Knowledge and Spirituality are inter-connected علم اور تصوف کے درمياں گہرا تعلق ھے ؟

WordForPeace.com

راشد محمد مڈوور

کچھ لوگ ايسے ہیں جو عبادت مین اپنی زندگی وقف کردیتے ہین ۔ حضرت محمد مصطفی کی زمانہ مین ہی کچھ صحابہ ایسے تھے صرف اللہ کے لۓ زندگی گزارے ہے ۔ ان مین ایک مشہور صحابی ہے ابودر الغفاری رضی اللہ عنہ خلفاء الراشدہ کی حکومت کے زمان میں ہی مسلمانون کے بیچ مین مشکلات اٹھنے لگی ۔ جب مسلمان لوگ  زندگی مین  حکومت کو محبت رکھنا شرو کیے تب اللہ اور انکے دین کو بھولنے لگے ۔ اس وقت کچھ لوگ یے حالت نفرت کرکے عبادت اور اللہ کی رضا امید کرکے دنیا چھوڑ کر مساجد مین اللہ کی عبادت مین زندگی صرف کیے پھر یہ لوگ صوفی مشہور ہوۓ-
تصوف کے ماننے والون اور اس پر عمل کرنے والوں کی تین قسمین ہین ، ایک کو صوفی دوسرے کو متصوف اور تیسرے کو مستوفی کہتے ہین ۔ حضرت جنید البعدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہین کہ تصوف کے بنیاد آٹھ حصوں پر ہے سخاوت ،رضا، صبر، اشارہ، غربت، کدڑی ، سیاحت اور فقر یہ سب آٹھ نبیون کی اقتدا میں ہین ۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریبا تیس برس  کے بیچ مین عالم مین انتشار پھیلنے لگی ۔ اسلام کے بارے مین نااہل لوگ حاکم ہونے لگے ان کے اقوال کے مطابق عالم لوگ فتوی دینے لگے ۔ اس سبب سے سچھے لوگون کی دل سے عالمون پر ایمانداری بگڑنے لگی اور وہ لوگ حکومت چھوڑکر مساجد مین جاکر عبادت اور نیک اعمال پر مشعول ہونے لگے ۔ یہان سے تصوف پھیلنے لگا ،کئ لوگ یہ طریقہ مین دلچسپ ہوے ۔
حجت الاسلام نام سے مشہور ہوۓ امام ابو حامد العزالی زیادہ زمان مدرست النظامیہ مین مدرس تھے لیکن آپ نے پھر تصوف کی طریقہ خوش آمدید کیے ۔ آپ نے شریعت ،طریقت اور حقیقت کی راہ پر دھیرے دھیرے چل کر تصوف کے اعلی مرتبہ پر پہونچے ۔ آپ کی کتاب” احیا علوم الدین ” تصوف کے بارے مین اچھی طرہ پیش کرتا ہے ۔ امام عزالی کا آمد سے تصوف مین بڑی تبدیل ظاہر ہوئ ۔
لفظ تصوف صفاء سے مشترک ہو‎ئ ۔ کئ علماۓ کرام تصوف کی تعریف کیا ہے ۔ اس کا مقصد آدمی اس کی ظاہر اور باطن انصاف کر کے شریعت کے مطابق جاننا ہے ۔ زکریا الانصاری رضی اللہ عنہ تصوف کی تعریف اس طرہ فرمایا  ” التصوف علم تعرف به احوال  تزكية النفوس وتصفية الأخلاق وتعمير الظاهر والباطن لنيل السعادة الأبدية ” ترجمہ : تصوف ایسا علم ہے جس کے زریعے دل اور اخلاق کی تزکیت کی حالات معلوم کیا جاسکے اور باطن کو سنوار ہمیشہ کے لئے کامیابی حاصل کیا جاسکے (شرح الرسالة القشيرية)
حدیث جبریل مین فرشتہ جبریل علیہ السلام آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ تے ہے احسان کیا ہے تب حضور نے جواب دیا کے “ان تعبد الله كأنك تراه وان لم تكن تراه فإنه يراك ” علماۓ کرام نے یے حدیث شریف کے شرح مین اشارہ کیا ہے کے احسان کا مطلب ہے تصوف ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی زمانہ مین ہی تصوف لوگون کے بیچ مین موجود تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اصحاب کرام یہ طریقہ سے زندگی گزارے  لیکن اس وقت لفظ تصوف نہین استعمال کیا تھا ۔
ابن قلدون اسکے کتاب مقدمہ مین کہتے ہے تصوف کا مقصد یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی عبادت کرنے کے لۓ استعمال کرکے سب کچھ اللہ سے مبیرد (توجہ) کرنا اور یہ دنیا کی آرائش مال ،درجہ اسی ترہہ دنیا کی باتین چھرڑ کر عبادت کے لۓ لوگون کے بیچھ مین سے اکیلا ہوکر جاننا ۔  اسلام کی دوسرا صدی اور اس کے بعد جب لوگون کے بیچھ مین اختلاف اور مشکلات اٹھنے لگے خدا پرست لوگون صوفیہ اور متصوف نام پر مشہور ہونے لگے ۔
شریعت ، طریقت اور حقیقت کی راہ پر چل کر صوفی ہوتا ہے ۔ اگر ایک شخص کسی ایک مرحلہ پر نہین چلے تو صوفی نہین ہو سکتے ۔ آج کل کئ لوگ آتے ہین جو کہتے ہے ہم صوفی ہین لیکن انکے زندگی اور علم کے بارے میں تلاش کرتے تو سمج میں آئےگا صوفی ہونے کی کسی ایک سبب بھی انمیں نہیں پھر کیسے وہ صوفی ہوتا ہے ۔ کئ لوگ اذکار اور اوراد کے ساتھ زندگی گزارتے ہین لیکن اسلام کی بنیادی علم انکے ساتھ نہیں یعنی شریعت کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں ۔ کامل مومن وہی ہے جو شریعت اور حقیقت کا جامع ہو ۔
جسم اور روح کے درمیان گہرا تعلق ہے جس طرح علم اور تصوف کے درمیان بھی گہرا تعلق ہے ۔ مشہور صوفی امام احمد زروق انکی کتاب قواعد التصوف میں فرماتے ہیں ۔ فقہ کے بغیر تصوف کا کوئی تصور نہیں ۔ کیونکے فقہ ظاہری احکام کو جاننے کا ذریغہ ہے ۔ اور اسی طرح فقہ تصوف کے بغیر نا مکمل ہے ۔ کیون کہ کوئی ظاہری عمل صدق نیت اور رضاۓ الاہی کے بغیر مقبول نہیں ۔ اور اسی طرح تصوف اور فقہ کی بنیاد ایمان پر ہے ۔کیون کے بغیر ایمان کہ نہ فقہ مقبول ہے اور نہ ہی تصوف ۔

Check Also

(India) Catholic priest surprises Muslims speaking at Kerala mosque

WordForPeace.com Vechoor: For a change, a Catholic priest in Kerala chose a mosque to deliver his …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *