Commentary on Surah al-Qadr سورہ قدرکی تفسیر

By Muhammed Qamruz Zaman Qadri, Wordforpeace.com

اناانزلنه فی لیلۃ القدر،وماادرٰک مالیلۃ القدرلیلۃ القدرخیرمن الف شھر،تنزل الملائکۃ والروح فیھاباذن ربھم من کل امرسلٰم ھی حتی مطلع الفجر،،،،،،،ترجمہ

بیشک ہم نےاسےشب قدرمیں اتارا،اورتم نےکیاجاناکیاشب قدر،شب قدرہزارمہینوں سےبہتراس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں،اپنےرب کے    حکم سے،ہرکام کیلئے وہ سلامتی ہےصبح چمکنےتک،،،،،،،،،،!

سورہ قدرکایہ ترجمہ سیدنااعلی حضرت امام اہل سنت مجدددین وملت شیخ الاسلام والمسلمین قطب عالم غوث زماں امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کےترجمہ قرآن “کنزالایمان” سےنقل کیاگیا،،،،،،،،!

درمنثورجوسیدی امام جلال الدین الملۃ والدین سیوطی شافعی رضی اللہ عنہ کی تفسیرقرآن ہے،،،،اس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سےحضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کاارشادمنقول ہےکہ شب قدراللہ عزوجل نےمیری امت کوعطافرمائی اگلی امتوں کوعطانہ کی گئ،اس سلسلہ میں مختلف روایتیں ہیں کہ اس نعمت عظمٰی اورفضیلت کبریٰ کی عطاکاسبب کیاہے،،،،،!

بعض حدیثوں سےپتہ چلتاہےکہ نبئ کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےامم سابقہ کی عمروں کوملاحظہ فرمایاکہ ان کی عمریں لمبی لمبی ہوئیں اوراپنی امت کی عمروں پرنظرفرمائی توتھوڑی معلوم ہوئی کہ اگرمیری امت کےلوگ اعمال صالحہ اورافعال خیرمیں ان کی برابری کرناچاہیں توبظاہرممکن نہیں اس وجہ سے اور اس خیال سےسرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےخاطرعاطرکورنج وملال ہوا،اورچہرہ انورپرحزن وغم کےآثارنمودارہوے:لہذاسورہ قدرکونازل فرماکررب رحیم نےعمروں کی کمی کوثواب کی کثرت وزیادتی سےپورافرمادیا،اگرکسی خوش بخت اورسعیدازلی کومقدرکی خوبی سےزندگی میں دس راتیں شب قدرسےمل جائیں اوروہ خوش نصیب ان کوعبادت خداوندی میں بسرکرلےتوگویااس نےآٹھ سوتینتیس(833)برس چارماہ سےزیادہ اپنےمولیٰ کی عبادت    کی ،،،،،،،،،!

بعض حدیثوں سےمعلوم ہوتاہےکہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےکسی شخص کاذکرفرمایاکہ اس نےہزارمہینےتک اللہ کی راہ میں جہادکیا. صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کواس پررشک ہواتورب رحیم وغفورنےاس مبارک رات کونازل فرمایا،،،،،،!

بعض احادیث مبارکہ سےظاہرہوتاہےکہ سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےبنی اسرائیل کےچاراشخاص کاذکرفرمایا:حضرت سیدالصابرین سیدناایوب نبیناوعلیہ الصلوۃ والتسلیم،سیدالعابدین حضرت زکریاعلیہ السلام،امام الزاہدین وراس المجاہدین سیدناحزقیل علیہ السلام،رئیس العابدین سیدالمجاھدین فی سبیل اللہ خلفہ کلیم اللہ حضرت یوشع ابن نون علیہ السلام،،،،،،،یہ اللہ کےمقدس اوربرگزیدہ نبی اسی(80)اسی(80)برس اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول ومصروف رہےاورطرفۃ العین پلک جھپکنےتک بھی اللہ کی یادسےغافل نہ رہے،اورنہ ہی اس کی نافرمانی کی،اس پرصحابہ کرام رضی المولیٰ عنہم کوحیرت واستعجاب ہواتوسیدالملائکہ مکین سدرہ روح القدس حضرجبرئیل علیہ السلام بارگاہ رسالت مآب میں سورہ قدرکی عظیم بشارت لےکرحاضرہوے،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورخودسرکاراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خوش ہوےاورقلب کوتسلی ہوئی صحابہ کرام پروانہ نبوت کوقرارآیا،،،،،،،،،!
——————————————

اناانزلنہ فی الیلۃالقدر:-
👈بلاشبہ یقینًاہم نےقرآن عظیم کوشب قدرمیں اتارایعنی قرآن مقدس لوح محفوظ سےسماءدنیاآسمان اول پراسی عظمت والی رات میں دفعۃً واحدۃً یک بارگی پوراقرآن مکمل طورپرنازل کیاگیا،شب قدرکی فضیلت کیلئےیہی ایک چیزکافی تھی،مولیٰ کریم رب غفورورحیم نےبےشمارعظمت ورفعت خیروبرکت سےاس شب کونوازا،،،،،!
——————————————
پھرذوق وشوق کی خاطرارشادخداوندی
ہوتاہے:-

وماادراک مالیلۃ القدر:-
👈اورتم نےکیاجانا،کیاشب قدریعنی اےمحبوب تمہیں معلوم ہےکہ شب قدرکیاہے،،،،؟آگےارشادہوتاہے
جس سےاس کی فضیلت کااظہارہوتاہے، “لیلۃ القدرخیرمن الف شھر” ،شب قدرہزارمہینوں سےبہترہزارمہینوں میں جتناعبادت کاثواب حاصل ہو سکتا ہے اس سےکہیں زیادہ اس مقدرومنورشب قدرمیں عبادت کاثواب حاصل ہوگا،،،،،!
—————————————–
تنزل الملآئکۃ والروح:-
👈اس میں فرشتےاورجبرئیل اترتےہیں اس مقدس ونورانی رات میں بکثرت فرشتوں کانزول ہوتاہے،،،،،،،،!
—————————————–
امام اجل فخرالملۃ والدین رازی رحمۃ اللہ علیہ “تفسیرکبیر” فرماتےہیں کہ اےانسان!ابتداءمیں فرشتوں نےتجھےدیکھاتھاتواظہار  نفرت فرمایاتھا،اوربارگاہ ذوالجلال میں عرض کیاتھاپروردگارتوایسی چیزپیداکرنےوالاہےجودنیا
میں فتنہ فسادبرپاکرگی،
اورخونریزی اورقتل وغارت گری اس کاشیوہ ہوگا_بعدازاں تجھےوالدین نےمنی کےقطرہ کی صورت میں دیکھاتھاتواظہارنفرت کیاتھا،یہاں تک کہ اگرکپڑے
میں وہ مادہ منویہ لگ جاتاتودھوناناگریزہوتالیکن خلاق کائنات صناع عالم نےاسی قطرہ منی کوبہترصورت بشری عطافرمائی تووالدین نےاسےشفقت کی نگاہ سےدیکھاماں باپ کوبھی پیارآگیااورآج اس شب قدرکی نورانی ساعتوں میں رحمت ونورکی برسات میں بتوفیق الہی اوربہ تائیدربانی عبادتوں میں مشغول ہواتواِس حسین منظرکودیکھنےکیلئےآسمان کےفرشتےبھی اترپڑے،،،،،،،،!

اس مبارک ومنوررات میں سیدالملائکہ جبرئیل علیہ السلام بھی نازل ہوتےہیں،امام رازی فرماتےہیں کہ یہی قول زیادہ صحیح ہےیعنی جبرئیل علیہ السلام کےنازل ہونےکا،،،،،،،!!

بعض مفسرین کاقول یہ ہیکہ روح سےمرادایک بہت بڑافرشتہ ہےجس کےسامنےتمام زمین وآسمان ایک لقمہ کےبرابرہیں ،،،،،،،،،!

بعض کاقول ہےکہ فرشتوں کی وہ مخصوص جماعت مرادہےجوعام فرشتوں کوخودشب قدرہی میں نظرآتےہیں،،،،،،،!

چوتھاقول یہ ہےکہ روح سےمراداللہ عزوجل کی وہ مخلوق ہےجوکھاتےپیتےہیں لیکن نہ تووہ انسان ہیں نہ فرشتےنہ ہی جن،،،،،،،!

پانچواں قول یہ ہےکہ روح سےمرادحضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جوامت محمدیہ کےکارنامےاورشب قدرکی عبادتوں کوملاحظہ فرمانےکیلئےفرشتوں کےساتھ آسمان سےاترآتےہیں،،،،،!

چھٹاقول یہ ہےکہ وہ اللہ عزوجل کی رحمت خاص مرادہے،جوشب قدرمیں نازل ہوتی ہے،،،،،!
بیہقی شریف میں سیدناانس رضی اللہ عنہ کےواسطےسےنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاارشادمنقول ہےکہ شب قدرمیں جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کےایک گروہ کےساتھ نزول فرماتےہیں اورجس شخص کودعا،ذکراذکار،تسبیح وتہلیل،تلاوت قرآن،  رکوع وجودمیں دیکھتےہیں  اس کیلئےدعاےرحمت ومغفرت فرماتےہیں،،،،،
—————————————–

باذن ربھم من کل امر:-

👈اپنےپروردگارکےحکم سےہرامرخیرکولےکرزمین پراترتےہیں،مظاہرہ حق ترجمہ مشکوۃ المصابیح میں لکھاہےکہ فرشتوں کی پیدائش بھی شب قدرمیں ہوئی،اوراسی رات میں حضرت آدم علیہ السلام کاخلقی مادہ جمع ہوناشروع ہوا،شب قدرمیں جنت کےاندردرخت لگاےگئے،اوردعاؤں کاقبول ہونااس رات میں کثرت سےواردہوا،تفسیر”درمنثور”میں ہےکہ شب قدرہی میں حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پراٹھاےگئے،اوراسی رات میں بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوئی،،،،،،!
—————————————–
سلام:-
وہ رات سراپاسلامتی ہےیعنی ملائکہ کی جانب سےمومنین پرپوری رات سلام پیش کیاجاتاہےکہ فرشتوں کی ایک فوج آتی ہےدوسری جاتی ہے_یہ بھی مطلب ہو سکتا ہےکہ یہ رات شروفتن سےسلامت ہے،،،،،،،،،،!
—————————————–
ھی حتی مطلع الفجر:-
وہ رات خیرات وبرکات اورفضائل و
مناقب خوبیوں اوربزرگیوں کےساتھ
اورتابش نورکےساتھ صبح تک رہتی ہے،
ایسانہیں ہےکہ رحمت وبرکت اس رات کےکسی خاص حصہ میں توہومگردوسرےمیں نہ ہوبلکہ پوری رات میں برکتوں کا ظہور ہوتا رہتاہے،،،،،،،،!
—————————————–

تنبیہ؛؛– اےمیرےسنی صحیح العقیدہ دوستو!شب قدرکی اتنی ساری فضیلتوں،رحمتوں،برکتوں،کےپڑھنے،جاننے،اورمعلوم ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص سوتارہے،غفلت میں وقت گزاردے،عبادت کی طرف متوجہ نہ ہو،عبادات الہیہ سےسستی اورغفلت برتے،اس شب نورمیں ذکروفکرتسبیح وتہلیل،رکوع وسجود،قیام وقعود،تلاوت قرآن،درودشریف وغیرہ کی لذتوں سےناآشنارہ جاےتواس کی بڑی محرومئ قسمت ہے،،،،،،!

ازقلم:
محمدقمرالزماں قادری امجدی عفی عنہ

☎08853610301

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *