AIUMB to hold Sufi conference in Lucknow

آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ لکھنؤ میں سنی صوفی کانفرنس کرے گا
WordForPeace.com Correspondent
 
لکھنؤ دفتر میں منعقدمیٹنگ میں لئے گئے اہم فیصلے
لکھنؤ۔5ا؍کتوبر)
سنی صوفی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کی ایک میٹنگ ریاستی دفتر،لکھنؤ میں منعقد ہوئی ۔جس میں صوبہ کے ذمہ داران اورسجادگان،مشائخ ،علماء،ائمہ مساجد ودانشوران نے شرکت کی۔
اس موقع پر آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے بانی و قومی صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہا کہ آج جب سنی مسلمان بیدار ہو چکا ہے اور ان لوگوں کے جو سنی مسلمانوں کو دھوکہ دیکر انکے ایمان وعقائد پر ڈاکہ ڈالتے رہے ہیں ان کو بے نقاب کر دیا ہے تو یہ لوگ چولا بدل کر پھر سے سامنے آ رہے ہیں۔ اسی ضمن میں جمیعۃ العلماء ہند نے اجمیر شریف میں اجلاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اجلاس سے پہلے راجستھان کے صوبائی صدر عبدالواحد کھتری نے ایک میٹنگ کر کے یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارا وہابیت سے کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ ہمارا سلسلسہ چشتیت سے ہے۔مولانا کچھوچھوی نے سوال کیا کہ کیا جمیعۃ العلماء اپنے سو سالہ عقائد سے توبہ کر رہی ہے یا سنی صوفی مسلمانوں کو ایک بار پھر چولا بدل کر دھوکہ دینا چاہتی ہے اور گمراہ کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ آج تک حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تعلق سے نازیبا تبصرہ کرتے رہے ہیں اورصوفیاء کی مزار پر جانے والوں کو قبر پرست و بدعتی سے جیسے القاب سے نوازتے رہے ہیں۔ میلاد پڑھنے کوناجائز و حرام کہتے رہے ہیں تو آج کیوں یہ لوگ پہلی بار نعتیہ مشاعرہ کرانے کی بات کر رہے ہیں ؟کیوں اپنا سلسلہ چشتیت سے جوڑ رہے ہیں ؟ کیوں پہلی بار تمام خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کو اجمیر شریف میں مدعو کرکے اجلاس کرنے جا رہے ہیں؟
مولانا نے کہا کہ ان کا مقصد صرف سنی صوفی مسلمانوں کو گمراہ کرنا ہے جسے کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
مولانا نے مزید کہا کہ آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلکی اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر ہمیں اتحاد کرلینا چاہئے لیکن یہاں مسلکی اختلاف تو ہے ہی نہیں بلکہ ہمارا اور ان کا اختلاف عقائد کا ہے۔جس سے کسی حالت میں سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
میٹنگ میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے صوبائی صدر حضرت شاہ عمار احمداحمدی سجادہ نشین خانقاہ حضرت شیخ العالم ،ردولی شریف نے کہا کہ اس وقت ہماری ذمہ داری ہے کہ عوام کی صحیح رہنمائی کریں ۔اسی ضمن میں انہوں نے اپنی رائے رکھی کہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں ایک عظیم سنی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں مسلمانوں کے ملی،سماجی،معاشی،اقتصادی و تعلیمی مسائل کوپر زور آواز میں اٹھایا جا سکے۔میٹنگ میں موجود سبھی لوگوں نے یوپی صدرکے اس رائے سے اتفاق کیا اور۴؍دسمبر۲۰۱۶بروز اتوارکی تاریخ کی متعین کی گئی ۔
واضح رہے کہ بعد نماز ظہر تامغرب چلنے والی اس اہم میٹنگ کی سرپرستی آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ کے بانی و قومی صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی و صدارت حضرت شاہ عمار احمداحمدی نے کی۔
سید حماد اشرف کچھوچھوی (یوپی جنرل سکریٹری)نے آئے ہوئے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر مولاناسید معراج اشرف جائسی، قاری نورالہدیٰ مصباحی،مولانا غیاث الدین مصباحی نے بھی خطاب کیا۔
میٹنگ میں مولانا اشتیاق قادری(لکھنؤ صدر)،آل رسول احمد، رمضان علی،سید
 نیر اشرف کچھوچھوی،سید کمال اشرف،سید احسان علی، حافظ مبین احمد،معیزساغری،قاری جمشید ، قاری عامر رضا،لعل شاہ قادری،فہد شاہ اورلکھنؤ یونٹ سمیت ریاست کے سبھی اضلاع کے نمائندوں نے شرکت کی۔میٹنگ کااختتام صلوٰۃ وسلام اور ملک کے لئے امن وامان کی دعا سے ہوا۔

Check Also

Religious Extremism is being used as a dangerous weapon धार्मिक उन्माद एक घातक हथियार की तरह प्रयोग किया जा रहा: AIUMB

WordForPeace.com रायपुर/छत्तीसगढ़: 7नवंबर धर्म के नाम पर खून बहा है लेकिन कभी अध्यात्म के नाम …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *