Islamic Scholar Fethullah Gülen’s Rebuttals to Religious Extremism مذہبی انتہا پسندی پر فتح اللہ گولن کا رد عمل

By Ghulam Rasool Dehlvi, WordForPeace.com
 
 فتح گولن نے دہشت گردی اور خود کش حملوں پر اسلامی موقف پر ایک علمی اور فنی کتاب بھی شائع کی ہے، جن میں انہوں نے انسانی اور مذہبی بنیادوں پر اس طرح کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے صرف مغربی قارئین ہی نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں کے اجتماعات میں اپنی مسجد کے خطبوں میں بھی امن، عدم تشدد اور بنیاد پرستی کے خاتمے کے لیے اسلامی روایت پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ترکی، جاپانی، کینیائی اور امریکی اخبارات کو انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں دہشت گردی کا جواز پیش کرنے کے لیے سیاسی، نظریاتی اور مذہبی وجوہات کے استعمال کی مذمت کی ہے۔
معروف ترکی صوفی اسلامی اسکالر، فتح اللہ گولن مذہبی بیانات کے ذریعہ تشدد کے جواز کے خلاف اپنے مستحکم موقف کے لئے جانے جاتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ وہ عوامی سطح پر واشنگٹن پوسٹ میں ایک اشتہار کے ذریعہ 11/9 کے حملوں کی مذمت کرنے والے سب سے پہلے اسلامی سکالر ہیں۔ بنیاد پرست جہادیوں کے خلاف ان کے دلائل کا انحصار بنیادی طور پر اسلام کے بنیادی مصادر و ماخذ قرآن و سنت کی روح اور تعلیمات کی ایک مضبوط اور مکمل تفہیم پر ہے، جو کہ اسلام کی ایسی بنیادیں ہیں جن پر بنیادی اسلامی تعلیمات ٹکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ، ‘‘ایک سچا مسلمان دہشت گرد نہیں ہو سکتا اور ایک دہشت گرد ایک سچا مسلمان نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ یہ دونوں اسلامی نصوص ہی نہیں بلکہ اسلام کے دل اور روح کے مطابق بھی بنیادی طور پر ایک دوسرے کے بالکل مخالف ہیں۔
 (Fethullah Gülen’s specific responses against particular incidents of violent extremism, Ozcan Keles and Ismail Mesut Sezgin)
اسرائیل میں خودکش حملوں کا قطر کے شیخ یوسف القرضاوی کی جانب سے پیش کیے گئے جواز پر فتح اللہ گولن کے ردعمل پر غور کرنا دلچسپی کا باعث ہوگا۔ وہ ان کے جواز پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
بظاہر، قرضاوی کایہ کہنا ہے کہ یہ اسلام میں جائز ہے، اس لیے کہ (فلسطینیوں) کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ میں نے جب یوسف القرضاوی (ولادت۔1926) کا یہ بیان سنا تو مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی، اس لیے کہ وہ رتیب النبلسی(ولادت۔1938)، سعید رمضان البوطی(ولادت۔2013) اور حسن الترابی (ولادت۔1932) جیسی مسلم دنیا کی معروف شخصیات میں سے ہیں- وہ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں، بلکہ عالمی سطح پر مشہور و معروف ہیں۔ جب وہ بات کرتے ہیں تو گویا کہ وہ اسلام کی جانب سے بات کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی باتوں کا اسلام پر ایک منفی اثر مرت ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کے کسی بھی عمل کو کس طرح قانونی جواز فراہم کر سکتے ہیں؟ وہ کس اسلامی اصول پر اپنی اس رائے کی بنیاد رکھتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ نہیں ہےکہ وہاں جو ہو رہا ہے میں اس سے لاتعلق رہنے کی تجویز پیش کر رہا ہوں اس لیے کہ جب میں وہاں کسی کو مرتا ہو دیکھتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا کہ میری جان جا رہی ہے۔ لیکن یہ عمل “خدا کی خوشی” یا عقلمندی کے مطابق نہیں ہے۔
(Kanlı Arenada İslam İmajı (Londra’da Terör). Bamteli. 09.07.2005’, Herkul website, accessed 5th February 2015, herkul.org/bamteli/kanli-arenada-islam-imaji-londra- da-teror/)
حال ہی میں،  متشدد انتہا پسندی کے خلاف وال سٹریٹ جرنل میں ان کا ایک بے باک مضمون شائع ہوا ہے۔ اپنے مضمون میں شروع سے آخر تک انہوں نے واضح لفظوں میں دہشت گرد نظریہ کی تردید کی ہے، اور مسلمانوں سے مظلومیت کی ذہنیت اور سازشی نظریات کو ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور “انتہاپسندی کے کینسر” سے نمٹنے کے لئے ٹھوس تجاویز پیش کی ہے۔ اپنے ٹھوس تجاویز میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ: “مسلمانوں کو اس جابر نظریے کا سامنا کرنا ہوگا، اس لیے کہ اسلام کے نام پر ہر دہشت گردی کا تمام مسلمانوں پر ایک گہرا اثر ہوتا ہے، یہ مسلمانوں کو ساتھی شہریوں سے الگ کر کے انہیں تنہا کر دیتا ہے، اور اس کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی اقدار کے بارے میں غلط تصورات گہرے ہو جاتے ہیں……… جب کوئی دہشت گرد خود کو مسلم بتاتا ہے تو وہ اس وقت اسلامی شناخت کا حامل ہوتا ہے، کیاصرف برائے نام اورصرف مسلمانوں کو ہی ہمارے معاشروں میں اس کینسر کو سرایت کرنے سے روکنے کے لیے حتیٰ المقدور کوشش کرنا ضروری ہے۔ ہمیں تشدد کی مذمت کرنی چاہیے مظلومیت کا شکار ہونے سے بچنا چاہیے۔۔۔۔ ظلم کا شکار ہونا ظلم و بربریت یا دہشت گردی کی مذمت کرنے میں ناکامی کے لئے کوئی عذر نہیں ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے فتح گولن نے دہشت گردی اور خود کش حملوں پر اسلامی موقف پر ایک علمی اور فنی کتاب بھی شائع کی ہے، جن میں انہوں نے انسانی اور مذہبی بنیادوں پر اس طرح کے اقدامات کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے صرف مغربی قارئین ہی نہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں کے اجتماعات میں اپنی مسجد کے خطبوں میں بھی امن، عدم تشدد اور بنیاد پرستی کے خاتمے کے لیے اسلامی روایت پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے ترکی، جاپانی، کینیائی اور امریکی اخبارات کو انٹرویو دیا ہے جس میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں دہشت گردی کا جواز پیش کرنے کے لیے سیاسی، نظریاتی اور مذہبی وجوہات کے استعمال کی مذمت کی ہے۔

Check Also

(India) Leaders of different faiths welcome Hajis at Kolkata Airport

WordForPeace.com For the first time in India the Haj pilgrims were welcomed by people from …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *