AIUMB President on Lucknow Encounter of Saifullah: IS penetration in India is a dangerous alarm for Muslims

By WordForPeace.com Edit Desk

مدھیہ پردیش ٹرین بم دھما کہ اور سیف اللہ کی ہلاکت پر تشویش

آ ل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھو چھوی کا بیان

نئی دہلی 9مارچ

آل انڈیا علما ومشائخ بورڈ نے بھوپال اجین پسنجر ٹرین میں کم شدت والے بم کے دھما کے میں داعش کے موڈیول کے ملوث ہو نے پر اور لکھنو ¿ میں اسی موڈیول کے ایک کا رکن سیف اللہ کی کما نڈوز کے ساتھ تصادم میں ہلا کت پر گہری تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے یہ کہا ہے کہ داعش جیسی خطرناک انتہا پسند یا دہشت گرد تنظیم کی ہندوستانی مسلمانوں میں قبولیت ایک انتہائی خطرناک علا مت ہے جس سے ملک کی سلا متی کو تو خطرہ لا حق ہے ہی خود ملت کے ہندوستانی معاشرے میں گھل مل کر رہنے اور ترقی کی دوڑ میں شامل ہو نے کی راہ میں بھی مانع ہو رہی ہے ۔

بورڈ کے بانی اور صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے سیف اللہ کی ہلاکت ، اس کے چچا زاد بھا ئیوں کی کا نپور میں گرفتاری اور داعش کے بم دھما کہ کے ملزموں کی گرفتا ری پر تشویش کا اظہار کر تے ہو ئے یہ بھی کہا کہ بورڈ ادھر ایک دہا ئی سے بھی زیادہ برسوں سے اپنے عوامی رابطہ پروگراموں کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کی مسلسل کو ششوں میں مصروف ہے لیکن نوجوانوں کا ایک بہت چھوٹا سا گروپ کسی نہ کسی طرح بین الاقوامی دہشت گردی کو بڑھا وا دینے والی انسانیت دشمن فکر کی زد میں آ نے سے بچ نہیں پارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ داعش جیسی تسلیم شدہ انسانیت دشمن تنظیموں کے خلاف بڑی عوامی تحریک شروع کی جا ئے اور ہندوستان کے بھو لے بھا لے مسلم نوجوانوں کو ایسی تحریکات اور تنظیموں سے نہ صرف دور رہنے بلکہ ان کے خلاف عوامی ایکشن میں شریک کر نے کی کو شش کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر ایک ایسی انتہا پسند فکر اپنی جڑیں مسلسل مضبوط کر رہی ہیں جس کی عقلی اور عملی سر پرستی ملک کے باہر موجود طاقتیں کر رہی ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کی امن خواہی اور تعلیم و ترقی میں شرکت کی خواہش کو کسی اور طرف موڑنے میں مصروف ہیں۔ ہندوستانی مسلمان کسی بھی حال میں کسی دہشت گرد یا انتہا پسند بین الاقوامی تنظیم کا حصہ بن کر اپنا بھلا نہیں کر سکتا ۔ سیف اللہ کی لا ش قبول کر نے سے اس کے والد سرتاج نے انکار کر کے داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی طرف مائل ہو نے والے نوجوانوں کو سیدھا پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی حرکت سے سماج کے کسی بھی طبقے میں قبولیت حاصل نہیں کر سکتے ۔بورڈ کے بانی اور صدر نے کہا کہ ہندوستانی مسلمان پوری دنیا میں مسلمانوں کی دوسری بڑی آ بادی ہے ۔ مسلم نوجوانوں میں تعلیم کی کمی ، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل کی وجہ سے جو بے چینی ہے اسے دہشت گردانہ خیالات کی طرف مو ڑنے کی کوشش کئی دہائیوں سے چل رہی ہے ۔ ان نوجوانوں کو ہند سے باہر موجود مسلمانوں کی قیادت کے جنون میں مبتلا طاقتیں اپنے ہمدردوں کے توسط سے اپنی طرف مائل کر تی ہیں اور نتیجے میں کو ئی سیدھا سا دھا سا نوجوان سیف اللہ بن کر اپنی جان گنوا دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اندر کسی بھی انتہا پسند فکر کے خلاف زیادہ شدت سے کھڑے ہو نے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔

Check Also

राष्ट्रीय एकता में हिंदी का महत्व

वर्षा शर्मा भारत देश कई विद्याओं का मिश्रण है। उसमे कई भाषाओँ का समावेश है। …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *