Diplomacy for PeaceMultilingualSpirituality for PeaceYouths for Peace

Gandhi Ji and His Religion: Natural Laws and the Universe

Word For Peace

گاندھی جی اور مذہب :
 اس سلسلے کی دو اہم قسطیں جن میں گاندھی صاحب کے مذہبی تصورات کو  موضوع بحث بنایا گیا ہے ۔
گاندھی ایک خدا کو مانتے ہیں ، ہندو  مختلف بتوں کو پوجتے ہیں لیکن اس میں بھی مظاہر قدرت جن میں خدا نظر آتاہے  کی عبادت کرتے ہیں ۔ اصل میں ان کے ہاں  ساری کائنات کی اصل ایک ہی ذات ہے ۔ خدا کے حوالے سے گاندھی جی اپنے عقیدے کو واضح کرتے ہیں ۔ ایک مرتبہ سمندر میں سفر کرتے ہوئے طوفان آجاتا ہے ،  اس کیفیت کونقل کرتے ہیں کہ ہندو ، مسلمان ، عیسائی سب کے سب آپس کے اختلافات بھول گئے تھے اور اس خدائے واحد کو جو سب کا معبو د ہے یاد کررہے تھے ۔
حق وہ روح کلی ہے جو ساری کائنات میں جاوی و ساری ہے انسان اس کے جلوے کی تاب تبھی لاسکتا ہے جب وہ ادنی  مخلوق کو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہو ۔ ہندو چونکہ مظاہر  میں ذات حق کو دیکھتے ہیں ،  کسانوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے کہتے ہیں  مجھے  ان کے ساتھ خدا کا نور ، اہمسا اور حق کا جلوہ نظر آیا ۔گاندھی جی کے مذہبی خیالات میں انسانیت کی خدمت کو سب سےبنیادی اہمیت حاصل ہے ۔
ان کو  عیسائیت متاثر کرتی ہے وہ یہودیت سے بالکل متاثر نہیں ہوتے ہیں  بلکہ اس کو اپنے مذہب سےمتضاد سمجھتے ہیں ،یہودیت میں اسلام کی مانند ہی خالص توحید پائی جاتی ہے اس لئے ان کے مذہبی خیالات اس مذہب کے ساتھ مطابقت نہیں پیدا کرسکتے ہیں ۔
گاندھی جی کا زمانہ وہ ہے جس میں ہندوستان میں عیسائیت کے مشنز کام کرتے تھے ،  اور وہ تعصب اور تشدد سے کام لیتے ہیں اس لئے یہ ان کو دل وجان سے برا سمجھتے ہیں ۔ لیکن انگلستان میں عیسائیت کے مطالعہ اور مختلف عیسائی پادریوں اور مذہبی لوگوں کے ساتھ میل جول سے یہ عیسائیت سے آشناہوتے ہیں ، ان کوعیسائیت کی اخلاقیات اور رہبانیت پسندی  وسادگی بہت بھاتی ہے ۔ دراصل عیسائیت میں یہ چیزیں ان کے اپنے فلسفہ زندگی اور ہندو ازم سے قریب نظر آتی ہیں تو  اس طرح وہ عیسائیت کو اس لحاظ سے اچھا جاننے لگتے ہیں ۔ لیکن عیسائیت کا عقیدہ کفارہ ان کو حیرت میں ڈالتا ہے جس میں ماننے والے اپنے  نبی پر اپنے گناہوں کا بوجھ ڈال دیتے ہیں ، اسی طرح خدا کا بیٹا ایک خاص قوم میں ہونا اور انہی کی بخشش کا ذریعہ ہونا ان کے لئے قابل قبول نہیں ۔ جب خدا سب کا ہے تو بخشش صرف ایک قوم کے لئے کیوں   ؟ ساری انسانیت کے لئے یہ رحمت کیوں نہیں ۔
گاندھی جی کہتے ہیں کہ میں گناہ کے عذاب سے نجات نہیں چاہتا بلکہ مجھے تو خود گناہ سے بلکہ اس کے خیال سے نجات کی جستجو ہے  ۔آریائی مذاہب ہندو مت ، جین مت ، بدھ مت ان تمام میں یہ خیالات مشترک ہیں ، یہ روح کے  چھٹکارے کےلئے محنت کرتے ہیں اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک گناہوں سے بالکل پیچھا نہ چھڑا لیا جائے ، کیونکہ گناہ سے روح ملوث ہوجاتی ہے اور چھٹکارہ نہیں حاصل کرپاتی ۔
ہندو مذہب کے بارے گاندھی جی کہتے ہیں ،ہندو دھر میں جتنی دقت نظر ، نزاکت خیال ، روحانی بلندپروازی اور کشادہ دلی ہے کسی مذہب میں نہیں ۔ہندو مذہب ایک فلسفی مذہب رہاہے  ، ہندوستان کی فلاسفی قدیم شہرت رکھتی ہے انہی فلسفیانہ خیالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ ہندومذہب کے بارے یہ کہتے ہیں  ۔ ہندو مذہب اس حوالے سے یقینا بہت کشادہ دل ہے کہ اس سے بہت سے مذاہب نے جنم لیا لیکن اس نے کسی کو بھی اپنے سے باہر نہیں کیا بلکہ سب کو ہندو ازم کا حصہ ہی سمجھا ۔ بدھ مت ، جین مت ، یا سکھوں کے جس قدر بڑے گزرے ہیں ان کو ہندو بھی بڑ ا سمجھتے ہیں ۔ اصل میں تو حیدی مذاہب سے قبل دنیا میں موجود مذاہب خود کو حق کہنے کے ساتھ دیگر کو باطل کہنا ضروری نہیں سمجھتے تھے ، اور ہندوا زم بھی انہی مذاہب میں سے ہے ۔
گاندھی مسلمانوں کے ترجمہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں ،تورات کے مطالعے سے ان کو نیند آنے لگتی ہے ، انجیل ان کو متاثر کرتی ہے ،اس میں اخلاقیات  اور رحمدلی کا ذکر ملتاہے حضرت عیسی کا پہاڑی کا وعظ وہ بہت پسند کرتے ہیں ۔
حضرت عیسی  اور گوتم بدھ کا تقابل کرتے ہوئے کہتے ہیں ،  گوتم بدھ کے دل  میں اوروں کا کتنا دردر تھا ان کی ہمدردی انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ ساری مخلوق کو محیط تھی ۔ یعنی جانورو ں اور دیگر مخلوقات کے حوالے سے ہندو تصورات کا تقابل کرتے ہیں کہ ہندوؤں کے ہاں ان کو کھانے کی اجازت نہیں ۔
گاندھی جی کے مطابق مذہب اور اخلاقیات دو الگ چیزیں نہیں ہیں ، بلکہ جو مذہب اخلاقیات نہ سکھائے وہ مذہب نہیں ہے مذہب کا وظیفہ ہی اخلاقیات سکھانا  ہے ۔ حسن اخلاق ستیا گری کی جان ہے ۔ حسن اخلاق سے مراد محض ظاہری شیریں کلامی نہیں بلکہ باطنی شیریں مزاجی اور اپنے مخالفوں کی دلی خیر خواہی ہے ۔ مذہب سے ہٹ کر بھی اخلاقیات ہوسکتی ہیں کہ نہیں یہ آج کی دنیا کی بڑی بحثوں میں سے ہے ، یورپ آج  مذہب کومعاشرتی زندگی سے جد ا بھی کردے لیکن اس کی اخلاقیات مذہب سے ہی پھوٹی ہیں ، یہ عیسائیت سے اخذکردہ اخلاقیات ہیں۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ آج کی دنیا میں اخلاقیات کی مسلمہ اقدار وہی ہیں جو مذہب نے متعارف کروائی تھیں ، اچھائی اور برائی کے حوالے سے مذہبی اقدار میں تبدیلی کی بہت  بات کی جاتی ہے اور انسانی معاشروں میں کافی تبدیلی آچکی ہے لیکن اخلاقیات کا سوطہ مذہب ہی ہے جس کی بنیادوں سے انسانیت آج بھی ہٹ نہیں سکی ۔
گاندھی مذہب اور سیاست میں تفریق کے قائل نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ حق کی جستجو ہی مجھے سیاست میں کھینچ لائی ۔ میری ناچیز رائے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مذہب کو سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ مذہب کے مفہوم  کو ناآشنا ہیں  ۔ لیکن یہاں پر گاندھی کے ذہن میں  مذہب کا خاص مفہوم انسانیت کی خدمت ہے اور سیاست بھی اسی کو کہتے ہیں ۔ میرے خیال میں سیکولر حکومت ہونی چاہیے یا مذہبی اور ہندو سٹیٹ  ؟ گاندھی اس مقام پر اس سوال کو ایڈریس نہیں کررہے ۔
ہمارے صوفیاء کی مانندہندوؤں میں ضبط نفس ، خواہش کو دبانا اور روحانیت کو حاصل کرنا ، ذات حق سے جا ملنا ایسی چیزیں ہی اصل مذہب ہیں ۔ گاندھی جی کی تمام مذہبی زندگی انہی چیزوں کے گرد گھومتی ہے  ۔ وہ سادہ خوراک کھاتے ہیں اور خواہشوں کو دباتے ہیں ، آسائش نہیں اختیار کرتے ہیں ، بیوی سے دور رہتے ہیں ا ن کا مقصود ضبط نفس  اور روح کا جسم پر غلبہ اور روح کی صفائی  ہے تا کہ وہ نجات پاسکے ۔
گاندھی جی اور مذہب
کائنات قوانین سے چلتی ہے ؟
خدا براہ راست اس کائنات میں دخل دیتاہے یا اس نے قوانین بنادیے اور انہی کےمطابق یہ کائنات چل رہی ہے ۔ مسلم علم کلام میں یہ بہت اہم بحث رہی ہے ۔ مسلمانوں میں بھی اس حوالے سے مختلف مکاتب رہے ہیں جو کائنات کو چلانے کے حوالے سے مختلف نظریات کے قائل ہیں ۔ بعض نے تویہاں تک تشدد اور تعمق اختیار کیا کہ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات میں بھی خدا کو لے آئے جبکہ بعض کے ہاں خدا اصول بناتاہے اور جزئیات انہی کے مطابق تشکیل پاتی ہیں ۔ گاندھی جی اپنے ملک کے مندروں کے مشاہدے پر کہتے ہیں کہ اگر کسی کو خدا کے بے حساب عفو اور رحم کی شان دیکھنا ہو تو ان مقدس مقامات کو دیکھے ۔ یہ جوگیوں کا داتا لوگوں کو اپنے نام سے کیسی کیسی ریاکاری اور بے دینی کرتے دیکھتا ہے اور درگزر کرتاہے ۔ اس نے مدت ہوئی ہمیں بتا دیا ہے کہ جیسا کرنا ویسا بھرنا ۔ ” کرم ” کے  اٹل قانون سے کسی کو مضر نہیں ۔ پھر خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس نے تو قانون بنا کر گویا دنیا کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہے ۔
کائنات میں جاری و ساری قوانین پر کسی کی حکومت ہے کہ نہیں ؟ موجودہ دور کا انسان سمجھتا ہے کہ ہمارے پاس اس چیز کے شواہد نہیں کہ وہ قوانین کسی خاص ذات کے تخلیق کردہ ہیں اس لئے وہ اس کے انکاریا اثبات میں سے کسی پوزیشن پر نہیں ہے ۔مذاہب  کے پیر و کار  موجودہ دور کے انسان کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر اس کو مذہب کے سایہ میں لا سکتے ہیں جس کا ذہن بالکل کورا ہے ۔
توہم پرستی :
گاندھی جی سانپوں اور زہریلی چیزوں کو بھی مارنے کے حق میں نہیں تھے ۔ کئی مواقع پر بے آباد جگہوں کی آباد کاری میں وہ ایسی چیزوں کو نہیں مارتے تھے اس کو توہم کہیں یا کچھ بھی لیکن ان کے مطابق ان چیزوں نے ہمیں کبھی نقصان  نہیں پہنچایا ۔ میری چشم عقیدت کوا س میں رحمن رحیم کی کارسازی نظرآ تی ہے ۔ کوئی اس کو ضعیف الاعتقادی سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے ، کوئی اگر کہتاہے کہ خدا کو دخل دینے کی کیا ضرورت ہے تو کہتارہے لیکن میرا تجربہ تو یہی کہتاہے ۔ گاندھی جی جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں ایسی سو چ اور فکر عام ہونے جارہی ہے جو ان چیزوں کو توہم اور فضول سمجھتی ہے وہ ان خیالات سے واقف ہیں اور اسی کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے تجربات تو میرے عقائد و نظریات کی تائید کرتے ہیں ۔
گاندھی کو کئی مرتبہ اپنے   ذاتی ، اپنی بیوی یا بچے کے علاج میں ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ دودھ ، یخنی یا گوشت کے استعمال کی ڈاکٹر کی طرف سے سخت تاکید کی جاتی ہے لیکن گاندھی جی اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں ۔ موت کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ان چیزوں نہیں اپناتےہیں ۔
پانی کا علاج  ،  مٹی کا علاج اور گھریلو ٹوٹکوں پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور ان کے ذریعے خود ہی علاج کرتے ہیں ۔ باوجودیکہ مذہبی رہنما گوشت کے استعمال کی بوقت ضرورت یا بیماری اجازت دیتے ہیں لیکن گاندھی ان کی نہیں مانتے ہیں ۔ گاندھی ڈاکٹری علاج پر یقین نہیں رکھتے ہیں ۔ میرا عقید ہ ہے کہ انسان کو دواؤں کے استعما ل کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہزار میں سے نو سو ننانوے محض غذا میں احتیاط کرنے ، مٹی پانی کے علاج اوراسی قسم کے گھریلو چٹکلوں  سے اچھے ہوسکتے ہیں ۔
گاندھی جی کی یہ سوچ اس لحاظ سے یقینا اہم ہے کہ روایتی علاجوں سے جس قدر فائدہ ہوسکتا اسے ہمیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اسی طرح ہر معاملے میں ڈاکٹروں پر انحصار کرنے کی بجائے گھر میں معمولی علاج اور دواد ارو ہوناچاہیے ۔ لیکن جدید علاج کو اس قدر نظر انداز کردینا اور خالصتا توہم کے انداز میں ان کے بارے سوچناعجیب سا بھی لگتاہے ۔ شاید کچھ چیزوں کے بارے تہذیب بھی آڑے آجاتی ہے کہ گاندھی جی اپنے تہذیبی ورثے کو شدت سے محفوظ رکھنا چاہتے ہوں ۔ اکثر اوقات تو انگریزوں کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن بعض جگہ وطن اور دھرم کی  محبت ان کے آڑے آجاتی ہے ۔ میرے خیال میں اس میں بھی اصل دخل میلان طبع کو ہے ۔ جدید طرز علاج نے اب تو  اپنی افادیت کو  ہر ایک کے ہاں تسلیم کروالیا ہے  لیکن ہر نئی چیز کو شک اور توہم کے انداز میں دیکھنے کی عادت یقینا قابل غور ہے ۔
عبد الغنی محمدی
Tags
Show More

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button
Translate »
Close