Dr Waris Mazhari on Islamic Moderation کیا ہندو مشرکین ِعرب کے مثل ہیں؟  کتاب”اسلام کا نظریہِ اعتدال” میں ڈاکٹر وارث مظہری کا استدلال

WordForPeace.com (Urdu Section)
 کتاب: اسلام کا نظریہِ اعتدال
مصنف: وارث مظہری
صفحات: 272 
ناشر:   البلاغ پبلیکشنز، نئی دہلی
 تبصرہ نگار: محمد تہامی بشر
“اسلام کا نظریہ اعتدال”  کے زیرِ عنوان چار ابواب کو محیط 272 صفحات کی  ایک اہم کتاب ہمارے پیشِ نظر ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے مصنف، ہندوستان کی علمی دنیا کے ایک روشن فکر محقق  جناب ڈاکٹر وارث مظہری ہیں۔ اُن کے علمی امتیازات میں یہ وصف نمایاں ہے کہ ان کی فکر عہدِ حاضر کے فہم سے عاری ہے نہ مسلم علمی تراث سے بے نیاز۔ وہ جہاں تعبیر مذہب کے ذیل میں تشکیل پائے گئے فکری دھاروں کے شناور ہیں، وہیں عہدِ موجود  کے فہم مستقیم کے حامل بھی ہیں۔ ان اوصاف نے ان کی فکر میں وہ توازن پیدا کر دیا ہے، جس کے بعد مذہبی فکر کو اس نہج پر استوار کرنا ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے انسان کے لیے بھی بروئے کار لائی جا سکے۔
ڈاکٹر مظہری ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے مذہبی ذہنوں میں در آئی انتہا پسندی کے مسئلہ کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنایا اور نہایت خو ب صورتی کے ساتھ، اس باب میں   بھی اپنے فکر و مطالعہ کا حاصل کتاب کی صورت میں  ہمارے سامنے  رکھ دیا۔ خاص و عام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ مسلم سماج  کئی برسوں سے  مذہبی انتہا پسندی کے سنگین  نتائج  بھگت رہا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو اپنے انتہائی نتائج میں تکفیر و تقتیل تک کے مراحل عبور کرلینے میں بھی کوئی باک نہیں رہتا۔
زیرِ نظر کتاب انتہاپسندی پر مبنی مذہبی فکر کے متبادل کے طور پر ایسی فکر سے روشناس کرواتی ہے جس کا بنیادی عنصر اعتدال  ہے۔ باب اول ” اسلام  اور اعتدال پسندی ” کے زیرِ عنوان ہے جس میں اسوہِ رسول ﷺ کو سامنے رکھ کر اعتدال کی راہیں واضح کی گئی ہیں اور تکفیر کے مسئلہ سے تعرض کیا ہے۔ بابِ دوم جہاد و قتال کی غلط تفہیمات کے بر خلاف درست تعبیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور فدائی حملوں کی شرعی حیثیت کی بحث سے تعرض کرتا ہے۔ بابِ سوم میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلق کی مختلف شکلوں  کو زیرِ بحث لایا گیا ہے، جس کا مطالعہ قاری کو اُس فکری ونفسیاتی گھٹن سے آزادی بخشتا ہے، جو غلط مذہبی  تعبیرات کے زیرِ اثر پیدا کر دی گئی ہے۔  آخری باب کا مطالعہ قاری پر اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ آزادی و سیکولرازم کی اقدار کے غلبہ میں مسلم طرزِ فکر و عمل کی تشکیل کس نہج پر ہونی چاہیے اور تکثیری معاشروں میں جینے کا درست مذہبی طرزِ عمل کیا ہو سکتا ہے؟
متعدد وجوہ کے زیرِ اثر، عہدِ حاضر میں مذہبی ذہن جن ابہامات و تضادات کا شکار ہو کر رہ گیا ہے، اس کے پیشِ نظر ہم سمجھتے ہیں کہ اس نوعیت کے اہم مطالب  پر مشتمل کتب مسلم قوم  کے زیرِ مطالعہ آنی چاہئیں تاکہ مذہبی ذہنوں پر درست طرزِ فکر و عمل کی راہیں کھلنے کے امکانات روشن تر ہو سکیں۔ مسلم ذہن اور مسلم سماج عہدِ موجود میں جن مذہبی تعبیرات کی زد میں ہے، ہمیں یقین ہے کہ ڈاکٹر مظہری کی یہ کتاب ایسے میں درست  رہنمائی  ثابت ہو گی۔  کتاب سے چند اقتباسات یہاں نقل کیے جاتے ہیں جس سے قاری کو  مندرجات کی  قدر و قیمت سمجھنے میں سہولت رہے گی۔ کتاب میں تکفیرکے نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا :
“تاہم  نظریہِ تکفیر میں افراط و تفریط کا سب سے بڑا نقصان اس شکل میں سامنے آیا کہ بعض مسلم ممالک میں حکومت کے خلاف سرگرم شدت پسند جماعتوں نے اسے حکومت کے ساتھ خفیہ جنگ کی سب سے اہم بنیاد اور سب سے مؤثر ہتھیار بنا لیا”۔ص 43
ہندوؤں  کو مشرکین ِعرب کے  مثل  باور کرنے والے مذہبی  استدلال کے سقم کی نشاندہی کرتے ہوئے  ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :
“یہ بات بھی بحث کا موضوع ہے کہ اگر ہندو مشرک ہیں تو کیا انہی معنوں میں مشرک ہیں جن معنوں میں مشرکینِ عرب تھے ؟ ظاہر ہے ایسا نہیں ہے۔ خود فقہاء اور مفسرین نے شریعت کے مختلف احکام میں عام مشرکین اور مشرکین عرب میں تفریق کی ہے۔ جہاد کا حکم جن معنوں میں مشرکینِ عرب سے تھا انھی معنوں میں عام مشرکین سے نہیں تھا۔ یہ تفریق اس لیے ضروری ہے کہ  ہمارے بہت سے علما و واعظین قرآن کی ان آیات کو جو مشرکین عرب کے بارے میں ہیں، پندوستان کے ہندوؤں پر منطبق کر دیتے ہیں۔ مثلاً یہ آیت کہ : ” تم مؤمنین سے عداوت میں سب سے زیادہ شدید یہود اور مشرکین کو پاؤ گے”۔ص  171
مذہبی و فکری اختلاف میں درآئے المیے کی نشاندہی ان الفاظ میں کی گئی ہے :
“ہم نے یا تو ایک دوسرے کو اس کے اصل ماخذ سے پڑھنے سمجھنے کی کوشش  ہی نہیں کی ، یا پھر اپنی شرطوں اور اپنے ذہنی و فکری فریم ورک میں پڑھنے کی کوشش کی۔ اس لیے ایسا لٹریچر سامنے نہیں آ سکا، جو ایک دوسرے کو صحیح اور سنجیدہ بنیادوں پر سمجھنے میں معاون ہو”۔  ص 182
اسی بحث کے ایک  اہم پہلو کو مصنف یوں بیان کرتے  ہیں :
’’ہمارے یہاں مدارس میں تقابل ادیان کا مضمون نہیں پڑھایا جاتا۔ اس لیے طلبہ ہندومت کے بارے میں صرف سطحی اور سنی باتوں سے ہی واقف ہوپاتے ہیں۔ اس طرح سنجیدہ لٹریچر کی تیاری کے علاوہ سماجی سطح پر دونوں فرقوں کے درمیان اشتراک عمل کے دائرے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں فسادات کے سلسلے، خصوصا بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعدہونے والے ملک گیر فسادات اور گجرات کی نسل کشی کے واقعے کے بعد مسلمانوں کے اندر مخلوط آبادی سے ہٹ کرعلاحدہ مسلم آبادی میں سکڑنے سمٹنے کا رجحان پیدا ہوا۔نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہم مسلم علما اور قائدین نے اس رجحان کی نہ صرف حمایت کی بلکہ حدیث سے اس کے دلائل بھی پیش کرنے میں جٹ گئے ۔ حالاں کہ ایسی ساری حدیثیں جن میں مشرکین کے درمیان رہنے کی وعید آئی ہے وہ ہجرت کا حکم نازل ہونے کے بعد مکہ میں رہ جانے والے لوگوں سے متعلق ہیں جن کی جان سے زیادہ ایمان کو وہاں شدید خطرات لاحق تھے۔ ہندوستان میں ایسا کرنا دعوتی، قومی، معاشی ہر اعتبار سے شدید نقصان دہ اور تباہ کن ہے۔ سماجی سطح پراشتراک عمل کو بڑھانے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے غیر مسلموں کے ساتھ باہمی سماجی تعامل کے فقہی احکام میں جو مسلمانوں کے تہذ یبی اور عددی غلبے کے ماحول میں مدون کیے گئے تھے، لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔غیر مسلم تقریبات میں شرکت، تہواروں پر انھیں مبارک باد دینا، سلام دعا، عیادت وتعزیت، تحائف کا تبادلہ وغیرہ امور میں قدیم فقہی اقوال کی روشنی میں مسلمانوں کے اندر تحفظات پائے جاتے ہیں‘‘۔
ہندو مسلم  تعلقات پر طاری ہو جانے والی نفرت کی فضا کا تاریخی تناظر میں تجزیہ  کرتے ہوئے فاضل محقق لکھتے ہیں:
’’باہمی سطح پر پیدا ہونے والی دوری اور کشمکش کے تاریخی عوامل میں سب سے اہم عامل دونوں فرقوں کے درمیان پایا جانے والا فاتح و مفتوح کا رشتہ تھا۔ مسلمانوں کا اس ملک سے ابتدائی تعلق پرامن دعوت و تجارت کی بنیاد پر قائم ہوا تھا لیکن وہ بہت جلد فاتح و مفتوح کے تعلق میں بدل گیا۔ جس کے لیے ظاہر ہے ہندو ذہن کسی بھی طرح تیار نہیں تھا۔ چناں چہ پورے عہدِ سلاطین (۱۵۲۴۔۱۲۰۶) میں ہندو مسلمانوں کو غیر ملکی اور اپنا حریف تصور کرتے رہے۔ اور اس عہد کے مسلم حکم رانوں نے بھی مذہب کے نام پر جانب دارانہ پالیسیوں کو برقرار رکھا، جس کا ایک مظہر جزیہ کے نظام کا نفاذ تھا۔ ایک معمولی اقلیت کی طرف سے دوسری عظیم اکثریت کے ساتھ، اس قسم کا برتاؤ، خواہ وہ کسی نظریاتی یا عملی بنیاد پر کتنے ہی مخلصانہ انداز میں کیوں نہ کیا گیا ہو، اس کے لیے اضطراب انگیز تھا۔ مغلیہ حکومت (۔۱۵۲۶۔۱۸۵۷) کی طرح سلاطین حکومت بھی کسی بھی معیار سے اسلامی حکومت نہیں تھی۔ اسلام کے سیاسی و اجتماعی قوانین برائے نام نافذ تھے لیکن شاہی خزانے میں اضافے کے لیے جزیے کے نظام کو اسلام کے نام پر نافذ کرنا ضروری سمجھا گیا حالاں کہ حضرت عمرؓ کی طرح جزیہ کے بجائے یہ رقم عام عوامی ٹیکس کے عنوان سے بھی وصول کی جاسکتی تھی لیکن اجتہادی بصیرت کے بجائے قدیم فقہا کے اقوال اور درباری مفتیوں کے فتاویٰ پر انحصار کیا گیا۔ مغلیہ عہد اس اعتبار سے اہم عہد تھا کہ اس میں خصوصاً اکبر کے دورِ حکومت (۱۵۵۶۔۱۶۰۵) میں دونوں فرقوں کے درمیان تعامل اور تقارب کی راہیں ہموار ہوئیں۔ اکبر نے عباسی حکمراں مامون (۷۸۶۔۸۳۳) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوؤں کیثقافت، مذہب اور تاریخ سے تعلق رکھنے والی کتابوں کے ترجمے کا غیرمعمولی کام شروع کیا، جن سے ہندوؤں کے نظریات و ثقافت کے بارے میں صحیح معلومات عام ہوئیں۔ یہ ہندوؤں کے ساتھ مکالمے کی صحیح معنوں میں پہلی سنجیدہ کوشش تھی۔ مابعد زمانوں میں اس کے ہندوستان کی علمی وذہنی فضا پر خوشگوار اثرات قائم ہوئے‘‘۔
مصنف نے جس مذہبی تفہیم کو ہمارے سامنے رکھا ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے، مذہبی زندگی،  سماجی امن  کے لیے  خطرے کی ہم معنی  نہیں رہتی  اور اس عہد کا مذہبی ذہن اس کتاب سے یہ جان سکتا ہے کہ کسی تکثیری سماج میں مذہبی زندگی کے اظہاریے کی درست صورتیں کیا ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی تصنیفی زندگی میں تراجمِ کتب کا دائرہ بھی شامل ہے۔ اُن کی  اب تک شائع ہو جانے والی کتب میں ’’ ہندوستانی مدارس میں اصلاح کی ضرورت: ایک جائزہ‘‘، ’’قرآن کی تعلیمات اور عصر حاضر‘‘، ’’ دینی مدارس اور دہشت گردی: الزام اور حقیقت‘‘ ، ’’دعوت فکر وعمل‘‘ ایسی وقیع کتب شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے انگریزی اور عربی سے متعدد اہم علمی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے جن میں اوشا سانیال کی کتاب: ڈیووشنل اسلام  اینڈ پالیٹکس ان برٹش انڈیا کا ترجمہ ’’ برطانوی ہندوستان میں عقیدت پر مبنی اسلام اورسیاست: اعلی حضرت مولانا احمد رضا خاں بریلوی اوران کی تحریک 1920- 1870‘‘ اور پروفیسر ابراہیم موسی کی کتاب: وھاٹ از مدرسہ  کا ترجمہ:  دینی مدارس: عصری معنویت اورجدید تقاضے‘‘ جیسی  اہم کتابیں شامل ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ

About admin

Check Also

(India) Muslim Teacher Helps Restore Temples

Word For Peace This retired Muslim teacher from Nagamangala in Mandya district is the go-to …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *