Is Violence the Only Way Out? Asks A Kashmiri Journalist کیا کشمیر میں تشدد ہی آخری راستہ ہے؟

WordForPeace.com

     مشتاق الحق احمد سکندر  

گزشتہ ایک دہائی کے دوران کشمیر میں مزاحمت کے ایک آلہ کار کے طور پر بندوق کے استعمال کی روایت کو ایک نیا رجحان حاصل ہوا ہے۔ مزاحمت کے ایک فعال طریقہ کار کے طور پر بندوق کا استعمال سلطنت مخالف اور سامراجیت مخالف متعدد جدوجہد کا حصہ رہا ہے۔ تشدد تاریخ انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مارکسزم سمیت مختلف نظریات میں تشدد تبدیلی کا بنیادی سبب رہا ہے۔ دوسری طرف تاریخ نے پرتشدد جد و جہد کی محدود کامیابیوں کا بھی مشاہدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ اب ریاست ، فوج اور جنگجوؤں کی نوعیت بھی بدل چکی ہے اور اب ریاست نے تشدد کے استعمال کا حتمی جواز حاصل کر لیا ہے۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے ذریعہ تشدد کے استعمال کے بارے میں قانونی مباحثے میں الجھے بغیر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں ہندوستانی عسکریت پسندی کے خلاف مزاحمت کے ایک طریقہ کار کے طور پر تشدد کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

جموں و کشمیر میں بندوق کا استعمال کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ریاست اور حکومت سمیت مختلف جماعتیں اور تنظیمیں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اس کا استعمال کرتی آ رہی ہیں۔ 1931 سے ہی مسلح باغی جماعتیں کشمیر کی سیاست کا حصہ رہی ہیں۔ ڈوگرا مسلح جماعتوں نے 1947 میں جب کہ پورے برصغیر ہند میں آگ لگی ہوئی تھی – تقریبا تین ہزار مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ 1947 سے لے کر اب تک کئی مسلح جماعتیں تشدد کے استعمال سے حکومت کو تاخت و تاراج کرنے اور اپنے سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر چکی ہیں۔ 1990 کے دہائی تک یہ گروہ چند نوجوانوں تک ہی محدود تھے اور وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام تھے۔ لیکن 1990 کے بعد سے یہاں پاکستان کی موجودگی کی وجہ سے نوجوانوں ایک نسل اس مسلح بغاوت کا حصہ بن چکی ہے۔ بڑے پیمانے پر مسلح عسکریت پسندی کا نتیجہ ظالمانہ ظلم و جبر کی صورت میں ظاہر ہوا جس کی وجہ سے آج کشمیر دنیا کی سب سے بڑی ایسی ریاست بن چکی ہے جہاں فوجیوں کی موجودگی سب سے بڑے پیمانے پر ہے۔

اگرچہ پاکستان سے مسلح اور مالی امداد یافتہ یہ مسلح بغاوت صرف اپنے پہلے مرحلے میں نظریاتی کشمکش کا شکار رہی ہے۔ لیکن مسلح باغیوں کے درمیان آزاد کشمیر کے نظریہ یا اس کے اسلامی پاکستان کا حصہ بننے کے حوالے سے نظریاتی کشمکش کا نتیجہ باغیوں کے درمیان آپسی جنگ و جدال کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ بغاوت ایک طویل عرصہ تک جاری رہی اور مسلح ریاستی باغی غلط کاموں میں ملوث رہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں زبردست اضافہ ہوا جس کی وجہ سے کشمیری باشندوں نے ریاست (ہندوستان) سے مزید دوریاں بنا لیں۔

سال 2008 کشمیر کی معاصر تاریخ میں ایک نیا موڑ ثابت ہوا۔ مبینہ آبادیاتی تبدیلی اور اپنے مخصوص اور منفرد شناخت پر حملے کے خلاف احتجاج میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے اس لئے کہ یہ سر زمین شری امرناتھ شرائن بورڈ (SASB) کو منتقل کر دی گئی تھی۔ اس شورش نے کشمیر اور جموں کے درمیان ایک فرقہ وارانہ اور علاقائی تقسیم کی بنیاد ڈال دی۔ بڑے پیمانے پر اس شورش کے بعد وادی کشمیر کو جمو کے ہندوتوا عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ تصادم اور اقتصادی محاصرہ کا سامنا کرنا پڑا۔ 2008 کے امرناتھ زمین ہنگامے کے دوران یہ معاملہ کافی زوروں پر تھا کہ کشمیری مزاحمت اب غیر متشدد ہو چکی ہے۔ میں نے یہ قیاس کیا ، لکھا اور کہا کہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے کیونکہ عسکریت پسندی کے عروج کے دور میں بھی بڑے پیمانے پر غیر متشدد عوامی احتجاجات کئے گئے تھے جو کہ بغاوت نہیں تھی ، اور پرتشدد جد و جہد ایک غیر متشدد جدوجہد میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس لئے کہ متشدد اور غیر متشدد نظریات کے لئے ایسی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے برقرار رکھے اور اس کے پائیدار اہداف کے حصول کے لئے اسے عملی تحریک میں بدل سکے۔

2010 کی شورش کے بعد کہ جس میں 130 نوجوان ہلاک ہوئے تھے – برہان وانی کے عروج سے میرا قیاس اور گمان درست ثابت ہو گیا۔ لیکن اس مسلح بغاوت کا یہ نیا سلسلہ جسے میں نے “مابعد عسکریت پسندی” قرار دیا ہے ، چند اعتبارات سے مختلف ہے کیونکہ یہ مقامی ہے، جس میں یاتو پاکستان کا دخل کافی محدود ہے یا بالکل ہی نہیں ہے اور پہلے کے مقابلے میں یہ کافی مہلک بھی ہے۔ لیکن اس منظر نامے میں بھی نظریاتی کشمکش غالب اور بالکل واضح ہے۔ اس کا مشاہدہ اس حقیقت کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے کہ عسکریت پسندوں کے دو گروہ یکسر دو متضاد مقاصد کے حصول کے لئے آپس میں ہی برسر پیکار ہیں۔ اس سے ماقبل کے برعکس کہ جب کشمکش ایسے دو گروہوں کے درمیان تھی جن میں سے ایک پاکستان کے ساتھ کشمیر کا الحاق چاہتا تھا جبکہ دوسرا گروہ آزاد کشمیر کے لئے لڑ رہا تھا –اب نظریات کی لڑائی ان گروہوں کے درمیان ہے جن میں سے ایک پاکستان کے ساتھ کشمیر کا الحاق چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروہ یہاں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔

اب اسلامی ریاست کا نظریہ کوئی نیا نہیں رہا۔ 1990ء میں اکثر پاکستان نواز عسکریت پسند تنظیموں نے پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کے بعد اپنا مقصد اسلامی ریاست قائم کرنا ظاہر کر دیا ہے۔ لیکن 11/9 کے واقعات نے ان تنظیموں کا نظریہ تبدیل کر دیا ہے اور اس اچانک تبدیلی کے لئے پاکستان کی سرکاری پالیسی بھی ذمہ دار ہے۔ داعش اور القاعدہ جیسی اسلام پرست عسکریت پسند تحریکوں کے عروج کے بعد کشمیر میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی بات ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اور اس کی نمائندگی انصار غزوۃ الہند نامی تحریک کر رہی ہے جس کی قیادت ذاکر موسیٰ کر رہا ہے۔ جب دار الکفر قرار دینے کی بات آتی ہے تو یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو ایک ہی پلے میں رکھتے ہیں۔ وہ حکومت ہند اور ان دیگر باغی گروہوں کے خلاف تشدد کا مظاہرہ کرتے ہیں جو پاکستان کے اشارے پر لڑ رہے ہیں، اگرچہ ایک دوسرے کی مذمت میں پریس ریلیز جاری کرنے کے علاوہ ان کے درمیان داخلی طور پر باہم تصادم کی ایسی کوئی رپورٹ نہیں ہے۔

سوشل میڈیا نے جوانوں کی نئی نسل کو متاثر کرنے اور انہیں انتہا پسند بنانے میں ایک مضبوط کردار ادا کیا ہے۔ باغی اور ان کے ہمدرد تشدد، موت اور شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ، باوجود اس حقیقت کے کہ مزاحمت کے ایک آلہ کار کے طور پر تشدد سے کافی محدود کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انہیں خوش ہونے کے بجائے حقیقت اور عملی نتائج کی روشنی میں اپنا تجزیہ کرنا چاہئے۔ زیادہ تر نوجوان حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیوں کہ وہ جذباتی بن چکے ہے۔ پرتشدد مزاحمت کے تئیں زبردست جذباتی ہمدردی کی اپنی وجوہات ہیں جن میں عوامی جگہوں پر ضرورت سے زیادہ فوج کی موجودگی ، اختلاف رائے کے تئیں عدم رواداری اور ہر بات پر مسلح ردعمل شامل بھی ہے۔

موت اور تشدد کا بدترین سلسلہ ٹوٹنا ضروری ہے۔ اس کی شروعات حکومت سے ہی ہوتی ہے جسے اپنی مسلح افواج پر لگام کسنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ بعض دفعہ نوجوان کو بغاوت پر بھڑکانے کے لئے مسلح افواج ہی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اس کے بعد مزاحمت کرنے والے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے اوپر بھی نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تشدد کے علاوہ بھی ایسے سینکڑوں طریقے اور مہمات ہیں جن کے ذریعہ وہ دنیا بھر میں اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ یہ غیر متشدد طریقے مہذب مزاحمت کا ایک حصہ ہیں جو متعدد معاملات اور سماجی سے لیکر سیاسی تک مختلف جدوجہد میں کامیاب ثابت ہو چکے ہیں۔ لیکن ان طریقہ ہائے کار کے ساتھ نوجوانوں تک رسائی حاصل کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے کافی پسینہ بہانے اور صبر و تحمل کو دوگنا کرنے کی ضرورت ہے۔

مہذب مزاحمت ایک سست رفتار عمل ہے لیکن اس سے انسانی سرمایہ بچتا ہے اور طویل عرصے کے لئے کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ اس کی شروعات انفرادی تبدیلی ، اور مسلسل نظم و ضبط اور تربیت کے ذریعے غیر تشدد پسند جذبہ کے فروغ سے ہوتی ہے۔ اس نظم و ضبط کا آغاز چیزوں کو پڑھنے اور معاملات کو سمجھنے سے ہوتا ہے ، پھر ان اصولوں کو اپنے ذہن و دماغ میں جذب کرنے اور اس کے بعد انہیں زمین پر لاگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم بحیثیت ایک معاشرہ صبر کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، اور اگر ہم اس کے لئے کڑی محنت نہیں کرتے ہیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس سے اجتماعی خودکش اور تباہی ہمارا مقدر بننے والی ہے۔

Source: http://newageislam.com/urdu-section/mushtaq-ul-haq-ahmad-sikander,-new-age-islam/is-violence-the-only-way-out–%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%D8%B4%D8%AF%D8%AF-%DB%81%DB%8C-%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%B1%D8%A7%D8%B3%D8%AA%DB%81-%DB%81%DB%92%D8%9F/d/115469

Check Also

LeT’s online magazine “Wyeth” like Dabiq of ISIS spreads extremist ideology

WordForPeace.com Banned Pakistan-based terror group Lashkar-e-Taiba (LeT) headed by globally designated terrorist and the mastermind …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *