Paradise Is Under Mother’s Feet: Don’t Say Even “Oh” To Them! ماں کے قدموں تلے جنت ہے انہیں’ اف‘ بھی نہ کہو

By Mohammad Shadman Alam Barkati, Word for Peace

محمد شادمان عالم برکاتی

ماں وہ عظیم ہستی ہے جو بچوں کی پرورش وپرداخت اپنے خون ولہو سے کرتی ہے ۔جسکی محبت وممتاآغاز وجود سے لے کر بچہ کے جوان ہونے تک اس پر سایہ فگن رہتاہے ۔بچوں کے خدو خال اور عمر میں کتنی ہی تبدیلیاں رونما ہو لیکن ماں کی محبت میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔یہی وہ ہستی ہے جسے اپنے اولاد کی تھوڑی سی تکلیف اپنی تکلیف سے زیادہ تڑپاتی اور ستاتی ہے لیکن زبان پر کبھی آہ کا لفظ نہیں لاتی ۔یہی وہ ہستی ہے جو اپنے اولاد کے خاظر پیٹ باندھ کر بھوک وپیاس برداشت اور خون و پسینہ ایک کرکے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاتی ہے پھر بچا کچا کھاناشوق سے کھاتی ہے ۔یہی وہ عظیم ہستی ہے جو جاڑوں کے تڑکتی ہوئی راتوں میں اپنے بچوں کو بانہوں میں چھپاکر رکھتی اور خود گیلی جگہ سوتی ہے‘ اور گرمیوں کے موسم میں آنچل کی ٹھنڈی ہوا دے کر سکون کی نیند سلاتی ہے ۔یہی وہ ہستی ہے جو اپنے لاڈلے اولاد کے خاطر اپنی نیندیں اور سکھ وچین سب کچھ قربان کر دیتی ہے ۔یہی وہ ہستی ہے جو بچے کے رونے سے اپنی آنکھیں چھلکادیتی ہے اور ایک بوند کے بدلے آنکھوں سے ہزاروں قطرے بہا دیتی ہے ۔یہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی چھوٹی سی چھوٹی آرمانوں اورتمناؤں کے انجام دہی کے لئے در بدر ٹھوکرے کھانا ‘ ذلت ورسوائی کو بخوشی گلے لگا لینا پسند کرتی ہے ‘لیکن اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیتی۔ہاں یہی وہ ماں ہے جب کسی نے اس ’’ماں ‘‘سے سوال کیا‘کہ اگر آپ کے قدموں سے جنت لے لی جائے اور آپ سے کہا جائے کچھ اور مانگ لو تو آپ خدا سے کیا مانگیں گی ؟تو ماں نے کیا ہی خوبصورت جواب دیا ‘کہ میں اپنی اولاد کا نصیب اپنے ہاتھوں سے لکھنے کا حق مانگوں گی کیونکہ ان کی خوشی کے آگے میرے لئے جنت چھوٹی ہے ۔ماں جیسی عظیم ہستی کی اس بڑی مثا ل کیا ہو گی کہ ایک رات ایک شخص اپنے کمرے میں سو رہا تھا کہ کسی کی آہٹ سے اسکی آنکھ کھل گئی ۔دیکھاتو سامنے موت کا فرشتہ کھڑ ا تھا ۔گھبر کر پوچھا کہ یہاں کیسے ؟بولا کہ تیری ماں کو لینے آیا ہوں وہ ایک دم گھبر ا گیا دل آبدیدہ ہو گیا ۔آنکھ نم ہو گئی ۔اس نے کہا ایک سودا کرلیتے ہیں ۔مجھے لے جاؤ اور میر ی ماں کی زندگی بخش د و اس پر ملک الموت مسکرا دیا اور کہا لینے تو تجھے ہی آیا تھا پر تجھ سے پہلے تیر ی ماں نے سودا کر لیا ۔
والدین کی سایہ عاطفت اللہ تعالی کی ایسی گراں بہا نعمت ہے جس کا دنیا میں کوئی بدیل نہیں ۔بچوں کے لئے دنیا جہاں کے خزانے اور رہائش وزیبائش کے اعلی انتظامات ایک طرف اور ماں کی ممتا اور شفقت پدری سے حاصل ہونے والی راحت وطمانیت ایک طرف ۔ماں کی شفقت ومحبت نہ ہوتو انسان صحرائے حیات میں نو خیز کونپلی کی طرح حوادثات زمانہ کی دست برد کا شکار ہوجائے ۔انسان کے وجود میں آنے اور اس کی پرورش وپرداخت کرنے میں کتنی مصیبتیں جھیلتی اور مشقتیں برداشت کرتی ہے اور سبک باررہتی ہے اللہ نے اسکا خوب نقشہ کھینچا ہے ۔سورہ احقاف میں اللہ تبار ک وتعالی ارشاد فرماتا ہے “ووصینا الإنسان بوالدیہ احسانا ‘حملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا “۔اور ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے اسکی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف اور جنی تکلیف سے اور اسے اٹھائے پھرنا ۔اور دوسری جگہ اس کی تکلیفوں کو یوں بیان کیا ہے “ووصینا الإنسان بوالدیہ حملتہ أمہ وھنا علی وہن وفصالہ فی عامین ان اشکر لی ولوالدیک الی المصیر “۔(اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے ۔(سورۃ لقمان ۔۱۴)۔
اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “الجنۃ تحت أقدام الأمھات”ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔اور ماں کی فضیلت اس بات سے بھی آشکار ا ہوتی ہے کہ اللہ تبار ک وتعالی نی جہاں توحید اور اسکی عبادت کا ذکر فرمایاوہیں اس کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین فرمائی جیسے کے اللہ تبار ک وتعالی ارشاد فرماتا ہے ’’وقضی ربک ألا تعبد الا ایاہ وبالوالدین احسانا‘‘۔(اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو )۔اور دوسری جگہ ماں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ’’واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اللہ وبالو الدین احسانا وذی القربی والیتامی والمساکین وقولوا للناس حسنا ‘‘۔(اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو )۔
روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا :میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟جواب میں آپ نے فرمایا :تمہاری والدہ حسن سلوک کی زیادہ مستحق ہے ۔اس نے پوچھا پھر کو ن؟آپ نے فرمایا:تمہاری والدہ ‘چوتھی مرتبہ سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا :پھر تمہارا باپ۔جس سے ثابت ہوا کہ حسن سلوک اور احسان میں ’ماں ‘باپ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ حقدار ہے ۔وجہ یہی ہے کہ ماں اولاد کے لئے تین ایسی مشقتیں اٹھاتی ہے جس میں مرد کا کوئی خاص حصہ نہیں ہوتا ‘یعنی حمل کی ‘جننے کی اور دودھ پلانے کی ۔ 
اسی طرح ایک دوسری روایت ہے کہ ایک آدمی اپنی والدہ کو کندھوں پر بٹھا کر طواف کروائے تھے تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا “کیا میں نے اپنا حق ادا کر دیا ؟تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “نہیں بلکہ تو ابھی ایک رات جب اس نے تمہیں اپنی سوکھی جگہ لٹایا اور خو د گیلی جگہ لیٹی اسکا بھی حق ادا نہیں کیا ۔والدین کے حقوق بہت زیادہ ہیں اس سے سبکدوش ہونا ممکن نہیں ۔چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں عرض کی ایک راہ میں ایسے گرم پتھر تھے کہ اگر گوشت کا ٹکڑا ان پر ڈالا جاتا تو کباب ہو جاتا !میں اپنی ماں کو گردن پر سوار کر کے چھ میل تک لے گیا ہوں ‘کیا میں ماں کے حقوق سے فارغ ہو گیا ہوں ؟سرکار نامدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تیرے پیدا ہونے میں درد کے جس قدر جھٹکے اس نے اٹھأئے ہیں شاید یہ ان میں سے ایک جھٹکے کا بدلہ ہوسکے۔
رب نے ماں کو یہ عظت کمال دی اس کی دعا سے آئی مصیبت بھی ٹال دی 
قرآن نے ماں کے پیار کی اس طرح مثال دی جنت اٹھا کے ماں کے قدموں میں ڈال دی 
لیکن یہی انسان جب بڑا ہوتا ہے توبدلتی راتوں کی طرح رنگ برنگیں چادریں اوڑھنا شروع کر دیتا ہے ۔یاد رکھو زندگی نشیب وفراز کا نام ہے ہمارافرض ہے کہ اللہ جوبھی حالات پیداکرے اسے ٹھیک طرح سے نبھائیں کیونکہ تپتی ریت کے کنارے بھی طویل پرسکون سائے ہوتے ہیں ۔
آج جب شادی ہونے کے بعد نئی نویلی دلہن گھر میں داخل ہوتی ہے اور گھر کا اقتدار بہو کے اختیار میں آتا ہے تو گھر کاماحول تتر بتر ہوجا تا ہے ۔جب ماں عالم شباب سے بڑھاپے کی وادی میں قدم رکھتی ہے تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان کی خدمت کی جائے اور ماں کو سایہ عاطفت سمجھ کر اس کی دلجوئی کی جائے لیکن ماں کا وجود کانٹے کی طرح کھٹکنے لگتا ہے اور خدمت کے بجائے معذور بوڑھی اور بے کس ساس کے ساتھ وہ رویہ اختیار کیا جاتاہے جو ایک سفاک حکمراں مجبور رعایا کے ساتھ کرتا ہے ۔اور طرح طرح کے ظلم وجبریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ‘جسے لا ڈلا بیٹااپنی ننگی آنکھوں سے دیکھتا ہے لیکن بیچ میں مداخلت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا اور اگر مداخلت کرتا ہے تو ماں کو مورد الزام ٹھرا کر ماں کو ہی جھڑک دیتا ہے ۔صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس معصوم ماں کو گالی گلوچ کرتا ہے اور قینجی جیسی تیز زبان استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ۔اور بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جو فلک بوس عمارتوں میں آرائش وزیبائش کے ساتھ قمقموں اور بجلیوں کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں لیکن انہیں کبھی والدین کا خیال نہیں آتا کہ ماں کیا کھائی ہو گی کیا نہیں کھائی ہوگی؟
اے کمبخت انسان! سوچو تو صحیح آج ہم زبان کی تیزی اس ماں پر چلا رہے ہیں جس نے ہمیں بولنا سکھایا ۔آج ہم اس ماں پر ہاتھ اٹھا رہیں ہیں جس ہاتھ کی انگلیوں کو پکڑ کر ماں نے ہمیں چلنا سکھایا ۔لذید میواؤں اور غذاؤں سے مزہ اٹھاتے وقت ہم اس ماں کو بھلا رہے ہیں جو ہمارے لیئے ہمیشہ فکر مند رہتی اور ہر مصیبت کے وقت سائبان بن کر ہمارے سروں پر تن جاتی ‘اور جب ہم صبح سے شام تک مسلسل جانفشانی اور عرق ریزی کے بعد گھر آتے تو بھائی پوچھتا :آج کیا کما یا ؟بیوی پوچھتی :کیا بچایا ؟اور بچے پوچھتے تھے :کیا لایا ؟لیکن صرف ماں ہی تھی جو پیار سے پوچھتی تھی بیٹا !آج دن میں کچھ کھایا یا نہیں کھایا ؟اور اسوقت تک نہیں کھاتی تھی جب تک تمہیں کھلا نہ دیں ۔لیکن ہم نے اس ماں کو کیا صلہ دیا ؟جو پہلے تمہیں سکون سے کھلاتی پھر بعد میں جو کچھ بچ جائے اسے شوق سے کھاتی تھی۔وہ ماں جب گھر میں روٹیاں تین ہوں اور کھانے والے چار ہوں تب ماں ہی کہتی تھی مجھے بھوک نہیں تم کھا لو ‘آج جب ماں باپ بڑھاپے میں بستر پر ہی بول وبزار کر دیتی ہیں تو ہم اسے بیزاری کرتے ہو ‘ اپنے ایام طفولیت کی عاجری کو یاد کرو۔ بچپن میں ہماری گندگی کو برداشت کرنے والی کوئی اور نہیں ہماری ماں تھی ۔
اے کمبخت انسان !آج ہم جلی ہوئی روٹی پر شور مچاتے ہیں‘ اگر ماں کی جلی ہوئی انگلیوں کو دیکھ لیتے تو ہمار ی بھوک ہی مٹ جاتی ۔آ ج جب اللہ تعالی نے ہمیں مال ودولت سے سرفراز کیا ہے تو ہم مال ودولت کے نشہ میں اس ماں کو بھلا رہے ہو جوپوری زندگی میں اللہ تعالی سے اپنے لئے کچھ نہیں مانگی لیکن ہمارے لئے اپنے دامن کوخدا کے روبرو پھیلا دیتی تھی ۔آج ہم اس ماں کے زندگی کو نظرانداز کر رہے ہیں جو ہماری خدمت کے لئے ساری زندگی گزار دی لیکن خود کبھی سکون حاصل نہیں کی ۔
موت کے آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں 
تب کہیں جا کرسکوں پاتی ہے ماں 
آج ہم زبان کی تیزی اس ماں پرچلا رہے ہیں اور اس کے ساتھ بد تمیزی کر رہے ہیں۔جس ماں سے ہم نے جتنی بھی بد سلوکی کی لیکن وہ کبھی زباں سے بد دعا نہیں دی اس کے بر عکس پیار سے اپنے نرم آغوش میں لے لیتی تھی ۔
لبوں پہ اس کے بد دعا نہیں ہوتی 
بس ایک ماں ہے جو کبھی خفا نہیں ہوتی 
جس ماں نے گوشت کی اس لوتھڑے کو نوماں سے زیادہ عرصہ تک اپنے شکم میں پالا اور اس کی راحت وسلامت کے لئے کروٹ کروٹ مشقت اٹھائی ۔جس نے ناقابل برداشت تکلیف اٹھا کر اورجان کو خطرے میں ڈال کر اسکو جنم دیا ۔جس نے خون کے بوندوں کو اپنے سینے میں جمع کرکے صاف وشفاف دودھ کے گھونٹ پلائے ہیں ۔بچے کی ایک چیخ جس کی کروٹوں کوں بے سکوں کردیتی ہے ۔بچوں کی نا معقول ضد کے سامنے جسکا سر خمیدہ ۔بچوں کی معمولی سی آہ بھی جس کے قرار کو چھیننے کے لئے کافی ہے ۔اسے گھر کا ملکہ سمجھنے کے بجائے محکوم بنا دیا جائے یہ کتنا بڑا ظلم ہے ۔ماں کا پیکر قدرت کی انوکھی تخلیق ہے ۔پھول سے زیادہ نازک ‘خوشبو سے زیادہ لطیف ۔مہ وانجم سے زیادہ جمیل ‘کہکشاں سے زیادہ حسین۔ ماں کا مرتبہ ہمالیہ سے زیادہ اونچا ‘ما ں کی عظمت قطب مینار سے زیادہ بلند۔ ماں کی خوشی جنت کی ضمانت‘ ماں کی ناراضگی جہنم کی رسید۔ قرآن نے کہا !انہیں’ اف‘ نہ کہو’ اوہ ‘نہ کہو’ انہو ‘نہ کہوا !جوانوں ما ں کو دل میں بسا ؤ پلکیں بچھاؤ۔آج ہمیں ماں کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ وہ دن دور دور نہیں جب ہم ماں کی نافرمانی کی وجہ سے دونوں دنیا میں خسارے میں پڑ جائیں ۔منقول ہے کہ جس نے اپنے والدین کو گالی دی اس کی قبر میں آگ کی اتنے انگارے اترتے ہیں جتنے (بارش کے )قطرے آسمان سے زمیں پر آتے ہیں ۔

Check Also

Kashmiri footballer-turned-militant Majid Khan returns home after mother’s tearful appeal; army not to press charges

WordForPeace.com The Indian Army has hailed the footballer-turned militant Majid Irshad Khan for his ‘brave’ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *