Historical perspective on Violent jihadism in Islam

WordForPeace.com

ڈاکٹرسیدعلیم اشرف جائسی

اسلامی تاریخ میں دہشت گردی کے دو محور رہے ہیں- ایک مکانی اور دوسرا فکری، مکانی محور خطۂ نجد سے عبارت ہے جب کہ خارجیت، دہشت گردی کے فکری محور کی نمائندگی کرتی ہے-دہشت گردی زلزلوں اور فتنوں کی زمین نجد کے خمیر کا حصہ رہی ہے- نجد کے بے آب و گیاہ صحرا میں نہ صنعت تھی نہ کوئی تجارت، موسم کی شدت اور ماحولیات کی خشکی وہاں کے رہنے والوں کے مزاج و طبیعت کا حصہ بن گئی تھیں- اس خطے کے لوگ ماضی قدیم سے لوٹ مار اور قتل و غارت گری کو ذریعۂ معاش بنائے ہوئے تھے، جو ہر زمانے میں اس خطے کی سب سے بڑی صنعت رہی ہے- تاریخ کے مختلف حصوں میں کئی تحریکوں نے اہل نجد کی اس صورت حال کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا- ان میں خارجی باطنی اور وہابی تحریک سر فہرست ہیں-

اہل نجد کی شقاوت قلبی اور شدت پسندی کے پس پشت ایک اور عامل کار فرما تھا اور وہ تھا حجاز و نجد اور مضر و ربیعہ کے درمیان کی تاریخ عداوت اور یہ عداوت اسلام کی آمد سے بہت پہلے سے چلی آرہی تھی- قبیلۂ قریش ،جو مضر کی نمائندگی کرتا تھا، اسے جو دینی، سیاسی اور اقتصادی برتری حاصل تھی ،وہ تمام قبائل عرب کے لیے باعث رشک تھی- قریش کے اس مقام و مرتبے نے قبائل ربیعہ کی دشمنی کو اور بھی ہوادی- ربیعہ کے یہ قبائل نجد کے ریگستان میں پھیلے ہوئے تھے اور اعراب نجد کہلاتے تھے- یہ اعراب نجد ہمہ وقت زندگی کی شقاوتوں سے نبرد آزما رہتے تھے- زندگی گذارنے کے لیے انہیں غیر معمولی جفاکشی کرنا پڑتی تھی، وسائل حیات کی کمی کے سبب ہمیشہ اس کے لیے لڑناپڑتا تھا- اس صورت حال نے انہیں بہادر اور جفاکش بنادیا تھا- ابن خلدون (متوفی ۱۴۰۶ء) نے بدویت اور دہقانیت کو شجاعت و بہادری کا ایک سبب قرار دیا ہے-

اسلام کی آمد کے بعد ایک طرف قریش کی عظمت و بلندی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تو دوسری طرف اعراب نجد کی قریش سے عداوت بھی اپنی آخری حدیں چھونے لگی-نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو اعراب نجد نے عظمت و اقتدار کے حصول کے لیے قریش کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا، چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبائل ربیعہ اور اعراب نجد میں مدعیان نبوت کی ایک باڑھ سی آگئی تھی- عہد نبوت کے آخر حصے میں اعراب نجد طوعاً و کرہاً اسلام میں داخل ہوئے، لیکن اسلام ان کے دل میں داخل نہیں ہوا اور کفر و نفاق ،جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے، وہ بہت سے دلوں میں باقی رہا-اسلام کے بعد بھی اعراب نجد کی وحشت و جارحیت اور ظلم و تعدی والی طبیعت نہیں بدلی، البتہ وسائل میں تبدیلی ضرور آئی- پہلے جو کام کسی جواز کے بغیرکیا کرتے تھے اسلام کے بعد اس کے لیے وہ دینی جواز فراہم کرنے لگے ،چناں چہ وہ ہر اس دینی تحریک کے ساتھ کھڑے ہوجاتے تھے، جس میں خوں ریزی کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے، جیسے ماضی میں خارجی، باطنی اور وہابی تحریک اور عہد حاضر میں القاعدہ، جبہۃ النصرہ اور داعش وغیرہ، جنہوں نے ان کے دہشت گردانہ اعمال اور حیوانیت کو دینی جواز فراہم کیا-یہی بات ابن خلدون نے اپنے مقدمے میں لکھی ہے:

إن الأعراب ہم أسرع الناس الی الخراب و أنہم یحتا جون إلی دعوۃ دینیۃ یستطیعون من خلا لہا إستحلال الدماء والأموال والأعراض و إسباغ الشرعیۃ علی ثوراتہم و إعتداءاتہم.

یہ اعراب ہلاکت و بربادی کی طرف سب سے تیزی سے بڑھتے ہیں- یہ ایک ایسی دینی تحریک کے ضرورت مند ہوتے ہیں، جو ان کے لیے خوںریزی، لوٹ پاٹ اور عصمت دری کو حلال کردے اور ان کے ظلم و غدر کو شرعی جواز فراہم کرے-

کسی بھی مؤرخ نے اس سے زیادہ سچی کوئی بات نہیں کہی ہوگی- حقیقت پر مبنی ایسے ہی تاریخ اور اجتماعی تجزیوں میں ابن خلدون کی عظمت اور علمی جلالت مضمر ہے-اعراب نجد کی یہ تصویر اس قدر سچی اور واقعی ہے کہ اس خطے کی تاریخ کا ایک بے حد سرسری مطالعہ اس کے ادراک و فہم کے لیے کافی ہے-سرکشی، نافرمانی، ظلم و ستم اور ہلاکت و خوںریزی اعراب نجد کی سرشت و طبیعت کا حصہ تھے اورہیں-اسلامی تاریخ میں دہشت گردی کی یہ ایک مسلسل داستان ہے، جس کی ابتدا نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد فوراً نجدی تحریک ارتداد سے شروع ہوئی- اس تحریک کا مرکز بنو حنیفہ کا میدان و خطہ تھا- مسلیمہ کذاب اور ابن عبدالوہاب (متوفی ۱۷۹۲ء) دونوں کا تعلق اسی خطۂ زمین سے تھا-

خلیفۂ مظلوم حضرت عثمان کی شہادت میں بھی اعراب نجد کا ہاتھ تھا اور حضرت علی کے عہد میں خوارج کا جو فتنہ اٹھا اس کی جڑیں بھی اس خطے میں پیوست تھیں- خارجی تحریک کی صورت میں دہشت گردی کے دونوں محور ہم آہنگ ہوگئے اور فطری دہشت گردی، فکری دہشت گردی سے ہم آہنگ ہوکر دو آتشہ ہوگئی، جس کی مثال پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملتی، سوائے سلفی جہادی تحریکات کے، جہاں دہشت کے یہ دونوں محورپھر شیر و شکر نظر آتے ہیں-

اسلام میں دہشت گردی کا فکری محور خارجیوں کی شکل میں سامنے آیا- میدان صفین میں شدت پسندوں کا ایک گروہ تحکیم کی مخالفت کرتے ہوئے حضرت علی کے لشکر سے علاحدہ ہوگیا اور خوارج کے نام سے جانا گیا ،جن کا شعار تھا ’’لاحکم الاللّٰہ‘‘ بنام اسلام ہر زمانے میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں نے اس کو اپنا شعار بنایا- خارجیوں کی خوں ریزی اسلامی تاریخ کی سب سے خوں چکاں داستان ہے-

محمد الملطی اپنی کتاب ’’التنبیہ والرد‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

إنہم کانوا یخر جون بسیو فہم فی الأسواق حین یجتمع الناس علی غفلۃ فینادون لا حکم إلا للّٰہ و یقتلون الناس بلا تمییز.

جب بازاروں میں لوگ اکٹھا ہوتے تھے تو اچانک خارجی تلواروں کے ساتھ نکلتے تھے اور لاحکم إلا لّٰلہ کا نعرہ لگاتے تھے اور لوگوں کو بلاتمیز تہہ تیغ کرنے لگتے تھے-

دراصل تحکیم ایک بہانہ تھا، ان شدت پسندوں کو یہ بات راس نہیں آئی تھی کہ خوں ریزی بند ہوجائے، مال غنیمت ہاتھ نہ آئے اور قتل و غارت گری کا سلسلہ موقوف ہو جائے- چناں چہ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جنگی قیدیوں کو ذبح کیوں نہیں کیا گیا؟ یا انہیں غلام کیوں نہیں بنایا گیا؟ اور مخالفین کے اموال کو غنیمت کیوں نہیں قرار دیا گیا؟ دراصل ان کی نگاہ میں حضرت معاویہ کی پوری جماعت کافر تھی ،لہٰذا وہ ان کے ساتھ کفار جیسا سلوک چاہتے تھے اور ایسا نہ کرنے پر انہوں نے حضرت علی اور ان کی جماعت کی بھی تکفیر کردی- اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ بنام اسلام تمام شدت پسندوں میں ’’تکفیر ‘‘ ایک قدر مشترک کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کے ذریعے ان کا مقصد خوں ریزی کا جواز حاصل کرنا ہوتا ہے- بایں طور کہ حکم الٰہی کا منکر کافر و مرتد اور کافر و مرتد واجب القتل اور انہی تینوں مقدمات کے ذریعے شدت پسندوں نے جان، مال اور عزت کو مباح کرنے کی کوشش کی ہے- یہی مقدمات خوارج کے تھے اور یہی داعش کے مقدمات ہیں- استحلال دم یعنی خوں مباح کرنا یہ دہشت گردوں کے تمام اصول میں اصل اصیل ہے ا ور تکفیر اس کا ذریعہ ہے- حضرت عبداللہ بن خبّاب کا قتل اور اس کا طریقۂ کار خارجی فکر کی مکمل طور پر عکاسی کرتی ہے-

حکام بنی امیہ نے خوارج کے ساتھ جواب آں غزل جیسا سلوک کیا ،جیسے ہم آج کی زبان میں حکومتی دہشت گردی یا ’’اسٹیٹ اسپانسرڈ ٹیررزم‘‘ کہتے ہیں، جس کے نتیجے میں خوارج کی یہ پہلی جماعت تو صفحۂ ہستی سے نابود ہوگئی، لیکن اس نے اموی حکومت کی جڑیں اتنی کمزور کردی کہ یہ نظام اپنی ایک صدی مکمل نہیں کرسکا-

خوارج کے بعد اسی آماج گاہ دہشت یعنی صحرائے نجد سے علی بن محمد کی تحریک اٹھی، جس نے زنجی غلاموں کے ساتھ مل کر لوٹ مار اور قتل و غارت گری شروع کی اور تاریخ میں زنجی تحریک کے نام سے معروف ہوئی- ۲۵۵-۲۷۰ھ کے درمیان میں ان زنجیوں نے ہزاروں ہزار افراد کو تہ تیغ کر ڈالا- ۲۵۶ھ میں شہر ابلہ کو پوری طرح پامال کردیا-بصرہ پر معاہدےکے ذریعے قبضہ کیا اور لوگوں کو امان دینے کے بعد عہد شکنی کی ، شہر کے تمام مردوں کو قتل کردیا، عورتوں کو باندی بنالیا اور شہر میں رہنے والی سادات و اشراف کی خواتین کو زنجیوں میں تقسیم کردیا-یہ شریف خواتین دو دو درہم میں فروخت ہوتی تھیں- طبری اور مسعودی وغیرہ نے صحرائے نجد سے اٹھنے والی اس خوں آشام تحریک اور اس کی بربادیوں اور دہشت گردیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے-

خوارج اور زنجیوں کے بعد قرامطہ کی تحریک بھی زلزلوں اور فتنوں کی اسی زمین سے اٹھی- اس تحریک نے دہشت گردی کی تمام سرحدیں پار کرڈالی اور خانۂ کعبہ بھی اس کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ رہا- اپنے عروج کے زمانے میں اس تحریک نے عراق و شام کے درجنوں شہروں کو تخت و تاراج کردیا، جن میں حماۃ، معرۃ النعمان، بعلبک اور سلمیہ وغیرہ تھے، ان شہروں میں ہرذی روح کو ہلاک کردیا- مؤرخ طبری کے مطابق قرامطہ نے دہشت گردی کے بہت سے ایسے انداز و وسائل کو اختیار کیا ،جو ان سے پہلے معروف و متداول نہیں تھے- ان کے ایک زعیم و سردار کے پاس ایک غلام تھا، جو صرف مسلمان قیدیوں کو ذبح کر کے قتل کیا کرتا تھا- جب ان قرامطیوں نے مکہ پر قبضہ کیا تو نہ صرف خانۂ کعبہ اور مسجد حرام کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، بلکہ بے شمار حجاج کو قتل کیا اور زمزم کو ان کی لاشوں سے پاٹ دیا-شہر سلمیہ کو امان دینے کے بعد  بدعہدی کی اور بنوہاشم سے آباد اس شہر میں زبردست قتل عام کیا-

شہروں اور کھیتوں کو جلانے کی پالیسی قرامطہ نے ہی شروع کی تھی اوروہ اس سیاست میں مغلوں اور تاتاریوں کے پیش رو تھے-خودکش حملوں کو جنگی حکمت عملی کے طور پر سب سے پہلے انہی باطنیوں اور قرمطیوں نے استعمال کیا- نویری نے ’’نہایۃ الارب‘‘ میں لکھا ہے کہ قرامطہ نوجوانوں کو خصوصی ٹریننگ دیتے تھے اور انہیں ذہنی طور پر فداکاری کے لیے تیار کرتے تھے- یہ وہی حکمت عملی ہے، جسے اپنے دہشت گردانہ پروگرام کو روبہ عمل لانے کے لیے طالبان، القاعدہ اور داعش کے لوگ استعمال کرتے ہیں- قرامطہ کی تحریک اگرچہ بظاہر تشیع کا دعویٰ کرتی تھی اور فاطمیوں ہی کی ایک شاخ تھی جو جزیرۂ عراق، یمن اورمصر وغیرہ میں پھیلی ہوئی تھی، لیکن ان کا بنیادی مرکز بحرین اور نجد تھا اور نجدہی کے بیشتر قبائل اس تحریک کے حلیف تھے اور موجود سعودی عرب میں قطیف اور احساء وغیرہ کے علاقوں میں ان کا زیادہ اثر تھا، حتیٰ کہ جب قرمطیوں نے مکہ مکرمہ پر قبضہ کیا تو وہاں سے حجرا سود کو اٹھا کر قطیف لے آئے اور ایک عرصے تک حجرا سود قطیف کے مغرب میں واقع ایک چشمے کے پاس رکھا رہا- چوتھی صدی ہجری کے اواخر میں ہی باطنیوں کا زور ٹوٹنا شروع ہوگیا اور دھیرے دھیرے یہ عظیم فتنہ اپنے انجام کو پہنچا، لیکن اس کی دہشت گردیوں کی میراث باقی رہی، جسے بعد میں نجد کی دھرتی سے ہی اٹھنے والی ایک اور شدت پسند تحریک نے اپنا لیا-

اٹھارہویں صدی میں ابن عبدالوہاب نجدی (۱۷۰۳-۱۷۹۲ء) نے صحرائے نجد میں ایک نئی شدت پسند تحریک کی بنیاد ڈالی جس کا بنیادی خمیر خارجی فکرسے اٹھا تھا،علاوہ ازیں متشدد حنبلی فقہا و علما کی آرا اور شیخ ابن تیمیہ (۱۲۶۳- ۱۳۲۸ء) کی اتنہا پسندانہ افکاربھی اس میں شامل تھے- یہ تحریک بادیۂ نجد کے رہنے والوں کو بے حد خوش آئی اور انہیں صدیوں کے بعد اپنے موروثی اعمال کا شرعی جواز حاصل ہوا-ابن عبدالوہاب نے درعیہ کے حاکم محمد بن سعود کے ساتھ سلفی دعوت کی ترویج و اشاعت کا معاہدہ کیا اور اس طرح اسلامی تاریخ کی سب سے شدت پسند تحریک وجود میں آئی، جس نے تمام مسلمانوں کو کافر گردانا اور سب کے خلاف جنگ چھیڑ دی-وہ جزیرے کے تمام باشندوں کو کافرو مشرک سمجھتے تھے، جس کا ثبوت خود وہابی ادب ہے، جس میں حصول اقتدار کے لیے کلمہ گویوں سے لڑی جانے والی ان جنگوں کو غزوات کا نام دیا گیاہے اور لوٹ مار کے ذریعے حاصل ہونے والے اموال کو غنیمت سے موسوم کیا گیا ہے- مؤرخ وہابی تحریک عثمان بن بشر نے اپنی کتاب’’ عنوان المجد‘‘ میں نہ صرف غیر نجدی بلکہ خود نجدی قبائل پر وہابی افواج کے حملوں کو غزوات سے تعبیر کیا ہے- اس کا واضح مطلب ہے کہ وہ اپنے ماسوا سارے عالم کو کافر و مشرک سمجھتے تھے، بلکہ مسلمانوں سے ان کی بدگمانی اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ابن تیمیہ سے شیخ ابن عبدالوہاب کے عہد تک کے عرصے کو ظلمت و گمرہی کا عرصہ قرار دیتے تھے- تکفیر کا یہ عقیدہ جب سخت گیر نجدی فطرت سے ہم آہنگ ہوا تو مجسم دہشت گردی بن گیا-

پہلی وہابی حکومت ۱۷۴۵ء میں قائم ہوئی اور ۱۸۱۸ء میں اس کا خاتمہ ہوگیا- اس ۷۳؍ سالہ حکومت میں دہشت گردی کی ایسی مثالیں قائم ہوئیں جس نے خارجی اور باطنی تحریکوں کو بھی شرمندہ کردیا- شیخ زینی دحلان مکی (متوفی: ۱۸۹۲ء) کی کتاب ’’فتنۃ الوہابیۃ‘‘ یا ’’خلاصۃ الکلام فی أمراء البلد الحرام‘‘ کے حوالوں کے بجائے خود مؤرخ تحریک وہابیہ اور مملکت نجدیہ کی کتاب سے صرف ایک حوالے کے ذکر پر اکتفا کیا جاتا ہے: عثمان بن بشر النجدی اپنی کتا ب ’’عنوان المجد فی تاریخ نجد‘‘ کے حصہ اول میں ۱۲۱۶ھ مطابق ۱۸۰۱ء کے واقعات کے ضمن میں لکھتا ہے کہ:

وفیہا سار سعود بالجبوش المنصورۃ والخیل العتاق المشہورۃ من جمیع حاضر نجد وبادیہا و قصد أرض کربلاء و ذلک فی ذی قعدۃ فحشد علیہا المسلمون و تسوروا جذرانہا ودخلوھا عنوۃ وقتلوا غالب أھلہا فی الأسواق و البیوت وھدموا القبۃ الموضو عۃ بزعم من اعتقد فیہا قبرالحسین وأخذوا مافی القبۃ وما حولہا وأخذوا النصبۃ التی و ضعوھا علی القبر وکانت مرصوفۃ بالز مرد والیاقوت والجواھر واخذ وا جمیع ما وجد وا فی الدار من أنواع الأموال والسلاح واللباس والفرش والذھب والفضۃ والمصاحف الثمینۃ وغیرہ ذلک مایعجز عنہ الحصر.

اس سال سعود بن عبدالعزیز بن محمد بن سعود اپنے نصرت یافتہ لشکر اور اصیل عربی گھوڑوں کے ساتھ روانہ ہوا، اس کی منزل سرزمین کربلا تھی، ذی قعدہ کا مہینہ تھا، مسلمانوں نے اس (کربلا) پر حملہ کیا اور شہر کے حصار کو پھاند کر بزور شہر میں داخل ہوئے اور گھروں اور بازاروں میں شہر کے بیشتر لوگوں کو قتل کردیا اور مزعومہ قبر حسین پر بنے ہوئے گنبد کو ڈھادیا اور اس کے اندر اور آس پاس جو کچھ تھا اس پر قبضہ کرلیا- قبر پر ایک کتبہ تھا جس میں زمرد، یاقوت اور جواہر جڑے تھے ،اسے بھی لے لیا اور پورے شہر میں اموال و اسلحہ، لباس و فرش سونا و چاندی اور قیمتی مصحفوں پر قبضہ کرلیا اور یہ سب کچھ ناقابل شمار تھا-

مسلمانوں کی تنقید و ملامت کو رد کرتے ہوئے یہی مورخ لکھتا ہے کہ:

وقولک إننا أخذنا کربلا و ذبحنا أھلہا وأخذنا أھلہا فالحمدللّٰہ رب العالمین ولانعتذر عن ذلک و نقول: و للکافرین أمثالہا.

اور تمہارا یہ کہنا کہ ہم نے کربلا پر قبضہ کرلیا اور وہاں رہنے والوں کو ذبح کردیااور انہیں قیدی بنالیا تو ہم اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بجا لاتے تھے اور اس کے لیے ہم قطعاً معذرت خواہ نہیں ہیں اور کہتے ہیں کہ: ’’اور کافروں کے لیے اسی کے مثل ہے-‘‘

سعودی نجدی حکومت کی وحشت و جارحیت کی داستانیں مختلف ذرائع سے عالم اسلام میں پھیل رہی تھیں اور عام مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا باعث بن رہی تھیں، چناں چہ خلافت عثمانیہ کے حکم پر مصر کے حاکم محمد علی پاشا نے اپنی فوجیں جزیرے کی طرف روانہ کیں اور ایک طویل و خوںریز معرکے کے بعد مصری فوجوں نے نجدیوں کو شکست فاش دی اور ۱۸۱۸ء میں نجدی تحریک کے صدر مقام درعیہ کو پوری طرح سے برباد کردیا- آل سعود نے کویت میں جاکر پناہ لی- عملی طور پر نجدی حکومت ختم ہوگئی، لیکن فکری طور پر تحریک باقی رہی اور واقعہ یہ ہے کہ نظریاتی شدت پسندوں کو صرف میدان جنگ میں نہیں ہرایا جاسکتا، ان کے فکر کی اصلاح اور اس کی بیخ کنی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام نہ حاکم مصر نے کیا اور نہ خلیفۂ عثمانی نے کیا-صحرائے نجد میں طویل عرصے تک کوئی فوج نہیں رکھی جاسکتی تھی، چناں چہ مصری افواج کی واپسی کے فوراً بعد دوسری نجدی سعودی حکومت قائم ہوگئی جو ۱۸۲۱ء سے ۱۸۸۹ء تک کسی نہ کسی صورت میں باقی رہی، لیکن اس کے اثرات نجد سے باہر نہیں گئے- اس عرصے میں سعودی امرا آپس میں ہی دست بگریباں رہے اور ایک دوسرے کے خلاف جدال و قتال کرتے رہے-

تیسری اور موجودہ سعودی حکومت ۱۹۰۲ء میں عبدالعزیز بن عبدالرحمان بن فیصل آل سعود کی قیادت میں قائم ہوئی جو ابن سعود کے نام سے معروف ہے-۱۹۰۲ء میں ریاض اور اس کے آس پاس کے خطوں میں قائم ہونے والی یہ حکومت تقریباً ربع صدی تک سعودی اقتدار اور وہابی نظریات کی توسیع کے لیے خوں ریزی اور قتل و غارت گری کرتی رہی، نجدی فوجوں نے طائف وغیرہ پر قبضہ کرنے کے بعد جس وحشت و جارحیت کا مظاہرہ کیا اس کی مثال صرف خارجیوں، نازیوں اور تاتاریوں کی تاریخ ہی میں مل سکتی ہے-

اس سعودی فوج کا بنیادی قوام ’’الاخوان النجدیون‘‘ نامی جماعت سے تیار ہوا تھا، جو ابن عبدالوہاب نجدی کے شدت پسندانہ افکار سے متأثر مذہبی جنونیوں کی ایک جماعت تھی- یہ اپنے ماسوا پوری دنیا کو کافر و مشرک اور مباح الدم سمجھتی تھی، یہ بے گناہوں کے قتل کو جہاد، سلب اموال کو غنیمت اور اس راہ میں مرنے کو دخول جنت کا موجب خیال کرتی تھی- انہی خوں خوار وحشیوں اور جنونیوں کی مدد سے عبدالعزیز نے ۱۹۲۵ء تک پورے جزیرے پر قبضہ کرلیا- پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد خلافت عثمانیہ کمزور بلکہ ختم ہوچکی تھی- عرب ملکوں پر مغربی استعمار کا مکمل قبضہ تھا- اس نجدی تحریک کو برطانوی حکومت کی پوری مدد حاصل تھی، جس کی تاریخی شہادتیں موجود ہیں- نجدی اور برطانوی دونوں خلافت عثمانیہ کے دشمن تھے اور اس مشترکہ دشمنی نے ان دونوں کو بے حد قریب کردیا، لہٰذا مغربی استعمار نے جزیرۂ عرب میں ہونے والے ان خونی واقعات سے پوری طرح چشم پوشی کی، بلکہ مختلف ذرائع سے اس دہشت گردی کی مددکی –

’’اخوان نجدیون‘‘ کی اس جماعت کی فکری تربیت شیخ ابن تیمیہ اور ابن عبدالوہاب نجدی کی شدت پسندانہ افکار و تعلیمات کی روشنی میں ہوئی تھی، اس جماعت کے افکار اور طریقہ کار کو سمجھنا موجودی دہشت گردی کو سمجھنے کے لیے از بس ضروری ہے- ابن عبدالوہاب نجدی کی تعلیمات کا بنیادی عنصر’’ ولاء اور براء‘‘ کا عقیدہ تھا جو اسلامی ولاء اور براء سے بالکل مختلف تھا- اس عقیدے کی بنیاد کراہیت پر تھی، اپنے ہم عقیدہ کو چھوڑ کر ہر ایک سے نفرت کرنے پر تھی- اپنے ماسوا سب کی تکفیر کرنا، کافر معاشرے سے ہجرت کرنا اور پھر طاقت کے ذریعے اس کافر معاشرے کو بدلنا یا اسے ہلاک کردینا وغیرہ- ابن عبدالوہاب نجدی کے یہ متشددانہ افکار ان کی کتابوں میں موجود ہیں ،جیسے تفسیر کلمۃ التوحید، رسالۃ ثلاث مسائل، کشف الشبہات، رسالۃ تلقین اصول العقیدہ للعامۃ، رسالۃ معنی الطاغوت، رسالہ اربع قواعد للدین وغیرہ- مؤخرالذکر رسالے میں لکھتے ہیں کہ:

إن شرک الجاہلین السابقین أخف من شرک أھل زماننا بأمرین.

عہد جاہلیت کے گذشتہ لوگوں کا شرک ہمارے زمانے والوں کے شرک سے دو طرح سے ہلکے درجے کا تھا –

پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے مزید لکھتے ہیں کہ:

پہلے والے صرف راحت میں فرشتوں، ولیوں اور بتوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے، لیکن مصیبت میں اخلاص کے ساتھ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے-‘‘ اور دوسرا فرق یہ بتایا کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین نیکو کاروں یا پھر غیر مکلفین (یعنی درخت و پتھر وغیرہ) کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے ،جو غیر معصیت کار تھے، لیکن اب لوگ فساق کو خدا کا شرک ٹھہراتے ہیں-

معاذ اللہ نہ صرف اس میں تمام اہل زمانہ کو مشرک قرار دیا جارہا ہے بلکہ ان کے شرک کو عہد جاہلیت اور ماقبل اسلام کے مشرکین کے شرک سے زیادہ بڑا شرک ٹھہرایا جارہا ہے، جب کہ حضرت عقبہ بن عامر سے مروی بخاری شریف (۱۳۴۴) اور مسلم شریف (۲۲۹۶) کی متفق علیہ حدیث ہے ،جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

واللّٰہ ماأخاف علیکم أن تشرکوا بعدی ولکن أخاف علیکم أن تنافسوا فیہا

مجھے بخدا تمہارے بارے میں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ تم میرے بعد مشرک ہوجاؤ گے یا شرک کرو گے بلکہ تمہارے بارے میں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں تم حصول دنیا کے مقابلے میں نہ پڑجاؤ-

یہ شدت پسندانہ تعلیمات خود سعودی حکومت اور وہابی جماعت کے لیے بھی بڑی دشواریوں کا سبب بنی، ماضی میں بھی اور حال میں بھی-

جب ابن عبدالوہاب نے مشرکانہ مجتمع سے ہجرت کرنے کا فتویٰ دیا تو وہابی عقیدہ رکھنے والے جو لوگ کسی سبب سے ہجرت نہیں کرسکے، ان کی تکفیر کردی گئی، ان سے قتال کیا گیا اور ان کے ذبیحے کو حرام قرار دیا گیا- شدت پسندی کی انتہا یہ ہے کہ ’’اخوان نجدیون‘‘ نے ان وہابیوں کی تکفیر کی جو شیخ ابن عبدالوہاب کی طرح عمامہ نہیں باندھتے تھے- اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اور بھی مسائل تھے ،جن کے حوالے سے وہابی عموماً اور اخوان نجدیین خصوصا ایک دوسرے کی تکفیر کیا کرتے تھے اور واجب القتل قرار دیتے تھے- یہ اخوان اپنے دہشت گردانہ افکار و اعمال سے حکومت کے لیے بھی سخت دشواریاں پید اکرتے تھے- ملک عبدالعزیز نے جب سعود کو مصر اور فیصل کو لندن بھیجنے کا فیصلہ کیا تو علمائے وہابیہ اور جماعت اخوان نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ،کیوں کہ’’ ولاء و براء‘‘ کا جو عقیدہ انہیں سکھایا گیا تھا، یہ اس سے متصادم تھا ، ان کی نظر میں مصر اور انگلینڈ مشرک ملک اور دارالحرب تھے اور مسیحیوں اور مقوقس کے ملک میں رہنا عین شرک تھا، دہشت گردی کی فقہ کے مطابق تو ان ممالک سے پیدائشی مسلمانوں کو بھی ہجرت واجب ہے ،بھلا کسی مسلمان کے لیے وہاں کا سفر اور وہاں قیام جائز کیسے ہوسکتا ہے؟

سلف صالحین کا عہد میمون ہی دین و دنیا کے ہر معاملے کے لیے صورتا و معنا معیار ہے، یہی اخوان نجدیین کو تعلیم دی گئی تھی، لہٰذا مدنیت اور تہذیب کی تمام علامتیں سلفیت کی مخالف ہوں گی اور حقیقی سلفی بھی ان کا مخالف ہوگا ، چنانچہ موٹر کار، بجلی اور ٹیلیفون وغیرہ ‘محدثات کا استعمال جائز نہیں ، علاوہ ازیں یہ ایجادات اور ان کا استعمال بدعت کے علاوہ ایک اور بڑے شنیع امر پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں دارالحرب سے آتی ہیں ،جہاں سے صرف جنگ ہوسکتی ہے تجارت نہیں-

جماعت اخوان اور علمائے وہابیہ نے حکومتی ٹیکسوں کو بھی غیر شرعی قرار دیا- غیر ملکی سفارت خانوں کے قیام کی بھی شدید مخالفت کی-ان کے خیال میں سعودی عرب جیسے اکلوتے مملکت توحید میں قائم ان سفارت خانوں میں لہرانے والے کافرانہ اور مشرکانہ پرچم کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے- سنیوں، صوفیوں اور شیعوں کو بزور تلوار وہابی نہ بنانے کو بھی عقیدے سے غداری قرار دیا گیا- گنبد خضرا کے انہدام میں تاخیر کو بھی سلفی عقیدے سے روگردانی مانا گیا- یہ اختلاف صرف زبانی نہیں رہا، بلکہ جماعت اخوان کے ساتھ سعودی نظام کو کئی خوں ریز جنگیں لڑنی پڑیں، جس میں ہزاروں افراد مارے گئے، فیصل درویش کی بغاوت پر قابو پانے میں ملک عبدالعزیز کو دانتوں پسینہ آگیا- مختصر یہ کہ آل سعود کو ان جنونی اخوان اور شدت پسند علما کو قابو میں کرنے میں اس سے کم زحمت نہیں اٹھانی پڑی جو زحمت انہیں پورے جزیرۂ نما عرب کو فتح کرنے میں ہوئی-

نجدیوں کی یہ باہمی خوں ریزیاں ایک ایسا امر ہے، جو شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی تاریخ میں ہمیشہ دہرایا گیا ہے- انسانی تاریخ میں بار بار ایسا ہوا ہے کہ مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے ماننے والوں میں شدت پسندی اور جنون پید اکیا، لیکن جب اقتدار مل جاتا ہے تو اس شدت اور جنون کی ضرورت نہیں رہتی ہے، لہٰذا قیادت اسے ختم کرنے یا محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ہمیشہ اس میں ناکام رہتی ہے، کیوں کہ دہشت گردی ایک ایسی آگ ہے جسے بھڑکایا تو آسانی سے جاسکتا ہے، لیکن نہ تو اسے روکا جاسکتا ہے ،نہ محدود رکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس پر قابو پایا جاسکتا ہے-یہ الف لیلہ کے اس جن کی مانند ہے جسے بوتل سے نکالا تو جاسکتا ہے، لیکن واپس بوتل میں ڈالا نہیں جاسکتا ہے-

طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ حکومت کو علما کے کئی کنونشنز منعقد کرنے پڑے اور ان کے ذریعے نظام افتا کو حکومت کے تابع بنایا گیا- بڑے پیمانے پر علم کی خرید و فروخت ہوئی اور جن پر مال و زر کے ذریعے قابو نہیں پایا جاسکا انہیں جیل خانوں یا قبرستانوں میں پہنچادیا گیا- ملک عبدالعزیز کودہشت گردی کی اس آگ کی لپٹوں کو تو کم کرنے میں بظاہر کامیابی ملی ،لیکن اس کے شرارے کبھی کم نہیں ہوئے- وحشت و دہشت کے جس دریا پر سعودی نظام نے بند باندھنے کی کوشش کی اس کے مختلف کناروں سے شدت پسندی اور دہشت گردی کی نہریں برابرپھوٹ پھوٹ کر نکلتی رہیں، جنہیں ہم جہاد اسلامی، تکفیر و ہجرت، القاعدہ اور داعش وغیرہ کے نام سے جانتے ہیں-

سلسلۂ عزمیہ کے شیخ اور مصر کے مشہور وکیل ڈاکٹر سید ماضی ابوالعزائم نے اپنی کتاب ’’إسلام الصوفیۃ ھوالحل، لاإسلام الخوارج‘‘ میں دہشت گردی کے فکری محور کا بے حد تفصیلی جائزہ لیا ہے- ان کے مطابق قبائل مضر و ربیعہ میں جو تاریخی نفرت و عداوت تھی، اسلام نے اس کی حدت کو بڑی حد تک کم کردیا، لیکن یہ نفرت و کراہیت پوری طور پر ختم نہیں ہوئی اور اس نے مذہبی افکار و آرا کی شکل اختیار کرلی-زیادہ تر خوارج کا تعلق ربیعہ کے قبائل سے تھا- اس رائے سے کلی طور پر اتفاق نہ بھی کیا جائے تو اس کے جزئی صداقت سے انکار ممکن نہیں ہے- خوارج سے لے کر سلفیت تک تمام شدت پسند جماعتیں صرف دہشت، خشونت، نفرت و کراہیت، اپنے افکار کے لیے تعصب اور اپنے مخالفین کی تکفیر ہی میں ہم آہنگ نہیں ہیں بلکہ دینی علامتوں کا عدم احترام اور ان کی تقصیر شان بھی ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے، البتہ اپنے اس موقف کے اثبات کے لیے وہ دین ہی کو ذریعہ بناتے ہیں-اللہ تعالیٰ کے بارے میں تجسیم کا عقیدہ، توسل کی مخالفت اور کتاب و سنت کے ظاہر سے تمسک بھی تمام شدت پسندوں کے درمیان مشترک ہے، جو ان کی ابتدائی بدوی زندگی اور طرزمعاش کا نتیجہ ہے اور شرافت اور مدنیت کی مخالفت کا ذریعہ بھی-

خوارج کے بعد شدت پسندی کے فکری محور کی سب سے نمائندہ شخصیت شیخ ابن حزم کی ہے، جو ۳۵۴ھ میں قرطبہ میں پیدا ہوئے، انتہائی درجہ شدت پسند تھے- شیخ ابوالعباس بن العریف لکھتے ہیں کہ:

کان لسان إبن حزم وسیف الحجاج بن یوسف شقیقین

ابن حزم کی زبان اور حجاج کی تلوار حقیقی بھائی جیسے تھے-

ابن حزم کا مذہب خارجیوں اور سلفیوں کی طرح ہی ظاہر پرستی پر مبنی تھا ، بلکہ اسی ظاہر پرستی کی بنیاد پر ان کی فقہ کانام ہی ’’فقہ ظاہری‘‘ اور مذہب کا نام ’’ظاہری مذہب‘‘ پڑا- خوارج کا قول ’’لاحکم الا للّٰہ‘‘ ہی ظاہری مذہب کے فقہ کی بنیاد ہے- سب سے پہلے ابن حزم نے توسل کی مخالفت کی، بعد میں ابن تیمیہ اور ابن عبدالوہاب نجدی نے اوردوسرے تمام شدت پسندوں نے اس مسئلے میں ابن حزم کی موافقت کی- توسل کی مخالفت خارجی فکر ہے اور تمام شدت پسندوں میں قدر مشترک ہے-

قبور صالحین کی زیارت سے ابن حزم، ابن تیمیہ اور ابن عبدالوہاب تینوں نے منع کیا- حضرت علی اور ان کی آل کی عداوت اور ان کی تقصیر شان کی کوشش ،خارجی، ظاہری، تیمی اور سلفی کو ایک لڑی میں پروتی ہے- شیخ ابوزہرہ شامی نے ابن حزم پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ: ’’ابن حزم نے صحابہ کے درمیان مفاضلہ پر مبنی اپنی ایک کتاب میں حضرت علی کی حق تلفی کی زبردست کوشش کی ہے، یہی کام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب’ منہاج السنۃ‘ میں کیا ہے-‘‘

تصوف اہل بیت کا طریقہ رہا ہے اور اہل تصوف اہل بیت سے محبت کرنے والے رہے ہیں، لہٰذا صوفی فکر بھی ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہے، ابن حزم، ابن تیمیہ، ابن عبدالوہاب تینوں نے تصوف کی شدید ترین مخالفت کی- آج بھی صوفی تراث ،دہشت گردوں کا سب سے مرغوب ہدف ہے، افغانستان سےلے کر لیبیا تک دہشت گردوں نے ہزاروں خانقاہوں، قبروں اور مقامات اولیا کو زمیں بوس کردیا ہے- خاص کر لیبیا میں کئی ہزار صوفی آثار اب تک دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں ،درنہ وغیرہ میں ان دہشت گردوں نے کئی صحابۂ کرام کی قبروں کو کھود ڈالا ، سیدی عبد السلام اسمر رحمہ اللہ کے آستانے کو میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ، ظالموں نے ان آثار و مقامات سے متصل مساجد ، مدارس اور کتب خانوں کو بھی ڈھا دیا- فیس بک اکاونٹ ( لا لہدم الزوایا والأضرحۃ فی لیبیا) پر ان وحشیانہ اعمال کو تفصیل سے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے-

ایک اور چیز اکثر یا بیشتر دہشت گردوں کو باہم جوڑتی ہے اور وہ ہے دین کو حصول اقتدار کا ذریعہ بنانا- خارجی، سلفی، وہابی، مودودی اور اخوانی فکر میں یہ ایک اور قدر مشترک ہے- مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ:

’’دین کا حقیقی مقصد اقتدار ہے اور اس مقصد سے غفلت کے ساتھ کوئی عمل رضائے الٰہی تک نہیں پہنچاسکتا -‘‘

(الأستاذ المودودی:شئی من حیاتہ وأفکارہ للشیخ البنوری ، ص:۳۰)

ابن حزم کے بعد دہشت گردی کے فکری محور کی کمان ابن تیمیہ نے سنبھالی، شیخ ابن تیمیہ۶۶۱  ھ میں حران میں پیدا ہوئے، شیخ ابو زہرہ نے لکھا ہے کہ وہ غیر عربی تھے، غالبا کردی تھے ، کردستان عراق میں حُران نامی شہر میں پیدا ہوئے ،جو زمانہ قدیم سے صابئین کا مرکز تھا- ان کا’’ فتویٔ ماردین‘‘ دہشت گردوں کی انجیل کی حیثیت رکھتا ہے- اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے تشبیہ، توحید کی الوہیت اور ربوبیت میں تقسیم، جو محض ان کی اپنی اختراع ہےاور ان سے پہلے اور نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی نے بھی اس کا قول نہیں کیا – نبی و آل نبی کی عدم توقیر، انکار توسل اور تکفیر امت وغیرہ ابن تیمیہ کی فکر کے محوری موضوع ہیں-

اس فکر کے اگلے علمبردار ابن عبدالوہاب نجدی ہیں- بیسویں صدی میں اس فکر کو مولانا ابوالاعلی مودودی (متوفی ۱۹۷۹ء) اور سید قطب (متوفی ۱۹۶۶ء)نے فروغ دیا- مولانا مودودی نے اپنی متعدد کتابوں میں شدت پسندی کی فکر کو ہوا دی-ان کی اس فکر کو مولانا سید محمدمدنی اشرفی جیلانی کی کتاب ’’اسلام میں تصور الہ اور مولانا مودودی‘‘، شیخ محمد یوسف بنوری کی کتاب ’’ألأستاد المودودی، شئی من حیاتہ و فکرہ‘‘، شیخ زکریا مدنی کی کتاب ’’ألمودودی مالہ و ماعلیہ‘‘ وغیرہ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے-اس موضوع پر مولانا مودودی کی سب سے اہم کتاب ’’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘‘ ہیں، جس میں انہوں نے الہ، دین، عبادت اور رب ان چار اصطلاحوں پر گفتگو کی ہے- اس گفتگو میں خارجی اور سلفی فکر کی بازگشت صاف طور پر سنائی پڑرہی ہے-اس کتاب میں انھوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ صدیوں سے مسلمان ان اصطلاحات کے حقیقی معانی اور مفاہیم سے واقف نہیں ہیں اور اپنے عصری اور جاذب اسلوب بیان میں انہی باتوں کا اعادہ کیا ہے، جو ابن تیمیہ اور ابن عبد الوہاب کی کتابوں میں ملتی ہیں- جب یہ کتاب منظر عام پر آئی تو مولانا مناظر احسن گیلانی نے ’’اخبار صدق جدید‘‘ میں’’جدید خارجیت‘‘ کے عنوان سےاس پر ایک مضمون لکھا تھا-

معاصر دہشت گردی ’’حاکمیت‘‘کے موضوع کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جو خارجیوں کے’’ لا حکم إلا للہ‘‘ کا جدید نسخہ ہے-اس سب سے پہلے مولانا مودودی نے اٹھایا اور قران کریم کی آیت ’’ومن لم یحکم بنا أنزل اللہ فاولئک ہم الکافرون(المائدہ :۴۴) کو اس کا ذریعہ بنایا- یعنی جو بھی اللہ کے نازل کردہ کے مطابق حکم نہ کرے وہ کافر ہے اور اس کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ تمام مسلم حکمراں کافر ہیں اور چوں کہ امت کی بھاری اکثریت ان کافر حکمرانوں سے راضی ہے، لہٰذا وہ بھی کافر ہے اور ان سے قتال واجب ہے – یہ وہ قاعدہ ہے جس پر سارے دہشت گرد عمل پیرا ہیں ، جب کہ علما کی ایک بڑی تعداد کی رائے میں یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان علما میں سر فہرست ترجمان القران ، حبر الامہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں اور جو علما اسے مسلمانوں کے سلسلے میں نازل قرار دیتے ہیں ،ان کے نزدیک’’ کفرلیس بالکفر الذی یذہبون الیہ ‘‘یا’’ کفرلا ینقل عن الملۃ‘‘ یا’’ کفر دون الکفر‘‘ ہےاور سب کا مفاد یہی ہے کہ یہاں کفر اپنے حقیقی معنی میں نہیں ہے-

مصر میں دہشت گردی کی فکر کو ترویج دینے میں سید قطب کی تحریروں نے نمایاں کردار ادا کیا- انھوں نے بھی حا کمیت کے موضوع کو زورو شور کے ساتھ اٹھایا ، پوری اسلامی سوسائٹی کو ما قبل اسلام جیسی جاہلی سوسائٹی قرار دیا اور دعوی کیا کہ دین پوری طرح سے منقطع ہوچکا ہے اور اسلامی سوسائٹی کی باز یافت کے لیے ٹکراؤ ناگریز ہے- ان کی کتابوں میں:فی ظلال القران، معالم فی الطریق، العدالۃ الاجتماعیۃ وغیرہ نے دہشت گردی اور تکفیری فکر کو خوب فروغ دیا-

۱۹۷۳ء میں صالح سریہ کی کتاب ’’رسالۃ الایمان‘‘ نے شدت پسندوں کو غیر معمولی تقویت پہنچائی- ۱۹۷۹ء میں جب جھیمان عتیبی نے حرم پر قبضہ کیا تو فکری دہشت گردوں کو علمی دہشت گردی کی ایک مثال ہاتھ آئی-جہیمان عتیبی ، محمد قحطانی اور ان کے سخت گیر سلفی وہابی ساتھیوں نے یکم محرم ھ۱۴۰۰  میں بوقت فجر حرم پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی اور بزعم خویش اسلامی انقلاب لانے کے لیے یہ مجاہدانہ اقدام کیا گیا تھا ، یہ واقعہ جدید عملی دہشت گردی کا پہلا قابل ذکر واقعہ ہے- جسے سعودی نظام حکومت نے دنیا بھر میں پھیلےاپنے حوالی موالی کے ذریعے ایران کے سر منڈھ دیا تھا- پھر ۱۹۸۰ء میں عبدالسلام فرج کی کتاب ’’الفریضۃ الغائبۃ‘‘ منظر عام پر آئی اور شدت پسندوں میں بے حد مقبول ہوئی، افغانستان میں ہر عرب مجاہد کے ہاتھ میں یہ کتاب نظر آتی تھی- پھر ۱۹۸۴ء میں مصری جماعت اسلامی نے ’’میثاق العمل الاسلامی‘‘ کے نام سے جہاد کا دستور تیار کیا- ۱۹۸۷ء اور ۱۹۹۳ء کے درمیان ڈاکٹر فضل نے جنہیں اسامہ بن لادن نے ’’مفتی المجاہد ین فی العالم‘‘ کا خطاب دیا تھا، جہاد کے موضوع پر کئی کتابیں تصنیف کیں-

جب افغانستان میں روسی فوجیں داخل ہوئیں تو امریکا کے ہوش اڑ گئے، وہ نہیں چاہتا تھا کہ گرم پانی تک روس کی رسائی ہو، اسے ویتنام کی ہزیمت کا بدلہ لینے کا بھی ایک موقع بھی ہاتھ آیا تھا ، چناں چہ اس نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان جہاد کا منصوبہ بنایا- سعودی عرب کو اپنے اندرونی شدت پسندوں سے نجات پانے کا موقع ملا، کیوں کہ جھیمان عتیبی کی جماعت پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھی ، جہاد افغانستان میں سعودی عرب کے لیے امریکا کی خوشنودی کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں سے گلو خلاصی کا بھی ایک موقع ہاتھ آگیا، لیکن اس ’’جہاد‘‘ کے ذریعے دہشت گردی کی یہ بلا پورے عالم اسلام میں پھیل گئی اور سعودی عرب اور پاکستان کے لیے ’’إنقلب السحر علی الساحر‘‘جیسی صورت حال پیدا ہوگئی اور دوسری طرف ان نام نہاد مجاہدین کو یہ وہم ہوا کہ روس کی طرح وہ امریکاکو بھی شکست دے سکتے ہیں اور جہاد افغانستان سے پہلے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں جو فکری کش مکش چل رہی تھی وہ کھل کر سامنے آگئی، ابومحمد مقدس نے اپنی کتاب ’’الکواشف الجلیہ فی کفر الدولۃ السعودیۃ‘‘ میں پورے سعودی نظام کی تکفیر کردی-

خلیج کی جنگ میں جب شاہ فہد نے امریکی فوجوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی تو تمام دہشت گرد سعودی حکومت کے خلاف لام بند ہوگئے ،چوں کہ کفار سے استعانت ان کی نظروں میں صریح کفر تھا، مجبوراً حکومت کو بھی ہیئت کبا ر علما سے کفار سے استعانت کے جواز کا فتویٰ حاصل کرنا پڑا اور جن ہاتھوں نے محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے استعانت کی حرمت کی تحریریں اور فتاوے لکھے تھے، اللہ تعالیٰ نے انہی ہاتھوں سے امریکا سے استعانت کے جواز کا فتویٰ لکھوایا-

موجودہ دہشت گرد تنظیموں میں خواہ القاعدہ ہو، داعش ہو، جبھہ النصرہ ہو، سب کے سب سلفی سعودی افکار، اموال اور رجال سے چل رہی ہیں- ان دہشت گرد تنظیموں کے جرائم کی جو فہرست اور جو خبریں ہمیں حاصل ہوتی ہیں، ان کی قرار واقعی صورت حال کہیں زیادہ بھیانک ہے- دارالافتا مصر نے حال ہی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ’’تنظیم داعش: النشأۃوالجرائم والمواجہۃ‘‘ اس کتاب کے مطالعے سے انسانی روح تک کانپ اٹھتی ہے- ہماری زبان اردو میں بھی اس موضوع پر تفصیلی کتابوں کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل ان دہشت گردوں کی حقیقی صورت حال سے واقف ہوسکے-

ایک علمی تحقیقی رپورٹ کے بموجب صرف عراق میں کئی ہزار ایسے بچے ہیں جن کی کوئی شناخت نہیں ہے- یہ القاعدہ کے ان مجاہدین کی اولادیں ہیں، جنھوں نے ان کی ماؤں سے بندوق کے زور پر شادیاں کی تھیں اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے غائب ہوگئے – شدت پسندی کے خلاف ’’ازہر شریف‘‘ کے علمااور دارالافتا مصریہ کی جانب سے کی جانے والی کوششیں قابل تعریف ہیں- مرصد الازہر اور دار الفقیہ کی جانب سے دہشت گردوں کی نقاب کشائی اور ان کے دلائل و براہین کے بطلان کا کام بھی لائق ذکر ہے-

Source: http://jaamenoor.online/2018/03/31/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae/

Check Also

Ahl-e-Hadith Anti-Terror Fatwa: Indian Salafis’ Outcry Against The Daesh کیا داعش کے خلاف ہندوستان کے سلفی علماء کا فتویٰ مؤثر ثابت ہو گا ؟

WordForPeace.com غلام رسول دہلوی مسجد نبوی کے امام شیخ ابراہیم الترکی نے ہندوستانی مسلم نوجوانوں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *