Four Ways to Attain Closeness with God’s Friends اولیاےکرام کو ماننے کے چار طریقے

By Muhammad Farman Nizami, Word for Peace

کسی بھی ولی کو ماننا چار طرح کا ہوتا ہے جنمیں سے تین طریقہ سے  ولی ماننا شرک وکفر اور اسلام کے خلاف ہے اور ایک طریقہ کا ولی ماننا عین ایمان ہے ذیل میں صرف قران کریم کی روشنی میں انہیں چاروں طرق کو بیان کیا جا رہا ہے بغور ملاحظہ فرمایں اور فیصلہ کریں کی اولیاےکرام کو عوام الناس کس طرح سے مانتے ہیں ایا انکا ماننا اسلام کے مطابق ہے یا مخالف –
(1) رب تعالی کو کمزور جان کر کسی اور کو مددگار ماننا یعنی رب ہماری مدد نہیں کر سکتا ہے فلاں ہمارا مددگار ہے – لہذا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
” ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا ” (اور کوئ ولی نہیں اللہ کا کمزوری کی بناء پر اور اللہ کی بڑائ بولو )    پ 15 س بنی اسرایل ایت 111 ،
اس ایت کریمہ میں ولی کو اللہ سے زیادہ طاقتور ماننا ہے اور اللہ کو ولی سے کمزور ماننا ہے جو کہ بداہۃ اسلام کے خلاف ہے –
(2) خدا کے مقابل کسی کو مددگار ماننا یعنی رب تعالی عذاب دینا چاہے اور ولی بچا لے چنانچہ اللہ ارشاد فرماتا ہے
” وما کان لھم من اولیاء ینصرونھم من دون اللہ”( اور انکا کوئ ولی نہ ہوگا جو اللہ کے مقابل انکی مدد کرے )   پ25 س شوری ایت 44 ، اس ایت کریمہ.میں بھی ولی کو اللہ کے مقابلہ کا ماننا ہے یعنی ایک طرف اللہ اور دوسری طرف ولی ،
(3)  کسی کو مددگار سمجھ کر پوجنا یعنی ولی بمعنی معبود  لہذا رب ارشاد فرماتا ہے
” والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفا ” ( اور جنہوں نے رب کے سوا اور ولی بناے کہتے ہیں کہ ہم تو انہیں نہیں  پوجتےمگر اسلیے کہ  وہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں ) پ23 س زمر ایت 3  اس ایت مبارکہ میں ولی بمعنی معبود بتایا گیا ہے یعنی ولی کی عبادت کرنا لہذا یہ طریقہ بھی بلا شبہ شرک ہے
←  اب قایرین اکرام سے گزارش ہے کہ وہ ان تینوں ایات کو دیکھیں کہ کیا گرے سے گرا انسان بالکل پٹ جاہل بھی کسی ولی کو ان تینوں طریقوں میں سے کسی بھی طریقہ سے مانتا ہے ؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اولیاء کوصرف اور صرف  اللہ کا بندہ سمجھ کر اور یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ کے نیک بندے ہیں اور اللہ نے انکو طاقت عطا فرمائ ہے اور سب کچھ انکو اللہ ہی نے عطا فرمایا ہے لہذا یہ بزرگ مجھ جیسے گنہگار کی مدد کر سکتے ہیں اوراگر یہ اللہ سے میرے لیے دعا کر دینگے تو میرا بیڑا پار ہو جاےگا( اولیاءکرام کی دعا اللہ کبھی رد نہیں فرماتا اور اللہ نے انکو تصرفات کرنے کی طاقت عطا فرمائ ہے یہ بات بھی احادیث کی متعدد کتب سے صراحۃ موجود ہے مگر یہاں پر صرف اولیاء کو ماننے کے طرق کوبیان کرنا مقصود ہے )
←  (4) اب آیے اس چوتھے طریقہ کو بیان کرتے ہیں جسکو ماننا عین ایمان ہے اور پوری دنیا کے سنی مسلمان اسی طریقہ سے تمام اولیاءکرام کو مانتے ہیں یعنی کسی کو اللہ کا بندہ سمجھکر اللہ کے حکم سے اسے مددگار مانا جاے اور اسکی مدد کو رب تعالی کی مدد کا مظہر سمجھا جاے
اللہ ارشاد فرماتا ہے
” فاجعل لنا من لدنک ولیا واجعل لنا من لدنک نصیرا “( خداوند ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئ ولی اور مددگار مقرر فرمادے) پ5 س نساء ایت 75
” فان اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المؤمنون  والملاءکۃ بعد ذالک ظھیر”( پس اپنے نبی کا مددگار اللہ اور جبریل اور نیک مسلمان اور اسکے بعد فرشتے مددگار ہیں ) پ 28 س تحریم ایت 4
” انما ولیکم اللہ ورسولہ والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاۃ ویؤتون الزکوۃ وھم راکعون “( تمہارا ولی اللہ ہے اور اسکا رسول ہےاور وہ مومن بندے ہیں جو نماز ادا کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنے رب کے حضور جھکے ہوے ہیں ) پ6 س ماءدہ ایت 55
” والمؤمنون والمؤمنات بعضھم اولیاء بعض “( اور مومن مرد اور مومن عورتیں انکے بعض بعض کے ولی ہیں )پ 10 س توبہ ایت 71
ان ایات کریمہ میں بالکل صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ کسی کو خدا کا بندہ سمجھ کر ولی ماننا شرک نہیں ہے
←   خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی غیراللہ کو اپنا ولی ومددگار مانناشرک وکفر نہیں ہے اور اسکو شرک وکفر کہنا  نقل وعقل دونوں کے ہی خلاف ہے نقل سے اچھی طرح ثابت ہوگیا اور عقل کے خلاف اس لیے ہے کہ دنیا ودین کا قیام ایک دوسرے کی مدد پر ہی ہے اگر باہمی امداد بند ہو جاے تو نہ دنیا آباد ہے نہ دین تو اسی سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی ایسی اہم چیز کو شرک کیسے فرما سکتا ہے اور اسی طریقہ سے آج تک اہل سنت والجماعت اولیاء کو مانتے ہیں  اللہ تعالی ہم سبکو صحیح معنی میں قران وحدیث سمجھنے کی توفیق عطا فرماے اور ہمارے قلوب میں اولیاےکرام کی محبت عطا فرماے آمین بجاہ سید الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
محمد فرمان نظامی

Check Also

How An Act Of Kindness By An Indian-Origin Muslim Helped A Man To Become Top Jurist In South Africa

An Indian-origin shopkeeper based in South Africa became an overnight sensation after the new deputy …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *