Rebuttals to Takfeer, Wala Wal Bara’a, Darul Islam vs. Darul Harb تکفیر ، الولاء و البراء ، دارلاسلام بمقابلہ دارلا الحرب: انتہا پسندی  کے تین اہم عناصر 

 WordForPeace.com

غلام رسول دہلوی 

جہادی بنیاد پرستی مسلسل ایسے آٹھ اہم نظریات کے ساتھ اب بھی عروج پر ہے جو مسلسل جہادی بیانیہ میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ ان روایتوں کی جاذبیت کی تشخیص اور تردید کئے بغیر اس سے نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے جو سادہ لوح نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے۔

بہت سارے ایسے مسخ شدہ اسلامی تصورات ہیں جو سادہ لوح نوجوان مسلمانوں کی ذہن سازی کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں سے بہت سے اب بھی پر تشدد خیالات کے لئے توجہ کا مرکز ہیں۔ ان بنیاد پرست روایات کا صرف ایک بہتر تنقیدی تجزیہ اور ان کی تردید سے ہی قومی اور عالمی سطح پر انسداد انتہا پسندی کوششوں میں تعاون کیا جا سکتا ہے۔ درج ذیل وہ آٹھ علیحدگی پسند اصطلاحات ہیں کہ جنہیں انتہا پسند جہادی نظریہ ساز اکثر وہ ناقص الفہم اور سادہ ذہن مسلمانوں کو متاثر کرنے اور انہیں اپنا حامی بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں: تکفیر ، الولاء و البراء ، دارلاسلام بمقابلہ دارلا الحرب ، امۃ،استشہاد یا شہادت، بیعت اور ہجرت۔

یہ تمام اصطلاحات دنیا بھر میں جہادی انتہا پسندوں کا سب سے اہم حربہ رہے ہیں۔ لیکن پہلے تین نظریات – تکفیر ، الولاء و البراء ، دارلاسلام بمقابلہ دارلا الحرب – سب سے زیادہ واضح جہادی بنیادیں ہیں۔ تاہم، ان کی دو یکسر مختلف تشریحات ہیں: (1) روایتی اور کلاسیکی تشریحات اور (2) نفرت پر مبنی انتہا پسند جہادی تشریحات۔ اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ داعش اور القاعدہ جیسی جہادی تنظیمیں کس طرح ان اصطلاحات کا استعمال کرتی ہیں اور مستند کلاسیکی اسلامی علماء نے انہیں کیسے پیش کیا ہے۔

داعش/ القاعدہ کا تکفیری نظریہ

تکفیر کا لفظی معنی دوسروں پر ‘ کافر ‘، ‘مرتد’ یا ‘غیر مسلم’ ہونے کا الزام لگانا یا کسی کو اسلام سے خارج کرنا ہے۔ اسلامی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ انتہاپسند اسلامی جماعتوں نے دوسرے مسلمانوں کو کس طرح مرتد، ناپاک، منافق یا غیر مومن ( کافر) قرار دیا ہے۔ لیکن داعش، القاعدہ اور ان جیسی جماعتوں نے باقاعدگی سے ان کی مخالفت کرنے والے دیگر مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل کی کوشش میں اس اصطلاح کا استعمال کیا ہے۔ لہذا، اعتدال پسند مسلمان اب براہ راست ان کے نشانے پر ہیں۔

السلفیہ جہادیہ کی ذیلی جماعتوں کے تکفیری گروہ جو اسلامی تعلیمات کی انتہائی تنگ نظر اور مسخ شدہ تشریحات پر کاربند ہیں۔ تکفیری صرف غیر مسلموں کو ‘کافر’ قرار دینے پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ وہ دیگر مسلمانوں کو بھی اسلام سے خارج کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے ہر دور میں موجود انہوں نے حال ہی میں ‘جماعت التکفیر و الہجرہ’کے نام سے مصر کے اندر انتہائی متشدد انداز میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے۔ مصری حکام کا دعویٰ ہے کہ ‘جماعت التکفیر و الہجرہ’ نے گزشتہ سال سینائی کے اندر ایک صوفی مسجد الروضہ پر ایک خوفناک دہشت گردانہ حملہ انجام دیا تھا جس میں 305 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تکفیری خاص طور پر سیکولر حکومتوں اور مسلم اکثریت والے ان ممالک کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے شرعی قانون کے مطابق عمل نہیں کرتے ہیں۔ اسی تکفیری ذہنیت نے اتحاد پسند (سنی – شیعہ، مسلم –عیسائی) ورثے پر عراق، شام اور دیگر مسلم ممالک کے اندر حملوں پر بھی آمادہ کیا ہے۔

تکفیر کا قدیم اسلامی نظریہ

کلاسیکی اسلامی نظریات کے مطابق دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دینے سے روکا گیا ہے۔ اور اس پر تمام فقہی مذاہب کے ائمہ کا واضح اجماع اور اتفاق ہے۔ اس فقہی اصول کی بنیاد ایک حدیث رسول ﷺ پر ہے جس میں آپ ﷺ نے تکفیریت کے خلاف مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ: “تم میرے بعد ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہوئے تکفیر پر واپس مت آ جانا” (صحیح بخاری)

کسی کو ‘کافر’ قرار دینے کی قانونی ممانعت حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی تمام فقہی مذاہب میں مشترک ہے۔ زیادہ تر معاملات میں ایک عام مسلمان کا قول یا عمل واقعی کفر نہیں ہوتا بلکہ اس میں رائے اور تفہیم یا ثانوی یا تشریحی نوعیت کا فرق ہوتا ہے۔ لیکن کسی کو اس کے قول یا فعل کی بنیاد پر کافر قرار دینا چاروں اسلامی فقہی مذاہب (مقاصدشریعت) کے مقاصد کی روح کے خلاف ہے۔

یہاں تک کہ اگر کسی شخص نے مبینہ طور پر کفر کا کوئی لفظ بولا بھی ہو تو بھی چاروں اسلامی فقہی مذاہب نے یہ بنیادی اصول وضع کئے ہیں کہ ایمان کے خفیف امکان کو کفر کے قوی امکان پر ترجیح دی جائے گی۔ اسلامی فقہ کی ان مروجہ کتابوں کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ: “کوئی اس شخص کو کافر نہیں کہہ سکتا جو کسی ایسے امر کا ارتکاب کرے جو بظاہر کفر معلوم ہو۔ اگر کسی کے قول و فعل میں 99 فیصد کفر کا پہلو ہو اور صرف 1 فیصد ہی ایمان کا پہلو ہو تو ثانی کو ترجیح دی جائے گی۔ لہٰذا، کوئی مسلمان فرد یا گروہ کچھ ایسا بولے یا کوئی ایسا نظریہ اختیار کرے جو بظاہر اسلامی فقہ کی روشنی میں ‘کفر’ کا احتمال رکھتا ہو تو بھی اسے ‘ کافر ‘ نہیں قرار دیا جا سکتا۔

مزید برآں یہ کہ کلاسیکی اسلامی فقہاء کی کتابوں میں اور بالخصوص حنفی مذہب کے علماء اور فقہا کی کتابوں میں تکفیر، خروج اور بغاوت (ریاست کے خلاف بغاوت) کے گمراہ کن خیالات کی زبردست تردید موجود ہے۔ اسی طرح جو شافعی، حنبلی اور یہاں تک کہ جعفری (شیعہ) مذہب کو بھی اپناتے ہیں انہیں بھی یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ان مکاتب فکر کے بھی ائمہ نے سختی کے ساتھ تکفیر، خروج ، بغاوت ، مخاصمت اور خونریزی کی ممانعت کی ہے۔ لہٰذا، یہ عمل کسی بھی صورت میں اسلامی ریاست کے غلط حیلے کے تحت جائز نہیں ہوسکتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے کسی ایسے غیر مسلم کو قتل کر دیا جو جنگ کے دوران خود کو مسلم ظاہر کر رہے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے صحابی سےدریافت کیا کہ: “کیا تم نے اس کے دل میں جھانک کر دیکھا تھا؟” اس حدیث سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کسی کو کافر قرار دیکر اس کا خون بہانے کا کوئی مذہبی جواز نہیں پیدا ہو سکتا۔

علامہ طحاوی کے نام سے معروف ایک مستند سنی حنفی عالم دین جنہیں “مصر میں فقہاء احناف میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا” مانا جاتا ہے، تکفیر کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں “مذہبی اختلافات فطری اور ناگزیر ہیں، لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ مذہبی اختلافات کی بنیاد پر دوسروں کو کافر یا مرتد قرار دیا جائے یا ان کا قتل کر دیا جائے۔” انہوں نے اپنی ایک مشہور زمانہ تصنیف عقیدہ الطحاویہ میں قرآن، سنت اور ایسے نامور اسلامی علماء کا کثرت کے ساتھ حوالہ پیش کیا ہے جو کہ اہل السنت و الجماعت کے نظریہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ کتاب اسلامی عقائد کے باب میں وسیع پیمانے پر سب سے زیادہ مقبول اور انتہائی ناگزیر درسی کتابوں میں سے ایک ہے جو فقہ اور علم الکلام کے طالب علموں کو پڑھائی جاتی ہے۔ امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل سمیت تمام مستند اور معتبر اسلامی فقہاء کی اتفاق رائے اس امر پر قائم ہے کہ اس کتاب میں پیش کئے گئے اصول و عقائد تمام مسلمانوں کے درمیان مشترک ہیں کیونکہ ان کی بنیاد قرآن کریم پر ہے جن کی تائید و تصدیق احادیث نبوی سے ہوتی ہے۔

در حقیقت تکفیر پر امام طحاوی کی تعلیمات میں آج بھی ابھرتے ہوئے مذہبی سوالات کے حل موجود ہیں۔ جدید اسلامی علماء کو مختلف تناظر میں تکفیر ، مذہبی عسکریت پسندی اور مذہبی ظلم تشدد کی بڑھتی ہوئی لہر کا ٹھوس سد باب تلاش کرنے کے لئے اس کتاب کا تنقیدی اور تجزیاتی مطالعہ کرنا چاہئے۔ کم سے کم مدرسہ کے نصاب میں ضرور اس کتاب کو شامل کیا جانا چاہئے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ: “عقیدہ الطحاویہ اگر چہ حجم میں چھوٹی ہے لیکن یہ ہر زمانے کےلئے ایک بنیادی اہمیت و افادیت کی حامل کتاب ہے جس میں وہ تمام باتیں مذکور ہیں جن کا ایک مسلمان کو جاننا، اس پر یقین رکھنا اور گہرائی کے ساتھ سمجھنا انتہائی ضروری ہے”۔

امام طحاوی سنی عقیدے پر اپنی وضاحت میں لکھتے ہیں: “ایمان زبان سے اقرار کرنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا ہے۔ کوئی شخص ایمان سے اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک وہ اسی شئ کا انکار نہ کرے جس نے اسے اسلام میں داخل کیا ہے۔ اس طرح، وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی تکفیر اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف بدترین جرائم میں سے ایک ہے۔

الولاء و البراء سے کا داعش اور القاعدہ کا نظریہ

داعش اور القاعدہ جیسی جہادی جماعتیں اصطلاح الولاء و البراء کے استعمال کے ذریعے “ہم بمقابلہ وہ” کی ذہنیت کو فروغ دے کر عالمی سطح پر مذہبی ماحول کو خراب کر رہی ہیں۔ الولاء و البراء کا مطلب “صرف مسلمانوں کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنا” یا صرف انہیں کو دوست بنانا ہے۔ الولاء و البراء سے مراد غیر مسلموں کے خلاف نفرت کا اظہار کرنے اور ان تمام کو ‘دشمنوں’ سمجھنے کا اصول ہے۔ یہ تصور لوگوں کو دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کرنے کے لئے جہادیوں کا پہلے سے ہی ایک عمومی آلہ کار رہ چکا ہے۔ اس علیحدگی پسند عقیدے کے مطابق ان کے دشمن صرف غیر مسلم ہی نہیں بلکہ ایسے بہت سارے مسلمان بھی ہیں جو انتہاپسندوں کے خلاف فرقوں اور مکاتب فکر پر گامزن ہیں۔ لہٰذا، الولاء و البراء کا اصول ان تمام لوگوں کے خلاف مذہبی دشمنی اور نفرت کو فروغ دیتا ہے جو انتہا پسند نظریات کی پیروی نہیں کرتے ہیں۔

الولاء و البراء کا نظریہ جہادیوں کی کتابوں میں وسیع پیمانے پر پیش کیا جاتا ہے۔ در حقیقت ، یہ نظریہ القاعدہ کی تعلیمات کو بنیاد فراہم کرتا ہے ، جو 1980 کے آخر میں اس کی ابتدائی بنیاد کے بعد سے مسلسل ترقی پذیر ہے۔

دسمبر 2002 میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں ایمن الظواہری نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ پوری دنیا دو حریف خیموں میں بٹی ہوئی ہے : ایک سچے مسلمان اور باقی پوری دنیا”۔ سچے مسلمان کو ہمیشہ ولاء کی حالت میں رہنا چاہئے (یعنی مسلمانوں کے تمام معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنا چاہئے)۔ اور ساتھ ہی ساتھ حقیقی مسلمان کو براء (‘دشمنی’) کی حالت میں بھی رہنا چاہئے، جس کے مطابق وہ یا تو مسلسل نفرت کی حالت میں ہیں یا کم از کم ہر کسی سے دور باش ہیں”۔ (یہ مضمون الولاء و البراء کے عنوان کے تحت کئی سائٹس پر آن لائن دستیاب ہے۔ اور یہ ‘‘The Al Qaeda Reader’’ نامی کتاب میں ایک باب کے طور پر بھی دستیاب ہے)۔

الولاء و البراء کا قدیم اسلامی نظریہ

اسلام میں “ہم بمقابلہ وہ ” کی ذہنیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تمام انسان خدا کی مخلوق ہیں اور اسی لئے ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنا ضروری ہے۔ اس کا مقصد کثیر نسلی، کثیر مذہبی معاشرے کا قیام ہے۔ اسلام کائنات کے لئے رحمت بن کر آیا ہے ۔ قرآن میں انسانوں کے لئے اللہ کی رحمت لامحدود اور سب کے لئے عام و تام ہے: “اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے” (سورہ الاعراف 7:156)۔

خدا کے فضل اور اس کی رحمت سے ایک بھی مخلوق مستثنیٰ نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، “جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں ایک کتبہ لکھا جو عرش پر اس کے ساتھ ہے۔” بے شک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔”(بخاری) آپ ﷺ مزید فرماتے ہیں کہ ‘‘اللہ نے اپنی رحمت کو 100 حصوں میں تقسیم کیا جس میں سے 99 حصوں کو اس نے اپنے ساتھ رکھ لیا اور زمین پر اپنی رحمت کا صرف 1 حصہ ہی ناز ل کیا۔ اسی ایک حصہ کے ذریعہ پوری مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ شفقت کا معاملہ کرتی ہے، یہاں تک کہ ایک جانور اپنے بچے پر اپنے پروں کو پھیلا دیتا ہے تاکہ کہیں اس کو تکلیف نہ پہنچ جائے۔”(بخاری)

الولاء و البراء کا نظریہ عرب کے قبائلی و سماجی رسوم و رواج پر مبنی ہے جس میں تقسیم اور دھڑے بندیاں تھیں اور جو آج بھی عرب کے سماجی و سیاسی زندگی سرایت کئے ہوئے ہے۔ بدقسمتی سے اس نظریے کے ذریعہ مسلمانوں کو قبائلی شناخت دی جا رہی ہے۔

داعش / القاعدہ کا دار الاسلام کا نظریہ

دار الاسلام یا ‘اسلامی ریاست’ کا تصور داعش / القاعدہ کے پروپیگنڈا کا ایک مسلسل موضوع رہا ہے۔ جس کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ دین کو قائم کرنے کے لئے سب سے پہلے ایک اسلامی ریاست کا قیام انتہائی ضروری ہے جس کے نتیجے میں اس کے بعد خلافت کا دوبارہ قیام عمل میں آئے گا۔ اس مقصد کے حصول میں تمام مسلمانوں کو مالی اور جسمانی طور پر اپنا تعاون پیش کرنا ضروری ہے۔

دار الاسلام کا کلاسیکی اسلامی نظریہ

اکثر کلاسیکی اسلامی علماء کا ماننا ہے کہ ‘ دار الاسلام ‘ اور ‘ دار الحرب’ ایک اضافی اصطلاح ہے۔ اس کا انطباق عالمی نہیں ہے اور اس کا کوئی ایک متعین معنیٰ بھی نہیں ہے۔ قرآن اور حدیث میں دار الاسلام قائم کرنے کا کوئی واضح حکم بھی نہیں ہے۔ لہذا، اس مبہم تصور کو حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شخص کو قتل کرنا یا خون بہانا ‘غیر اسلامی’ تصور کیا جاتا ہے۔

ہندوستان میں مستند علماء نے ‘دار الحرب’ کے جنگ سے متعلقہ تصور کی توثیق نہیں کی ہے۔ انہوں نے غیر منقسم ہندوستان کو ‘امن کی زمین’ (دار السلام) قرار دیا ہے کیونکہ یہاں مسلم شہریوں کو آزادانہ طور پر اپنے مذہبی حقوق کا استعمال کرنے کے لئے ایک پرامن ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ یہ فتوی ہندوستان کے ایک اہم اسلامی فقیہ اور مرکزی دھارے کے مسلمانوں (اہل سنت و جماعت) کے نظریہ ساز مولانا احمد رضا خان نے جاری کیا تھا جنہیں اعلیٰ حضرت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب اعلام اعلام بان ہندوستان دار الاسلام ( علماء کا اعلان کہ ہندوستان امن کی زمین ہے) میں اپنا یہ نقطہ نظر پیش کیا کہ “ہندوستان دار الحرب ‘‘جنگ کی زمین’’ نہیں ہے” بلکہ امن کی زمین ہے میں۔ اسلامی خلافت کے موضوع پر اپنی کتاب دوام العیش فی ائمۃ القریش میں اعلیٰ حضرت نے اسلامی خلافت کے انتہائی سخت قیود و شرائط بیان کر دئے ہیں۔

اس کے بعد ہندوستان کے ایک معروف اسلامی ادارہ دار العلوم دیوبند نے ایک فتوی جاری کیا تھا جس میں اس نے ہندوستان کو دوٹوک انداز میں ‘دار الصلح’ یا ‘دار المعاہدہ’ (مصالحت اور امن و معاہدے کی زمین) قرار دیا ہے۔ جمعیت علماء ہند کے بانی حسین احمد مدنی نے اردو زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا نام انہوں نے اسلام اور متحدہ قومیت رکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے دو قومی نظریہ کی تردید میں قرآن اور حدیث سے شاندار حوالہ جات پیش کئے۔ اس نقطہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں انہوں نے دلیل دی کہ مذہب عالمگیر ہے اور اسے قومی حدود کے اندر اندر مسدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ قومیت جغرافیائی ہوتی ہے، اور مسلمانوں کو اپنے مادر وطن اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ وفادار ہونا ضروری ہے۔

 

Check Also

Isis trying to foment a wave of migration to Europe, says UN official

WordForPeace.com Fighters fleeing Syria conspiring with local extremists to exploit food crisis in Africa’s Sahel …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *