Ahl-e-Hadith Anti-Terror Fatwa: Indian Salafis’ Outcry Against The Daesh کیا داعش کے خلاف ہندوستان کے سلفی علماء کا فتویٰ مؤثر ثابت ہو گا ؟

WordForPeace.com

غلام رسول دہلوی

مسجد نبوی کے امام شیخ ابراہیم الترکی نے ہندوستانی مسلم نوجوانوں کو دینِ امن و محبت کے طور پر اسلام کی پیروی کرنے اور ہر حالت میں تشدد سےباز رہنے کی تلقین کی ہے۔ نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امن و محبت کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: “مسلم نوجوانوں کو موجودہ حالات میں محتاط رہنا چاہئے۔ اسلامی تہذیب دیگر تہذيبوں کے ساتھ تصادم کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ بلکہ اسلامی تہذیب پوری انسانیت کے تحفظ کی بات کرتی ہے”۔ اس موقع پر وہ 34 ویں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کے پہلے دن کے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے، جس کا عنوان تھا “قیامِ امنِ عالم وتحفظ انسانیت”۔ مزکزی جمعیت اہل حدیث ہند ہندوستان میں سلفی مسلمانوں کی سب سے زیادہ سرگرم عمل تنظیم ہے۔

اس موقع پر مدینہ کی مسجد نبوی کے امام نے نماز جمعہ کی امامت کی۔ جمعہ کے اپنے خطے میں انہوں نے یہ دعا کی: “اللہ تعالی اس ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنائے اور اس کے باشندوں کو جملہ آفات و مصائب سے محفوظ و مامون رکھے!” اپنے خطبہ میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ: “دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی اسلام تلوار کے بجائے اپنی اخلاقی و معنوی خوبیوں کی وجہ سے پھیلا ہے۔ اسلام نہ صرف یہ کہ انسانوں کے حفاظت کی بات کرتا ہے بلکہ تمام مخلوقات کی حفاظت کی ضمانت بھی دیتا ہے۔’’ رپورٹ اردو روزنامہ انقلاب ۔

اس کانفرنس اور جمعیت اہل حدیث کے صدر مولانا اصغر علی مہدی سلفی نے کہا: “مذہب کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف نزاع اور نفرت آج انسانیت کے لئے بڑی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ عہد حاضر کا سب سے بڑا چیلنج عالمی امن اور انسانیت کی سلامتی کے لئے آواز اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو امن کا پیغامبر بننا چاہئے اور انہیں سماج مخالف عناصر کا شکار نہیں بننا چاہیے۔ “

واضح ہے کہ مولانا سلفی کے مطابق جمعیت اہل حدیث نے اس دو روزہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد دہشت گردی کی لعنت کا سد باب کرنے اور قومی سالمیت ، یکجہتی ، بھائی چارگی اور استحکام کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا تھا۔ “دہشت گردی” کے خلاف جمعیت اہل حدیث کے فتوی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جمعیت نے سب سے پہلے دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جاری کیا تھا اور یہ کانفرنس امن کے پیغام کو عام کرنے اور “لوگوں کے سامنے سماجی ہم آہنگی اور اخوت کو تباہ کرنے کے لئے سرگرم عمل داعش اور اس جیسی تنظیموں کی گہری سازش کو بےنقاب کرنے میں معاون ثابت ہوگا”۔

لیکن بہت سے لوگوں کے لئے یہ واقعہ حیران کن ہے۔ وہ اس بات سے حیران ہیں کہ کس طرح ہندوستان میں ان اہل حدیثوں نے داعش کی ‘‘دہشت گردانہ حکمت عملی’’ کے خلاف آواز بلند کی جو خود انتہائی قدامت پرست سلفی اسلام کی پیروی کرتے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں دہشت گردی کے خلاف ایک اجتماعی فتویٰ جاری کیا گیا جس کی تائید و توثیق نئی دہلی کی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند 40 سینئر علماء نے کی ہے۔ دراصل دہشت گردی کے خلاف اہل حدیث کے اس فتوے میں درج ذیل سوال کا جواب پیش کیا گیا ہے:

“کیا نام نہاد خلافت کے نام پرداعش یااس جیسی تنظیموںکے ذریعہ ملک کے امن و قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنا، چوک چوراہوں اورشارع عام پربم باری ودھماکہ کرنا،سر کاری وشخصی املاک اور فوجی تنصیبات کوتباہ کرنا،جہازوں کوہائی جیک کرنا، سیاحوں ، صحافیوں اورغیرملکی ملازمین اورنرسوں کو بندھک بنانا،یاقتل کردینا، پردہ نہ کرنے والی خواتین،تعلیمی اداروں ،اخبارات اور نیوز چینلوں کے دفاتراور سفارت خانوں پر حملہ کرنا، عوام کو حکومت کے خلاف ورغلانا اور ملک کے امن وامان کو غارت کرنے کی کوشش کرنا از روئے شرع درست ہے؟ “

مذکورہ بالاسوال کا ایک اجتماعی جواب جمعیت اہل حدیث ہند کے چوٹی کے علماء اور مفتیوں نے تیار کیا ہے جو ان کی اپنی آفشیل ویب سائٹ پر موجود ہے۔

http://ahlehadees.org/headquarter-activities/item/248-the-collective-fatwa-against-daish-and-those-of-its-ilk-issued-by-markazi-jamiat-ahle-hadees-hind.html

ذیل میں اس فتویٰ کی تلخیص پیش کی جاتی ہے:

‘‘اسلامی نظام عدل کے اندر ہر گز اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ ایک شخص کی غلطی کا انتقام دوسرے سے لیا جائے (سورہ انعام: ۴۶۱)۔ اسلامی حکومت میں رہنے والے غیر مسلموں کو مامون و محفوظ رکھنا حکومت اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہی۔ ان کو ناحق قتل کرنے والے کو جنت کی ہوا بھی نہیں لگے گی (صحیح بخاری)۔ اسی طرح حالت جنگ سے باہر رہنے والے کفار سے بھی کوئی تعرض نہیں کیا جاسکتا ۔ امام ابن قدامہ فرماتے ہیں: ائمہ اسلام کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ قتل ناحق حرام ہے۔ امام ابن تیمیہ اور امام نووی فرماتے ہیں: سب سے بڑا گناہ کفر و شرک ہے اور اس کے معا بعد قتل ناحق کا درجہ ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: جب جانوروں کو ناحق قتل کرنا جائز نہیں ہے تو انسان کو ناحق قتل کرنا کیسے جائز ہوسکتا ہی (فتح الباری)۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہلاکت کا گڈھا جہاں گرنے کے بعد باہر نکلنا ناممکن ہے وہ بلا استحقاق خوں ریزی ہے۔

اس لیے بعض تنظیموں کے ذریعہ ملک کے امن و قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کرنا، چوک چوراہوں اورشارع عام پربم باری ودھماکہ کرنا،سر کاری وشخصی املاک اور فوجی تنصیبات کوتباہ کرنا،جہازوں کوہائی جیک کرنا، سیاحوں ، صحافیوں اورغیرملکی ملازمین اورنرسوں کو بندھک بنانا،یاقتل کردینا، پردہ نہ کرنے والی خواتین،تعلیمی اداروں ،اخبارات اور نیوز چینلوں کے دفاتراور سفارت خانوں پر حملہ کرنا، عوام کو حکومت کے خلاف ورغلانا اور ملک کے امن وامان کو غارت کرنے کی کوشش کرنااز روئے شرع درست نہیں ہی۔ شریعت میں بھلائی کا حکم دینے اور منکر کا انکار کرنے کے لیے شروط و ضوابط ہیں اور ہر کس و ناکس اس کی تنفیذ کا مکلف نہیں ہے اور شریعت نے ہر شخص کے لیے تمام معاملات کی طرح حدود کار متعین کی ہے جن کا لحاظ نہ رکھنے کی وجہ سے فتنہ وفساد برپا ہوتا ہے اور خونریزی و بد امنی پیدا ہوتی ہی۔’’

موجودہ خلاف اسلامیہ پر اہل حدیث موقف کو اجاگر کرتے ہوئے اس فتویٰ کا کہنا ہے کہ ‘‘اسلامی خلافت کے کچھ اصول وشرائط ہیں جن کی پابندی کے بغیر نہ کوئی خلیفۃ المسلمین بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی کے لیے جائز ہے کہ ایسے ظالم و جابر کے لیے امیر المومنین جیسے بھاری بھرکم لفظ استعمال کری۔’’ اس فتویٰ میں حرم کے مفتی اعظم اور سعودی سپریم علماء کونسل کے صدر شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ ، شیخ عبدالمحسن بن حماد العباد اور شیخ محمد المنجد سمیت ، واضح انداز میں داعش کے حمایتیوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور عہد جدید کے خارجی قرار دینے والے سعودی عرب کے ان دیگر ترقی پسند سلفی فقہاء کے حوالوں سے جمعیت اہل حدیث نے داعش کی خود ساختہ خلافت پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے، ‘‘ماضی قدیم میں بھی ان کے قصور علم وفہم سے اسلام کی قبا چاک ہوئی اور جسے یہ لوگ جہاد کہہ رہے ہیں وہ ایک فتنہ اور دہشت گردی ہے ۔کیونکہ جہاد کے کچھ اصول وشرائط ہیں جن کی ان کے پاس کوئی رعایت نہیں ہے اور نہ وہ اس کے مجازہیں۔’’

پریشان کن زمینی حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اس فتویٰ میں ہندوستانی سلفی علماء کا کہنا ہے کہ “داعش اور اس جیسی تنظیمیں جو حرکتیں کررہی ہیں ان کی خبریں سن کر اور تصویریں دیکھ کر انسانیت چیخ اٹھتی ہے …….. اور ان تمام کا ارتکاب خلافت کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کے نام پر کیا جارہا ہے …………افسوس کا مقام ہے کہ کچھ سادہ لوح حضرات ان جرائم کو مظلوم انسانوں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا رد عمل سے تعبیر کرتے ہیں جو یقینا علم و فکر کی کوتاہی ہے………… دین اسلام میں کسی کے گناہ کا بدلہ دوسرے معصوم انسانوں کی ہلاکت وتباہی سے لینا جائز نہیں ہے………. لہذا ایسی تنظیمیں دہشت گرد ہیں اور لائق مذمت ہیں اور ان کی حمات کرنا اور ان کا کسی حیثیت سے تعاون کرنا شرعا حرام ہے ۔ امت مسلمہ کے باشعور افراد کا یہ دینی واخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ان کے خطرات سے دنیا کو آگاہ کریں اور مسلم نوجوانوں کو ان کی تائید و تشجیع اور مادی و معنوی حمایت سے بچا نے کی کوشش کریں۔ “

بظاہر اجتماعی فتوے کے یہ نکات اچھے معلوم ہوتے ہیں اور ان سے اس بات کا اشارہ بھی ملتا ہے کہ ہندوستان میں سلفی علماء اور مفتیان بھی اسلام پر گفتگو کرتے ہوئے اعتدال پسندی اور ہمہ گیریت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ فتویٰ عالمی جہادیت کی فقہی بنیادوں کو چیلنج کرنے میں ناکام رہا ہے جو کہ السلفیہ الجہادیہ کی ایک شاخ ہے۔

اگر چہ داعش کے خلاف یہ سلفی فتویٰ موجودہ خلافت اسلامیہ کو ‘غیر قانونی’، ‘خود ساختہ’ اور ‘غیر اسلامی’ قرار دیتا ہے، لیکن یہ اسلامی خلافت کے اس قرون وسطی کے تصور کو سوالات کے گھیرے میں لانے میں ناکام رہا ہے ، جوکہ آج 21 ویں صدی میں تکثیریت پسند معاشرے میں رہنے والے مسلمانوں کے لئے غیر افادیت بخش اور مہلک ہے۔ اس فتویٰ کے اندر واضح الفاظ میں یہ بیان کیا جانا چاہیے تھا کہ کسی بھی خطہ سرزمین پر خلافت اسلامیہ قائم کرنے یا اس کے دوبارہ اجراء کا کوئی بھی مطالبہ کسی بھی قیمت پر قطعی قابل قبول نہیں ہے۔

لیکن پریشان کن بات یہ ہے کہ ریاست اسلامیہ کا قرون وسطی کا تصور آج بھی قومی ریاست کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ دنیا بھر میں آج بھی سیدھے سادھے مسلمانوں کے ایک طبقے کے اندر انتہا پسندی کا زہر گھول رہا ہے۔ انتہاپسند اسلام پرست تنظیمیں اب بھی ان ممالک میں بھی ‘‘امت اسٹیٹ’’ ، ‘‘شریعت زون’’ اور ‘‘خلافت رُول’’ جیسے خیالی نظریات پر زور دیتے ہیں جہاں مسلمان اقلیت ، غیریب و نادار اور کم تعلیم یافتہ ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان میں سے بعض ایسے مذہبی بیان بازیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں قومی ریاست، جمہوریت، تکثیریت، صنفی حقوق اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کی مذمت ہوتی ہے ، جبکہ وہ خود اقلیت ہیں اور ہر قسم کی آزادی اور مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ داعش کے نظریہ ساز ہندوستان کو ایک ‘گمشدہ اسلامی ریاست’ تصور کرتے ہیں، جنہوں نے اپنے ترجمان ‘دابق’ اور ‘رومیہ’ میں لکھا ہے کہ کس طرح ہندوستان میں بالعموم اور کشمیر میں بالخصوص ‘اسلام کے اس کھوئے ہوئے جلال’ کو دوبارہ حاصل کیا جائے۔ اس نازک موڑ پر ہندوستانی علماء کے لئے ضروری ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو خلافت اسلامیہ کے خواب کے سوداگروں کا شکار بننے سے بچائیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب دہشت گردی کے خلاف فتاوے ہندوستان میں ایک صرف فیشن بن کر رہ گئے ہیں۔ آئے دن اسی نعرے کے ساتھ نئے نئے فتوے جاری کر دئے جاتے ہیں کہ “اسلام امن کا مذہب ہے”، لیکن ان میں انتہاپسند ، علیحدگی پسند اور تفوق پرست فقہی نظریات کی تردید نہیں کی جاتی ہے ، جسے بنیاد بنا کر دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ اس فتوی میں شیخ محمد صالح المنجد اور دیگر کئی ‘مستند’ سلفی علماء کا حوالہ دیا گیا ہے جو اپنے خطابات میں ‘الولاء و البراء ’ (مسلمانوں کے ساتھ وفاداری اور دوسروں کے ساتھ قطع تعلق) جیسے نظریہ کی اشاعت کے لئے مشہور ہیں جو کہ پوری دنیا میں شدید اختلاف و انتشار کا سبب بن رہا ہے۔ الجزیرہ کے ایک مطالعہ ‘‘Arab World Journalism in a Post-Beheading Era’’کے مطابق شیخ محمد المنجد کو ان سلفی علماء میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تعلیمات نے عرب دنیا میں القائدہ اور داعش سمیت انتہا پسند تحریکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

اگر ا س میں ان سعودی سلفی فقہاء پر سوالات نہیں اٹھائے جاتے ہیں جنہوں نے سعودی عرب کی درسی کتابوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے تو ہندوستانی سلفی علماء کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اس فتوے کو معمولی ہی سمجھا جائے گا ۔ مثال کے طور پر سعودی عرب میں ساتویں جماعت کے طالب علموں کو اب بھی یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ “اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کافروں سے لڑنا” اللہ کی نظر میں سب سے پسندیدہ عمل ہے۔ دسویں جماعت کے طالب علموں کو یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ اسلام چھوڑنے والے مسلمانوں کو تین دن تک جیل میں رکھنا چاہئے اور اگر وہ اپنا فیصلہ نہ بدلیں تو انہیں اپنے اصل مذہب سے پھر جانے کی پاداش میں قتل کر دیا جانا چاہئے۔ چوتھی جماعت کے طالب علموں کو یہ پڑھایا جاتا ہے کہ غیر مسلموں کو “حق کا راستہ دکھایا گیا لیکن انہوں نے یہودیوں کی طرح اسے چھوڑ دیا” اور”عیسائیوں کی طرح حق کو جہالت اورت وہم سے بدل دیا ہے۔”

Source: http://www.newageislam.com/urdu-section/ahl-e-hadith-anti-terror-fatwa–indian-salafis%E2%80%99-outcry-against-the-daesh-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D9%84%D8%A7%D9%81-%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D8%B3%D9%84%D9%81%DB%8C-%D8%B9%D9%84%D9%85%D8%A7%D8%A1-%DA%A9%D8%A7-%D9%81%D8%AA%D9%88%DB%8C%D9%B0-%D9%85%D8%A4%D8%AB%D8%B1-%D8%AB%D8%A7%D8%A8%D8%AA-%DB%81%D9%88-%DA%AF%D8%A7-%D8%9F/d/114760

Check Also

LeT’s online magazine “Wyeth” like Dabiq of ISIS spreads extremist ideology

WordForPeace.com Banned Pakistan-based terror group Lashkar-e-Taiba (LeT) headed by globally designated terrorist and the mastermind …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *