How Qur’anic Texts are misused to justify acts of terrorism? قرآن کے نام پر دہشت گردی

WordForPeace.com

Basil hijazi

عام طور پر دہشت گردی ان ممالک میں ظہور پذیر ہوتی ہے جہاں آسمانی مذاہب کے ماننے والے عددی اکثریت میں رہتے ہیں، روز مرہ کے دھماکے وقتل وغارت گری اور خوف اللہ کا عذاب ہی قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ان مذاہب کے ماننے والوں نے مذہب کو اصلاح کے بجائے سلاح یعنی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا لہذا اس کا خمیازہ بھی انہیں ہی بھگتنا ہے کہ آخر دین میں تحریف کا ارتکاب بھی انہوں نے ہی کیا اور آسمانی کتابوں کے حقیقی معانی کو بدل کر انہیں ذاتی وسیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، پاکستان میں ضیاء الحق کا دور اس کی ایک دردناک مثال ہے، اس خوفناک دور میں سائنسی کانفرنسوں میں “جنات سے توانائی” پیدا کرنے کے “سائنسی” مقالے پیش کیے گئے، باقی حالات کا قاری خود اندازہ لگا سکتا ہے۔

ارشادِ باری تعالی ہے:

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لاَ تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَاناً وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُواْ لِلنَّاسِ حُسْناً وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَلِيلاً مِّنكُمْ وَأَنتُم مِّعْرِضُونَ{83} وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لاَ تَسْفِكُونَ دِمَاءكُمْ وَلاَ تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ{84} ثُمَّ أَنتُمْ هَـؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقاً مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنكُمْ إِلاَّ خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ{85} (البقرہ)۔

مندرجہ بالا قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی مذاہب کے ماننے والوں میں سب سے پہلے یہودی دہشت گردی کے مرتکب ہوئے، انہوں نے اپنے ہی مذہب کے ماننے والے قیدیوں پر مظالم ڈھائے، جزیہ لیا اور خون بہایا اور اس ضمن میں اللہ سے کیے گئے عہد سے مکر گئے اور اپنے ہی اصولِ دین میں جاہل قرار پائے، خانہ جنگی اور دہشت گردی کی بنیادی وجہ جو کسی سے بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی مذہبی انتہاء پسندی ہے، اسلام کے دائرے کے مختلف گروہ وفرقوں کا وجود اپنی جگہ مسلم مگر ان گروہوں وفرقوں نے دینی تربیت کے ضمن میں آسمانی کتابوں کے آفاقی اسباق کو نظر انداز کر کے تاریخ وثقافت کے جھوٹے فسانوں پر مذہبی تربیت کو استوار کیا اور ایک مکمل دہشت گرد امت تشکیل دینے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا.

ارشادِ باری تعالی ہے:

{قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعاً وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ } (الانعام 65)۔

دہشت گرد قرآنِ مجید کا جاہلانہ استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ قرآنی آیات سے جہادانہ ودہشت گردانہ معانی زبردستی کشید کراتے ہیں اور مغربی ممالک کے مفادات پر یہ سوچتے ہوئے حملے شروع کر دیتے ہیں کہ اس سے ان کا (یک طرفہ) دشمن ڈر جائے گا اور اس کے دل میں ان کا خوف بیٹھ جائے گا تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر الٹا ہوا، بجائے اس کے کہ یہ دشمن ڈرتا خود انہیں خوف وڈر کا سامنا کرنا پڑ گیا، مغرب نے امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ کر دیا اور نقصان افغانی قوم کو اٹھانا پڑا، وجہ ظاہر ہے القاعدہ کی یک طرفہ، انفرادی اور حد درجہ بچگانہ حرکت تھی جس کے لیے ظالموں نے اول وآخر قرآن کی اس آیت کو بطور استدلال کے پیش کیا:

وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ{60} وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ{61} وَإِن يُرِيدُواْ أَن يَخْدَعُوكَ فَإِنَّ حَسْبَكَ اللّهُ هُوَ الَّذِيَ أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ{62} (الانفال)۔

اگر مندرجہ بالا آیات کی سنجیدہ تشریح کی جائے تو معلوم ہوگا کہ ان آیات کا دور تک کسی جہادی عمل سے کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ آیات تو محض یہ بتا رہی ہیں کہ کس طرح عسکری سیاست کو مذہب کے مفاد میں استعمال کیا جائے نا کہ جہاد کے، مقصد ان آیات سے جہاد نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے عسکری تیاری ہے، یقیناً جنگ کے لیے عسکری تیاری جنگ کو روکنے کا سبب بن سکتی ہے، ان آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ جنگ کے کسی بھی مبینہ خطرے سے نبرد آزما ہونے کے لیے تمام تر اسلحے سے خود کو لیس کر لیں اور اپنے ساتھیوں کو لڑائی کی تربیت دیں، وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

1- ان تیاریوں سے قریش مدینے میں کوئی “سرجیکل سٹرائیک” انجام دینے سے باز رہیں گے (وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ)۔

2- یہ تیاریاں کسی دوسرے نا معلوم دشمن کو بھی جنگ شروع کرنے یا جنگ میں کودنے سے باز رکھیں گی (وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ) مجموعی طور پر واضح عسکری تیاری دیکھ کر کوئی بھی گروہ حملہ آوری سے باز رہے گا۔

3- ان عسکری تیاریوں سے ایک عسکری سیاست تشکیل پائے گی جسے اسلام کے مفاد میں استعمال کیا جاسکے گا اور بہت سارے اہلِ کتاب اور عرب مشرکین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امن معاہدے قائم کریں گے یا ان کے ساتھ اتحاد تشکیل دیں گے اور حقیقتاً یہی ہوا بھی، بنو قریضہ اور بنو النضیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اتحاد قائم کیا جس میں کچھ دیگر عرب قبائل بھی آن شامل ہوئے، تو ثابت ہوا کہ یہ آیات عسکری سیاست کی تشکیل چاہتی ہیں جسے عسکری قوت ہی پیدا کر سکتی ہے نا کہ جہاد چاہتی ہیں، اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ تعالی کے ارشادات کے مقاصد کیا تھے اور دہشت گرد انہی آیات کو کس طرح موڑ توڑ کر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دنیا الزام لگاتی ہے کہ دہشت گردی قرآن سے برآمد ہوتی ہے اور میں یہ ماننے کے لیے بالکل تیار ہوں، یہ سچ ہے کہ جاہلانِ اسلام نے جہاد کی توجیہ کے لیے قرآنی آیات کو غلط وناموزوں مقامات پر استعمال کیا تاکہ بے قصور لوگوں کو قتل کر کے انہیں ذہنی آسودگی مل سکے۔

دیکھیے کہ کس طرح ایک آدھی آیت لاکھوں بے قصوروں کی جان لے سکتی ہے، آخر قوموں کی بربادی میں جاہلوں کا بھی کوئی نہ کوئی کردار تو ضرور ہوتا ہے۔

ارشادِ باری ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ }(المائدہ 51)۔

عراق میں القاعدہ نے اس آیت کو ٹکڑے کر کے استعمال کیا اور لوگوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی، ملاحظہ کریں:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ}

سورہ مائدہ کی آیت 51 کا صرف اتنا سا حصہ پیش کر کے القاعدہ نے عوام کو اکسایا اور لوگ امریکیوں وغیر ملکیوں پر ٹوٹ پڑے کیونکہ وہ “نصاری” ہیں اور اسلام میں ان کے خلاف جہاد واجب ہے، پھر بے قصور عراقی عوام کے قتل کے لیے اسی آیت کے ایک اور ٹکڑے کا استعمال کیا گیا “وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ” اور یوں صرف ایک ٹکڑا پیش کر کے پوری عراقی عوام کو “مرتد” قرار دے دیا گیا اور بم دھماکوں اور قتل وغارت گری کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں بے قصور عراقیوں کی جانیں لیں اور اللہ کی زمین پر گویا ایک فساد برپا ہوگیا۔

یہی وہ تکنیک ہے جو یہ عقل کے دشمن اپنی انسان دشمنی کی پیاس بجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس کے لیے قرآن کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس سے معاذ اللہ تباہی پھیلانے کا کام لیتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ عام لوگ ایسی گمراہ کن تاویلات سے صرف نظر کریں اور بس اتنا یقین رکھیں کہ اللہ نے اپنا دین اپنی ہی زمین پر فساد برپا کرنے کے لیے نہیں اتارا۔

Source: http://www.newageislam.com/urdu-section/basil-hijazi,-new-age-islam/terrorism-in-the-name-of-quran–قرآن-کے-نام-پر-دہشت-گردی/d/114195

Check Also

Noted Muslim personalities who played important positive roles in Sikh history

WordForPeace.com By Iqbal R. Sama   Sikh Mazhab Se Mutalliq Motabar Muslim Shaksiyat (Urdu) (“Respected …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *