After the Independence of India ہندوستان کی آزادی کے بعد

By Aaley Rasool Ahmad

یہ ہندوستان خواجہ کا ہے ، خواجہ کے فیضان کا ہے آپ تصور کریں اس ملک میں 80 فیصد سنی مسلمان ہیں لیکن حقائق دیکھیں آپ ، ہندوستان ہمارا ملک ہے ، ہمارا محبوب ملک ہے اس ملک کی آزادی کے لئے سنی علماء و مشائخ نے بڑی عظیم قربانیاں دی ہیں ۔ اگر ان کی فہرست آپ سب کی سماعت کے حوالے کروں تو بہت طویل فہرست ہے ، لیکن بھارت کے اتہاس میں آزادی کی جنگ میں ان سنی علماء کویاد کیا گیا ہے:
سب سے پہلے سنی خانقاہیں صوفی سنی عالم دین  حضرت علامہ فضل حق خیرآبادی  الحنفی نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا  فتویٰ دیا ، حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی، بہادر شاہ ظفر، مولانا کفایت علی کافی ، مفتی عنایت احمد کاکوروی، علامہ رضا علی خان بریلی ، مولانا محمد علی جوہر  کانپوری، مولانا شوکت علی رامپوری، مفتی ریاست علی شاہ جہاں پوری، علامہ سید احمد سعیدی، حضرت مولانا حسرف موہانی، مولانا رحمت اللہ کیرانوی ، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا ڈاکٹر وزیر خاں اکبر آبادی ، مولانا وہاج الدین مراد آبادی ، مولانا رضا علی خاں بریلوی ، اعلی حضرت اشرفی میاں کچھوچھوی، مولانا امام بخش صہبائی دہلوی ، مفتی مظہر کریم دریابادی، حکیم سعید اللہ قادری، علامہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی، مولانا عبدالحق خیرآبادی، صدرالدین آزردہ دہلوی، حسرف موہانی، احمداللہ مدراسی، استاذزمن حسن رضا خان بریلی، مولانا لطف اللہ علی گڑھی ، مولانا ہدایت اللہ ، مولانا حیرت اللہ شعرانی، علامہ نعیم الدین مرادآبادی اشرفی  وغیرہ  صاحبان یہ وہ مقتدر علمائے کرام و مشائخ عظام  ہیں، جنہوں نے ہندوستان کی آزادی میں نمایاں کام انجام دیئے ہیں،اس ملک عزیز سے انگریزوں کو نکالنے میں اپنا لہو تک بہایا ہےاور اس ملک کو آزاد کرایا ہے، سنی مسلمانوں کا اس بھارت کی آزادی میں بہت بڑا حصہ رہا ہے۔
انگریز بھارت سے چلے گئے، بھارت میں اپنی سرکاریں بن گئی، ہمارے علمائے جو درسگاہوں سے نکلے تھے وہ درسگاہوں میں چلے گئے، جو مشائخ خانقاہوں سے نکلے تھے وہ خانقاہوں میں چلے گئے ، ایک طبقہ نے اس موقع کو غنیمت جان کر سیاست کے سارے عہدہ پر اپنا قبضہ جمانا شروع کردیا ۔ یہ مخصوص 13 فیصد وہابی طبقہ سیاست دانوں میں اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ گیا ، ہمارے علماء و مشائخ بڑے صالح ہیں نیک دل ہیں خلوص ہوتا ہے ، خدمت دین کا جذبہ ان کے دلوں میں ہوتاہے، وہ سیاست کو شجرۂممنوعہ سمجھ کر اپنی خانقاہوں میں بیٹھ گئے، میدان کو خالی دیکھا ان 13 فیصد وہابی طبقے نے اقتدار کی کرسیوں پر قبضہ کرلیا۔ ہمارے علماء دیکھتے تو رہے ، مشائخ محسوس تو کررہے تھے لیکن اپنے کاموں میں مشغول ہوگئے، کوئی درسگاہ سے باہر نہ آیا،کوئی خانقاہ سے باہر نہ نکلا، دل میں دکھ تھا ، درد تھا ، پریشان تھے لیکن نکلے نہیں، جب انہوں نے ہر طرح مضبوطی حاصل کرلی اور دربارِ اقتدار کا قرب حاصل کرلیا، مسلم مائنارٹیز کو مرکزی حکومت وریاستی حکومتوں نے جو ضرورتیں فراہم کرائیں اور ان کی فراہمی کے لئے شعبے بنائے ، ان سارے شعبوں پر ان کا تسلط ہوگیا پھر بھی ہم کچھ نہ بولے، پھر بھی علماء درسگاہوں میں رہے، مشائخ خانقاہوں میں رہے، ان کا پروگرام آگے بڑھتا چلا گیا۔
ایک وقت آیا کہ اوقاف کی جائداد یں جس کی حفاظت کے لئے وقف بورڈ  بھارت سرکارنے بنایا۔ حکومت نے صرف دو بورڈ بنائے: سنی وقف بورد اور شیعہ وقف بورڈ،
شیعہ حضرات کی اپنی یونٹی و اتحاد کی وجہ سےاپنے نظم و ضبط کی وجہ سے آج تک شیعہ وقف بورڈ میں کوئی غیر شیعہ داخل نہ ہوسکا۔ لیکن سنی وقف بورڈ آج ایک ایسا وقف بورڈ بن گیا ہے جہاں چپراسی سے لے کر چیئر مین تک ایک بھی سنی نہیں۔
یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ سنی وقف بورڈ ہمارا تھا لیکن ہمیں کہیں نمائندگی نہیں دی گئی، چپراسی تک سنی نہیں ہے۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ آل انڈیاعلماء و مشائخ بورڈ  میں ہماری قوم کے اکابر حضرات کی آمد سے ہمیں وہ برکتیں ملتی ہیں کہ ہم نے جو آواز اٹھائی ہے ، ان شاء اللہ تعالیٰ  ہم اپنا حقوق کو حاصل کرکے رہیں گے۔
تو آئیے ہم بھی  آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ میں اپنی  رکنیت حاصل کریں اور مظبوط و مستحکم بنائیں۔
الداعی: آل رسول احمد کٹیہاری
آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ لکھنؤ
موبائل : 7317380929

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *