Correct Understanding of the So-called ‘Sword’ Verses of Surah Taubah سورت توبہ کی نام نہاد’تلوار’والی آیات کی صحیح تفسیر

WordForPeac.com

By Naseer Ahmad

اس سورہ کی پہلی 29 آیتیں نبی (ﷺ) کے اپنے آخری حج ادا کرنے سے ایک سال قبل واقع ہونے والے غزوہ حنین اور تبوک کے بعد نازل ہونے والی آخری آیات ہیں۔ حج ادا کرنے کے چند ماہ بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ یہ آیتیں پرامن فتح مکہ کے تقریبا 18 مہینے کے بعد نازل ہوئی ہیں۔فتح مکہ کے بعد خونی جنگ کی توقع تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ فتح مکہ کے بعد فوراً مسلمانوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا جس نے ان کے اندر غرور پیدا کر دیا جس کی وجہ سے جنگ حنین میں انہیں شدید پسپائی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آخر میں انہیں فتح حاصل ہوئی۔ اگرچہ اکثر کفار و مشرکین مکہ نے اس عرصے کے دوران اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن ان کے درمیان چند ایسے افراد بھی تھے جو اب بھی مشرک ہی تھے۔ ان آیتوں میں مکہ کے مشرکوں کے خلاف فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کچھ ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ کر کے اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کی تھی اور مختلف صورتوں میں مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کا ارتکاب کیا تھا اور بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے کسی بھی طرح اپنے معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ان آیتوں میں سابق الذکر طبقے کے لئے کفرو یا کافرون جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے اور مؤخر الذکر طبقے کے لئے ‘‘غیر مؤمن’’یا لا یومنون جیسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ کافرین کی سزا آیت 9:5 میں اور ان کے کفر کو آیت،13- 9:12 میں بیان کیا گیا ہے۔ جو غیر مؤمن رہے لیکن کافروں میں سے نہیں تھے ان کی سزا یہ تھی کہ انہیں کعبہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا (9:28) اور ان کے اوپر جزیہ کی ادائیگی کو 9:29 لازم کر دیا گیا۔ تمام مشرکین کو جنگ بندی کے چار مہینے کے دوران کسی پڑوسی ملک میں منتقل ہونے اور کود کو سزا کے نتائج سے محفوط کرنے کا اختیار حاصل تھا 9:5 یا 9:29۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی بھی شخص کو نہ تو آیت 9:5اور نہ ہی آیت 9:29 کی روشنی میں سزا دی گئی۔ انہوں نے یا تو اسلام قبول کر لیا یا کسی دوسرے ملک میں ہجرت کر کے چلے گئے۔

بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ

 (1) بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا: –

فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ ۙ وَأَنَّ اللَّـهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ

 (2) چا ر مہینے زمین پر چلو پھرو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو تھکا نہیں سکتے اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّـهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚفَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ

 (3) اور منادی پکار دیتا اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے سب لوگوں میں بڑے حج کے دن کہ اللہ بیزار ہے، مشرکوں سے اور اس کا رسول تو اگر تم توبہ کرو تو تمہا را بھلا ہے اور اگر منہ پھیرو تو جان لو کہ اللہ کو نہ تھکا سکو گے اور کافروں کو خوشخبری سناؤ دردناک عذاب کی۔

ِالَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ

 (4) مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔

فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

 (5) پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور قید کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم رکھیں اور زکوٰة دیں تو ان کی راہ چھوڑ دو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّـهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ

 (6) اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ جب کسی آیت میں مشیرکین اور کافرین یا کفر جیسے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے اور جس طرح ان دونوں کے درمیان تمیز پیدا کی جاتی ہے۔ صرف کافرین پر ہی شرمندگی کا طوق ہوگا (9:2) اور انہیں کے لئے سخت سزا کا اعلان کیا گیا ہے (9:3)۔ وہ کافر کون ہیں اور ان کا کفر کیا ہے؟

وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ

 (12) اور اگر عہد کرکے اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر منہ آئیں تو کفر کے سرغنوں سے لڑو بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں اس امید پر کہ شاید وہ باز آئیں۔

أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

 (13) کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو۔

کافرین کا کفر یہ تھا:

جنہوں نے اپنے عہد و پیمان کی خلاف ورزی کی ، جنہوں نے محمد ﷺ کو مکہ سے نکالنے کی سازش کی ،اور جو ان کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے۔ مختصر الفاظ میں اگر کہا جائے تو یہ مذہبی بنیاد پر ان کا ظلم و ستم تھا۔ 9:5 میں سزا صرف مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کرنے والوں کے لئے ہے اور وہ کافرین ہیں جن کا ذکر 3-9:2 میں ہے۔

جنہوں نے اپنے معاہدے کو کبھی نہیں توڑا اور جنہوں نے نہ تو مسلمانوں کے دشمنوں کی مدد کی اور نہ ہی ان کے ساتھ جنگ کیا (9:4) اور جنہوں نے پناہ طلب کی انہیں کافر نہیں کہا گیا ہے بلکہ انہیں صرف لاعلم کہا گیا ہے (لا یعلمون 9:6) اور 9:5 سزا سے خارج قرار دیا گیا ہے ۔ تاہم، یہ غیر مؤمن ہیں اور اگلے حج سے ان کا داخلہ مسجد حرام میں ممنوع ہے (9:28) اور ان کے اوپر جزیہ کی ادائیگی ضروری ہے (9:29)۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

 (28) اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ

 (29) لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر۔

اگر اس سے صرف کافرین ہی مراد ہیں تو کیوں آیت 9:5 میں یہ حکم دیا گیا کہ مشرکین کو مارو سوائے ان کے جنہیں آیات 9:4 اور 9:6 کے تحت خارج کر دیا گیا ہے؟ اگر آیت 9:5 میں یہ حکم دیا گیا ہوتا کہ تمام کافرین کو مارو سوائے ان کے جنہیں آیات 9:4 اور 9:6 کے تحت خارج کر دیا گیا ہے تو اس کا اطلاق کافرین کے اخراج پر ہوتا ہے جو ان تما م کو کافر بنا دیتا ہے۔ جس طرح اسے بیان کیا گیا ہے ، 9:4 اور 9:6 میں ان مشرکین کو خارج کیا گیا ہے جو کافر نہیں ہیں، باقی تمام مشیرکین کافر ہیں جن پر سزا 9:5 لاگو ہوتی ہے۔

جبکہ آیت 9:5 سخت معلوم ہوتی ہے، جس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور چار مہینے کی جنگ بندی کے دور کے اختتام پر ایک بھی کافر ایسا نہیں بچا جسے موت کی سزا دی جاتی۔ انہوں نے یا تو اسلام قبول کر لیا یا ہجرت کر کے کہیں اور چلے گئے۔

جو لوگ صرف غیرمؤمن تھے لیکن کافر نہیں تھے، وہ ایسے عام لوگ تھے جنہوں نے اپنے رہنماؤں کی پیروی کی۔ ایک بار جب کافروں کے رہنماؤں نے اسلام قبول کر لیا تو باقی تمام لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا اور جزیہ ادا کرنے والے کوئی مشرکین نہیں بچے۔ تاریخی حقیقت کی غلط تشریح کی گئی اور علماء نے یہ رائے پیش کی کہ مشرکین کے پاس اسلام کو قبول کرنے ، ہجرت کرنے یا قتل ہو جانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 9:29 کا اطلاق مشیرکین پر نہیں بلکہ صرف اہل کتاب پر ہوا۔ یہ غلط ہے۔ قرآن مجید صرف مشرکین پر ہی اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لانے کا الزام لگاتا ہے۔ یہودیوں اور عیسائوں کے بارے میں قرآن کے اندر بہت ساری آیات موجود ہیں لیکن ان میں سے کسی میں بھی ان پر اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لانے کا الزام نہیں ہے۔ قرآن کے اندر بہت ساری ایسی آیات بھی موجود ہیں جن میں “مشرکین” پر قیامت پر ایمان نہ لانے اور اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے یا قیامت پر ایمان نہ لانے اور اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے دونوں کا الزام ہے (44:35، 50:3، 56:47)۔ یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ اور رسول کے ذریعہ حرام کردہ چیزوں سے نہ بچنے اور حق کے مذہب کو تسلیم نہ کرنے کا الزام ہے (4:161، 5:42، 63-5:62)۔ لہٰذا، آیت کے آخری حصے کا موضوع یہودی اور عیسائی ہیں۔ لہذا، اس میں مشرکین، یہودی اور عیسائی شامل ہیں اور ان سبھی کو جنگ کا سامنا کرنے یا جزیہ ادا کرنے کا اختیا دیا گیا ہے۔

اسلام کے بنیادی اصول

ضمیر کی آزادی

مذہب میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے (2:256)

(پر امن کافروں) کے لئے ان کا دین اور ہمارے لئے ہمارا دین (109:6)

سورۃ توبہ کی ان آیات پر بحث سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے اپنے دشمنوں کے خلاف اپنی لڑائیوں میں کبھی بھی ان دو اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی اور یہ اسلام کے بنیادی اصول ہیں۔ پرامن مشیرکین کے پاس اپنے مذہب پر قائم رہنے اور جزیہ ادا کرنے کا اختیار تھا اور باقی دوسرے لوگوں کے پاس اپنے مذہب پر قائم رہنے اور ہجرت کرنے کا اختیار تھا۔

اس معاشرے کے قوانین کے مطابق جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی اور اپنے معاہدوں کی خلاف ورزی کی وہ موت کی سزا کے مستحق تھے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جنگ بندی کی مدت کے دوران ہجرت کرنے اور خود کو بچانے کا موقع دیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ صرف اس معاشرے کے سیکولر قانون کے مطابق ہی نہیں بلکہ مزید انسانی اور رحمدلی پر مبنی تھا۔ لہذا انھیں “تلوار والی آیات” قرار دینا مراد اور نتائج دونوں کے اعتبار سے قرآن کی ایک غلط ترجمانی ہے۔ اور کن لوگوں پر مشیرین، کافرین، لا یعلمون اور لا یومونین جیسے کلیدی الفاظ اور ان کے معانی کا اطلاق ہوتا ہے اس کی وضاحت خود آیات کی مدد سے پیش کر دی گئی ہے۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-correct-understanding-of-the-so-called-‘sword’-verses-of-surah-taubah/d/113153

Check Also

Rs. 14.30 crore sanctioned for Block level sports in Jammu & Kashmir

WordForPeace.com Grants-in-aid amounting to Rs. 14.30 crore (Rupees Fourteen Crore & Thirty Lakh) has been …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *