس تمام پیش رفت سے کافی حیرت زدہ تھی۔جہاں تک برطانوی حکومت کا سوال ہے، تو وہ سمجھتی تھی کہ اسلامی دنیا اپنے ناکارہ پن کو ضرور ظاہر کرے گی۔خوشی سے لبریز برٹش گورنمنٹ نے اپنے ہائی کمشنر سے صرف حاج امین الحسینی کویہ تنبیہ کرنے کے لئے کہا کہ گورنمنٹ اجلاس  منعقد کرنے کی اجازت نہیں دے گی کیونکہ اس سے اٹھنے والے سوالات متحدہ طاقتوں کے داخلی و خارجی تعلقات پر اثر انداز ہوں گے۔
دوسری طرف صیہونی پریس نے اجلاس  کی دعوت کا کمال فکر و دانائی سے رد عمل ظاہرکیا اور برٹش گورنمنٹ پرالزام لگایا کہ اس نے اجلاس کو اجازت دی تھی، کیونکہ ‘‘وہ اجلاس کا انعقاد چاہتی تھی، یہاں تک کہ اس نے انڈیا اور فلسطین کے مسلمانوں کو مطمئن کرنے اور صیہونی تحریک پر جوابی کارروائی کرنے کے لئے اس کو ورغلانے کاکام بھی کیاتھا’’۔
علاوہ ازیں اس جذبہ دروں پر بھی غور و خوض کرنا ضروری ہے، جس کو بہت سے لوگوں نے ظاہر کیا تھا۔ اجلاس عبد المجید کو دوبارہ خلیفہ بحال کر کے یروشلم میں اپنی سیٹ پکی کرنے کی متمنی تھی۔اس طرح کا کوئی بھی قدم عنقرہ  ریاست  کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا تھا، اور یروشلم میں بیٹھا برٹش گورنمنٹ کا تابعدار خلیفہ ایسا شکار تھا، جس کو گریٹ برٹین اپنا ہم نوا بنا کر زبردست استحصال کرسکتا تھا۔
وفود
لیبیا میں اٹلی پولیسی کی شدید تنقید کرنے والے عبد الرحمٰن عظام کے اخراج کے علاوہ ، یہ اجتماع  بڑے ہی پر سکون ماحول میں منعقد ہوا۔ فلسطین میں موجودبرٹش اتھورٹیز نے نہ تو کسی طرح کی کوئی مداخلت کی اور نہ ہی حاضرین پر کوئی پابندی لگائی۔
اس اجلاس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک جیسے ایران(کچھ شیعہ علما)، انڈیا(جس کے وفود میں عظیم مسلم اسکالر اور مفکرڈاکٹر علامہ اقبال بھی موجود تھے)، یوگوسلاویا،  مغرب،  الجیریا،  تیونسیا،  لیبیا،  شام اور نائجیریا سے وفود نے شرکت کی۔حالانکہ مصری حکومت  نے بالآخر کوئی سرکاری وفد نہ بھیجنے کا فیصلہ لیا۔ لیکن کنگ کی حمایت کرنے کے لئے وہاں کچھ مصری وفود موجود تھے۔مصر کی وفد پارٹی کی نمائندگی کر رہے ایک وفد نے ان کی مخالفت بھی کی۔علاوہ ازیں مصر کی متعدد دوسری اسلامی تنظیمیں بھی موجود تھیں۔
عراق اور اردن نے اپنے سرکاری وفود بھیجے  تھے۔سعودی فرماں رواں عبد العزیز ابن سعود نے اجلاس سے حیلہ تراشی کی اور آخرکار بڑی چالاکی سے ایک نمائندہ روانہ کیا جو اجلاس  میں شرکت کے لئے بروقت نہیں پہنچ سکا۔ترکی اورافغانستان نے بھی شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔لہذا  ۱۹۲۶ میں ہوئی  مکہ اجلاس کے مقابلہ میں یروشلم کے  اجلاس میں سرکاری کارکنان کی شرکت کافی مایوس کن رہی۔
اجلاس  کے کام
۶ ؍ دسمبر(۲۷ رجب المرجب)کو نماز مغرب کے بعد مسجد اقصیٰ میں اجلاس کا رسمی افتتاح کیا گیا۔اس کے بعد (۵۲)مندرجہ ذیل مسائل پر رپورٹ تیار کرنے اور مطالعہ کرنے کے لئے آٹھ کمیٹیاں تیار کی گئیں:

۔اجلاس  کے اغراض و مقاصد
۔اجلاس کی نشرو اشاعت
۔اقتصادی و انتظامی امور
۔اسلامی تہذیب و ثقافت اور مجوزہ الاقصی اسلامی یونیورسٹی
۔حجاز ریلوے
۔مقدس مقامات اور دیوار گریہ

۔اسلامی پرپیگندہ ا ور ہدایات

۔اجلاس  کے سامنے پیش کی گئیں تجاویز

۱۹۲۶ کے مکہ اجلاس کی طرح ، یروشلم میں ہوئی اجلاس نے بھی ایک قانونی دستور یا چارٹر اپنایا۔مکہ والے  دستورکے مطابق سالانہ میٹنگز ہوتی تھیں اور یروشلم دستورنے ششماہی میٹنگز کا مطالبہ کیا۔یروشلم میں ایک انتظامی محکمہ بھی قائم کیا گیا(جیسا کہ مکہ میں کیا گیا تھا)۔یروشلم کا انتظامی محکمہ سالوں تک کام کرتا رہا لیکن اجلاس  کبھی دوبارہ منعقد نہ ہو سکی۔
اجلاس  نے یروشلم میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیاتھا۔ جامعہ الاظہر نے اس کی سخت مخالفت کی ،کیونکہ وہ اسلامی علوم و فنون کے میدان میں اپنے منفرد مقام کا مد مقابل نہیں چاہتی تھی، لیکن اس بغض و حسد کے باوجود فیصلہ کوہری جھنڈی دے دی گئی۔
لیکن سب سے اہم مسئلہ جس نےاجلاس  کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی وہ بلا شبہ فلسطین میں صیہونی خطرہ تھا۔اس عارضی موضوع کی طرف اجلاس  کا رویہ اور طریق کار بہت ہی وسیع النظر اور موضوعی تھا۔یہودی ایجنسی کے سربراہ مسٹر سوکووکو یہودی نقطہ نظر بیان کرنے کے لئے  اجلاس میں مدعو کیا گیا۔شوکت علی کی پیش کردہ اس دعوت کو ٹھکرا دیا گیا۔اورپریس میں تشدد پسند صیہونیوں نے  اجلاس  کا مذاق اڑایا۔(۵۵)
صیہونیوں کا ایک دوسرا گروپ ، جنہوں نے ہبرو یونیورسٹی قائم کی تھی ، پہلے گروپ سے بالکل الگ تھا۔ان صیہونیوں نے بہت احترام کے ساتھ اجلاس  کا تذکرہ کیا، حالانکہ انہوں نے بھی برطانیہ کی اتنی ہی شدت سے تنقید کی جیسے دوسرے صیہونیوں نے برٹش پالیسی کو فلسطین میں زیر بحث لانے کے لئے کی تھی۔
لیکن صیہونیوں سے الگ رہ کر کام کرنے والے یروشلم کے روایت پسند یہودیوں نے آغاز ہی میں اجلاس  کو مبارکباد پیش کی اور اس کی کامیابی کے لئے دعا کی۔انہوں نے بتایا کہ یہودی مقدس مقامات کے خواہاں نہیں اور نہ ہی ان پر ان کوئی حق ہے۔لیکن انہوں نے اجلاس  سے پر زور مطالبہ کیا کہ دیوار گریہ پر ہونے والے یہودیوں کے قدیم طریقہ عبادت کی مخالفت نہ کی جائے۔
اجلاس نے یہ مطالبہ فو راَ منظور کرلیا! اس نے لیگ آف نیشن کی اس دیوار گریہ کمیشن رپورٹ کوتو مسترد کر دیا، جس نے دیوار گریہ پر مسلم ملکیت کی تصدیق کی تھی، ہاں دیوار گریہ پر یہودیوں کے حقوقِ عبادت کو بر قرار رکھا۔(۵۸)ایسا کر کے اجلاس  نے روایتی یہودیوں کو بیگانہ کر دیا اور صیہونیوں کے خلاف ان کی کوشش کو کمزور کر دیا۔(۵۹)

اجلاس  نے حقوق میں مداخلت کے لئے لیگ آف نیشنز کے خلاف مظاہرہ کیااور لیگ آف اسسٹنس کی یاد دہانی کرائی جو عرب نے پہلی جنگ عظیم میں پیش کی تھی۔اجلاس  نے تنبیہ کی کہ تولیت کا مطلب عرب کو مطیع بنانا اور ان کے حقوق کو غصب کرنا نہیں۔اس  نے فلسطین میں یہودیوں کے حقوق ہجرت اور املاک و اراضی کی خرید و فروخت کو برقرار رکھا۔لہذا ضمنی طور پر اجلاس نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ یہودیوں کو فلسطین میں داخل ہونے، بسنے اور پروپرٹی خریدنے کا حق حاصل ہے۔لیکن فلسطین میں یہودی نیشنل ہوم قائم کرنے کا جو صیہونی منصوبہ تھا اس کے تعلق سے اجلاس نے ایک ایگریکلچرل بینک قائم کرنے کا مشورہ دیا ۔جس کے تحت کسانوں اور کاشتکاروں کو اقتصادی مدد فراہم کرکے ان کی زمین خریدنے والے صیہونیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جا سکے۔
ممکن ہے کہ صیہونی خطرے کے لئے اجلاس  کا جواب معتدل رہا ہو۔ لیکن یہ عرب نیشنلسٹ جواب کے بالکل خلاف تھا۔مزید شدت پسندانہ موقف اپنانے کے لئے اس  نے عرب وطن پرستوں کی مزاحمت کی۔ان عرب وطن پرستوں نے علیحدہ طور پر اجلاس کےممبران سے ملاقات کی اور ایک ‘عرب معائدہ’ تیار کیاجو یہودی وطن پرستی کا ایک ممکنہ جواب تھا۔(۶۰)اور یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف تھے۔(۶)

مگر افسوس کہ اجلاس  یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ اس کے مذہبی جواب میں ایک مؤثر حکمت عملی ہونی چاہیے تھی ۔ جس کی رو سے صیہونیت مخالف اور مسلم ہمدرد یہودیوں کے ساتھ ایک عام مذہبی محاذ تیار کیا جا سکے۔(۶۲)حالانکہ قرآن نے یہودیوں(اور دوسرے غیر مسلم) کے ساتھ ایسے روابط بنانے سے ممانعت فرمائی تھی جو مسلمانوں کو محتاج و مغلوب بنا دیں، لیکن اس نے ایک سمجھوتے یا عام محاذ کی ممانعت نہیں فرمائی تھی۔
مقام افسوس تو  اس اجلاس کی ناکامی تھی ،جس نے یروشلم کے مقدس شہر میں بیٹھ کرایک دھندلی موضوعی صورت حال کی ایماندارنہ تشخیص کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔  پھر مسلم دنیا کا سامنا کرنے اور غلبہ امت کی بازیابی کے لئے پوری جرأت مندی اور جدید صلاحیتوں کے ساتھ ایک طویل مدتی معقول اور عمدہ حکمت عملی تیار کرنے کی ذمہ داری تھی۔
کانگریس کے اس  مشتعل اور پر جوش بحث و مباحثہ کے درمیان ایک بہت ہی مدبرانہ اور حکیمانہ آواز بلند ہوئی۔علامہ اقبال کی ژرف نگاہی نے خبردار کیا کہ اسلام کو درپیش خطرات صیہونیت کے ناپاک ارادوں اور سامراجی قوتوں کے لالچ وغیر ہ سے نہیں بلکہ کافرانہ مادیت پرستی اور علاقائی وطن پرستی سے ہیں۔جب تک ان کا مقابلہ نہیں کیا جائے گا اسلام اسی طرح انحطاط و تنزلی کا شکار رہے گا۔
یہ سچ تھا کہ علامہ اقبال کو اسلامی تہذیب و ثقافت پر منڈراتے ہوئے مادیت پرستی کے فلسفیانہ خطرات کی بصیرت تھی، لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ بھی اب تک اسلامی نظم و نسق (دار السلام) اور نظام عالم کی حیثیت سے تصور اسلام کو نظریاتی طور پر شکل نو دینے اور پھر اس کی مؤثرانہ طریقہ تشریح سے قاصر تھے ،جو دوسرے سیکولر حریفوں پر اپنی افضلیت کو ظاہر کر سکے۔حق تو یہ ہے کہ ۱۹۳۱ میں علامہ اقبال بھی نہیں جانتے تھے کہ امت مسلمہ کی بازیابی کے لئے کیا اقدامات لیے جانے چاہیے تھے۔


اجلاس  کی بعد کی سرگرمیاں


اجلاس کی منتخب کردہ انتظامی کمیٹی نے ایک سال تک پوری مستعدی کے ساتھ کام کیا۔مختلف ممالک میں اس کی شاخیں کھولی گئیں اور حصول سرمایہ کے لئے ان شاخوں کے نمائندگان نے ۱۹۳۲ میں یروشلم میں ملاقات کی۔۱۹۳۳ میں امین الحسینی اور التباح پاشا نے سرمایہ جمع کرنے کے لئے عراق و انڈیا تک کا سفرکیا۔لیکن ان کو کامیابی نہیں مل سکی اور نہ ہی یونیورسٹی اور ایگریکلچرل بینک جیسے خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔
قانونی دستور کے مطابق دوسری میٹنگ ۱۹۳۳ میں ہونی تھی، لیکن منعقد نہ ہوسکی۔۱۹۳۴میں کمیٹی کے ذریعہ لی گئی ایک ناگہانی تنازع ثالثی اور ۱۹۵۰ میں اس کے وقتی احیا کے علاوہ ، یروشلم کی جنرل اسلامی اجتماع بھی ختم ہو گیا۔
۱۹۳۱ میں اجلاس  کا قائم کردہ انتظامی محکمہ جنگ عظیم ثانی تک یروشلم میں مسلسل کام کرتا رہا۔مگر جنگ کے نا مساعد حالات اور حاج امین الحسینی اور برطانیہ  کے درمیان ہونے والے براہ راست مقابلے نے نے اسے کمزور بنا دیا۔حاج امین جنگ کے آغاز میں ہی مصر بھاگ گئے۔
۱۹۳۱ کو یروشلم میں ہوا عام اسلامی اجتماع کی ناکامی کے پیچھے وہی  وجہ تھی جو ۱۹۲۶ کی خلافت اجتماع  اور بین الاقوامی مسلم اجتماع کو ناکام بنانے میں رہی۔نظریاتی سطح پر اجلاس  اس دلدل سے نکلنے میں ناکام رہی جس میں اسلامی دنیاگر چکی تھی۔اس کی یہ حالت تھی کہ وہ اعتماد اور تکبر سے لبریزایک ایسی مغربی تہذیب کے سیاسی سیکولر چیلنج  کا جواب دینے میں ناکام تھی، جو دار الاسلام کی جگہ سیکولر نیشن اسٹیٹ کو عقلی طور پر معذور اسلامی دنیا کا جاں نشیں بنا رہی تھی ۔
خلافت کے خاتمہ نے سیاسی تنظیم کے اس نظام کو ختم کر دیا جس سے امت کا رشتہ منسلک تھا۔ اور جس نے عام زندگی میں اسلام کی افضلیت کا تعارف کرایا تھا۔اسلام کے مرکزی خطہ زمین میں رونما ہونے والی سیکولر سعودی وہابی ریاست کا مطلب یہ تھا کہ اسلام اب سیکولر ہو جائے گا۔ یہ محض ذاتی زندگی کا مسئلہ بن کر رہ جائے گا۔اب غیر سیاسی تبلیغی جماعتیں  اور حکومت موافق سعودی سلفی خلا پر کرنے کی کوشش کریں گے۔اور اب عبد اللہ یوسف علی کا  ‘سیاست زدہ قرآنی ترجمہ’  سیاسی میدان میں پچھڑے ہوئے  مسلمانوں کی  نسلوں میں مشہور کیا جائے گا۔
نتیجہ
اسلامی خلافت کا زوال صیہونیت زدہ برطانیہ کی ناپاک سازش کا نتیجہ تھا۔سعودیوں نے امت مخالف اس جرم کے لئے خاموش  مجرموں کی طرح کام کیا۔خلافت ایک ایسے سیاسی نظام کی علامت تھی، جس نے عام طرز زندگی اور مسلم دنیا کے بین الاقوامی تعلقات میں اسلام کی افضلیت کا اعتراف کیا تھا۔
ترکی اور سعودی عربیہ میں کرسی خلافت کی جگہ سیکولر  نظام ریاست کے ظہور نے مسلم دنیا میں سیاسی نظم و ضبط  کے سیکولر نظام  بنانے کے لئے راہیں ہموار کیں۔اور کیونکہ مسلم دنیا کے اندر اب سیکولر ریاستوں کو ہی اس کی نمائندگی کرنی تھی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ اب نہ تو عام زندگی میں اسلام کی کوئی بالا دستی ہوگی اور نہ ہی مسلم دنیا کے بین الاقوامی تعلقات پر اس کا کوئی اثر۔
اور دو ٹوک لفظوں میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اب مسلم دنیا میں جہاں تک عام زندگی کا سوال تھا تو‘ اللہ’  اب  ‘اکبر’  نہیں رہ جائیگا! کوئی مسلمان اب یہ سطریں اسی وقت پڑھ سکتا ہے جب وہ ان لوگوں کے خلاف اظہار ناراضگی کرے جنہوں نے خدا اور رسول کو دھوکھادیا ہے!اب ایک مسلمان کے درجہ ایمان کی پیمائش اس کے طرز عمل سے ہوگی۔
دنیائے اسلام آج کمزور ہو چکی ہے۔ ہمارا حاصل مطالعہ یہ ہے کہ خلافت کا قیام، جو دار الاسلام کا ایک حصہ تھا، اقتدار کی بازیابی کے لئے جزء لاینفک ہے۔ اقتدار کے بغیر اور نہ جانے کتنے بوسنیا، کشمیر، الجیریا، چیچنیا اور فلسطین وغیرہ دیکھنے کو ملیں گے۔ مسلمانو ں کی عام زندگی اور مسلم دنیا کے بین الاقوامی سطح پر تعلقات کے اندر اسلامی بالادستی کا احیا ہی ایک ایسا راستہ ہے جو اس افسوس ناک صورت حال کو بدل سکتا ہے۔اس لئے ہمیں پھر سے اسلامی نظم و نسق  (دار الاسلام) کی قرار داد اورایک انٹرنیشنل آرڈر کے اسلامی تصور پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اور مغربی تہذیب سے جنم لینے والے سیکولر حریف پر اس کی واضح برتری کو بیان کرنے کی ضرورت ہے۔

اور ہمیں یہ بھی اعتراف کرنا ہوگا ، جیسا کہ اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے، کہ جب تک حجاز میں سعودی وہابی اتحاد کا تسلط رہے گا اس وقت تک  خلافت کی بازیابی ناممکن ہے اور رہے گی۔اور جب تک حرمین اور حج کو خلافت کو  تخت و تاراج کرنے والوں سے آزادی نہیں ملے گی اس وقت تک مسلم اقتدار کی بازیابی ایک قصہ پارینہ ہے۔

حرمین اور حج کی آزادی اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب سعودی وہابی اتحاد ٹوٹ جائے۔اس بات کے امکانات ہیں کہ اتحاد زبردست دباؤ میں ہے اور اس کا انحطاط ممکن ہے۔بہت سے سعودی علماء  یا تو قید ہیں یا نظر بند ۔اس اتحاد کو اگر کوئی چیز توڑ سکتی ہے تو وہ ہے اسرائیل میں یہودی ریاست کی سعودی شناخت، لہذا اس امر سے ہمارے اس علمی کام کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جس کا عنوان ہے:‘مذہبِ ابراہیم اور اسرائیلی ریاست’،  جس میں ہم نے خالص مذہبی نقطہ نظر سے اسرائیل میں یہودی ریاست کے مسلمانوں پر اثرات کا تجزیہ کیا ہے-

کچھ باتیں مصنف کے بارے میں!

عمران نذر حسین ٹرینیڈاڈ ، ویسٹ انڈیز کے باشندہ ہیں- موصوف کے آباء و اجداد نے ہندوستان سے گرمٹیا مزدوروں کے طور پر ہجرت کی تھی۔ وہ 1942ء کو ٹرینیڈاڈ کیریبین جزائر میں پیدا ہوئے۔  انہوں نے معروف اسلامی اسکالر اور صوفی شیخ مولانا ڈاکٹر مولانا محمد فضل الرحمن انصاری سے جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی میں شرف تلمذ حاصل کیا-  علاوہ ازیں انہوں نے الازہر یونیورسٹی میں بھی ایک سال تعلیم حاصل کی- پھر انہوں نے فلسفہ میں  کراچی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویشن کیا، اور ویسٹ انڈیز کی یونیورسٹی سے انٹرنیشنل ریلیشنز(بین الاقوامی تعلقات) میں پوسٹ گریجویشن کیا اور مزید براں سوئٹزرلینڈ میں بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ 1971ء میں جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی سے گریجویشن کے بعد اسلام کی تبلیغ کےلئے دنیا بھر میں مسلسل اور بڑے پیمانے پر سفر کیا۔

شیخ عمران نذر حسین نے ٹرینیڈاڈ اینڈ  ٹوباگو کی حکومت کی وزارت خارجہ میں فارن سروس آفیسر کے طور پر کئی سال کے لئے کام کیا- تاہم انہوں نے اسلامی خدمات کے لئے اپنی زندگی وقف کردی اور 1985ء میں ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ 1988 تک  وہ اسلامک اسٹڈیز کے علیمیہ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل، ورلڈ مسلم کانگریس کراچی پاکستان کی تحقیق کے ڈائریکٹر، اسلامی درسیات کے انسٹی ٹیوٹ میامی میں اور فلوریڈا میں تحقیق کے ڈائریکٹر، شمالی امریکہ کی تنظیم اسلامی کے دعوتی شعبہ کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے علمی، تبلیغی، دینی اور سماجی خدمات انجام دیتے  رہے – بعد ازاں انہوں نے گریٹر نیویارک کی مسلم تنظیموں کی مشترکہ کمیٹی کے اسلامک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں، وہ تب دس سال کے لئے نیو یارک میں رہے۔  موصوف نے کئی امریکی اور کینیڈین یونیورسٹیوں، کالجوں، گرجا گھروں، کنیساؤں، جیلوں، کمیونٹی ہالز میں اسلامی موضوعات پر لیکچر دئیے اور امریکہ میں اسلام کی نمائندگی کرتے ہوئے بہت سے بین المذاہب مکالموں میں عیسائی اور یہودی علماء کے ساتھ شرکت کی۔ سن  1991 سے وہ لانگ آئلینڈ، نیو یارک میں مسجد دار القرآن میں کچھ وقت کے لئے پیش امام رہے۔ وہاں جمعہ نماز بھی پڑھاتے رہے اور مسلسل دس سال تک مین ہیٹن میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں ماہانہ خطاب کرتے رہے۔

موصوف اسلامی علوم، تقابل ادیان، اسلامی آخرت شناسی، بین الاقوامی تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، اور جدید سیاسی و سماجی و اقتصادی مسائل میں مہارت رکھنے والے ایک مایہ ناز  اسلامی سکالر، مفکر اور مصنف ہیں۔ تقابل ادیان کا ماہر اسکالر ہونے کی حیثیت سے شیخ عمران نذر حسین نے اسلام اور دیگر ادیان کے بارے میں ایک درجن سے زائد کتب لکھی ہیں- سن 1972  میں انہوں نے اس موضوع پر ایک گراں قدر تصنیف بعنوان: “جدید دنیا میں اسلام اور بدھ مت” رقم  کی- اسلام اور بین الاقوامی تعلقات کے موضوع پر ان کی کتابوں میں یہ تصنیفات شامل ہیں:

  • Diplomacy’ in Islam – An Analysis of the Treaty of Hudaibiyah
  • War and Peace in Islam’
  • Islam and the New World Order
  • The Prophet of Islam in Jerusalem
  • The Strategic Significance of the Isra and Miraj

علاوہ ازیں دیگر متعلقہ موضوعات پر ان کی تصنیفات میں یہ کتابیں بھی شامل ہیں، جو کہ 1991 میں  ‘Islam and the Changing World Order کے عنوان سے سنگاپور سے ایک ساتھ چھپی تھیں:

  • Dreams in Islam
  • From Makkah to Madina Once Again
  • Western Troops in Arabia – An Islamic View

ان کے علاوہ شیخ عمران نذر حسین کی متعدد دیگر تصنیفات بھی ہیں جن میں سے بعض انصاری میموریل سیریز کا حصہ ہیں- ان کی فہرست درج ذیل ہے:

  • جدید دور میں یاجوج ماجوج پر اسلامی نکتہ نظر
  • اسلام اور کرنسی کا مستقبل – سونے کے دینار اور چاندی درہم
  • جارج برنارڈ شا اور اسلامی عالم (جارج برنارڈ شااور اسلامی عالم)
  • خلافت، حجاز اور سعودی وہابی قومی ریاست
  • سورۃ الکھف اور جدید دور
  • سورہ کہف – عربی متن – ترجمہ اور جدید تفسیر
  • قرآن اور سنت میں سود کی حرمت
  • قرآن میں یروشلم

شیخ عمران نذر حسین اکثر اپنی کتابوں میں اپنے استاد ڈاکٹر مولانا محمد فضل الرحمن انصاری کا ذکر کرتے ہیں، جن سے انہوں نے جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی میں شرف تلمذ حاصل کیا تھا اور  جو جامعہ علیمیہ اسلامیہ کراچی کے بانی بھی  تھے۔

نوٹس

  1. Elie Kedourie کی کتاب: `The Fall of Madina – (مدینہ کا زوال، جنوری 1919)

(Islam in the Modern World, Holt Rinehart and Winston, NY. 1980 pp 277-96) کے ایک باب میں اس بات کی بخوبی وضاحت اور بہترین تجزیہ ہے کہ کس طرح بہادر عثمانی کمانڈر فخری پاشا نے جنوری 1919 تک مدینہ کا دفاع کیا- بعد میں انہوں نے اپنے ہی  کچھ فوجیوں سے دھوکہ کھایا تھا.

  1. اھل الذمة ان محفوظ غیر مسلم لوگوں کو کہا جاتا ہے جنہیں دار الاسلام میں قیام کرنے کی اجازت ہے- جزیہ ایک تادیبی ٹیکس ہے جو ان لوگوں پر قرآن کریم کی طرف سے عائد کیا گیا ہے جنہوں نے جہاد میں شکست کھائی ہو، اور جو اپنے سابقہ ​​علاقے میں رہائش پذیر ہونا چاہتے ہوں- تادیبی ٹیکس کی ادائیگی اس بات کی علامت ہے کہ وہ لوگ اس علاقے میں اسلام کی حکمرانی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں-

” اے ایمان والو! (جارِح اور دشمن) یہود اور نصاریٰ کو (اپنا قابل اعتماد) حلیف نہ سمجھو یہ آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان (جارِح اور دشمن یہود و نصاریٰ) کو (اپنا قابلِ اِعتماد) حلیف سمجھے گا تو بے شک وہ انہی میں سے ہو (جائے) گا۔ یقیناً اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا”(قرآن کریم 5:51)

Toynbee Ed., Survey of International Affairs, 1925.

( بین الاقوامی امور کا سروے ، 1925)

Cf. Bey, Rustom: “The Future of Islamism”, The 19th Century and After, Vol.xcxii, No 580 June 1925, pp 845-54

“اسلام کا مستقبل”، 19 ویں صدی میں اور اس کے بعد، اس کتاب میں ایک لبرل ترکی مفکر نے اچھی طرح سے اپنے ایک مدلل مضمون میں اس نقطہ کو بیان کیا ہے.

اس موضوع پر ایک دلچسپ بحث کا مطالعہ کرنے کے لئے دیکھیں  Toynbee کا بین الاقوامی امور کا سروے (Toynbee Ed., Survey of International Affairs, 1925. )  جلد 1، صفحہ 51-68، خاص طور پر صفحہ 55.

یہ بھی دیکھیں:

concluding chapter of Sylvia Haim in Arnold, T. The Caliphate. Revised Ed, Oxford Univ. Press, 1965 pp 205-44.

  (آرنلڈ ٹی کی کتاب “خلافت” میں سلویا ہائم کا اختتامی باب، نظر ثانی شدہ ایڈ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1965 صفحہ 205-44.)

Official Turkish Text in Qawanin Majmuasi 1924/1340, No 431, Ankara. Press of the Grand National Assembly of Turkey. English translation in Survey , Opcit, Appendix 11 (3) p 575

(قوانین مجمعاسی 1924/1340, No 431,، انقرہ. ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کا پریس. سروے کا اختیاری انگریزی ترجمہ، Opcit ، اپینڈکس 11 (3) صفحہ 575.).

According to Sunni Law the appointment of an Imam or Caliph is absolutely indispensable . . . Turkey`s ijtihad is that according to the spirit of Islam the Caliphate or Imamate can be vested in a body of persons, or an elected Assembly e.g., the Turkish Grand National Assembly or Parliament.

Personally I believe the Turkish view is perfectly sound.” Iqbal, M. The Reconstruction of Religious Thought in Islam. Oxford University Press London. 1934 Chap. vi “The Principle of Movement in the Structure of Islam p. 149.

“سنی فقہ کے مطابق ایک امام یا خلیفہ کی تقرری بالکل  ناگزیر ہے….ترکی کے علماء کا اجتھاد یہ ہے کہ اسلام کی روح کے مطابق خلافت یا امامت کو افراد کے مجموعہ کو تفویض کیا جا سکتا، یا کسی منتخب اسمبلی کو (جیسے، ترکی کی قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ).

ذاتی طور پر میں ترکی کے نقطہ نظر سے بالکل متفق ہوں. “محمد اقبال، اسلام میں مذہبی فکر کی تعمیر نو. آکسفورڈ یونیورسٹی پریس. لندن. 1934، باب 6، The Reconstruction of Religious Thought in Islam ، صفحہ. 149

9 .

اس گروپ کا مقصد اسلام کے  کلاسیکی ماڈل کے مطابق ایک مجازی الیکٹورل کالج قیام کرنا تھا- تاہم، اسلامی تاریخ میں ہمیشہ ہی یہ محض ایک نظریاتی ادارہ بنا رہا  اور اور اس نے فیصلہ سازی میں کوئی کردار نہیں ادا کیا-

10.

 یہ اعلامیہ آج کے دور کے تناظر میں انتہائی اہم ہے- آج جب کہ ایک مستند اسلامی نظام دوبارہ قائم کرنے کی جو کوششیں کی جا رہی ہیں اور  قیادت کے اسلامی نظام کی جو تفہیم مرکزی اسلامی دانشگاہ سے کی طرف سے کی جارہی ہے، اس میں واضح نقائص کو دکھایا گیا ہے-

مکمل سروے کا متن ، CIT.، اپینڈکس 111، صفحہ 576-8.

11 .

یہ تجویز یقینا اس قدر عجیب و غریب تھی کہ جارڈن کے چیف قاضی نے اس کی مذمت کی تھی اور اسے بدعت قرار دے دیا تھا اور یہ کہا تھا کہ یا امر قدیم مذہبی اصولوں کے برعکس تھا- سروے،CIT، صفحہ 84.

12.

When the Great National Assembly of Angora (Ankara) abolished the Ottoman Caliphate and when the Wahhabis drove the Hashimi dynasty out of the Hejaz, the general impulse in Islam was to deal with the situation by the modern Western method of convening an international conference and not by the traditional Islamic method of preaching a Holy War.” Survey, Op. cit., p 24

 “انگورا (انقرہ)  کی عظیم قومی اسمبلی نے جب خلافت عثمانیہ کو ختم کر دیا، اور جب وہابیوں نے حجاز سے ہاشمی بادشاہت کو باہر نکال دیا، اسلام میں ایک عام تصور یہ تھا کہ اس صورت حال سے نمٹنے کی لئے جدید مغربی طریقہ کو بروے کار لاتے ہوئے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے، نہ کہ روایتی اسلامی طریقہ سے ایک مقدس جنگ کی تبلیغ کی جائے “-

“سروے،CIT،  صفحہ 24.

13

سلویا ہائم کا دعوی ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت ہیں کہ یہ اجلاس بادشاہ فواد کی  منصوبہ بندی اور اس کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ تھا- کیوں کہ وہ خود خفیہ طور پر اپنے لئے خلافت حاصل کرنے کی امید رکھتا تھا- لیکن یہ ممکن نہیں تھا،  کیونکہ مصر میں اور مصر سے باہر اس کے خلاف اپوزیشن مضبوط تھی.

 سی ایف آرنلڈ، صفحہ 241-2.

اگرچہ یہ سچ ہو سکتا ہے ، لیکن عوام میں خلافت کے تیئں فواد کی عدم دلچسپی مشہور تھی- سعد زغلول، جو ان کے وزیر اعظم تھے، انہوں نے اس حوالے سے اپنی مکمل غیر جانبداری کو برقرار رکھا-

 14.

اس کانفرنس کے مکمل ریکارڈ کا فرانسیسی زبان میں لفظ بہ لفظ ترجمہ کیا گیا تھا اور A. Sekaly نے فرنچ جرنل “Revue du Monde Musulman” کے پہلے شمارہ میں 1926 میں پیرس سے اسے شائع کیا تھا-

یہی وہ متن ہے جسے مصنف نے یہاں استعمال کیا ہے-

15.

کمیٹی نے خلیفہ کے احکام پر عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا- وہ احکام یہ تھے: “خلیفہ قانونی فیصلے کرے،  قانونی پابندیاں عائد کرے، بندرگاہوں کو بند کرے، فوج وغیرہ کی تربیت کرے”- علاوہ ازیں کمیٹی نے اس سلسلے میں دو احادیث کو بیان کرنا کافی اہم سمجھا:

رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ “جو شخص اپنے زمانے کے خلیفہ کے بغیر مرا، وہ ایک کافر کی موت مرا؛ اور دوسری حدیث یہ ہے کہ “جو شخص بھی بغیر بیعت لیے ہوئے مرے گا وہ یقینا جاہلیت کی موت مرے گا”-

 ایضا. صفحہ 6-75.

 ایسا کرتے ہوئے کمیٹی نے معتزلہ کے خیالات کو مسترد کر دیا جو کہ خلافت کو ایک مصلحت پر مبنی امر سمجھتے تھے اور اسی طرح  خوارج کے موقف کا بھی رد کردیا جو یہ کہتے تھے کہ خلافت کی کوئی ضرورت نہیں-

 کمیٹی نے جامعہ الازہر سے فارغ التحصیل عالم دین  شیخ علی عبد الرازق کے قول کو بھی مسترد کر دیا، جنہوں نے اس حوالے سے اپنا ایک مقالہ  مصر میں شائع کروایا تھا- ان  کا کہنا تھا کہ اسلام میں خلافت کی کوئی ضرورت نہیں ہے- ان کے ان خیالات نے  مصر میں کافی ہلچل پیدا کر دی تھی-

17.

Revue, Op. cit. ، صفحہ 76-7-

18 .

وہ 1929 میں الازہر الشریف کے ناظم بنے تھے-

19 .

Revue, Op. cit. صفحہ 77-8

20 .

(قرآن کریم 5:48)

21 .

اس سلسلے میں الماوردی کی “الاحکام السلطانیہ”،  امام غزالی کی “احیاء علوم الدین” جیسی اہم اور معتبر کتابیں پیش کی جاتی ہیں، جو سند کا درجہ رکھتی ہیں-  اس ضمن میں علماء کے خیالات کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لئے یہ دیکھیں:

Arnold, T. Op. cit

22 .

پانچوے خلیفہ امیر معاویہ نے اپنے جانشین کے طور پر اپنے بیٹے یزید کو خلیفہ مقرر کیا – نبی کریم علیہ السلام کے پوتے امام حسین نے یزید کی خلافت کی دینی و قانونی حیثیت کو چیلنج کیا اور اس کے لئے اپنی جان کی بھی قربانی پیش کر دی- بعد کے مسلمانوں نے امام حسین کی مثال کی پیروی کی کوشش نہیں کی-

  1. Revue, Op. cit.. صفحہ 103

24 ایضا. صفحہ 108

. تیسری کمیٹی کی رپورٹ کے متن کو سروے  میں دیکھا  جا سکتا ہے-

Op. cit.. Appendix 4, pp 578-81

25 .

ایضا .. صفحہ 106

26.

 Revue, Op cit, p 106

27.

 Revue, Op. cit., p 106

28 .

ایضا .. صفحہ 107

29 .

اس پیراگراف کو اس حوالے میں  دیکھا جاسکتا ہے:

Revue, Op. cit., p 108, De ce qui procede

اوراس  سروے میں بھی:

Op. cit., p 580

30 . قرار داد کا متن یہاں دیکھا جا سکتا ہے:

Revue, Op. cit., p 1 18; Survey, Op. cit, pp 89-90

فاروقی، کمال:”Approaches to Muslim Unity” (“مسلم اتحاد کے نقطہاے نظر”)  Pakistan Horizonجلد  نمبر  2، صفحہ 3-12

اس مقالے میں انہوں نے “اسلامی آفاقیت” کو  خلافت اور اتحاد امّت  کے متبادل کے طور پر بیان کیا ہے- اس میں انہوں نے   مسلمانوں کے عام عقائد اور طرز عمل پرانحصار کیا ہے- تاہم، فاروقی صاحب نے اس  شفاف حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ خلافت کو مسلمانوں کے بنیادی عقائد اور عام معمولات سے بھی قانونی جواز فراہم ہے-

  1. فاروقی ، Op. cit., pp 3-12

33 . اہل سنت کے یہاں  چاروں فقہی مذاہب کو تسلیم کیا گیا ہے-

34 ایرانی اسلامی انقلاب کے آنے سے پہلے تک سعودی وہابی تمام اسلامی قومی ریاستوں کی حکومتوں سے اپنی  اس شناخت کو منوانے میں کامیاب تھے- تاہم، مسلم عوام کے درمیان اب بھی کافی حد تک ناراضگی موجود ہے.

35 .

Revue, Op. cit. p. 128

36 .

ایضا.

37 .

یاد رہے کہ بھارت کی خلافت تحریک  اپنے آپ میں ایک متناقص تحریک تھی، کیوں کہ ایک طرف تو اس نے یہ کہا کہ مئی میں قاہرہ کی خلافت کانگریس کا بائیکاٹ کرنا چاہئے، جب کہ دوسری طرف  جون میں مکہ کی ورلڈ مسلم کانگریس میں اس نے شرکت کی تھی- جب کہ اس کے ایجنڈے سے خلافت کے سوال کو خاص طور پر خارج کر دیا گیا.

 38 .

آج اگر وہ مضامین  شائع کر دیے جائیں تو لوگ انہیں بہت دلچسپی سے پڑھیں گے.

39.

 انگریزوں کے ساتھ حسین کے تعلقات پر ایک حوالہ.

40.

 Revue ، Op.. CIT .. صفحہ l28-l3l.

41.

 Revue ، Op.. CIT .. صفحہ 128-31

42

  Revue ، Op.. CIT ..

43 .

مثال کے طور پر کانفرنس نے  جدہ سے مکہ اور ینبوع  سے مدینہ کے لئے  دو ریلوے لائنز کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی تھی، جب کہ اس کے خلاف زبردست مذہبی اعتراضات تھے- کیوں کہ    ریلوے کی تعمیر ایک ایسے ملک میں ہونی تھی جس میں زندگی اونٹوں پر منحصر ہے. “

 Revue ، Op.. صفحہ CIT .. p.193.

44 .

قرار داد کی عبارت Revue میں ہے. CIT .. صفحہ 207-8. مصر، ترکی اور افغانستان ووٹ میں شرکت کرنے سے دور رہے.

45 Toynbee کے مطابق:

One of the effects of the war of 1914-18 was to eliminate the Turks from”

Arabia and to extend the British sphere of influence over the whole peninsula”

(Survey, Op. cit.. p 272)

یعنی 1914-18 ء کے جنگ کے اثرات میں سے ایک امر ترکوں کو  عرب سے ختم کرنا اور پورے جزیرہ نما پر برطانوی اثر و رسوخ کی توسیع کرنا تھا-

 (سروے، Op. صفحہ CIT 272)

لیکن یہ نوٹ کرنا بہت ضروری ہے کہ انگریزوں کی اس منفرد اور یادگار کامیابی میں جس میں نبی علیہ السلام کی حدیث سے تیرہ سو سال میں پہلی بار سمجھوتہ کیا گیا تھا، اس میں برطانوی حکومت کی مدد حسین اور ابن سعود دونوں کر رہے تھے.

درحقیقت دونوں نے برطانیہ سے اپنی خدمات کے لئے ایک قیمت لی تھی. حسین کی عرب فورسز اصل میں ترکوں کے خلاف برطانوی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی تھیں.

اس جدوجہد میں ابن سعود کی مہربان غیرجانبداری نے  برطانیہ کی کامیابی کے امکانات کو  بڑھا دیا تھا.  1920 میں جب حسین کی ماہانہ تنخواہ انگریزوں نے روک دی تھی، تب تک انہوں  نے اپنے پاس تقریبا چھ ملین پونڈ وصول کر لئے تھے-

 اسی برطانوی حکومت کی طرف سے موصول ہونے والے  350,000 پونڈ کو جو ایک ماہ کی شرح سے  5000 پاؤنڈ تھے، ابن سعود نے نہایت چالاکی اور شاطرانہ طور پر اسے اسلامی جزیہ کہ کر اس کی وضاحت کی تھی-

Survey, Op. cit. p. 273))

یہ برطانیہ (Transjordan میں مینڈیٹ طاقت) جس سے Maan اور عقبہ پر قبضہ کر لیا تھا

  1. میں Transjordan سابق بادشاہ حسین الحاق ROM احتجاج کیا اگرچہ

قبرص اور ابن سعود میں اپنی جلاوطنی ایک کو اپنانے کے لئے ورلڈ مسلم کانگریس منتقل کر دیا گیا

الحاق کے خلاف احتجاج کی قرارداد، برطانوی کارروائی واضح طور پر تھا ایک لڑائی accompli.

یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ اگر حسین اور ابن سعود کی طرف سے رسول اللہ علیہ السلام  کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہوتی اور عثمانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش نہ ہوتی تو بالفور اعلامیے کو پورا نہیں  کیا جا سکتا تھا- اور صیہونی ریاست کے لئے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ مسلمانوں کی سرزمین فلسطین میں قائم کی جاتی-

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ اگر عقبہ حجاز کے کنٹرول میں رہا ہوتا، تو موجودہ مشرق وسطی کے تنازعہ میں سعودی عرب صف اول کی ریاست کی حیثیت کا حامل ہوتا- تاریخ ایک نہ ایک دن یہ بات ضرور ثابت کر دے گی کہ  معان اور عقبہ کے برطانوی الحاق کے پیچھے اہم وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ اسلام کے مستحکم قلبی مرکز اور فلسطین میں یہودی نیشنل ہوم دونوں کے درمیان ایک بفر زون قائم کیا جاۓ- اس کا ذکر بالفور اعلامیہ میں تھا- یہ امر واضح ہونا چاہئے کہ حجاز (جو کہ اب سعودی عرب کا حصہ ہے) اور فلسطین میں یہودی نیشنل ہوم ( جو اب اسرائیل کی ریاست ہے) دونوں کے درمیان  براہ راست محاذ آرائی اسلامی جذبات کو بےقابو کردے گی- یہ ایک ایسی چیز ہے جو اب بھی صیہونی ریاست کی بقا کے لیے سنگین خطرہ کی طرح ہے-

46 .

یہ  کہنا غلط ہے ( جیسا کہ کراچی کی ورلڈ مسلم کانگریس اب کہ رہی ہے) کہ 1931 میں یروشلم میں منعقد اسلامی کانفرنس ورلڈ مسلم کانگریس کا دوسرے سیشن تھا  (پہلا سیشن 1926 میں مکہ مکرمہ میں منعقد ہوا تھا). اولا یروشلم کانگریس نے ورلڈ مسلم کانگریس سے مختلف اپنے  لئے ایک نام کا انتخاب کیا. پہلے اس کا نام “المؤتمر الإسلامي العام” (General Islamic Conference) رکھا گیا تھا- دوم یہ کہ اس کانگریس نے ورلڈ مسلم کانگریس کے قانون سے مختلف اپنا ایک قانون منظور کر لیا –

47.

 در اصل محمد علی جوہر کا انتقال لندن میں ہو گیا تھا جہاں وہ اس وقت بھارت کے بارے میں ایک گول میز کانفرنس میں شرکت کر رہے تھے- فلسطینیوں نے انہیں حرم الشریف میں دفن کرنے کے لئے احتجاج کیا تھا، جزوی طور پر ان کی عظمت اور خدمات کے اعتراف میں اور اس وجہ سے بھی تاکہ وہ صیہونیت اور برطانوی اقتدار کے خلاف  اپنی جدوجہد میں بھارت کی حمایت زیادہ سے زیادہ حاصل کر سکیں-

48 .

27 رجب، مسجد اقصی اور Wailing Wall (نوحہ خوانی کی دیوار) کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے-

ایک ایسا رشتہ جو عالم اسلام میں بہت طاقتور جذبات پیدا کر سکتا ہے. اس کی وضاحت مندرجہ ذیل ہے:

قرآن کریم کی سترہویں سورت بنی اسرائیل  کی شروعات ایک ایسی آیت سے ہوئی ہے جس میں مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصی (یروشلم) تک رسول اللہ کے معراج کے معجزہ کا بیان ہے- اس سفر معراج میں حضور علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے کچھ “نشانیاں” عطا کی گئیں-

حدیث کی کتابوں کے مطابق حضور علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی جماعت کی امامت فرمائی جس میں تمام انبیاء شریک ہوئے. اس کے  بعد آپ کو آسمانوں کی طرف لے جایا گیا- اور پھر آپ کو اللہ پاک کے خاص جلوہ کا مشاہدہ حاصل ہوا- دیوار نوحہ (Wailing Wall ) یا مغربی دیوار  (Western Wall) حرم شریف ہی کا ایک حصہ ہے جس میں مسجد اقصی ہے اور اسی  کے ساتھ ساتھ وہ متعین جگہ بھی ہے جہاں سے نبی علیہ السلام کے آسمانی سفر کی شروعات ہو تھی-

حضور علیہ السلام کے سفر معراج  کو عام طور پر 27ویں رجب کو خیال کیا جاتا ہے (مشکات المصابیح)- انگریزی ترجمہ از قلم: جیمز رابسن، لاہور، شیخ محمد اشرف،l975، vol.2، ch 23، book 26، page l264-70.

49 .

Gibb, H.A.R., “The Islamic Conference in Jerusalem in December 1931.” Survey

of International Affairs, London, Oxford University Press, 1935. p. 103

(گب، H.A.R.، ” دسمبر l93l میں یروشلم کا اسلامی کانفرنس.” سروے بین الاقوامی امور، لندن، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1935. صفحہ 103.)

50 .

Nielsen, A. “The Islamic Conference at Jerusalem.” The Muslim World,

October 1932, vol 22 p 348.

نیلسن، A. “یروشلیم میں اسلامی کانفرنس.” مسلم دنیا،

اکتوبر 1932، ج 22 ص 348.

51

مصر کے بادشاہ فواد، خاص طور پر، ان افواہوں کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے کہ خلافت کے سوال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور کسی خلیفہ کو مقرر کیا جائے گا- یہاں تک کہ  مفتی اعظم کو خود قاہرہ کا دورہ کرنا پڑا اور زبانی اور تحریری دونوں طرح یقین دہانی کرانی پڑی کہ خلافت کے سوال پر تبادلہ خیال نہیں کیا جائے گا. دوسری طرف مولانا شوکت علی کے لئے خلافت کا کوئی سوال ہی نہیں تھا کیوں کہ ان کے نزدیک خلیفہ عبدالمجید کی خلافت برقرار تھی-

(Arnold, T. Op. cit. pp. 241-4)

52

اسلامی نظام کے مطابق دن کی شروعات غروب آفتاب سے ہوتی ہے اور پھرغروب کے اگلے وقت ہی دن  ختم ہو جاتا ہے- اس لحاظ سے رجب کی 27ویں تاریخ  (یعنی شب معراج) 6 دسمبر کو غروب آفتاب سے پہلے تک شروع نہیں ہوئی-

1953 میں یروشلم کانگریس دوبارہ منعقد کیا گیا تھا اور علاوہ ازیں تین کانفرنسیں 1953، 1956 اور 1960 میں منعقد کی گئی تھیں-

53

)Gibb, H.A.R., Op. cit.. p. 105(

اس کی ایک تو وجہ یہ تھی کہ یروشلم کانگریس کے صدر، حاجی امین امام حسینی ورلڈ مسلم کانگریس کے بھی صدر بن گئے. انہوں نے  مؤخر الذکر تنظیم کے ساتھ منظم ہوکر کام کرنے کو ترجیح دی کیوں کہ اسے پاکستان کی سیاسی حمایت حاصل تھی اور مزید یہ کہ اسے سعودی حکومت کی مالی اعانت بھی ملتی تھی-

54

Gibb, Op. cit., p 102

55

Nielsen, Op. cit. p. 353

56

ایضا ..

57

Nielsen, Op. cit. p 353

58

فلسطین سے منسلک رپورٹ کا مکمل متن (مغربی دور یا دیوار نوحہ) کونسل 1931 کے آرڈر کے لئے شیڈول 1 اور 2 دیکھیں.

H M Stationery Office, London. 1932. pp. 462-6

59

 یہ رویہ مزید ٹھوس طریقہ سے  1948-1967 کے دوران ظاہر کیا گیا تھا، جب مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں تھا. ان دنوں یہودیوں کو  دیوار نوحہ پر دعا کرنے سے منع کیا گیا تھا-

 60

 “عرب ممالک ایک مکمل اور ناقابل تقسیم مجموعہ ہے- اور اس میں جو کچھ تقسیم نظر آرہی ہے وہ عرب قوم کے نزدیک نہ تو منظور شدہ ہے اور نہ ہی  تسلیم شدہ ہے… “گب Op. cit. p. 107 fn.

61 سی ایف. مرموسرسٹین، ایمائل: “Religious Opposition to Nationalism in the Middle

East.”  (مشرق وسطیٰ میں قوم پرستی کی مذہبی مخالفت) “International Affairs” (بین الاقوامی امور) جولائی 1952، صفحہ 344-357.

62

یہودی عالم پروفیسر یعقوب ڈی ہان  قدامت پسند یہودیوں میں سے تھے- انہیں صیہونیوں نے اس وجہ سے قتل کر دیا کیوں کہ انہوں نے صہیونیت کی سخت مذمت کی تھی- بیسویں دہائی کے اوائل میں انہوں نے اپنے ایک اہم انٹرویو میں درج ذیل الفاظ میں اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کی تھی:

” کیا آپ کو لگتا ہے کہ تاریخ محض حادثات کا ایک سلسلہ ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا… صیہونیوں کی جماعت اس روحانی اندھے پن کا شکار ہے جو ہمارے خاتمے کی اصل وجہ ہے- دو ہزار سال تک جلاوطنی اور مصیبت کے ایام سے ان یہودیوں نے کچھ بھی نہیں سیکھا. ہمارے رنج و الم  کی اندرونی وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کرنے کے بجائے وہ لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور مغربی طاقتوں کی طرف سے فراہم کی گئی بنیادوں پر ایک ‘نیشنل ہوم’ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- اور اپنے’نیشنل ہوم’ کی عمارت تعمیر کے عمل میں وہ ایک جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اوردوسرے لوگوں کو ان کے گھر سے محروم کر رہے ہیں. “اسد، محمد، Road to Mecca (مکہ کی راہ). صفحہ. 98-9.

63

“اے ایمان والو! (جارِح اور دشمن) یہود اور نصاریٰ کو (اپنا قابل اعتماد) حلیف نہ سمجھو یہ آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان (جارِح اور دشمن یہود و نصاریٰ) کو (اپنا قابلِ اِعتماد) حلیف سمجھے گا تو بے شک وہ انہی میں سے ہو (جائے) گا۔ یقیناً اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا” (قرآن کریم 5:51)

64

مشرق قریب اور بھارت. 24 دسمبر، 1931. P 687

65

شوکت علی کمیٹی کی تشکیل سے ناخوش تھا اور اس نے اس کی خدمت پر مامور ہونے سے انکار کر دیا- حاج امین نے اپنی اکثریت کا استعمال کرکے اپنے مخالفین کو خارج کر دیا تھا  جن میں بہت سے صلاحیت مند افراد تھے-

66

ایگزیکٹو کمیٹی نے کامیابی کے ساتھ سعودی عرب اور یمن کے درمیان سات ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کیا- بالآخرایک معاہدہ ہوا اور اس میں جنگ کے خاتمے پر دستخط کئے گئے.

67

عبداللہ یوسف علی ایک باصلاحیت ادیب تھا. قرآن پاک کا انگریزی ترجمہ اس کا شاندار ادبی کارنامہ ہے. لیکن انہوں نے قرآن کی تفہیم میں کسی حد تک بھولے پن سے کام لیا ہے- قرآن کریم کی سیاسی اور اقتصادی رہنمائی سے انہوں نے بخوبی استفادہ نہیں کیا- برطانوی حکومت کے ساتھ اس کی اٹوٹ وفاداری نے اس کو اسلام کی ایک بنیادی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر رکھا- اور وہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے اسلام کو ایک کامل مذہب بنا کر بھیجا ہے جس کا غلبہ اور اثر نجی اور عوامی زندگی دونوں پر قائم ہونا ضروری ہے. مزید یہ کہ انہوں نے سود کے اسلامی مسائل کو بخوبی نہیں سمجھا- لہذا انہوں نے بینک سے ملنے والے انٹرسٹ کو سود تسلیم کرنے سے انکار کر دیا.

ملاحظہ کریں: ایم . اے.  شریف کی لکھی ہوئی عبداللہ یوسف علی کی شاندار سوانح بعنوان:

‘Searching for Solace’    (تسکین کی تلاش)

Islamic Book Trust. Kuala Lumpur. 1994. [Islamic Book Trust, 3 Lorang 1A/71G, Jalan Carey, 46000 Petaling Jaya, Malaysia]

 

Check Also

The ideological encounter of Islamic violent Extremism on Sufism

for www.WordForPeace.com N.Muhammed Khaleel Email: mhdkhaleelaky@gmail.com   In the Muslim discourse on terrorism, for a …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *