Countering Extremism- Key Proposals انتہاء پسندی کا سامنا، چند اہم تجاویز

WordForPeace.com
باسل حجازی

میرے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ تمام تر حفاظتی تدبیروں اور عسکری آپریشنوں کے با وجود اسلامی دہشت گردی کا قلع قمع کرنے میں دنیا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ ان کے خیال میں محض یہ ہے کہ دنیا مرض کا علاج کرنے کے بجائے مرض کی علامات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، اور اگر صورتِ حال یوں ہی بر قرار رہی تو اس مسئلے کا خاتمہ شاید کبھی نہیں ہو پائے گا۔

ان کے بقول اگر “دہشت گردی” محض “ذیلی اثر” ہے تو “مذہبی یا فکری انتہاء پسندی” در حقیقت اصل مرض ہے اور اگر ہمیں اس مسئلے یا “مرض” کے علاج میں واقعتاً دلچسپی ہے تو ہمیں اس کا سامنا سنجیدگی سے کرنا ہوگا  تاہم با ایں ہمہ دہشت گردوں کا عسکری بنیادوں پر قلع قمع بھی جاری رکھنا ہوگا خاص کر وہ دہشت گرد جنہوں معصوم عوام کے خلاف پہلے ہی ہتھیار اٹھا رکھے ہیں، یعنی مسلح جد وجہد جاری رکھی جائے ورنہ “غور وفکر” کے لیے کوئی بھی نہیں بچے گا۔

فکری بنیادوں پر اسلامی انتہاء پسندی کے علاج کے لیے سٹریٹیجک بنیادوں پر ایک مکمل لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس کا ارتکاز پانچ بنیادی عناصر پر ہونا چاہیے، اس ضمن میں اولین اور بنیادی عنصر متبادل مذہبی مفہوم کی تلاش ہے جو واقعتاً امن، محبت اور بھائی چارے کی تلقین پر زور دے کیونکہ فی الوقت اسلامی فکر پر جو نظریات چھائے ہوئے ہیں وہ تشدد، نفرت اور مذہبی انتہاء پسندی کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو مصری صدر عبد الفتاح السیسی کو علمائے ازہر سے شدت کے ساتھ یہ مطالبہ نہ کرنا پڑتا کہ وہ ایک نیا مذہبی بیانیہ تشکیل دیں جو “انقلابی” خواص کا حامل ہو۔

دوم یہ کہ ہمیں ایسے فعال تعلیمی وسائل کو اپنانے کی ضرورت ہے جو انسانی فکر میں انتہاء پسندانہ سوچ کا مقابلہ کر سکیں جیسے چیزوں کو مطلق انداز میں دیکھنا، سمجھنے میں حرفیت اختیار کرنا اور ان بنیادوں پر دوسروں پر فیصلے صادر کرنا، یہ “سوچنے کے انداز” کی محض چند مثالیں ہیں جو مذہبی اور عقائدی مفاہیم سے قطع نظر دوسروں کے تئیں انتہاء پسندی اور نفرت کو جنم دیتے ہیں، علمِ نفسیات میں ایسے بہت سارے طریقے موجود ہیں جنہیں بروئے کار لا کر انتہاء پسندانہ سوچ کا سبب بننے والے اندازِ فکر کو بدلا جا سکتا ہے۔

مذہبی انتہاء پسندی کا سامنا کرنے کے لیے تیسرا اہم عنصر مذہبی انتہاء پسندی سے منسلک عوامل کا سامنا کرنا ہے جیسے دوسروں سے نفرت، انسانی ضمیر کا قتل، دوسرے لوگوں سے معاملات میں شدت کا عادی ہونا (یا یسی صورتِ حال کو قبول کر لینا)، ان چیزوں کے علاج کے لیے بہت سارے مختلف وسائل کی ضرورت ہے جیسے سکول یا میڈیا کے مختلف ذرائع جس میں برقی اور ورقی دونوں ذرائع ابلاغ شامل ہیں۔

اس کے بعد باری آتی ہے چوتھے عنصر کی جس میں دہشت گردوں کے فکری بیانیے کے رد کے لیے نفسیاتی وسائل کا استعمال شامل ہے، یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ دہشت گرد کو موت نہیں روک سکتی بلکہ در حقیقت وہ خود مرنا چاہ رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کی سمجھ کے حساب سے وہ شہید ہوجائے گا اور یوں جنت پکی ہوجائے گی، یعنی اسے صرف دو اچھائیاں ہی نظر آرہی ہوتی ہیں “فتح یا شہادت” اگر وہ دنیا میں فتح پا گیا تو “شرعی خلافت” قائم کر پائے گا جس کی اسے خواہش تھی اور اگر مارا گیا یعنی شہید ہوگیا تو اس کا شمار “علیین” میں ہوگا اور جنت میں اسے اعلی اور ارفع مقام حاصل ہوجائے گا، اور تیسری صورت میں اگر وہ “دشمنوں” کے ہتھے چڑھ گیا یعنی پکڑا گیا تو انسانی حقوق کی داعی تنظیمیں اس کے دفاع میں زمین آسمان ایک کردیں گی اور اس سے پروقار برتاؤ کے لیے جد وجہد شروع کر دیں گی، مختصر یہ کہ دہشت گرد کے لیے کوئی “روایتی” فکری رکاوٹ نہیں ہے جو اسے پھر سے دہشت گردانہ حملوں سے روک سکے۔

قاری کہہ سکتا ہے کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اسلامی دہشت گردوں کے لیے کوئی فکری رکاوٹ موجود نہیں ہے جو درست نہیں، ہمارے کہنے کا مطلب فقط یہ ہے کہ انہیں روکنے کے لیے دیگر “غیر روایتی” وسائل بھی موجود ہیں۔

چوتھا اور آخری عنصر معاشرتی فکر میں فن، موسیقی، خوبصورتی اور جدت پسندی کو مقدس مقام دلانا ہے، جیسا کہ واضح بھی ہے کہ تمام تر انتہاء پسند مذہبی تنظیمیں فن، موسیقی اور خوبصورتی کی سخت مخالف ہوتی ہیں، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انتہاء پسندانہ فکر کی ترویج کی بنیاد ہی انسان میں جمالیاتی حس کو مارنے سے شروع ہوتی ہے، اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے، کسی انسان میں فنی ادبی ذوق کی سرکوبی ایسے ہی ہے جیسے کسی انسان کو چکھنے کی صلاحیت سے محروم کر دینا جس سے جمیل وقبیح چیزوں کی تمیز جاتی رہتی ہے، ایسے انسان کے منہ میں کچھ بھی ڈال دیا جائے وہ اسے قبول کر لے گا کیونکہ وہ اچھے اور برے ذائقے کی تمیز سے عاری ہوچکا ہے۔

فونِ لطیفہ کے ساتھ بھی انسان کا کچھ ایسا ہی معاملہ ہے، کسی انسان میں اگر فنی ذوق ختم کر دیا جائے تو اس کی عقل خوبصورت اور بد صورت میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتی ایسے میں اس کے دماغ کو بڑی آسانی سے بد ترین برائیوں سے پر کیا جاسکتا ہے جنہیں وہ آسانی سے قبول کر لے گا کیونکہ وہ تمیز ہی نہیں کر سکتا، یہی وجہ ہے کہ فن وجمال کی سرکوبی تمام تر مذہبی تنظیموں کا بنیادی منشور ہے اور اس میں کسی ایک تنظیم کو بھی استثناء حاصل نہیں ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ فن وجمال وموسیقی کے عوامل معاشرے میں انتہاء پسندانہ سوچ کے خلاف مدافعانہ خواص رکھتے ہیں۔

لووغ عجائب گھر ابوظبی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے کہا تھا “لووغ عجائب گھر ابوظبی مذہبی انتہاء پسندی سے فنی خوبصورتی سے لڑنے کی ہماری صلاحیت کا نمائندہ ہے”۔

اور ایک مشہور حدیث کا مفہوم ہے کہ اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔

Source: http://www.newageislam.com/urdu-section/basil-hijazi,-new-age-islam/facing-extremism–some-key-proposals–انتہاء-پسندی-کا-سامنا،-چند-اہم-تجاویز/d/114248

Check Also

How Mariam Khatoon, Yashpal Saxena and Imam Rashidi show the way to a more humane society

WordForPeace.com Amidst the clamour for retribution, we must listen carefully to the gentle voices that …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *