Clear Contradiction Of Zakir Musa’s Statements with Islamic Principles ذاکر موسی کا معتدل مسلمانوں کے سر قلم کرنے والے حالیہ بیان کی تردید

WordForPeace.com

BY MAULANA GHULAM GHAUS

ایک بار پھر اعتدال پسندی اور ہندوستانی سیکولرزم کے مسئلہ کو اس طرح پیش کیا گیا ہے گویا اسلام اپنے ماننے والوں کو اعتدال پسندی اور ہندوستان جیسے سیکولر ممالک کے ساتھ  امن و سلامتی کے ساتھ رہنے کا کوئی جواز پیش نہیں کرتا۔سوشل میڈیا کے مطابق اس مرتبہ اس سوچ کاحامل  ذاکر موسی ہے جو  ہندوستان کے خلاف  ابھرنے والی تنظیم القاعدہ کی نئی شاخ انصار غزوۃ الہند کا سربراہ ہے ۔

حزب المجاہدین کے سابق سربراہ ذاکر موسی نے اپنے ایک پانچ منٹ کی ویڈیو میں حریت کے رہنماؤں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لوگ اس کی راہ میں ‘‘کانٹا’ نہ بنیں اور یہ کہ اگر انہوں نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے ایک مذہبی جد و جہد قرار دینے کے بجائے سیاسی جد و جہد قرار دینا جاری رکھا تو وہ ان رہنماوں کا سر قلم کر دے گا۔ ذاکر موسی کے اس دھمکی آمیز پیغام نے کشمیر کے ایوان میں ہلچل مچا دی ، اس کے جواب میں حزب المجاہدین کے ترجمان سلیم ہاشمی نے کہا کہ ‘‘ذاکر موسی کا یہ بیان قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ذاکر موسی کی ذاتی رائے ہے’’۔ اس نے مزید کہا کہ ‘‘اس قسم کا کوئی بھی اشتعال انگیز بیان کشمیر کی تحریک آزادی کے لئے نقصاندہ ہو گا’’۔

حزب المجاہدین کے ترجمان کے بیان کے چند گھنٹوں بعد ذاکر موسی نے ایک اور ویڈیو کے ذریعہ حزب المجاہدین سے دستبرداری کا اظہار کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اس کی دھمکی صرف ان لوگوں کے لئے تھی جو ایک سیکولر ریاست کی بات کررہے تھے۔ اس کا کہنا تھا: “میں نے کسی خاص شخص یا جیلانی صاحب کے خلاف کچھ نہیں کہا ہے۔ سر قلم کرنے والی بات کا تعلق  حریت کے ساتھ نہیں ہے ،  بلکہ میرا  میسیج  ان اعتدال پسندوں کے بارے میں ہے جو ایک سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔ ذاکر موسی کا کہنا ہے کہ ‘‘اگر ہم نے سیکولرزم کے لئے آزادی حاصل کر لی تو پھر ہمیں ان کے خلاف ایک اور جنگ شروع کرنا ہوگی لہٰذا ، یہ بتانا انتہائی ضروری تھا۔ اور آج کے بعد سے حزب المجاہدین کے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ وہ داعش اور القاعدہ کی بات کرتے ہیں۔ نہ ہی میں داعش یا القاعدہ کے بارے میں کچھ جانتا ہوں اور نہ ہی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ غلط ہیں کیونکہ میں نے ان پر کوئی تحقیق نہیں کی ہے۔ ان سب باتوں پر تحقیق کے لئے میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ لیکن میں ان کو غلط نہیں کہہ سکتا۔ اور میں ان لوگوں پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتا جو ان کے ساتھ بیٹھ کر مٹھائیاں کھاتے ہیں اور ان (داعش اور القاعدہ)کے خلاف فتوی جاری کرتے ہیں۔ میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ صحیح ہیں یا غلط ، کیونکہ میں نے ان کے بارے میں نہ تو کوئی تحقیق کی ہے اور نہ ہی میں نے ان کے بارے میں کچھ پڑھا ہے۔ “(1)

ذاکر موسی کی جانب سے قتل کی دھمکی اس وقت آئی جب 9 مئی کو سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہے اور یہاں کی موجودہ تحریک مقامی ہے اور اس کا داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “ہندوستانی ایجنسیاں اس تحریک کو منصوبہ بند طریقے سےبدنام کر رہی ہیں”۔ ان تینوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “داعش اور القاعدہ جیسے گروہ ریاست میں موجود نہیں ہیں اور ہماری تحریک کے اندر ان گروہوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایجنسیاں اخوان جیسے کچھ بیمار ذہنیت کے غنڈوں کا استعمال کر رہی ہیں جن کا کام ریاست میں افراتفری کا ماحول پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے آزادی کی اس جدوجہد کو بدنام کرنے اور بین الاقوامی نقطہ نظر کو متاثر کرنے کے لئے ان گروہوں کے ذریعہ پراسرار قتل، چوری، لوٹ مار اور نقب زنی کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (2)

مذکورہ ڈرامائی حالات و واقعات میں ہم ذاکر موسی کے دو  اہم اہداف و مقاصد کو سمجھ سکتے ہیں:  1) آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو اسلامی جد و جہد کے بجائے سیاسی جد و جہد قرار دینے والوں کا سر قلم کر دینا، 2) ان اعتدال پسندوں کو موت کے گھاٹ اتارنا جو سیکولر ریاست کی حمایت کرتے ہیں ۔

ذاکر موسی کے محولہ بالا نقطہ نظر کی روشنی میں علمائے اسلام ذاکر موسی کے ذہنی  مرض   ، عدم توازن، بے راہ روی اور شدت پسندی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ ذاکر موسی  کے بیانات سے دو بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں جس کا جواب سوشل میڈیا پر مجھ سے طلب کیا گیا  ، وہ دو سوال یہ ہیں ۱) کیا اسلامی نقطہ نظر سے ان لوگوں کے قتل کرنے کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے جو آزادی کشمیر کی جد و جہد کو سیاسی جد و جہد مانتے ہیں؟ ۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے کبھی کہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ جو معتدل مسلمان کسی سیکولر ریاست کی حمایت کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا؟

 ذاکر موسی کا بیان در اصل اسلام اور شریعت پر افترا ہے ۔اسلام کا نظام در اصل عدل و انصاف پر قائم ہے جس کا مقصد دنیا و آخرت میں انسان کو بھلائی کی طرف لے جانا ہے ۔اسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ آزادی کشمیر کی جد و جہد کو سیاسی جد و جہد کہنےوالے کا قتل کر دیا جائے اور اسی طرح صورت مسئولہ میں اسلام قطعا اس کی اجازت نہیں دیتا کہ  ہندوستان جیسے سیکولر ممالک کی حمایت کرنے والے مسلمان کا قتل کر دیا جائے ۔یہ تو ذاکر موسی کا شریعت اسلامیہ پر افترا ہے ۔اگر القاعدہ سے منسلک ہونے والی رپورٹ صحیح ہے تو ممکن ہے کہ ذاکر موسی نے اس فکر کو القاعدہ جیسی غیر اسلامی دہشت گرد تنظیم سے سیکھا ہو۔ تاہم اس طرح کی فکری مرض اورانتہا پسندی کے ممکنہ خطرات سے مذہبی علوم سے نا آشنا کشمیری نوجوانوں کو بچانے کے لئے قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں ذاکر موسی  کے بیانات کی تردید ضروری ہے۔

ذاکر موسی کے بیان نمبر 1 کی تردید

ذاکر موسی کا کہنا ہے کہ ‘‘وہ ان لوگوں کی سر قلم کر دے گا  جو آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کو اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے ایک مذہبی جد و جہد کے بجائے سیاسی جد و جہد قرار دینا جاری رکھیں گے’’۔

اس بیان میں سر قلم کرنے کی جو بات کی گئی ہے اسلامی شریعت میں کہیں اس کا جواز نہیں ۔یہ بیان صرف کشمیر کے شہریوں اور ان کی آزادیٔ اظہار رائے کے لئے خطرہ اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر ے گا۔ قرآن و سنت سے کہیں بھی اس طرح کے قتل کرنے کا جواز نہیں ملتا  بلکہ اسلامی نقطہ نظر سے  ایسی رائے قائم کرنے والے شہریوں کو قتل کرنا ناحق اور حرام ثابت ہوگا۔ یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ  اسلام میں  بےگناہ لوگوں  اور شہریوں کا قتل کرنا قطعا حرام ہے ، بلکہ  کسی ایک شہری کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے جیسا کہ قرآن واضح طور پر سورہ مائدہ کی آیت 32 میں اس  تصور کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرکے غور وفکر کی دعوت دیتا ہے کہ اے لوگوں اسلام کسی کبھی بے گناہ انسان کے قتل کی دعوت نہیں دیتا اور اسلام یہاں اس بات پر بھی غور و فکر کرنے کی دعوت دے رہا ہے کہ اے لوگوں اگر کوئی تنطیم یا کوئی فرد اسلام کے نام پر کسی ناحق کا خون بہائے تو سمجھ لینا وہ عمل اسلامی نہیں  بلکہ شریعت اسلامیہ پر افترا ہے ۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے : “جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کیے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جلالیا، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ آئے پھر بیشک ان میں بہت اس کے بعد زمین میں زیادتی کرنے والے ہیں۔ (5:32)

مندرجہ بالا آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی ایک شخص کا ناحق قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے اور ایک شخص کی زندگی بچانا پوری انسانیت کی زندگی بچانے کی مانند ہے۔ اس آیت کا پیغام مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں پر منطبق ہوتا ہے۔

چونکہ ذاکر موسی کا بیان کشمیری مسلمانوں کے تناظر میں ہے  جو آزادی کشمیر کی جد و جہد کو سیاسی جد و جہد مانتے ہیں ، اس لیے آئیے اس زاویہ سے دیکھیں  کہ مسلمانوں کا ناحق قتل کرنے کے متعلق اسلام کا کیا موقف ہے ۔

قرآن کریم کا فرمان ہے:

“اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے تیار رکھا بڑا عذاب’’۔ (4:93)

اس آیت سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک مسلمان کا جان بوجھ کر قتل کرنا ایک عظیم گناہ ہے جس کے مرتکب کو مدتوں   جہنم میں رکھا  جائے گا۔ ذاکر موسی کو قرآن مجید کی اس  آیت پر غور کرنا چاہیے اور اپنا ارادہ بدل کر توبہ و استغفار کرنا چاہیے ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

“اور کوئی جان جس کی حرمت اللہ نے رکھی ہے ناحق نہ مارو، اور جو ناحق نہ مارا جائے تو بیشک ہم نے اس کے وارث کو قابو دیا تو وہ قتل میں حد سے نہ بڑھے ضرور اس کی مدد ہونی ہے”۔ (6:151)

مندرجہ بالا آیت سے یہ واضح ہے کہ انسان کسی بھی دھرم یا مذہب کا ہو اس کے  ناحق قتل کو اسلام نے  حرام قرار دیا  ہے۔ اپنے مذکورہ بیان کے ذریعے ذاکر موسی نے ایسے کام انجام دینے کا وعدہ کیا ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ کیا وہ قیامت کے دن پر یقین نہیں رکھتا کہ جب اسے بے گناہ انسانوں کے قتل کا حساب دینا ہوگا؟ کیا وہ یہ نہیں دیکھتا کہ قرآن کے مذکورہ حکم (4:93) کے مطابق اگر وہ کسی بے گناہ انسان کا ناحق خون کرے گا تو اسے دردناک عذاب کا سامنا کرنا ہو گا ؟

:قرآن کریم کا فرمان ہے

‘اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا’’ “(33:58)

قرآن مجید کے مطابق ان مومنوں کو نقصان پہنچانا ایک کھلا گناہ ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا ہے۔ ذاکر موسی کو قرآن کی مندرجہ بالا آیات کی روشنی میں اپنا محاسبہ اور اپنے طرز فکر کی اصلاح کر نی چاہئے۔ اب ہم اس کے سامنے کچھ ایسی احادیث پیش کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے۔

روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:”ایک سچا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے تمام مسلمان محفوظ ہیں۔ اور ایک سچا مومن وہی ہے جس سے لوگوں کی زندگی اور دولت محفوظ ہے۔ اور ایک سچا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرتا ہے اور اسے خدا کی اطاعت پر مجبور کرتا ہے؛ اور ایک سچا مہاجر وہ ہے جو ہر اس چیز کو چھوڑ دیتا ہے جس سے خدا نے منع کیا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کے ظلم سے محفوظ نہ ہو”۔ (یہ حدیث الفاظ کے مختصر رد و بدل کے ساتھ بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی ، ابو داؤد ، احمد ابن حنبل ، دارمی ، ابن حبان ، بیہقی ، نسائی سنن الکبریٰ ، ابن ابی شعیب ، عبدالرزاق، ابو یعلی اور حمیدی نے نقل کیا ہے)

روایت ہے کہ “ایک مسلمان کو گالی دینا فسوق ہے اور اس کاقتل  کفر ہے۔” (صحیح بخاری جلد 9، کتاب 88، حدیث نمبر 197)

سنن ابن ماجہ، امام طبرانی نے اپنی کتاب “مسند الشاميين” میں ، امام المنذری نے ‘الترغیب و الترہیب’ میں حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص سے مندرجہ ذیل حدیث سے روایت کی ہے:

“میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ کے گرد طواف کے دوران کعبہ سے یہ کہتے ہوئے دیکھا: تو کتنا پاک اورمقدس ہے! تیری خوشبو کتنی خالص اور اچھی ہے! تو کتنا عظیم اور اعلی ہے! تیری حرمت کتنی عظیم اور بلند ہے۔ لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے ، مومن کے خون اور اس کے مال کی حرمت اللہ کی نظر میں تیری حرمت سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

اسلام میں ایک مومن کی زندگی کو کتنی اہمیت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے آسانی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مومن کے خون کی حرمت کعبہ سے زیادہ ہے۔ لہٰذا، ذاکر موسی اور اس جیسی سوچ رکھنے ہر فرد کو اپنی اصلاح کر لینی چاہئے۔

:روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا

“تم میں سے کوئی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار نہ اٹھائے ، اس لئے کہ وہ نہیں جانتا کہ شیطان کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے ہتھیار چوک کر گر جائےاور اس سے کسی کو زخم لگ جائے اور اس طرح وہ جہنم کا مستحق بن جائے” (صحیح مسلم ؛ کتاب البر والصلۃ و الاداب، امام حاکم نے اس حدیث کو المستدرک میں اور بیہقی نے السنن الکبری میں روایت کیا ہے)۔

:روایت ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا

“جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار اٹھاتا ہے فرشتے اس پر لعنت بھیجنا شروع کر دیتے ہیں اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو ، یہاں تک کہ وہ ہتھیار رکھ دے۔ (صحیح مسلم، امام ترمذی اسی حدیث کو السنن میں ، امام حاکم المستدرک میں اور امام بیہقی السنن الکبری میں روایت کرتے ہیں)

کھیل کھیل میں بھی مسلمان کی طرف چھری، خنجر، تلوار، یا بندوق جیسا کوئی ہتھیار اٹھانا اسلام میں حرام ہے۔ مسلمانوں کے لئے کسی دوسرے مسلمان کو غیر ضروری طور پر ڈرانابھی سخت ممنوع ہے۔ اور ہمیں اس حدیث سے یہی تعلیم ملتی ہے کہ ‘‘جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار اٹھاتا ہے فرشتے اس پر لعنت بھیجنا شروع کر دیتے ہیں’’۔

امام بیہقی السنن الکبری میں ، سنن ابن ماجہ میں ، امام الربیع اپنی مسند میں درج ذیل حدیث نقل کرتے ہیں جس سے ایک مسلمان کے قتل میں آدھے لفظ سے بھی مدد کی ممانعت ثابت ہوتی ہے:

“جو شخص نصف لفظ کے ذریعہ بھی کسی مسلمان کے قتل میں مدد کرتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے محروم اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ وہ لفظ اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا۔”

محولہ بالا تمام قرآنی آیات اور احادیث رسول ﷺ سے مسلمانوں کے قتل کی سخت ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ ان آیات سے ذاکر موسی حقیقی اسلام کو سمجھ سکتا ہے اور یہ جان سکتا ہے کہ القاعدہ اور طالبانی نظریہ سازوں نے کس طرح اس کی منفی ذہن سازی کی ہے۔ خواہ وہ جتنے بھی دعوے کریں،  جتنا چاہے اسلام و شریعت کا نام استعمال کرلیں  ، اسلام کبھی بھی ان کے اس طرح کے اعمال و افعال جو جائز نہیں کر سکتا ، بلکہ ایسے اعمال انجام دینے والوں پر سخت وعید نازل ہو چکی ہے کہ اللہ تعالی ان پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا اور ان پر اپنی لعنت برسائے گا اور اس طرح انہیں ایک درد ناک عذاب میں ڈال دے  گا ، کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو جان بوجھ کر بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ القاعدہ اور اس جیسی تنظیموں سے متاثر ذاکر موسی اپنی اس غلطی سے انجان ہے کہ وہ جس آزادی کے لئے جدوجہد کر رہا ہے در اصل اس سے کشمیر کے لوگ غلام بننے والے ہیں۔ اس کی آزادی کی جدوجہد کا مقصد لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی سے محروم کرنا ہے۔ اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اسلام اظہار رائے اور مشاورت کی آزادی عطا کرتا ہے ، بشرطیکہ کہ وہ اسلام کے خلاف نہ ہو ، اور اس کا آزادی کے لئے اپنی جدوجہد کو سیاسی قرار دینا “اظہار رائے کی آزادی” کے زمرے میں آتا ہے جو کہ اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ اور جہاں تک آزادی کی بات ہے تو علیحدگی پسندوں سمیت تمام کشمیریوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے اور ثقافتی اور سماجی ترقی میں حصہ لینے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ لہٰذا ، یہ لوگوں کو “آزادی کی جدوجہد” نام پر بیوقوف بنانے جیسا ہو گا۔

اور جہاں تک کشمیر میں “اسلامی حکومت” کے قیام کی بات ہے تو ذاکر موسی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہندوستان اور اس کی ریاست کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے ان کی تمام بنیادی مذہبی آزادی حاصل ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی معنی میں وہ پہلے سے ہی ‘‘اسلامی حکومت’’ میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے  ہے کہ یہاں کوئی خلیفہ یا مسلم حاکم نہیں بلکہ یہاں ہندوستان میں مسلمان قیامت کے دن اپنے اعمال کے لئے صرف اللہ تعالی کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ روحانی ترقی کے حصول اور تقوی کی راہ اختیار  کرکے  اللہ اور اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔ سوال یہ ہے کہ  کشمیریوں سمیت ہندوستانی مسلمانوں کو اعلانیہ اسلامی احکام و فرائض ادا کرنے ، تزکیہ نفس ، اصلاح ظاہر و باطن،  روحانی مرتبہ حاصل کرنے اور اللہ کا ذکر کرنے سے کون روکتا ہے؟ اسی طرح اسلامی رسومات و معمولات پر عمل کرنے سے انہیں کون روکتا ہے ؟ جب کوئی انہیں مذہبی آزادی سے نہیں روکتا تو پھر اس طرح کی تحریک سے ان کا ، یا کسی کشمیری مسلمان یا پھر ملک ہندوستان یا پھر اسلام کا کیا فائدہ ۔ ذاکر موسی کو یہ جان لینا چاہئے کہ  خواجہ غریب نوازکا شمار ہندوستان کی بڑی اسلامی ہستیوں میں ہوتا ہے ۔انہوں نے  اپنے اعمال و کردار سے  اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جو مثال پیش کی ہے وہ کسی اسلامی حکومت کے تحت زندگی گزار کر نہیں کی ، بلکہ ایک ایسے ماحول میں جہاں دور دور تک کوئی مسلمان نظر نہیں آتا تھا۔

: حوالہ جات

Source: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refutation-of-kashmiri-militant-zakir-musa’s-recent-statement—کشمیری-عسکریت-پسند-ذاکر-موسی-کا-کشمیر-کے-معتدل-مسلمانوں-کے-سر-قلم-کرنے-والے-حالیہ-بیان-کی-تردید—-حصہ-1/d/115410

Check Also

(India) Leaders of different faiths welcome Hajis at Kolkata Airport

WordForPeace.com For the first time in India the Haj pilgrims were welcomed by people from …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *