Extremists’ War Cry of Ghazwa-tul-Hind is based on fabricated Hadiths متشددین کا ‘غزوۂ ہند’ اور اس سے متعلق احادیث: ایک تجزیاتی مطالعہ

By Ghulam Rasool Dehlvi, Editor, Word for Peace

 غزوۂ  ہند کی تحریک چلانے والے پاکستانی متشددین اور جہادی گروپس یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشن گوئی کی ہے کہ ایک دن ایسا  آئے گا جب مجاہدین سرزمیں ہند کو فتح کریں گے اور تمام بت پرست ہندوستانی ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دئے جائیں گے ۔ اور جو لوگ  کفار کے خلاف اس خونیں جنگ میں شرکت کریں گے، انہیں دوسرے عام مسلمانوں کے مقابلے میں  جنت زیادہ جلدی اور اور بطورمفت ملے گی ۔ غزوۂ  ہند کے اس بے بنیاد فسانے کی تخلیق کے پیچھے بنیادی نظریہ یہی ہے ۔ مختصر یہ کہ غزوۂ  ہند جسے غزوۃ الہند بھی کہا جا تا ہے ایک ایسا خطرناک نظریہ ہے جو ایک متنازع حدیث پر مبنی ہے، جس کا استعمال  آج کے خود ساختہ جہادی ،  تشدد پسند اور دہشت گرد اپنی غیرانسانی کارستانیوں کو مذہبی جواز فراہم کرنے کے لئے کرتے ہیں، اور اس طرح وہ عام پاکستانی بھائیوں کے دلوں میں نفرت کی بیج بوتے ہیں

 غلام رسول دہلوی

‘‘دیکھئے! غزوہ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ یہاں بہت پڑھے لکھے لوگ بیٹھے ہیں۔  غزوہ کا مطلب ہوتا ہے کہ رسول اللہ کا کسی جنگ میں شامل ہونا۔   وہ  بڑی لڑائی ہو یا چھوٹی لڑائی ہو۔ رسول اللہ تو فیزی کلی اس جنگ میں نہیں آئیں گے ۔ غزوہ کیوں کہا گیا اس کو ، اس لئے کہ مشن رسول اللہ کا ہی ہے۔  رسول کے مشن کو لے کر ہی آ پ کو آگے چلنا ہے۔  اور یہ اعزاز پاکستانیوں کو اللہ نے دیا ہے۔  اسی دن کے لئے پاکستان بنایا گیا ہے، کے انہوں  نے غزوہ ہند  لڑنا  ہے ، غزوہ ہند کی تیاری کرنی ہے۔ یہ   ہماری بد قسمتی ہے کہ  ایک تو ہمیں  یہ علم دیا ہی نہیں گیا ، ہماری بہت بڑی تعداد کو یہ معلوم ہی نہیں کہ غزوہ ہند کیا چیز ہے؟ کب آئے گا؟ کیسے ہوگا؟  سب کو آ سائش دنیا کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ کچھ تھوڑا سا سامان ہوتا ہے۔ تھوڑا سا مکان ہوتا ہے، آسائش ، چھوٹی چھوٹی چیزیں، ان کے پیچھے  لگا کر انہیں ہمارا گول بنا دیا  گیا۔  اور وہ بڑا  گول جس سے ہم  اللہ کے رسول کے اوّلین کے درجہ کو پہنچ جائیں، وہ ہم سے چھین لیا گیا۔’’

پاکستان کے ایک سرکردہ مذہبی مبلغ  مولانا عرفان الحق کی تقریر کا مذکورہ اقتباس کیا آپ کو کسی امر کی یاد دلاتا ہے؟ جی ہاں! اس سے ہندوستانی غیر مسلموں، بت پرستوں اور مزارات اولیاء پر حاضری دینے والے مسلمانوں کے خلاف ایک من گھڑت  حدیث کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جسے پاکستان کے  مولانا عرفان الحق جیسے متشدد علماء ہند کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور اس خطے سے  تمام بت پرستوں کو مٹانے  کے لئے سادہ لوح پاکستانی بھائیوں کو بھڑکانے کی کوشش میں کھلے عام نقل کرتے ہیں ۔ یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ان کی انتہا پسندانہ لغت میں لفظ ‘‘بت پرست ’’ مسلمانوں کے اس اکثریتی طبقہ کو بھی شامل ہے جو اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام سے اس لئے عقیدت مندانہ طور پر وابستہ اور ان کے مزارات کی حاضری کے دلدادہ ہیں کیوں کہ  انہوں نے جنوبی ایشیا میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی ہے ۔ پاکستان کے مختلف حصوں میں مولانا عرفان الحق صاحب کی طرح  ایسے متعدد مولوی حضرات اور متشدد سیاسی اور مذہبی نظریہ ساز  موجود ہیں جو ہندوستانی نسل کے خلاف بالعموم اور  ہمارے غیر مسلم بھائیوں کے خلاف بالخصوص منافرت، جبرو تشدد، اور عدم رواداری کے بیج بو رہے ہیں اور ان کے خلاف دہشت گردی کا مذہبی جواز بھی فراہم کر رہے ہیں۔

تاہم ، ہم بہت سے ہندوستانی مسلم وغیر مسلم ہم وطنوں کو اب تک یہ معلوم ہی نہیں ہو گا کہ  غزوۂ  ہند ہے کیا اور اس نظریہ کی اشاعت کے پیچھے کون سے محرکات وعوامل کار فرما ہیں ۔ ہمارے بہت سے مسلم اور غیر مسلم ہم وطن غزوۂ  ہند کے نام پر رچی جارہی ایک خطرناک اور منصوبہ بند سازش سے غافل یا لاعلم ہیں۔ ان کے لئے میں سب سے پہلے میں خود ساختہ جہادیوں کی اس سازش کو بے نقاب کرنا چاہوں گا اور اس کے بعد پختہ، ٹھوس اور علمی حقائق پر مبنی اسلامی وشرعی بنیادوں پر اس کی تردید کروں گا ۔

غزوہ ٔ ہند کا نظریہ کیا ہے ؟

غزوۂ  ہند کی تحریک چلانے والے پاکستانی متشددین اور جہادی گروپس یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشن گوئی کی ہے کہ ایک دن ایسا  آئے گا جب مجاہدین سرزمیں ہند کو فتح کریں گے اور تمام بت پرست ہندوستانی ہمیشہ کے لئے نیست و نابود کر دئے جائیں گے ۔ اور جو لوگ  کفار کے خلاف اس خونیں جنگ میں شرکت کریں گے، انہیں دوسرے عام مسلمانوں کے مقابلے میں  جنت زیادہ جلدی اور اور بطورمفت ملے گی ۔ غزوۂ  ہند کے اس بے بنیاد فسانے کی تخلیق کے پیچھے بنیادی نظریہ یہی ہے ۔ مختصر یہ کہ غزوۂ  ہند جسے غزوۃ الہند بھی کہا جا تا ہے ایک ایسا خطرناک نظریہ ہے جو ایک متنازع حدیث پر مبنی ہے، جس کا استعمال  آج کے خود ساختہ جہادی ،  تشدد پسند اور دہشت گرد اپنی غیرانسانی کارستانیوں کو مذہبی جواز فراہم کرنے کے لئے کرتے ہیں، اور اس طرح وہ عام پاکستانی بھائیوں کے دلوں میں نفرت کی بیج بوتے ہیں ۔

غزوۂ ہند کی چار متنازع احادیث

شدت پسندوں نے  غزوۂ  ہند کے اپنے انتہائی خطرناک اور غیر اسلامی  تصور کو فروغ دینے کے لئے چار احادیث وضع کی ہیں، لیکن  لطف کی بات ہے کہ پاکستان میں علماء کی خاموش اکثریت نے اب تک اسے کھلم کھلا چیلنج نہیں کیا۔ ان تمام احادیث میں سب سے معروف حدیث  وہ ہے جس کے بارے میں یہ ان کا دعوی ہے کہ اس کی روایت صحابی رسول حضرت  ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے کی ہے ۔ یہ وہی حدیث ہے جسے مولانا عرفان الحق صاحب نے بھی اپنی ایک ولولہ انگیز تقریر میں پاکستانی عوام کو غزوۂ  ہند کے نام پر ہندوستان کے خلاف ورغلانے اور انہیں گمراہ کرنے کے لئے نقل کیا تھا۔ ذیل میں آپ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ مولوی عرفان الحق صاحب پاکستانی عوام کی منفی ذہن سازی کرنے  اور ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے کس طرح اس حدیث کا استعمال کرتے ہیں:

‘‘آپ دیکھتے ہیں، الحمد للہ تمام خطہ عرب سے  شرک اور بت پرستی کا خاتمہ ہوا،مگر اللہ نے اپنے حبیب کے لئے جتنی مہلت مقرر کی تھی ، آپ کے پردہ فرمانے کا وقت آن پہنچا ، مگر کام ابھی نامکمل تھا۔  خطہ عرب سے باہر ابھی  شرک اور بت پرستی کا خاتمہ مقصود تھا،   تو آخری زمانے میں میرے آقا نے  ایک حکم نازل فرمایا۔ ایک بات  کی۔ آپ نے فرمایا کہ “ہند میں غزوہ ہند  ہوگا۔ اور اس کے شرکاء میرے اوّلین کے برابر ہوں گے۔  اور وہ لوگ جو اس جہاد میں شامل ہوں گے، کچھ کو قتل کریں گے کچھ کو قید کریں گے۔   فتح یاب ہو کر شام میں  میں عیسیٰ کی فوجوں سے جا ملیں گے’’

مصدر: http://www.newageislam.com/multimedia/how-pakistanis-are-being-brainwashed-into-engaging-in-war-against-india–virulent-anti-islam-propaganda-in-pakistan-in-the-name-of-so-called-ghazwa-e-hind/d/13576

پاکستانی تنظیم  ‘‘اسلام کے سپاہی ’’ کے چیئرمین نے ‘‘غزوۂ  ہند میں مجاہدین کی فتح ہوگی’’  کے زیر عنوان اپنے ایک مضمون میں اس طرح کی تین من گھڑت احادیث کا ذکر کیا ہے

 ثوبان (رضی اللہ عنہ) نے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ‘‘اللہ نے  میری امت کی دو جماعتوں کو جہنم کی آگ سے محفوظ کر  لیا ہے، ایک وہ ہے جو ہندوستان کو فتح کرے گی اور دوسری وہ جو عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام )کے ساتھ ہوگی ’’۔

 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ‘‘نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہندوستان کی فتح کا یقین دلایا ۔ اگر میں اس واقعے میں موجود ہوتا تو  میں اپنی جان اور دولت لٹا  دیتا ۔ اگر میں مارا جاتا تو میرا شمار عظیم شہدا میں ہوتا ۔ اور اگر میں صحیح و سالم محفوظ واپس لوٹ آتا تو میں وہ ابو ہریرہ ہوتا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہو’’۔(سنن نسائی

 نعیم نے الفتن مین روایت کی کہ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندوستان کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ‘‘تمہاری ایک جماعت  ہندوستان کو فتح کرے گی  اور اللہ ہندوستان کو ان کے لئے فتح کردے گا یہاں تک کہ وہ اس کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لے آئیں گے، اللہ ان کے گناہوں کو بخش دے گا۔ جب وہ لوٹیں گے تو وہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو شام میں پائیں گے’’

ماخذ: http://islamkesipahi.wordpress.com/ghazwa-e-hind

تعجب کی بات ہے کہ ان احادیث کو ذکر کرنے کے بعد مذکورہ مضمون کے  مصنف نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ

ہندوستان ایک فتنہ ہے جسے مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے صہیونیوں کی حمایت حاصل  ہو رہی ہے ۔  اب یہ ایک پراکسی جنگ ہو چکی ہے جس میں مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے صہیونی انہیں فنڈ اور حمایت فراہم کر رہے ہیں ۔ انگریزوں کی مداخلت سے پہلے ہندوستان خود ایک مسلم ملک تھا ، اور اس سے پہلے انہوں نے دست برداری کر لی اور  سارے اختیارات ہندوؤں کو دے دئے اور  مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے انہوں نے اپنی پوری کوشش کی۔ یہ علامہ اقبال ، محمد علی جناح اور پاکستان مومنٹ کی کوششوں کی  مہربانی ہے کہ مسلمانوں نے پاکستان حاصل کر لیا’’۔

ماخذ: http://islamkesipahi.wordpress.com/ghazwa-e-hind

یہ ایک مثال ہے کہ کس طرح انتہا پسند مسلم جماعتیں ہندوستان کے خلاف علمی دہشت گردی اور فکری شرانگیزی کرکے عام پاکستانی مسلم بھائیوں کی منفی ذہن سازی کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس مکروہ مشن کے لئے وہ مذکورہ متنازع احادیث کا استعمال کررہے ہیں ۔

تردید

دینی وعلمی نقطہ نظر سے اگر ہم ان تشدد پسندوں کی تشریحات یا  کسی من گھڑت حدیث کا دندان شکن جواب دینا چاہتے  ہیں تو  ہمیں اصول حدیث اور جمہور محدثین وعلماء اسلام کے منہج علمی  کو بروئے کار لاتے ہوئے ان  متشددانہ نظریات  کا رد کرنا ہوگا ۔ اسی لئے  میں غزوۂ ہند کے تشدد پسندانہ نظریہ کو اصول حدیث کی قدیم وجدید دونوں کسوٹیوں پر پرکھنا چاہوں گا:

  1. کلاسیکل علم حدیث کے مطابق کسی بھی حدیث کو اس وقت تک صحیح نہیں قرار دیا جا سکتا  جب تک کہ متون احادیث کی بخوبی جانچ پرکھ اور اسناد احادیث کی اچھی طرح بحث وتمحیص اور تحقیق و تفتیش نہ کر لی جائے ۔ جس کا ایک معیار حدیث کا صحاح ستہ میں سے کسی ایک میں مذکور ہونا ہے ۔ ‘‘تحریک غزوۂ  ہند’’ کے لئے وضع کی گئی کوئی بھی حدیث صحاح ستہ میں سے کسی میں بھی نہیں ہے ۔تاہم اس طرح کی دو حدیثیں امام نسائی کی  احادیث کے ایک غیر مصدقہ  مجموعہ میں پائی جاتی ہیں، لیکن سنن النسائی الصغریٰ میں نہیں پائی جاتیں، جو کہ صحاح ستہ میں سے ایک ہے ۔ جبکہ دوسری دونوں حدیثیں علی الاطلاق احادیث  کے کسی بھی مجموعہ میں نہیں پائی جاتیں ۔

جہاں تک امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے مجموعہ میں مذکور  ان دو روایتوں کا تعلق ہے،  یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات دیگر اصحاب صحاح ستہ  کے بہت سالوں بعد یعنی 915ء میں ہوئی ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی حدیث  کا تذکرہ کیوں کر کیا جس کی طرف ان کے پیشرو اور اکابر محدثین نےاشارہ تک نہیں کیا۔ یہ امر واقعی حیران کن ہے  کہ کچھ لوگ صرف ایک ایسی حدیث پر یقین رکھنے کا دعویٰ کریں جسے صرف امام نسائی نے روایت کی ہے، اور صحاح ستہ کے دیگر اصحاب کی تو بات تو درکنار، کسی اور محدث نے سرے سے اس حدیث کی روایت کی ہی نہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ تمام محدثین ایک ایسی حدیث کو نظر انداز کردیں جس میں ایک ایسی  جنگ (غزوۂ  ہند ) کا ذکر ہو جس میں شرکت کرنے والوں کو  بلاواسطہ جنت کا پروانہ حاصل ہو یہی نہیں بلکہ انہیں ان اولین صحابۂ کرام کے برابر رتبہ ملے جن کی نیکی اور تقدس کا ذکر قرآن کریم میں بھی ہے؟ جی ہاں! پاکستان کے مجنون جہادیوں اور مذہبی غنڈوں کا یہی اعتقاد ہے ۔

دوسرے یہ کہ اس حدیث کے مطابق غزؤہند میں شریک ہونے والے مجاہدین کے لئے انتہائی عظیم انعام اکرام اور غیر معمولی اجر و ثواب کا وعدہ ہے، لہذا اگر واقعی ایسا ہوتا تو اس حدیث کی روایت دیگر بہت سے صحابہ کرام نے کی ہوتی صرف امام نسائی کے مجموعہ  میں ہی نہیں بلکہ اور اس کی روایت احادیث کی مختلف ومتداول کتابوں میں ضرور ہوتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حدیث کے راوی صرف ایک ہی صحابیٔ رسول ہیں ۔ صرف یہی نقص اس حدیث کو  واضح طور پر رد کرنے کے لئے کافی ہے ۔

  1. ہمیں اسلامی تاریخ میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی جس سے یہ پتہ چلے کہ ماضی میں کبھی بھی لفظ ‘‘غزوۂ  ہند ’’ کا استعمال کیا گیا ہو، یہاں تک کہ ان مسلم حکمرانوں کی روایات میں بھی ایسا کوئی لفظ نہیں ملتا ہے جنہوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور اسے فتح کیا ۔ اگر غزوۂ  ہند کے تعلق سے حدیث واقعی مستند ہوتی، یا کم از کم ضعیف بھی ہوتی تو وہ ضرور اس  کا سہارا لیتے اور آج ہمارے پاس اسلام یا مسلمانوں کی تاریخ میں ایسی روایتیں ضرور ہوتیں۔
  2. چونکہ یہ حدیثیں حدیث کی ایسی کتابوں میں بالکل ہی نہیں پائی جاتیں جنہیں شیعہ مکتب فکر کے لوگ مستند سمجھتے ہوں، لہذا اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ ان احادیث کو اموی حکمرانوں نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے مطابق گھڑا ہو۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اموی حکمرانوں نے سندھ تک اپنی فتوحات کا سلسلہ  بڑھا دیا تھا، جو کہ اس زمانے میں  ہندوستان کا ایک حصہ تھا ۔
  3. حدیث کی اہمیت فقہ اسلامی میں  ثانوی اور بنیادی مصدر کی ہے ۔ اسی لئے احادیث کی معتبریت کو یقینی بنانے کے لئے تقریبا تمام کتب احادیث ومجموعات وسنن کا انتہائی عرق ریزی اور باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے ۔ لیکن توثیق و تصدیق کا یہ عمل  ابھی جاری ہے ۔  ترقی پسند علماء اسلام کے مطابق حدیث کی معتبریت کو جانچنے کے لئے  صرف اسناد (راویوں کا  سلسلہ) ہی  کافی نہیں ہیں، بلکہ متن (عبارت حدیث) پر بھی  یکساں توجہ دی جانی چاہئے ۔ اب جبکہ متون حدیث کی غلط  تشریح اور ان کے گھڑے جانے کے امکانات زیادہ ہیں  ہمیں صحت احادیث کی توثیق وتصدیق کرنے کے لئے ایک ایسے معیار کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر  قابل قبول ہو ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ احادیث کی توثیق و تصدیق کرتے وقت ہمیں ان پانچ انتہائی اہم معیارات کو ملحوظ رکھنا چاہئے : (1) قرآن کریم (2) مستند وصحیح احادیث وروایات (3) معقول توجیہات (4) تاریخی حقائق (5) فکری اعتدال پسندی۔ متن حدیث کو جانچنے اور پرکھنے کے ان پانچ بنیادی معیارات کو  بروئے کار  لانے کے بعد  شرع اسلامی میں غزوۂ  ہند جیسے قابل اعتراض اور شر انگیز نظریات کے لئے کوئی جگہ نہیں رہ جاتی ہے ۔

 غلام رسول دہلوی ایک عالم اور فاضل  (اسلامی سکالر ) ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کے معروف اسلامی ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ  (مئو، یوپی، ہندوستان ) سے  فراغت حاصل کی ہے، الجامعۃ اسلامیہ، فیض آباد، یوپی سے قرآنی عربی میں ڈپلوما کیا ہے ، اور الازہر انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز بدایوں، یوپی سے علوم الحدیث میں سرٹیفیکیٹ حاصل  کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں  نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی سے  عربی (آنرس) میں گریجویشن کیا ہے، اور وہیں سے تقابل ادیان ومذاہب میں ایم اے ہیں۔

Check Also

In the era of virtual terrorism, all cyber-enabled nations are equal

WordForPeace.com By Daniel Wagner A victory in information warfare can be much more important than victory …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *