Rebuttal to the ‘Jihad’ Rhetoric In Kashmir: True Islamic Perspective from Qur’an and Hadith کشمیر میں اعلان جہاد کا دندان شکن جواب

WordForPeace.com

By Ghulam Rasool Dehlvi

یک دلچسپ سوال جو جدید جہادیوں نے علماء کےسامنے رکھا ہے وہ عیسی فاضلی کی طرف سے اٹھایا گیا تھا ، ایک ایسا عسکریت پسند جس کا انکاؤنٹر کر دیا گیا جو کشمیر میں مبینہ طور پر داعش کاحامی تھا۔ ایک ویڈیو میں جسے شاید اس نے انکاؤنٹر سے قبل ریکارڈ کیا تھا ، عیسی فاضلی نے کشمیر کے اندر ‘‘مقدس جنگ’’ کے عسکریت پسندوں کے مطالبہ کو عملی شکل دینے کے لئے جہاد کا فیصلہ جاری نہ کرنے پر ہندوستانی علماء کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ عیسی فاضلی نے ہندوستانی علماء سے سوال یہ کیا کہ: ‘‘علماء غیر مسلم ظالموں کے خلاف جہاد کا فتوی کیوں نہیں جاری کرتے’’؟

عسکریت پسندوں کی جماعت میں شامل ہونے والے ایک (B Tech) بی ٹیک (آئی ٹی) کے سادہ لوح نوجوان نے علماء کو یہ تنبیہ کی کہ :

“ایک دن ان علماء کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ، اور یقیناً اللہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے فتویٰ جاری کرنے کے اپنے فرض منصبی میں ناکام ہونے پر انہیں سزا دے گا۔”

عیسی فاضلی اور اس جیسے انتہا پسند کشمیری نوجوان خود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جب کسی مسلک یا کسی فقہی مذہب کے علماءنے کشمیر میں جہاد کا کوئی فرمان یا فتویٰ جاری نہیں کیا ہے تو یہ نیم تعلیم یافتہ نوجوان کیوں خود ساختہ ‘جہادِ کشمیر’ برپا کرنے پر کمر بستہ ہیں؟ کیا انہوں نے جہاد یا قتال کا اعلان کرنے کے لئے خود کو علماء یا مفتی سمجھ لیا ہے ، جس کی اہل مستند علمائے اسلام کے مطابق صرف ایک ریاست ہی ہے؟ کیا وہ مستند علماء اور اسلامی اسکالرز کو اپنا مذہبی مربی اور معلم نہیں مانتے ہیں؟ جب اسلامی علماء اور فقہاء کسی بھی قسم کے جہاد میں شرکت کرنے کے لئے نہیں کہتے تو پھر جہاد اور خلافت کے نام پر وادی میں اشتعال انگیزی کرنے اور تباہی مچانے پر انہیں کون مجبور کر رہا ہے؟ واضح ہے کہ کشمیر میں موجودہ انتہا پسند جہادی خود کو دھوکہ دے رہے ہیں اور غیر ملکی اشاروں پر ناچ کر رہے ہیں اور ان کے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ وہ محض غیر ملکی سیاسی عزائم کی کٹھ پتلی ہیں اور جان بوجھ کر یا نادانستہ طور پر ہندوستان مخالف عناصر کے خفیہ مقاصد کے لئے کام کر رہے ہیں۔ لہذا، کشمیر میں اسلامی جہاد کے اس غلط تصور کی لپیٹ میں آنے والے گم گشتہ راہ نوجوانوں کو بچانا ضروری ہے جس کی بیج بیرونی مفادات کے پیش نظر بوئی گئی ہے۔ عیسی فاضلی نے علماء کو یہ کہا ہے کہ ایک روز انہیں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے جو انہیں جہاد کی دعوت دینے کے ان کے فرض منصبی میں ناکام ہونے کی سزا دیگا۔ لیکن وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ خود وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنا چہرہ کیسے دکھائے گا اس لئے کہ وہ خدا کی عطا کردہ اپنی بیش قیمتی زندگی اللہ کی راہ میں نیکی کے ساتھ بسر کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کیا اللہ اس سے یہ سوال نہیں کرے گا کہ اس نے اپنی مقدس زندگی اس نام نہاد جہاد میں کیوں ضائع کر دی جس کا حکم نہ تو اللہ نے دیا تھا اور نہ ہی اس جہاد کا اعلان ریاست کی طرف سے کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کی تائید کسی ایک بھی معتبر اسلامی عالم نے نہیں کی تھی۔

ہندوستان کے مستند علماء کی تو بات دور کی ہے پاکستانی علماء بھی اس طرح کے خود ساختہ جہاد کے جواز کو مسترد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس کا ثبوت حالیہ دہشت گردی مخالف فتویٰ سے ملتا ہے جو کہ “پیغام پاکستان” کے نام سے مشہور ہے جس میں تقریبا تمام اسلامی مکتبہ فکر کے 18سو علماء اور فقہاء نے دستخط کئے ہیں۔ اس میں دو اہم باتوں کو دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا گیا ہے: (1) ‘صرف ریاست ہی کسی جہاد کا اعلان کرسکتی ہے’ اور (2) شرعی قانون نافذ کرنے کے لئے کسی بھی فرمان (فتویٰ) یا کسی بھی اقدام کو آئین کے بغیر جائز نہیں مانا جا سکتا۔ اس کی تفصیل یہ ہے:

“اسلامی فقہاء کے مطابق ریاستی حکمران یا اس کے مقرر کردہ کمانڈروں کی رضامندگی کے بغیر ایسی کوئی بھی سرگرمی شروع نہیں کی جاسکتی ہے جس کا انجام جنگ ہو۔ ایک سپاہی اپنے کمانڈر کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی فیصلے سے اپنے دشمن پر حملہ نہیں کر سکتا۔اسلامی فقہاء کا یہ بھی فرمان ہے کہ جنگ حکومت کی اجازت کے بغیر نہیں شروع کی جا سکتی۔ مزید برآن یہ کہ صرف دشمن پر قابو پانے کے لئے جنگ شروع نہیں کی جا سکتی۔ لڑنے کی اجازت دینے یا جنگ شروع کرنے کا اختیار حکومت کو ہے جو کہ ریاست کی نازک تحفظاتی صورت حال کے تابع ہے۔ قرآن کا فرمان ہے: ‘‘اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی جھکو اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بیشک وہی ہے سنتا جانتا’’۔ (سورہ انفال: 8:61)

قرآن کریم کی مذکورہ آیت اور اس جیسی دیگر متعدد آیتوں کی بنیاد پر ہندوستان اور پاکستان دونوں کے مستند علماء اور مفتیان (اسلامی فقہاء) کسی بھی قسم کے خود ساختہ جہاد یا مسلح جدوجہد کے عدم جواز پر متفق ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر ریاست کے خلاف جنگ چھڑنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ لہٰذا ، کشمیر میں عسکریت پسند جو کر رہے ہیں وہ فساد ہے ، جہاد نہیں۔ ان کا غیر مستحکم فقہی جواز اور ان کے ناموزوں مذہبی دلائل ان کی دہشت گردانہ اور پر تشدد سرگرمیوں کی حمایت کے لئے اسلامی بنیاد نہیں بن سکتے۔

خبروں کے مطابق اس مقتول کشمیری عسکریت پسند نے بزعم خویش دار الکفر کے خلاف مسلح جدوجہد یا جہاد کی درخواست بھی کی تھی۔ اس دعوت جہاد میں اس کی دلیل یہ تھی کہ دار الکفر اور کافروں کے خلاف لڑنا ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس طرح اس نے نہ صرف حکومت ہند کے خلاف بلکہ کشمیر کے اندر اصحاب اقتدار کے خلاف بھی دہشت گردانہ حملوں کا قانونی جواز پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

تاہم، غیر مسلم اکثریتی ممالک کو دار الکفر قرار دیکر ان کے خلاف جنگ کے حق میں انتہا پسندوں کی جانب سے پیش کیا گیا فقہی جوازمکمل طور پر باطل اور بے بنیاد ہے۔ وہ ابتدائی اسلامی اصطلاحات اور تصورات کا غلط استعمال کر رہے ہیں جن کا ذکر علماء نے تاریخی پس منظر میں کیا ہے۔ بلکہ عہد حاضر کے انتہاپسند ان کا غلط معنیٰ اخذ کرتے ہیں اور ہر اس ملک کو دار الحرب یا دار الکفر سمجھتے ہیں جہاں اسلامی شریعت نافذ نہیں ہے۔ لہٰذا ، جہادی انتہا پسندوں کا خیال ہے کہ ان ممالک کو فتح کرنے کے لئے ان کے خلاف اسلامی مہم جوئی ( غزوہ ) کی جا سکتی ہے۔

لیکن جہادی انتہاپسندوں کی اس دلیل کی تردید اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ ابتدائی اسلامی فقہاء کی جانب سے کی گئی خطّوں کی اس درجہ بندی کا مقصد غیر مسلم ممالک کے خلاف بے درریغ قتل و قتال کا جواز پیش کرنا نہیں تھا۔ بلکہ اس کا مقصد ایک ایسی بنیاد فراہم کرنا تھا جس پر مسلمانوں کے لئے بعض فقہی احکام کا اجراء مبنی ہو۔ یہ آج اس دنیا کی سیاسی زمرہ بندی کی ہی طرح تھا۔

آج مرکزی دھارے (mainstream) کے علماء کا اجماع اس مستند اسلامی موقف پر ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں اگر دوسروں کے ساتھ مسلمان پر امن ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں انہیں زندگی کا تحفظ اور مذہبی آزادی حاصل ہے ، تو اس خطہ ارضی کو خالص فقہی اصطلاح میں دار المعاہدہ اور دار الصلح کہا جا سکتا ہے۔ ایک معروف اسلامی شخصیت مولانا حسین احمد مدنی جنہوں نے ہندوستان میں دارالمعاہدہ کے تصور کو فروغ دیا ، انہوں نے مذہبی شناخت کے بجائے علاقائی قوم پرستی کی ترغیب لوگوں کو دی۔ 1937ء میں موصوف نے دہلی میں ایک سیاسی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے اس امر کو واضح کیا تھا: ‘‘آج ایک ملک کی بنیاد پر ایک قوم کی تخلیق ہوئی ہے۔ اگر اس ملک میں مختلف مذاہب موجود ہیں تو اس کی بنیاد پر یہ ملک مختلف نہیں ہو جاتا’’۔

جہاں تک دار الاسلام ، دار الکفر اور دار الحرب جیسے قرون وسطی کی اسلامی اصطلاحات کا تعلق ہے تو وہ آج کالعدم ہو چکے ہیں؛ نئے عالمی نظام (new world order)، آئین، بین الاقوامی معاہدوں، امن معاہدوں اور بین الاقوامی تعلقات نے ان تصورات کو منسوخ کر دیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ وہ اصطلاحات تیسری اور چوتھی اسلامی صدیوں کے دوران افادیت بخش رہے ہوں۔ یہاں تک کہ اس زمانے میں بھی ان تصورات کو مسلمانوں یا غیر مسلموں کے بے دریغ قتل و قتال کے لئے بنیاد نہیں بنایا گیا تھا۔ چھٹی صدی میں فقہ حنفی پر انتہائی مشہور و معروف کتاب البدائع و الصنائع کے مصنف امام الکاسانی (رحمۃ اللہ علیہ)اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

“اسلام اور کفر کے ساتھ لفظ “دار”(گھر) سے مراد اسلام اور کفر نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد تحفظ اور عدم تحفظ کی صورت حال بیان کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے متعلق فقہی احکام اسلام یا کفر پر نہیں بلکہ تحفظ اور عدم تحفظ کی صورت حال پر مبنی ہیں۔”

اس موقف کی تائید سنی اسلامی روایت کے ایک مشہور امام ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے بھی کی ہے۔ وہ واضح انداز میں مندرجہ بالا روایتی اسلامی موقف کی حمایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: “علماءکی اکثریت اسی رائے کو ترجیح دیتی ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ اسلامی فقہاء نے اپنی رائے فقہ المألات (وہ اسلامی قانون جس میں اقدامات کے نتائج سے بحث کی جاتی ہے) کے مطابق قائم کی ہے۔ “[ابن القیم الجوزیہ ، احکام اہل الذمۃ 2/873]۔

فقہ حنبلی کے ایک ممتاز قرون وسطی کے اسلامی فقیہ کی حیثیت سے ‘‘احکام اہل الذمۃ’’ میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق پر امام ابن القیم کی تحریریں قابل ذکر ہیں۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ ابتدائی اسلامی فقہاء نے معاصر مسائل پر شرعی احکامات کی بنیاد مصالحہ (عوامی مفاد) کو قرار دیا تھا۔ نتیجے کے طور پر درست اسلامی اصولوں پر مبنی مستند علماء و فقہاء کی رائے میں غیر مسلموں کے مذہبی حقوق محفوظ تھے نہ کہ ان سیاسی فقہاء کی گمراہ کن رائے میں جنہوں نے مختلف مسلم سلطنتوں کے خفیہ مفادات کی خدمت کی۔

چونکہ قومی ریاستوں کے آئین میں سلامتی اور امن معاہدے کی مکمل ضمانت دی جاتی ہے ، اسی لئے دار الاسلام یا دار الکفر کی کوئی بھی اسلامی افادیت اب باقی نہیں بچی۔ ‘جو لوگ قومی ریاست کی بات کرتے ہیں’ ان کے لئے ذاکر موسی کی کھلی دھمکی سے صرف قرآنی قوانین اور فقہی کتب سے اس کی عدم واقفیت کا پتہ چلتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ‘غروۃ الہند’ کی اس کی دعوت وادی میں سکیورٹی اداروں کے لئے خطرات پیدا کرتی ہے، لیکن اس کے اس موقف کو ہندوستان کے مشہور و مستند علماء اور فقہاء کی کوئی تائید حاصل نہیں ہے۔

در اصل کشمیر میں تمام کی تمام شدت پسند جہادی بیانبازیاں جو سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے جاری ہیں ، ان میں کوئی خاص بات نہیں ہے اور ان کی تائید اسلامی احکام ات کے چار مصادر یعنی قرآن ، حدیث ، اجماع اور قیاس میں سے کسی ایک سے بھی نہیں ہوتی ہے۔ جو لوگ ہندوستانی علماء اور فضلاء کی تنقید کرتے ہیں اور ان پر ‘حکومت کا ساتھ دینے’ اور ‘کشمیر میں جہاد کا فتویٰ دینے سے قاصر ہونے’ کا الزام لگاتے ہیں انہیں اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ وہ کس طرح آخرت میں اللہ کو اپنا چہرہ دکھائیں گے۔ البتہ! انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واضح حکم پر توجہ نہ دینے پر اللہ انہیں سزا دیگا:

” جو شخص کسی ایسے غیر مسلم کو قتل کرتا ہے جس کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہے وہ کبھی جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا”۔ (صحیح مسلم)

ریاست مدینہ میں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کو بھی زندگی کا تحفظ اور آزادیٔ مذہب کی ضمانت حاصل تھی ، ان کے لئے نبی ﷺ کا اعلان تھا:

“خبردار! جو بھی کسی غیر مسلم اقلیت پر ظلم اور سختی کرتا ہے ، یا ان کے حق کو کم کرتا ہے، یا ان کی قوت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈالتا ہے، یا ان کی مرضی کے خلاف ان سے کچھ لیتا ہے؛ تو میں (محمد ﷺ) قیامت کے دن ایسے شخص کے خلاف کھڑا ہوں گا”۔ (ابو داؤد)

Source: http://www.newageislam.com/urdu-section/rejoinder-to-the-rhetoric-of-jihad-in-kashmir–%DA%A9%D8%B4%D9%85%DB%8C%D8%B1-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%86-%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%86%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D8%B4%DA%A9%D9%86-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8/d/114996

Check Also

(India) A Mosque for all: Masjid-e-Quba invites people of other faiths to show what goes on inside a mosque

WordForPeace.com By Nikhat Fatima Many non-Muslims may have visited mosques as part of a tourist …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *