Ahle Sunnat in Jammu & Kashmir: Past, Present and Future جموں و کشمیر میں سنیت: ماضی ، حال اور مستقبل

WordForPeace.com

سید آصف رضا

کشمیر میں عوامی سطح پر آٹھویں صدی ہجری میں اسلام بذریعہ حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ متعارف ہوا اور کشمیر کی آبادی کا بڑا حصہ اسلام سے وابستہ ہوا۔ حالانکہ ان کی تشریف آوری سے پچاس سال پہلے حضرت سید شرف الدین عبدالرحمٰن بلبل شاہ رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ) کے دست مبارک پر یہاں کے بادشاہ رینچن شاہ نے اسلام قبول کیا اور سلطان صدر الدین کے نام سے مشہور ہوا،حالانکہ جدید تحقیق کے مطابق حضرت بلبل صاحب سے پہلے بھی یہاں کے باشندے اسلام سے واقف تھے۔

مرحوم ڈاکٹر سید محمد فاروق بخاری رقمطراز ہیں

”کشمیر کے متاخر مورخین کے نزدیک حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ (وفات: ۱۳۸۴ء) پہلے صوفی مبلغ تھے جن کی کوششوں سے وادی میں اسلامی انقلاب آیا۔ نیز ان مورخ حضرات کے مطابق ان کی تشریف آوری سے پچاس سال قبل حضرت شیخ شرف الدین عبد الرحمٰن بھی یہاں تشریف لائے تھے اور ان کی تبلیغی مساعی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئی تھیں۔ مگر جب سے کشمیر کی اسلامی تاریخ ہمارے اربابِ تحقیق کے لیے موجب توجہ بن گئی تب سے مذکور الصدر روایات نئے سرے سے غور و فکر کی کسوٹی پر پرکھی جارہی ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں کشمیر کے بہت سے تاریک گوشے نمایاں ہو چکے ہیں اور اب اس بات پر تقریباً سب محققین متفق نظر آتے ہیں کہ کشمیر میں بہت پہلے اسلام داخل ہوا تھا اور یہاں قدیم مسلمان حملہ آوروں، تاجروں اور مبلغوں نے اسلام کو متعارف کیا تھا۔ نیز حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کی محیر العقول تبلیغی کامیابی کے پیچھے جہاں اُن کے خلوص و تقویٰ اور غیبی نُصرت کارفرما تھی وہاں متقدّم مسلمان صوفیہ اور مہم جو بزرگوں کی کوششوں کا بھی بڑا دخل تھا جنہوں نے ایک بڑے انقلاب کے لیے میدان پہلے ہی ہموار کیا تھا۔ سر آرل سٹائن نے راج ترنگنی  کے انگریزی ترجمے  کے مقدمے میں لکھا ہے: ”کشمیر میں اسلام نے کسی جنگ کے زور سے راہ نہیں پائی ہے بلکہ یہاں تدریجی تبدیلی سے اسلام پھیلا ہے جس کے لیے جنوب اور وسطِ ایشا سے آئے ہوئے بیرونی مہم جوؤں اور قسمت آزمائی کرنے والوں نے میدان ہموار کیاتھا۔“

(کشمیر میں اسلام : منظر اور پسِ منظر،ڈاکٹڑ سید محمد فاروق بخاری،  صفحہ ۱۔۲،اپریل ۱۹۹۸ء)

بہرحال اسلام حضرت امیرسے پہلے ہی یہاں متعارف ہوا تھا، گو کہ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اسلام سے دور تھا۔ حضرت امیر کے یہاں تشریف آوری سے وہ اکثریت بھی   دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔

مولانا سید بلال احمد کرمانی اپنی تحقیقی تصنیف ”آئینہ حق نما “میں رقمطراز ہیں

”غرض حضرت بلبل شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ تک کشمیر میں اسلام کی بنیاد مسلک اہل سنت و الجماعت پر ہی ڈالی گئی اور یہی مسلک پوری دنیا میں طلوع اسلام سے آج تک اکثریتی مسلک یعنی مسلک سوادِ اعظم ہے۔ مشکوٰۃ میں حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سوادِ اعظم (بڑی جماعت) کی پیروی کرو اور بیشک جس نے سوادِ اعظم کو چھوڑا وہ تنہا ہی دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ (مشکوٰۃ جلد اول، حدیث: ۳۳/۱۶۴، کتاب و سنت پر عمل اور یقین)۔ کشمیر میں آغاز اسلام کے بعد کم و بیش دو سو سال تک تمام مسلمان اسی عقیدہ اہل سنت و الجماعت یعنی جماعت سوادِ اعظم پر قائم رہے ۔ یہی مبارک زمانہ کشمیری مسلمانوں کا وہ بہترین زمانہ ہے جب مسلمانانِ کشمیر کو ایمان و امان و تندرستی ، علم و عمل و فراخدستی جیسے انعامات خداوندی حاصل ہوئے یعنی مسلمانانِ کشمیر اس دور میں روحانی، دینی، اقتصادی، معاشی، علمی اور سیاسی اعتبار سے بہت ہی خوشحال تھے۔ اس دور کو مسلمانانِ کشمیر کا ”دورِ خیرالقرون“ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔“

(آئینہ حق نما، سید بلال احمد کرمانی، صفحہ ۵۹، ۲۰۱۰ء)

چوں کہ حضرت شرف الدین سید عبد الرحمٰن بلبل شاہ حنفی المسلک تھے اور اس طرح یہاں حنفی مسلک ہی رائج ہو چکا تھا۔ حضرت امیر کبیرشافعی مسلک سے تعلق رکھتے تھےاور انہوں نے شافعی المسلک ہونے کے باوجود یہاں حنفی مسلک کی ترویج کی ۔ تقریباً دو سو سال تک یہاں کے مسلمان ایک ہی مسلک یعنی حنفی المسلک تھے اور ہر روز صبح نمازِ فجر سے پہلے بجہر دعائے صبح اور بعد فجر جہر کے ساتھ اورادِ فتحیہ کا التزام کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی دوسرے معمولاتِ اہلسنت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔

شہمیری خاندان کے دسویں بادشاہ سلطان حسن شاہ( جو سلطان زین العابدین کا پوتا تھا) کے دورِ حکومت (۱۴۷۲ء۔۸۴ء) میں میری شمس الدین اراکی والی خراساں کی طرف سے سفیر ہو کر یہاں آیا   تو اپنے ”شعیہ مذہب“ کی تبلیغ شروع کی اور یہی  یہاں کے مسلمانوں  کی تقسیم اوّل تھی ۔ یہ تقسیم اکثریتی سنی طبقہ اور اقلیتی شعیہ مسلک کے نام پر تھی۔ اُس وقت کشمیر کے سب سے بڑے عالمِ دین حضرت شیخ الاسلام بابا اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اُن کے انتقال کے بعد آپ کے فرزند حضرت بابا فتح اللہ اور ان کے بعد ان کے شاگرد حضرت سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم، حضرت شیخ یعقوب صرفی، حضرت بابا داود خاکی وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم نے ایک عظیم ریاست گیر تحریک چلا کر مسلک اہل سنت و الجماعت کی حفاظت کی ۔ مولانا سید بلال کرمانی صاحب کے الفاظ میں: ”۹۵۰ھ۔۱۵۴۳ء میں مذکورہ بالا حضرات اولیاء کاملین تحریکِ اہل سنت کی تجدید و تحفیظ میں مشغول تھے۔“ (آئینہ حق نما، صفحہ: ۶۴) ان حضرات نے یہاں کے مسلمانوں کی ظاہری و باطنی رہنمائی فرمائی اور اس طرح یہ تقسیم بھی اُتنی موثر نہ ہوسکی جتنی کوشش کی گئی تھی۔

تقریباً ۱۲۰۰ھ میں یہاں کے مسلمانوں کی ایک اور تقسیم ہوئی۔ اس تقسیم کو ”اہل حدیث“ کا نام دیا گیا، اس تحریک  کا آغاز مولوی سید حسن شاہ المعروف بطخو نے کیا۔

مولانا سید بلال احمد کرمانی لکھتے ہیں:

”جب وادی کشمیر میں مولوی سید حسن شاہ صاحب بطخو نے وہابیت کی بنیاد ڈالی تو مسلمانانِ اہل سنت میں اس تقسیم کے خلاف علمائے اہل سنت نے مردانہ وار مقابلہ پہلے سے ہی شروع کیا تھا بالخصوص حضرت شیخ احمد صاحب تاربلی، حضرت شیخ احمد صاحب واعظ، حضرت شیخ احمد ترالی اور حضرت عزیز اللہ حقانی صاحب قابلِ ذکر ہیں۔ “(آئینہ حق نما، صفحہ: ۹۸)

ان بزرگوں نے وہابیوں کے گمراہ کن عقائد کے خلاف کتابیں او رسائل تحریر کیے۔

مولانا کرمانی آگے تحریر فرماتے ہیں

”ان حضرات کے علاوہ تیرہویں صدی سے چودھویں صدی تک بے شمار علمائے اہل سنت نے مسلک اہل سنت کے تحفظ میں دن رات محنت کی۔ مسلکِ اہل سنت کے ان محافظین میں علامہ و مولانا مفتی ابو الحسن سید عبد الکبیر بخاری صاحب (والد محترم علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری)، علامہ انور شاہ کشمیری، سید محمد فاضل قادری، خاندانِ شیخ الاسلام کے مفتی قوام الدین صاحب، مولانا محمد یٰسین صاحب  وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں حضرات ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی راتوں کا آرام تج دیا ہے اور مسلکِ اہل سنت کی حفاظت کی۔“(آئینہ حق نما، صفحہ: ۱۰۷)

تقریبا۱۹۳۰ء کے اواخرمیں یہاں کے سرکردہ مشائخ اور علما کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں گمراہ کُن نظریات کی روک تھام کے لیے ایک تحریک کی شروعات کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔ اور باتفاق رائے ۱۹۳۱ء سے ”انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر“ کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا۔

انجمن کی تاریخ کے بارے میں انجمن تبلیغ الاسلام کا دستور ان سطور میں روشنی ڈالتاہے

”۱۹۳۰ ء کے اواخر میں سابق سجادہ نشین درگاہِ غوثیہ خانیار شریف سرینگر مجاہد ملت حضرت میر سید مقبول شاہ گیلانی (متوفی پاکستان) کے دولت خانہ پر اہلسنت و الجماعت سے وابستہ علمائے کرام، ائمہ حضرات، سرکردہ شخصیات کے علاوہ سجادہ نشین حضرات پر مشتمل ایک عظیم الشان تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ وقت کے اہم تقاضوں کے پیشِ نظر طویل بحث و مباحثہ کے بعد ”انجمن تبلیغ الاسلام“ کے نام پر ایک دینی تحریک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں باتفاق رائے مرحوم میر سید محمد مقبول گیلانی (سجادہ نشین درگاہ غوثیہ خانیار) انجمن کے صدر منتخب ہوئے، مولانا محمد سعید مسعودی نائب صدر، پیر محمد رفیق جنرل سکریٹری اور میر سید محمد فاضل قادری منطقی مشیر اعلیٰ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ رہاست کشمیر کے جلیل القدر علما و مشائخ پر مشتمل مجلسِ عاملہ اور مجلس شوریٰ عمل میں لائی گئی۔ اس ریاست گیر انجمن کا پھیلاو کشمیر کے اکناف و اطراف میں ہوا اور  جگہ جگہ اس کے اجتماعات منعقد ہونے لگے۔“

(دستور انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر، صفحہ۱۲، مارچ ۲۰۰۸ء)

تقریباً۱۹۶۲ء میں سرپرست انجمن تبلیغ الاسلام فقیر ملت حضرت سید میرک شاہ کاشانی رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ہوئے کل ریاستی اجتماع میں امیر شریعت حضرت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ  (۱۹۱۰ء۔۲۰۰۰ء) کو باتفاق رائے انجمن کا صدر منتخب کیا گیا۔ آپ کی صدارت میں انجمن نے اونچائیوں کو چھوا۔ اُس زمانے میں انجمن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور و معروف عالم دین رئیس القلم علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ (مصنف معرکۃ الآراء کتاب ”زلزلہ“، بانی بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہنامہ ”جام نور“) نے اپنے ایک مکتوب میں ان الفاظ میں انجمن کے کام کو سراہا ہے اور حضرت علامہ کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے:

” میں خود بخاری صاحب کی مجاہدانہ سرگرمیوں اور ناقابلِ تسخیر جدوجہد سے بہت زیادہ متاثر ہوں۔ اُن کی ذات اہل سنت کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ مولائے قدیر انہیں حوادثِ روزگار اور آسیب زمانہ سے محفوظ رکھے۔ اس خبر سے خوشی حاصل ہوئی کہ ہندوستان کے سُنی حلقوں میں انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر مقبول ہوتی جارہی ہے۔ مولیٰ تعالیٰ اسے آسمان کی بادل کی طرح بر صغیر پر محیط کردے۔ آل انڈیا سطح پر انجمن تبلیغ الاسلام کی قیادت بخاری صاحب ہی کے ذمے کیجیے ان سے بہتر اور کوئی آدمی میری نظر میں نہیں ہے، میں نہایت ہی عدیم الفرصت آدمی ہوں۔ کئی درجن دینی اداروں اور تنظیموں نے مجھے جکڑ رکھا ہے تاہم آپ کی انجمن کے لیے میرے دل میں جو جذبہ محبت ہے اس سے کام ضرور لوں گا “۔(ماہنامہ التبلیغ، برائے ماہ اگست/ستمبر ۱۹۷۷ء۔ بحوالہ سیرۃ البخاریؒ، صفحہ: ۱۰۹۹)

ایک اور خط میں آپ رحمۃ اللہ علیہ انجمن کے کام کی تعریف  ان الفاظ میں کرتے ہیں

”رسائل کے ذریعے انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کی سرگرمیوں کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت وسیع دائرے میں آپ حضرات نے اس کے تعلیمی اور تبلیغی مِشن کو پھیلا دیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ مذہبی اور جماعتی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں کے درمیان دستوری نظم و ضبط کی خبریں پڑھ کر ایک ذہین اور فعال اور سوزِ قیادت کا غائبانہ یقین دل میں پیدا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے سُنی مسلمانوں کی دینی ارجمندی قابلِ رشک ہے کہ اس دورِ پُر فتن میں انہیں انجمن تبلیغ الاسلام جیسی صالح، حق پرست، ایمان پرور اور سلفِ صالحین کی روایات و افکار کا احترام کرنے والی تنظیم سے منسلک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میں انجمن تبلیغ الاسلام کے قائدین سے مودّبانہ گذارش کروں گا کہ وہ کشمیر کی وادی سے باہر ملک کے دوسرے خطوں میں بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ کروڑوں خوش عقیدہ مسلمانانِ ہند پُرجوش جذبہ محبت کے ساتھ اُن کی آواز کا خیر مقدم کریں گے‘‘۔(ماہنامہ الاعتقاد، جون/جولائی 1977، بحوالہ سیرۃ البخاریؒ، صفحہ:۱۰۹۷۔۱۰۹۸)

حضرت علامہ بخاری نے کشمیر کے صدر مقام سری نگر میں ایک عربی کالج ”حنفی عربی کالج“ کے نام سے قائم کیا جو جموں و کشمیر کی دانش گاہ کشمیریونیورسٹی  سے تسلیم شدہ ہے اور آج بھی تشنگانِ علومِ اسلامیہ کی علمی پیاس بجھا رہا ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے عصری تقاضوں کے مطابق پورے کشمیر میں ”حنفیہ سکولوں“ کا جال بچھایا جہاں سے طلبہ عصری تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اِسلام و سنیت کے داعی بھی بن کر نکلتے ۔ اس کے علاوہ حضرت علامہ نے مختلف موضوعات پر تقریباً ۱۱۵؍کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ماہنامہ ”التبلیغ“ اور ”الاعتقاد“ بھی جاری فرمائے۔ ماہ نامہ الاعتقاد آج بھی ہر ماہ پابندی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔

جموں و کشمیر میں۱۹۸۹ء میں عسکریت کی شروعات ہوئی جس سے یہاں کی دینی تنظیمی بالعموم اور انجمن تبلیغ الاسلام بالخصوص متاثر ہوئی۔ ایک غیر سیاسی تنظیم ہونے کی وجہ سے حالات کی مار اسی تنظیم کو سہنا پڑا اور اس کا دستور کالعدم قرار دیا گیا۔ انجمن کے کچھ اسکول اور دارالعلوم ناعاقبت اندیش لوگوں نے ہتھیالیے،پھر ۲۰۰۰ء میں حضرت علامہ بخاری کا انتقال ہوا، تو کچھ وقت کے لیے انجمن جمود کا شکار ہوئی۔

یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ۱۹۸۹ء میں جب یہاں حالات خراب ہوئے تو سنی علما کے تبلیغی پروگرام متاثر ہو گئے، کچھ نامور علما کو ”نا معلوم افراد“ کے ہاتھوں شہادت کا جام پینا پڑا۔اُسی دور میں ایک خاص طبقہ نے وادی میں دارالعلوموں کا جال بچھایا ۔ یہ لوگ خود کو اہل سنت و الجماعت ہی کہتے ہیں، لیکن عقائد کے اعتبار سے ابن عبد الوہاب نجدی کے ہی پیروکار ہیں۔ ان لوگوں نے جب دیکھا کہ اہل سنت کے جید علمائے کرام حالات خراب ہونے کی وجہ سے یا تو خاموش بیٹھے ہیں یا شہید کر دئیے گئے ہیں تو انہوں نے میدان کو کھلا پایا اور اس طرح اپنے عقائد کی تبلیغ شروع کی۔

نامساعد و نا موافق حالات کے باوجود یہاں کے کچھ علما نے، جن میں مولانا مشتاق احمد خان صاحب، مولانا سعید الدین قادری صاحب، مولانا محمد مظفر قادری صاحب (جموں و کشمیر انجمن تبلیغ الاسلام)، مولانا غلام رسول حامی صاحب (بانی جموں و کشمیر کاروانِ اسلامی)، مولانا عبدالرشید داودی صاحب (بانی جموں و کشمیر تحریک صوت الاولیاء) اور مولانا غلام محی الدین نقیب صاحب (بانی جموں و کشمیر منہاج الاسلام) شامل ہیں، نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ غیر سنی مولویوں نے عوام اہلسنت کو غلط فہمیوں میں مبتلا کیا تھا،  متذکرہ بالا علما گاؤں گاؤں قریہ قریہ گھومے اور  بروقت غلط فہمیوں کا ازالہ کیا اور سنیت کی لَو کو بجھنے سے بچا لیا۔

دورِ حاضر میں دنیا کے باقی حصوں کی طرح کشمیر میں بھی اہل سنت و الجماعت کو مختلف قسم کے چلینجز کا مقابلہ ہے، جس میں سر فہرست وہابیت ہے جو مختلف ناموں سے اہل سنت و الجماعت کو (بزعم خود) ختم کرنے کے درپے ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر ہونا یہ چاہیے تھا کہ اہل سنت متحد ہو کر ”سوادِ اعظم“ ہونے کا حق ادا کرتے لیکن بدقسمتی سے ہماری آپسی نااتفاقی کی بنا پر غیر سنی تحریکیں اپنا اُلو سیدھا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی صورت حال مختلف نہیں ہے، اہل سنت یہاں بھی بکھرے ہیں، کوئی اپنے آپ کو” مسلک اعلیٰ حضرت“  کا سچا داعی ثابت کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے تو کوئی کسی اور طریقے سے عوام کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ و ہی سنی ہے۔ ایک درجن سے زائد اپنے آپ کو سنی کہنے والے اور سنیت کی طرف دعوت دینے والی جماعتوں کے درمیان اتفاق نہ ہونے کے برابر ہے،اس نااتفاقی کے نتائج یہ نکلتے ہیں کہ عوام اہل سنت کنفیوژن کے شکار ہوتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ اس پریشان کن صورت حال کے پیشِ نظر غیر سنی تحریکوں کا نَوالہ بن جاتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھا جائے ۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کے بجائے خلوصِ نیّت کے ساتھ صرف اور صرف سنیت کا کام اور سنیت کے لیے کام کیا جائے جس کے لیے باہمی اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے۔

ہمارے یہاں کا ایک سنجیدہ طبقہ شعوری طور پر سنیت کے لیے کام کرنے کا خواہاں ہے۔ عالمی سطح پر جو منہج شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد ڈاکٹر طاہر القادری مدظلہ العالی نے قائم کیا ہے، سنیوں کا تعلیم یافتہ طبقہ اُسی منہج پر کام کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہاں پر بھی اُتنے ہی مقبول ہیں جتنے دنیا کے دوسرے حصوں میں ہیں۔ مقامی سطح کی تنظیموں (جن میں سب سے قدیم انجمن تبلیغ الاسلام ہے اور پچھلے دس سالوں کے اندر قائم ہوئیں تنظیمیں بھی شامل ہیں) کے علاوہ یہاں پر عالمی سطح کی تین تنظیموں کی شاخیں بھی قائم ہیں: منہاج القرآن، دعوت اسلامی اور سنی دعوت اسلامی۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ اتنی ساری سنی تنظیموں کے باجود وہابیت میں روز بہ روز اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ میرے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم داعیانہ اپروچ استعمال کرنے کے بجائے جارحانہ انداز استعمال کرتے ہیں، جبکہ ہمارے مدّمقابل داعیانہ اپروچ استعمال کرکےنئی نسل کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے یونیورسٹی اور کالجوں میں ”دعوتی“ پروگرامز منعقد کرتے ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے واعظین ابھی تک ”رٹے ہوئے وعظ“ پر اکتفا کرکے سنیت کی تبلیغ کا حق ادا کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں اس سطح (یونیورسٹی اور کالج سطح ) پر کام کرنے کا تصوّر ہی نہیں ہے (الا ماشاء اللہ)۔

مستقبل میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپس میں ہر اتحاد قائم کیاجائے۔ کوئی اور نعرہ، جس سے کنفیوژن ہونے کا اندیشہ ہو، نہ دے کر صرف سنیّت کی طرف بلایا جائے۔لٹریچر کو عام فہم بنا کر پھیلایا جائے۔ہمارے علما اور نوجوانوں کو داعیانہ کام کرنے کی تربیت دی جائے تاکہ اُن میں یونیورسٹی اور کالج سطح کے طلبہ کوسمجھانے کی صلاحیت پیدا ہو۔

دورِ حاضر کے حالات دیکھ کر ہمیں ہمہ جہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ اہل سنت و الجماعت  سے وابستہ علمائے کرام اور واعظین کو خاص طور پردو محازوں پر بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے

اولاً، داخلی سطح پر ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے کہ ہمارے نوجوان غیر سنی تحریکوں کا نوالہ بن جانے سے بچ جائیں،جس کےلیے اوپر دی گئی تدابیر اپنائی جائیں۔

ثانیاً، غیر سنی لوگوں سے رابطہ کر کے اورغیر سنی  علاقوں میں جاکر للّٰہیت اور جذبہ خیرخواہی سے داعیانہ اپروچ، جو ہمیں سیرت نبوی ﷺ اور تعلیمات اولیائے کرام رضی اللہ عنہم سے ملتا ہے، بروئے کار لاکر دعوت کا کام شروع کیا جائے۔

ہمارا تعلق اُس مسلک اور جماعت سے ہے جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے ناجی جماعت اور سوادِ اعظم فرما کر اُمت کو اِسی کے ساتھ رہنے اور جڑنے کی تلقین فرمائی ہے، لہٰذا یہ ذمہ داری اب اس جماعت سے وابستہ علما و واعظین کی ہے کہ وہ خلوصِ نیت کے ساتھ اسلام و سنیت کے داعی بن جائیں۔  اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

Source: http://jaamenoor.online/2018/07/31/%d8%ac%d9%85%d9%88%da%ba-%d9%88-%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d9%86%db%8c%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%b6%db%8c-%d8%8c-%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%aa/

Check Also

Jammu & Kashmir: International Seminar on Sufi Discourses concluded

WordForPeace.com The seminar entitled, “Maktubat wa Malfuzat-i Sufiyah: Ek Giran Qadr ‘ilmi wa ‘Adbi Sarmayah” …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *