Darul Uloom Deoband Against The ‘Erroneous’ Thoughts Of The Tablighi Jama’at

word for peace,

 دارالعلوم دیوبند تبلیغی جماعت کے ‘غلط’ نظریات کے خلاف: تبلیغی جماعت کے خلاف دیوبند کے فتوی میں اہم الزامات کا تجزیہ

غلام رسول دہلوی، 

حیرت کی بات ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے سو سالہ تاریخ میں پہلی بار اپنی نظریاتی شاخ-تبلیغی جماعت پر اپنا دروازہ بند کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تبلیغی جماعت پر دارالعلوم کی “چہار دیواری” کے اندر کسی بھی سرگرمی انجام دینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ 10 اگست کو وسیع پیمانے پر اردو پریس میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں مدرسے کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر کسی بھی طالب علم کو کسی بھی شکل میں تبلیغی جماعت کی تحریک میں ملوث پایا گیا تو اس پر تعزیراتی کاروائی کی جائے گی۔

کافی تاخیر سے دارالعلوم دیوبند نے تبلیغی جماعت کو “گمراہ”، ‘‘گمراہ گر نظریات کی اشاعت کرنے والی’’ ، اور “قرآن و حدیث کی غلط ترجمانی کرنے والی جماعت” قرار دیکر اس کے خلاف ایک دوٹوک فتوی جاری کیا ہے۔ دیوبند نے یہ بھی کہا ہے کہ تبلیغی جماعت کے موجودہ سربراہ مولوی سعد کاندھلوی ‘خدا کی بارگاہ میں توبہ’ کر لیں۔ ان پر ‘نظریاتی طور پر گمراہی ، اسلامی نصوص کی غلط تشریحات اور نبوت کی بے حرمتی’، کرنے کا الزام لگاتے ہوئے علمائے دیوبند کے فتویٰ میں یہ کہا گیا ہے کہ: “مسلمانوں اور خاص طور پر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک لوگوں کو اس امر سے خبردار کرنا ہمارا مذہبی فریضہ ہے کہ جماعت کے موجودہ سربراہ، مولوی سعد کاندھلوی قرآن و حدیث کی غلط ترجمانی کر رہے ہیں”۔

دارالعلوم دیوبند کے دار الافتاء نے بھوپال میں منعقدہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں اس کے سربراہ مولوی سعد کاندھلوی کے خطاب سے منسوب مختلف بیانات کا حوالہ پیش کیا ہے۔ مولوی سعد کاندھلوی نے بہت ساری ایسی باتیں کی ہیں جو دیوبند کے مفتیوں کے مطابق اسلام کی فقہی تفہیم کے خلاف ہیں۔ اردو میں اس فتوی کی سرخی ہے:

“مولانا محمد سعد کاندھلوی کے بعض غلط نظریات و افکار کے سلسلہ میں دارالعلوم دیوبند کا متفقہ موقف”

یہ مفصل فتوی دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (www.darulifta-deoband.com/home/ur/Dawah–Tableegh/147286)

 تبلیغی جماعت کے خلاف دیوبند کے فتوی میں ایک اہم الزام یہ بھی ہے کہ تبلیغی جماعت اپنے پیروکاروں کو جس کتاب ‘‘فضائل اعمال’’ کی تعلیم دیتی ہے وہ ایسے متعدد مواد پر مبنی ہے جو قرآن اور مستند احادیث سے بالکل متضاد ہیں۔ تبلیغی جماعت اور اس کے طریقہ تبلیغ کے بارے میں اس طرح کے اعتراضات اس قبل بھی بارہا اٹھائے گئے ہیں۔ خود دارالعلوم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس سے قبل بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت –جہاں ‘تبلیغی جماعت کے سربراہ کے گمراہ کن نظریات کی اشاعت ہوئی ہے’ –متعدد ذرائع سے اس طرح کی شکایات موصول ہو چکی ہیں۔

لیکن یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ تبلیغی جماعت کے اس قدر خطرناک موقف کو کیوں نظرانداز کیا گیا جو اپنے نصاب تبلیغ میں موجود نظریاتی جہادیت کی بیج بو رہا ہے۔ “فضائل اعمال” اور “تعلیم اسلام” جیسی کتابیں جہادیت نواز تعلیمات پر مشتمل ہیں۔ لیکن ان دونوں نصابی کتابوں کو تبلیغی جماعت کے پیروکار اسلام کے دو بنیادی نصوص قرآن و حدیث جیسی اہمیت دیتے ہیں۔ در اصل تبلیغی جماعت کے مشترکہ پیروکار اس کتاب کو قرآن مجید سے بھی ایک قدم بڑھ کر زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی نظریہ سازوں میں سے ایک “تعلیم اسلام” میں جہادی نظریہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں: “جہاد کلمہ (اللہ کے کلام) کو پھیلانا اور اللہ کے احکام کو نافذ کرنا ہے۔”

در حقیقت خدا کے کلام کی اشاعت تبلیغی جماعت تک ہی محدود نہیں ہے۔ تمام اسلامی، عیسائی، یہووی اور دیگر اناجیلی تنظیمیں دعوت و تبلیغ کی بنیاد پر تقریبا یہی کام کر رہی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز امر “اللہ کے احکام نافذ کرنے” کے بارے میں تبلیغی جماعت کے واضح احکامات ہیں ۔

 مذہبی اصطلاح میں عربی لفظ کلمہ اسلام کا ایک ایسا پہلا رکن ہے جو ایک مسلمان کو اس بات کی گواہی دینے کا حکم دیتا کہ “اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد اللہ کے آخری رسول ہیں”۔ لیکن تبلیغی جماعت کے 6 نکاتی نصاب میں شامل کئے جانے کے بعد اس کی ایک یکسر متضاد تعبیر کر دی گئی جیسا کہ اس کا ذکر ‘فضائل اعمال’ میں ہے۔ اس کتاب کا ایک اقتباس؛ “مسلمان برائی کے خلاف جنگ کے معنوں میں جہاد کی ایک مسلسل حالت میں ہیں۔ ان کا ہتھیار دعوۃ (مذہب کی تبلیغ) ہے اور ان کی لڑائیوں کی فتح یا شکست دلوں میں ہے”۔

جماعت سے وابستہ چند مبلغین اور علماء کو چھوڑ کر تبلیغی جماعت کے تقریبا تمام اراکین کا کام صرف عام مسلمانوں کے سامنے فضائل اعمال کو پڑھ کر سنانا ہے۔ تبلیغی مبلغین اپنے ناظرین کے ذہن و فکر پر –جن میں زیادہ تر ناخواندہ اور سادہ لوح مسلم نوجوان ہوتے ہیں –جھوٹی کہانیاں اور نبی ﷺ سے منسوب من گھڑت احادیث بیان کر کے قبضہ جماتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد میں اسلامی محققین کا یہ کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کامکمل نصاب بالعموم اور فضائل اعمال بالخصوص موضوع احادیث سے بھری ہوئی ہے۔

فضائل اعمال کی تعلیم ہے کہ ایک حقیقی اسلامی زندگی بسر کرنا اس دنیا کے تئیں نفرت اور دشمنی پیدا کئے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ در حقیقت تبلیغی جماعت موت سے پہلے پوری زندگی کو لاحاصل اور بے معنی سمجھتی۔ فضائل اعمال میں لکھا ہے کہ “یہ دنیا ایک بیت الخلاء یا ایک جیل کی طرح ہے”۔ اس عقیدے کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکثر تبلیغی مبلغین اس کتاب کو قرآن سے ایک درجہ زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ نتیجۃً، تبلیغی جماعت کے مبلغین اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ ‘صرف یا تو جنت کی یا قبر کی بات کرتے ہیں اور درمیان میں دنیا کی کوئی بات نہیں کرتے’۔ ایسے متعصب مذہبی خیالات دراصل قرآن مجید کی ان آیات سے واضح طور پر متصادم ہیں جن میں رہبانیت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

تبلیغی جماعت کی پوری عمارت ان چھ نکات پر قائم ہے جن کی تفصیل “تحریک ایمان” کے شروع میں پیش کی گئی ہے۔ وہ چھ نکات اس طرح ہیں: (1) ایمان ، (2) نماز ، (3) علم و ذکر، (4) اکرام مسلمین (مسلمانوں کا احترام )، (5) اخلاص نیت اور (6) تفرغ وقت (دعوت و تبلیغ کے لئے وقت نکالنا)”۔

کتاب “تعلیم اسلام” میں ایک ذیلی عنوان “عام اصول”، کے تحت چھ نکات پر تبصرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں: “ثانوی اہمیت کے کسی بھی نکات پر کسی بھی وقت کوئی بحث نہیں کی جانی چاہئے۔ بلکہ بات ہمیشہ صرف تبلیغ کے اہم نکات پر ہی ہونی چاہئے۔۔۔ ۔۔ تبلیغی جماعت کا کام اور اس کا نظام اختیار کئے بغیر اور اس پر سختی کے ساتھ عمل پیرا ہوئے بغیر نہ کوئی نفع ہے ، نہ کوئی عزت ہے ، نہ کوئی خوشی ہے اور نہ ہی زندگی میں کوئی امن و سکون ہے۔ “

 اس طرح، اپنے 6 نکاتی نصاب میں تبلیغی جماعت نے دعوۃ کے اپنے بنیادی مقصد کی وضاحت کی ہے جو کہ “اللہ کے احکام نافذ کرنے” کے ایک مخصوص تصور پر مبنی ہے۔ تبلیغی جماعت کے نظریہ سازوں کا ماننا ہے کہ تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والے مسلمان “امر بالمعروف و نہی عن المنکر” یعنی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کے قرآنی حکم پر عمل کریں گے۔ انہوں نے اسے قرآن کی اس آیت سے اخذ کیا ہے جس میں اللہ کا فرمان ہے : “تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو” (3:110)۔

بظاہر، آج جس طرح لفظ پرست اسلام پسند “نیکی” کی دعوت دے رہے ہیں اور “برائی” سے روک رہے ہیں وہ بعض اوقات ناپسندیدہ اور شر آمیز ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال سعودی عرب کے مکہ میں پیش آنے والے ایک حالیہ واقعہ سے پیش کی جا سکتی ہے جس کی تنقید اگر چہ مرکزی دھارے کی میڈیا میں نہیں لیکن چند ترقی پسند سعودی اخبارات میں ضرور کی گئی۔ 11 مارچ، 2002 کو مطوین یعنی سعودی عرب کی اسلامی پولیس نے طالبات کو ایک جلتے ہوئے اسکول سے فرار ہونے کی اجازت نہیں دی کیوں کہ وہ لڑکیاں حجاب میں ملبوس اور ‘ایک مرد سرپرست کے ہمراہ’ نہیں تھیں۔ سعودی عربی روزنامہ عکاز کے مطابق “نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے ” کے اس مظاہرے میں پندرہ نوجوان طالبات ہلاک ہوئیں اور پچاس طالبات زخمی ہو گئیں۔

اتر پردیش کے ایک اسلام پسند عالم دین مولوی محمد الیاس کاندھلوی کے ذریعہ 1926 میں قائم کردہ تبلیغی جماعت کا مقصد “گمراہ” یا “منحرف” (بدعتی) مسلمانوں کو خالص مومن بنانا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے رلیجن اینڈ پبلک لائف کے مطابق تبلیغی جماعت 150 سے زائد ممالک میں پھیلی ہوئی ہے جس سے 12 سے 80 ملین تک لوگ منسلک ہیں۔ تبلیغی جماعت اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی جب ایک زمانے میں سوویت یونین کا حصہ رہے ازبکستان، تاجکستان اور قزاقستان نے یہ الزام لگاتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی کہ تبلیغی جماعت مذہب کی رجعت پسندانہ تعلیم پیش کرتی ہے۔

برصغیر میں کئی ترقی پسند اسلامی علماء کا یہ کہنا ہے کہ اسلام پسند تفوق پرستی اور قدامت پسندی تبلیغ جماعت جیسی رجعت پسندانہ تحریک کی پیداوار ہے۔ ایک اہم کتاب “Faith-Based Violence and Deobandi Militancy in Pakistan”، میں تبلیغی انتہا پسندی کے مختلف رنگوں اور مذہب پر مبنی تعصب کے مضمرات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ عرشی سلیم ہاشمی جنہوں نے اس کتاب میں دیوبندی انتہا پسندی کی تاریخی بنیادوں پر ایک باب تحریر کی ہے لکھتی ہیں “بنیاد پرست اسلام کی اس جہت کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اسکالر شپ میں بڑے پیمانے پر یا تو نظر انداز کر دیا گیا ہے یا اسے غلط انداز میں سمجھا گیا ہے”۔

Check Also

In the era of virtual terrorism, all cyber-enabled nations are equal

WordForPeace.com By Daniel Wagner A victory in information warfare can be much more important than victory …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *