Notion of Hakimiyyah (God’s sovereignty) and Maulana Ubaidullah Sindhi حکومت الہیہ کا تصور اور مولانا عبید اللہ سندھی

WordForPeace.com

وقاص خان

عام طور پر خلافت راشدہ کو اسلامی نظم حکومت کا معیاری  دورسمجھا جاتاہے ۔ آج بھی جن حضرات کے ہاں اسلامی نظم حکومت قائم کرنے کی فکر پائی جاتی ہے ان کے ہاں خلافت علی منہاج النبوۃ اور قرآنی یا الہی حکومت کے الفاظ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن سوائے مولانا سندھی ؒ کے کوئی ایک مفکر بھی الہی حکومت سے شخصی آزادی (freedom of speech, freedom of religion and freedom of press) کا تصور نہیں کرتا۔ آزادی اظہار رائے کی بات اگر کسی کے ہاں کی  جاتی ہے تو چند ایسی پابندیوں کے ساتھ جن کا تعلق عقیدے سے ہے۔  تبدیلی مذہب کی اجازت کا تو تصور تک ممکن نہیں، البتہ معاصر دنیا کی طرف سے لاحق مجبوریوں کی بنا پر ارتداد کی سزا کو کسی نہ کسی صورت accommodate کرنے کی کوش کی جاتی ہے۔  اسی طرح مسلمان ریاست میں اسلام کے علاوہ کسی مذہب کی اعلانیہ تبلیغ کی اجازت دینے کا ہر امکان رد کیا جاتا ہے۔اس کے برعکس مولانا سندھی ؒ کی رائے میں خلافت راشدہ اگرچہ  الہی حکومت کا معیاری نمونہ تھی مگر خلافت کے بعد کی حکومتیں، جنہیں ملوکیت و بادشاہت کا نام دے کر discredit کیا جاتا ہے، بھی الہی حکومتیں تھیں۔ مولانا کا ماننا ہے کہ  خلافت راشدہ مخصوص سماجی و زمانی حالات کا مظہر تھی جس کا اعادہ ہونا ممکن ہیں۔  وقت اور حالات کے بدلنے اور اسلام کی مختلف جغرافیائی ثقافتوں سے آشنائی کی وجہ سے طرز حکومت میں تبدیلی آنا ناگزیر تھا۔ اموی و عباسی ادوار  اسلامی  ہیں تو صفوی،  فاطمی ، عثمانی اور مغل حکومتیں بھی اپنے متنوع ثقافتی ڈھانچے کے باجود اسلامی ہی کہلائیں گی۔پروفیسر محمد سرور لکھتے ہیں:

“مولانا کہتے تھے: افسوس کی بات یہ ہے کہ تاریخ اسلام کے عربوں کے دورکو مقدس سمجھ لیا گیا اور ایرانیوں، ترکوں اور ہندوستانیوں کے عہد کو زوال کا زمانہ مان لیا گیا۔ حالانکہ اسلام کے عالمگیر انقلاب کے اعتبار سے یہ سب دور ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں”۔ 11

جہاں مولانا ان سب حکومتوں کو الہی یا اسلامی حکومت مانتے ہیں وہاں ان میں سے کسی ایک کو بھی مثالی اور حرف آخر نہیں مانتے۔ ان کی رائے میں ہر زمانے اور ہر علاقے کا اپنا مزاج ہوتاہے، مروجہ علمی زبان میں اسے روح عصر سے تعبیر کیا جاتا ہے، جس کا اعتبار کیے بغیر کوئی بھی نظم اجتماعی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ الہی حکومت کے قیام پر اصرار کرنے والے مولانا سندھی ؒجب ہندوستان کے سیاسی نظم کے لیے اپنا فارمولا پیش کرتے ہیں تو سیکولر بنیادوں پر قائم جمہوری طرز سیاست کو بنیاد بناتے ہیں۔ مولانا اس فارمولے میں خلافت راشدہ ماڈل کے مطابق ہمہ گیر اور لا محدود اسلامی سلطنت کے بجائے جدید قومی ریاست کو اپناتے ہیں اور ہندوستان کو ریاستی اکائیوں(confederations)  میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ صوبائی خود مختاری کی بات کرتے ہیں اورکئی رواجوں اور ثقافتوں میں تقسیم مسلمان ممالک کے اتحاد کے بجائے  علاقائی طاقتوں کے ساتھ اتحاد پر زور دیتے ہیں۔ (بحوالہ:  مولانا عبید اللہ سندھی حیات وخدمات از ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری، زیر عنوان حکومت متوافق سروراجیہ جمہوریات ہند)

Check Also

(India) Leaders of different faiths welcome Hajis at Kolkata Airport

WordForPeace.com For the first time in India the Haj pilgrims were welcomed by people from …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *