Religious Minorities in Islam اسلامی ملکوں میں مذہبی اقلیات

WordForPeace.com

Maulana Dr. Taqiuddin Nadwi

کتاب و سنت اور تاریخ کی روشنی میں

آج کے دور میں ’’حقوق الأ قلیات الدینیۃ فی الدیار الاسلامیۃ‘‘ کے عنوان سے اس اسلامی و عالمی مؤتمر کا انعقاد بڑی اہمیت کا حامل ہے، یہ مؤتمر امیر المؤمنین الملک محمد السادس ۔ حفظہ اللہ۔ کی عنایت و توجہ سے منعقد کی جارہی ہے، کیونکہ اہل مغرب اور اسلام دشمنوں نے اسلام کی تصویر کوایسا مسخ کردینے کاتہیہ کر رکھا ہے، گویا اسلام تشدد کا علم بردار ہے اور عوام بالخصوص اسلامی قلم رو میں زندگی گذارنے والے غیر مسلموں کے درمیان امتیاز اورتفریق جیسا سلوک پیش کرتا ہے ، حالانکہ اسلام دین رحمت ہے ، اپنے زیر سایہ زندگی بسر کرنے والوں کے ساتھ عدل و مساوات کابرتاؤ کرتا ہے، آپ کے اس محبوب شہر میں اتنی بڑی تعداد میں علمائے کرام کا جمع ہونا اور ’’حقوق الأقلیات الد ینیۃ ‘‘ کا مو ضوع پر مذاکرہ ہونا خود اسلام کاعدل و انصاف او رمسلمانوں او رغیر مسلموں کے درمیان باہمی حقوق و ذمہ داریوں میں مساوات کا آئینہ دار ہے، جس طرح اسلام نے مملکت اسلامیہ اور مسلمانوں کے اوپر ذمیوں کے حقوق کی ذمہ داری ڈالی ہے، او ریہ کہ وہ غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ شفقت و رحمت کابرتاؤ کرنے میں اعلیٰ نمونہ بنیں ،اسی طرح غیر اسلامی مملکتوں میں رہنے والے مسلمانوں کو پابند بنایا ہے کہ وہ رہن سہن میں بھی صحیح اسلام کی صاف و شفاف تصویر پیش کریں، شاعر اسلام علامہ اقبال نے اسی حقیقت کی ترجمانی اپنے کلام میں پیش کی۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مو من قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآں

ہم جلالۃ الملک۔ حفظہ اللہ۔ اور اس مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے شکریہ کے ساتھ اپنی گفتگوکاآغاز کرتے ہیں، جس کا عنوان :’’ حقوق الأ قلیات الدینیۃ فی الدیار الاسلامیۃ ، و تعامل المسلمین الذین یقیمون فی البلدان غیر الاسلامیۃ فی صوء الکتاب والسنۃ والتاریخ الاسلامی‘‘

انسانی پہلو سے انسان کے حقوق: اسلام میں سب لوگ یکساں اور برابر ہیں، ان میں بڑے چھوٹے کی کوئی تفریق نہیں ہے، سب لوگ آدم کی اولاد ہیں،اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، مرد ہو یاعورت،مال دار ہو یا فقیر ،انسانی دائرہ میں سب برابر ہیں، کسی کو کوئی برتری نہیں، ہاں فضیلت او ربڑائی عمل صالح کی بنیاد پر ہے،یا کوئی فرد اپنے بھائی اوروطن کے ساتھ حسن سلوک کامعاملہ کرے، یہ تو ہر انسان کا دوسرے پر حق ہے ، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کافرمان ہے: (وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا) (البقرۃ: 83)( اور لوگوں سے اچھی بات کہو)۔

لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ پیش کرنا انسانی فرض ہے، یہ بات دین و ملت پر موقوف نہیں ، اور نہ ہی اس میں جنس کا کوئی دخل ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ) (المائدۃ : 8)( اور لوگوں کی عداوت تم کو اس جرم کے ارتکاب کی باعث نہ بنے کہ تم انصاف نہ کرو، ہر حال میں انصاف کرو کہ وہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے)۔

ا ن آیات کی روشنی میں معلوم ہوا کہ اسلام دوسروں کے ساتھ عدل و انصاف کرنے او راچھا برتاؤ کرنے داعی او رعلمبردار ہے او ربرے سلوک او ربرتاؤ سے سختی سے منع کرتا ہے، وہ انسان کو شرور وفتن اور فساد پہنچانے کے تمام راستے بند کرتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لا تبا غضوا، ولا تحاسدوا ، ولا تدابروا ،وکونوا عبادَ اللہ اخواناً ‘‘ ( آپس میں نفرت نہ رکھو ، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو ، اللہ کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ)۔

اس حدیث سے انسانی اخوت کا ایک خاکہ سامنے آتا ہے،اگر اس خاکہ کے مطابق اپنی زندگی گذاری جائے تو شرد وفساد میں الجھی ہوئی دنیا جنت کا نمونہ بن سکتی ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مندرجہ ذیل ارشادات بھی ملاحظہ فرمائیںء ’’ الراحمون یرحمھم الرحمن ارحموامن فی الأرض یرحکم من فی السماء ‘‘ (رحم کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے ، زمین والوں پر رحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کرے گا)۔

دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’من لایرحم لایرحم‘‘ ( جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا )۔

ایک جگہ ارشاد ہے: ’’ ارحم من فیی الأض یر حمک من فیی السماء ‘‘ ( زمین والوں پر رحم کرو ، آسمان والا تم پر رحم کرے گا)۔

یہ بھی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ’’ احب للناس ماتحب لنفسک ‘‘ ( لوگوں کے لیے وہی پسند کرو،جو اپنے لیے پسند کرتے ہو)۔

اسلام نے انسانی محبت دائرہ اتنا وسیع کردیا ہے کہ اس میں مسلمان اور غیر مسلمان سب شامل ہیں، اس بارے میں کثرت سے حدیثیں مروی ہیں جو باہم شفقت و محبت اور حمت و مودت کامطالبہ کرتی ہیں، سب سے اول اسلامی معاشرہ کا یہی طریقہ تھا کہ اس نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ بھی محبت و الفت کا رویہ اپنایا ، اور اسلامی ملک میں بسنے والے غیر مسلم یعنی یہود و نصاریٰ او رمشرکین کے ساتھ بھی ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ معظمہ میں اپنے ایک مشرک بھائی کو جوڑا عطا فرمایا تھا ، اسی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے رشتے کے یہودیوں پر صدقہ پیش کیا تھا جس کو تیس ہزار میں فروخت کیا گیا تھا۔

ذمیوں کے حقوق کی پاسداری : اسلام نے شہری حقوق دینے میں مسلمانوں اور ذمیوں کے درمیان کوئی فرق وامتیاز نہیں کیا ، اگر کوئی مسلمان ذمی کو قتل کردے تو بلا تر دو بطور رقصاص کو قتل کیا جائے گا، یوں ہی اگر مسلمان کسی ذمی کے ساتھ نارو اسلوک کرے تو مسلمان کو سزا دی جائیگی،ذمیوں سے عشر اور جز یہ وصول کیا جائے گا، اس کے برخلاف مسلمانوں سے زکوٰۃ لی جائے گی جس کی مقدار عشر او رجزیہ دونوں سے زیادہ ہوگی ،علاوہ ازیں مسلمانوں سے بھی عشرو صول کیا جائے گا۔

یہاں ایک مثال پیش کی جاتی ہے جو اس باب میں قول فیصل کا درجہ رکھتی ہے، او روہ یہ ہے کہ اگر مسلمان معذور ہو یا بوڑھا یا کمزور ہو، اور محنت و مشقت اٹھا کر روزی کمانا اس کے لیے ممکن نہ ہو ، تو بیت المال سے اس کا نفقہ دیا جائے گا ، یہ قاعدہ ذمی پر بھی نافذ ہوگا ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس پر عمل تھا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اہل حیرہ کے پاس ایک عہد نامہ تحریر فرمایا تھا کہ ’’ میں نے ان کو یہ حق دیا ہے کہ اگر ان کا کوئی بوڑھا شخص کام کرنے سے معذو ہوجائے، یا اس پر کوئی آفت آجائے ، یاپہلے مال دار تھا ، پھر غریب و نادار ہوگیا، اور اس کے ہم مذہب اس کو خیرات دینے لگیں تو اس کا جزیہ موقوف کردیا جائے گا، او راس کو اور اس کے اہل و عیال کو مسلمانوں کے بیت المال سے نفقہ دیا جائے گا ، البتہ اگر وہ داگرالہجرت اور دارالاسلام سے نکل کر غیر ملک میں چلاجائے تو مسلمانوں پر اس کے اہل عیال کانفقہ نہیں ہوگا۔

اس نوع کا واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بھی ملتا ہے کہ ایک قوم کے دروازہ کے پاس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گذر ہوا ،دیکھا کہ ایک سائل یہ صدا لگا رہا تھا کہ میں بوڑھا اور نا بینا شخص ہو، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے اس کے بازو پر ہاتھ مار کرکہا:اہل کتاب کے کس گروہ سے تم ہو؟ اس نے کہا میں یہودی ہوں ، پوچھا کس چیز نے مانگنے پر مجبور کیاہے؟ اس نے جواب دیا کہ مجبوری اور بڑھاپے کی وجہ سے جزیہ مانگ رہاہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کا ہاتھ پکڑکر اپنے گھر لے گئے او رکوئی چیز معمولی مقدار میں اس کو عطا فرمائی ، پھر بیت المال کے خازن کو بلا کر فرمایا کی اور اس جیسوں کی خبر گیری رکھو، قسم بخدا! یہ انصاف نہیں ہے کہ اس کی جوانی سے فائدہ اٹھائیں او ربڑھاپے میں بے یارو مددگار چھوڑ دیں۔

مسلمانوں اور ذمیوں کے درمیان مساوات:اہل کتاب کے ایسے افراد جو اسلامی حکومت میں رہتے ہوں اور ان سے معاہدہ ہوچکا ہو، اس معاہدہ کی روسے ان کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے، دین وعقیدہ کے علاوہ دوسرے امور میں ان پر کچھ پابندیاں بھی ہیں اور مسلمانوں کی طرح عام حقوق میں ان کو مراعات بھی حاصل ہوگی، ذیل میں ایسی چندنصوص پیش کی جاتی ہیں جن سے مساوات کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔

1۔ ذمی کے قتل کے حرام ہونے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص کسی ذمی پر ظلم کرے یا اس کی آبروریزی کرے یا اس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف کرے یا اس کی مرضی کے بغیر اس کی کوئی چیز لے لے، تو میں اس سے قیامت کے روز مقابلہ کروں گا‘‘۔ ( سنن ابوداؤد :3052)

2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس شخص نے ذمی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جائے گا‘‘۔ ( صحیح بخاری:3166)

3۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بکر بن وائل کے ایک شخص کے بارے میں جس نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تھا یہ فرمایا: اس کو مقتول کے اولیاء کے حوالہ کیا جائے، اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کریں ، یا اگر چاہیں تو معاف کردیں، اس پر کسی نے ان سے اختلاف نہیں کیا، بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس سے ہمارا معاہدہ ہے،اس کا خون ہمارے خون کے برابر ہے،اور اس کے دیت ہماری دیت کے برابر ہے‘‘۔

4۔ عمر و بن میمون کا بیان ہے کہ میری موجودگی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا گرامی نامہ امیر حیرہ کے نام آیا، یا امیر جزیرہ نے ایک مسلمان آدمی کے بارے میں کہا جس نے کسی ذمی کو قتل کردیا تھا، کہ تم اس قاتل کو مقتول کے ولی کے حوالہ کرو، ولی چاہے تو اس کو قتل کرے یا معاف کرے، امیر جزیرہ نے میرے سامنے اس کو ولی کے حوالہ کیا،اس نے قاتل کی گردن اڑادی۔ ( نصب الرایہ : ج 4ص337)

5۔اس مساوات کی ایک مثال یہ ہے کہ ولید بن عقبہ کو بابل کے پل سے متصل کوفہ کی’’ زرارہ‘‘ نامی بستی کے ایک یہودی کے متعلق یہ خبر ملی کہ وہ شعبدہ و جادو کی عملیات میں مبتلا ہے، حضرت عقبہ نے اس کو طلب کیا، اس نے کچھ شعبدہ بازی کی اور کرتب دکھائے ،اس کی شعبدہ بازی یہ تھی کہ رات اختیار کرکے پہاڑ پر چلنے لگا ،اس کو گدھے کی صورت دکھائی جو اس کے منھ میں داخل ہوکر پیچھے کی راہ سے نکل گیا ،پھر ایک آدمی کی گردن پر ضرب لگائی، جس سے اس کا سر بقیہ جسم سے جدا ہوگیا، پھر اس پر تلوار گذاری ،اتنے میں وہ آدمی اٹھ کھڑا ہوگیا، اہل کوفہ کی ایک جماعت وہاں موجود تھی، اس میں جندب بن کعب ازدی بھی تھے، وہ اس شیطانی حرکت سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے، ان کو یقین ہوچلا تھا کہ وہ نظربندی یا سحر ہے،انہوں نے تلوار نکالی او ریہودی پر ایسا وار کیا کہ اس کا سر جسم کے ایک طرف جھک گیا، اور کہا : حق آگیا او رباطل ختم ہوگیا او رباطل تو ختم ہونے ہی کے لیے آیا ہے، یہ دن کا واقعہ ہے ، اس واقعہ کے بعد جندب بازار نکلے او رکسی صیقل گر کی تلوار سے یہودی کی گردن پر وار کیا ، اورکہا: اگر یہ سچا ہے تو اپنے کو زندہ کرے،ولید بن عقبہ نے اس پر نکیرکی اور اس کا بدلہ لینا چاہا ، مگر ازدکے لوگوں نے ان کو منع کیا،اب اس نے قید کرکے قتل کرناچاہا، پہرہ دار نے اس کو پوری رات عبادت کرتے دیکھا ، تو اس سے کہا اپنے کو بچاؤ ،اس پر جندب نے کہا: تم کو میرے بدلہ قتل کیا جائے گا،اس نے کہا اللہ کی مرضی او راس کے اولیاء کے دفاع میں یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے،صبح ہوئی تو ولید نے اس کوبلا بھیجا ، اور اس کے قتل کا ارادہ کیا، مگر وہ نہیں ملا ، تب پہرہ دار سے پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ وہ فرار ہوگیا، اس لیے اس نے پہرہ دار ہی کو قتل کردیا۔( مروج الذھب :ج2ص339)

یہ بات معلوم ہے کہ جندب بن کعب ازدی بلند مرتبہ کے تھے،او ریہودی ایک عام انسان تھا، پھر بھی والی کوفہ نے حکم شرعی کے نفاذ میں کوئی ترد و نہیں کیا۔

6۔ مساوات اسلامی کی ایک مثال او ربھی ملاحظہ ہو: عبیداللہ بن عمر کو یہ بات معلوم ہوئی کہ کچھ لوگ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش کررہے ہیں، انہوں نے ہر مزان کو طلب کیا اور اصطبل میں داخل کیا ، اور اس سے کہا کہ میرے گھوڑے کی نگہہ داشت رکھو، اس نے کلمۂ لاالہ الااللہ پڑھا ،عبیداللہ نے اس کوقتل کر کے اس کو چھپا دیا ،اور جفینہ نصرانی کو بلا بھیجا او راصطبل میں لاکر اس کو بھی مارا ، پھر وہاں سے باہر آیا او رابو لؤلؤ کی بیوی اور بیٹی اور چھوٹے بیٹے کو قتل کیا ،جس کے نتیجہ میں اس کو گرفتار کیا گیا( یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دوسرے دن کا ہے) ، جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کی زمام ہاتھ میں لی، تو اس معاملہ میں رائے ومشورہ کیا، اس پر حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خونریزی دوسرے کی حکمرانی میں کوئی ،لہٰذا اس کو دیت دی جائے ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے دیت لی اور رہائی دے دی۔ ( الاوائل للعسکری : ص 183)

مال کی حفاظت کا حق :اسلام بلا تفریق مذہب سب کے مالوں حفاظت کا ضامن ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران کو جوگرامی نامہ تحریر فرمایا تھا وہ اس باب میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے،آپ نے تحریر فرمایا:

’’نجران اور اس کے مضافات والوں کے مال، جان، زمین و جائیداد ،ان کے مذہب ان کے غائب و حاضر ، ان کے قبیلے و گرجا گھر ، او رجو کچھ تھوڑا یا زیادہ ان کی ملکیت میں ہے سب کاسب اللہ کی پناہ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذمہ ہے ،نہ کسی پادری کو اس کے پادری کے منصب سے،نہ کسی راہب کو اس کے رہبانیت کے منصب سے، نہ کسی کا ہن کو اس کی کہانت کے منصب سے ہٹا یا جائے گا ، او رنہ کوئی لشکر اُن کی زمین کو روندسکے گا‘‘۔ ( کتاب الخراج :ص 85)

امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے والئ بصرہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ’’ ابوعبداللہ نے مجھ سے دجلہ کے کنارے پر ایک زمین کا سوال کیا جس میں وہ اپنے گھوڑوں کو پالنا چاہتا ہے،لہٰذا اگر وہ جزیہ کی زمین نہ ہو، اور جزیہ کا پانی اس زمین کو عوض میں نہ دیا جاتا ہو، تو وہ زمین اس کو دے دو‘‘ ۔( فتوح البلدان: ص 341)

اسی طرح وہ زمینیں جو ذمیو کے قبضہ میں تھیں اسلام کے بعد بھی ان کے قبضہ میں رہیں ، اگر حاکم کو مسجد و غیرہ کی تعمیر کے لیے اُن کی ضرورت پیش آئے تو بلا عوض ان کا لینا جائزنہیں ، علامہ بلاذری نے ذکر کیا ہے کہ ’’ حیرہ کے ایک بوڑھے شخص نے بتایا کہ حیرہ میں آل منذر کے محلات منہدم کرنے میں جو کاغذات دستیاب ہوئے تھے ان سے معلوم ہواکہ کوفہ کی جامع مسجد کی تعمیر میں ان محلات کے ملبے بھی استعمال ہوئے تھے ، اس کی وجہ سے اہل حیرہ کو ان کے جزیہ سے اتنی قیمت مجرا کردی گئی تھی‘‘۔ ( فتوح البلدان : ص 280)

وہ احکام جو اہل ذمہ سے متعلق ہیں وہ سب قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں،عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلافت راشدہ میں اور خاص طور سے عہد فاروقی میں اس دستاویز کے بارے میں اہم ترین قواعد کا ذکر آچکا ہے ، دیکھئے ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی شراب یا خنز یر کو ضائع کردیتا ہے تو اس پر ضمان نہیں آتا ، لیکن اگر یہ چیزیں کسی نصرانی کی ہوں او رمسلمان نے ضائع کیا تو احناف کے مسلک میں ان کی قیمت کا ضمان واجب ہے، اس لیے کہ نصاریٰ کے مذہب میں یہ مال متقوم ہیں ۔

آزادئ رائے کا حق: جو اہل ذمہ اسلامی ملکوں میں رہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مذہبی شعار ادا کرنے کی آزادی عطا کی ہے، او ر یہ کہ مسلمان ان کے مذہبی رسومات کے بے حرمتی او رپامالی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ( ولا تسبو ا الذین یدعون من دون اللہ فیسبو االلہ عدواً بغیر علم)( الانعام :108)،( مسلمانو! جو لوگ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں ان کو برانہ کہو، یہ لوگ بھی نادانی سے خدا کو برا کہنے لگیں گے)۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی آزادی عطا کی ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایک معاہدہ کیا،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمیوں کو مذہبی آزادی عطا کی، حدیث شریف میں ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ پر امیر مقرر فرماتے تو اس کو اللہ کے تقویٰ اور ساتھ میں جانے والے مسلمانوں کے بارے میں خیر کی وصیت فرماتے ‘‘ ، گذشتہ سطور میں اہل نجران سے معاہدہ کا ذکر آچکا ہے کہ ’’ کسی پادری کو اس کے پادری کے منصب سے،نہ کسی راہب کو اس کے رہبا نیت کے منصب سے، نہ کاہن کو اس کے کہانت کے منصب سے ہٹا یا جائے گا،اس کا اس پرکوئی گناہ نہیں ہے او رنہ حاہلیت کا خون ہوگا ، نہ ان کو نقصان پہنچایا جائے گا او رنہ ان پر کوئی تنگی ڈالی جائے گی ، او رنہ کوئی لشکر کی زمین کو روند سکے گا‘‘۔

عہدو میثاق کے ان احکام کو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہ نے لیا جو نبی علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اقوال وافعال کومضبوطی سے اختیار کئے ہوئے تھے۔

قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کتاب الخراج ‘‘ میں ذکر کیاہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ کی بستی ’’حیرہ‘‘ کو فتح کیا تو ان کے لیے معاہدہ تحریر فرمایا کہ نصاریٰ کاکوئی معبد یا کنیسہ منہدم نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کاکوئی محل منہدم کیا جایاجائے گا ،جس میں وہ قلعہ بند ہوتے ہوں، اورنہ عید کے مواقع پر ان کو ناقوس بجانے اورصلیب نکالنے سے روکا جائے گا۔ (کتاب الخراج : ص 157)

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ کے تئیں ایسے عہد و پیمان کا پاس و لحاظ رکھا او رصحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے ان پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔

یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں کی حفاظت :مسلمان خلفاء اور حکمراں ذمیوں او ران کی عبادت گاہوں کابڑا لحاظ فرماتے تھے، اس لیے مسلم حکومتوں کو چاہئے کہ ان ہی کی روش اختیار کریں ، علی بن سلیمان خلیفہ ہادی کے دور حکومت میں مصر کاحکمراں تھا، اس نے کنیسۂ مریم اور دوسرے بہت سے گرجا گھروں کو منہدم کروا دیا تھا، 170ھ میں خلیفہ ہادی کی وفات کے بعد ہارون رشید نے خلافت کی باگ اپنے ہاتھ میں لی تو علی بن سلیمان کو معزول کردیا، او راس کی جگہ موسی بن عیسیٰ کو مصر کا حاکم و گورنر مقرر کیا ،موسیٰ نے علماء سے گرجا گھروں کے بارے میں فتویٰ دریافت کیا تو انہوں نے دوبارہ تعمیر کا فتویٰ دیا، یوسف بن تغری بردی نے ’’ النجوم الزاھرہ ‘‘ میں نقل کیا ہے کہ موسیٰ بن عیسیٰ نے نصاریٰ کو ان گرجاؤں کے تعمیر کرنے کی اجازت دی، جن کو علی بن سلیمان منہدم کروادیا تھا، چنانچہ لیث بن سعد اور عبداللہ بن لہیعہ کے مشورہ سے وہ تعمیر کرائے گئے ۔ ( النجوم الزاھرہ :ج2ص66)

اس نوع کے احکام میں خلیفہ ہارون کو تغیر کا خیال ہوا تو انہوں نے قاضی ابویوسف کی طرف رجوع کیا تھا، قاضی ابویوسف نے جواب تحریر فرمایا کہ امیر المؤمنین ! جو بات آپ نے ذمیوں کی بابت دریافت فرمائی ہے کہ مسلمانوں کے شہروں او رملکوں کو جب فتح کیا تو کس طرح وہاں کے گرجوں او رعبادت گاہوں کوباقی رکھا او رڈھایا نہیں کیا ، عید کے مواقع پر اس کی آزادی دی گئی کہ وہ شارع عام پر صلیبوں کے ساتھ مارچ کریں ، تو ملاحظہ فرمائیں کہ مسلمانوں اور ذمیوں کے درمیان جزیہ پر صلح ہوچکی تھی، شہر فتح ہوئے ،لیکن شرط تھی کہ گرجے اور عبادت گاہوں کو گرایا نہیں جائے گا، ان کا خون رائیگا نہ ہوگا، ذمیوں کے دشمنوں سے مسلمان مقابلہ اور دفاع کی کارروائی انجام دیتے رہیں گے ،ذمیوں نے شرط کے مطابق جزیہ ادا کیا اور صلح ہوگئی، شرط کے مطابق یہ دستاویز بھی تحریر کی گئی کہ یہ لوگ نئے سرے سے کوئی گرجایا خانقاہ تعمیر نہیں کئے گئے ، غرض شام کا پورا علاقہ اور حیرہ کابیشتر حصہ اسلام کے زیر نگیں آیا، مگر ان کے گرجے اور خانقاہیں محفوظ ہیں، ان کو منہدم نہیں کیا گیا ۔( کتاب الخراج : ص 152)

یہ واقعہ بھی ملاحظہ کیجئے کہ دمشق کی جامع مسجد کے متصل یوحنا کا گرجا تھا، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ میں اس کو مسجد میں شامل کرنا چاہا،مگرعیسائیوں نے انکار کیا تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بازرہے ، عبدالملک کا زمانہ آیا، انہوں نے عیسائیوں سے مل کر اس کو مسجد میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا او ر اس پر مال دینے کی پیش کش کی ، پھر بھی اس پر راضی نہ ہوئے ، اس دور کے بعد ولید بن عبدالملک نے اپنے دور حکمرانی میں عیسائیوں کو جمع کیا اور بڑا مال خرچ کیا کہ وہ کسی طرح گرجا کی زمین دینے پر راضی ہوجائیں مگر انہوں نے دینے سے انکار کیا،ولید بن عبدالملک نے اس گرجے کو ڈھا دیا او رمسجد میں شامل کردیا، جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ ہوئے تو عیسائیوں نے گرجا کی بابت ان سے شکایت کی ،انہوں نے اپنے عامل کو لکھا کہ مسجد میں جو حصہ شامل کیا گیا ہے وہ ان کے حوالہ کیا جائے، اہل دمشق جن میں سلیمان بن حبیب محار بی جیسے فقیہ تھے ان کو یہ بات ناگوار ہوئی او رکہا کہ ہم جس مسجد میں اذانیں دے چکے ہیں او رنمازیں پڑھ چکے ہیں ان کو ڈھائیں گے؟ وہ لوگ عیسائیوں کے پاس آئے اورکہا کہ اگر وہ کنیسۂ یوحنا کے مطالبہ سے سبکدوش ہوجائیں تو غوطہ کے تمام گرجے جو مسلمانوں کے قبضے میں ہیں وہ وہ دے دیئے جائیں گے ،اس پر وہ رضامند ہوگئے، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو اس سمجھوتے سے بہت خوشی ہوئی انہوں نے غوطہ کے تمام گرجے عیسائیوں کو واپس دلوادیئے ۔ ( فتوح البلدان :ص 127)

ذمیوں کا اکرام و احترام: اسلام نے اپنے متبعین پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ انسانیت کااحترام کریں اور کسی انسان کے ساتھ اس طرح نہ پیش آئیں کہ اس کی جان اور اہل و عیال کو تکلیف پہنچے، جس سے ان کی آبرو ریزی ہوتی ہو، ذمیوں عزت وآبرو کا اتنا ہی لحاظ تھا جتنا کہ مسلمانوں کی عزت و ناموس کا ، حمص کے حاکم عمیر بن سعد جن کے برابر زہدو تقویٰ اور ترک دنیا میں دوسرے حکام میں کوئی ان کا ہم سر نہ تھا، ایک دفعہ ان سے ایک دمی نصرانی کی شان میں یہ کلمہ نازیبا ’’ أخزاک اللہ‘‘ ( اللہ تجھے رسوا کرے) صادر ہوگیا، ان کو اس پر قدرندامت او ر افسوس ہوا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے او رملازمت سے سبکدوش اختیار کرلی، انہوں نے اس کا برملا اعتراف کیا کہ اسی ملازمت کی بدولت مجھ سے یہ غلطی ہوئی ہے۔ ( ازالۃ الخفاء : ج 4ص 201)

ملازمت میں مساوات: اسلام جو اہل اسلامی مملکت میں رہتے سہتے ہیں وہ ملازمت اختیار کرسکتے ہیں ،بشرطیکہ یہ ملازمتیں ہیئت حاکمہ کے ماتحت ہوں، جیسے محاسب عام ، انجینئر ، ڈاک کا ذمہ دار،یا اس سے اوپر کا منصب ، لیکن وہ عہد ے مستثنیٰ قرار دیئے جائیں گے جن کا تعلق براہ راست دین و عقیدہ سے ہو، کیونکہ ایسے عہدے بہت نازک ہیں ، جن کو مسلمان ہی کو انجام دیناچاہئے ، ہاں ذمیوں کو اسلامی حکومت کے منصب پر فائز کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام مساوات کا علم بردار ہے،مسلمانوں کا مساوات کا التزام کرنا ایسا ہے جس کی وجہ سے اہل مغرب کے مصنفین اسلام کی فضیلت اور برتری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بلند اخلاقی اور حسن معاملگی کابھی اعتراف کرتے ہیں ۔

جزیہ کی بحث : جزیہ دینا ذمیوں کی حفاظت کی وجہ سے فرض ہے ، اور اہل کتاب پر جزیہ کے فرض ہونے کا سبب حکومت اسلامیہ کے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو فروغ دینا ہے، مسلمانوں پر صرف زکوٰۃ فرض ہے، او راہل کتاب کے حق میں زکوٰۃ کے بدلہ جزیہ فرض ہے، جب مسلمان ذمیوں کو تحفظ دینے سے عاجز ہوجائیں تو ساقط ہوجائے گا ،یرموک کے گھمسان معرکہ کے نتیجہ میں اسلامی لشکروں نے شام کے مغربی حصوں سے انخلاء اختیار کرلیا او ران کو یقین ہوچلا کہ اب وہ ان شہریوں کی حفاظت کی ذمہ داری ادانہ کرسکیں گے جن سے جزیہ وصول کرتے تھے، عرب سپہ سالار ، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے شام کے مفتوحہ شہروں کے عاملین کو لکھا کہ ان شہروں سے وصولی کردہ جزیہ کی رقم واپس کردی جائے، انہوں نے یہ صاف تحریر فرمادیا تھا کہ ہم نے تمہارے مالوں کو اس لیے واپس کردیا کہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے ، حالانکہ تم لوگوں نے ہمارے اوپر یہ شرط بھی باندھی تھی کہ ہم تمہارا تحفظ کریں گے جب کہ ہم اس پر قادر نہیں ہیں۔

اس طرح جب حکومت کے مال سے بڑی مقدار واپس کردی گئی تو عیسائیوں نے مسلمان سربراہوں کو دعاؤں نے نوازا،او ر کہنے لگے کہ اللہ تم کو ہمارے پاس لائے اور رومیوں کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے ،اگر مسلمان ایسا ہی کریں تو ہم کو کچھ بھی نہ واپس کریں، ہماری ہرچیز لے لیں ۔ ( الموسوعۃ الموجزۃ فی التاریخ الاسلامی : ج2ص11)

ان بلند مقاصد کے پیش نظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے جزیہ معاف کردیا جن سے کبھی کسی نوع کی فوجی خدمت لی گئی تھی، پھر بھی وہ اپنے مذہب پر قائم رہے ، اسلام میں داخل نہ ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 17ھ میں عراق کے سپہ سالار وں کو یہ لکھ بھیجا کہ وہ فوجی سواروں میں سے جس سے تعاون لیتے کی ضرورت ہو، اس سے مدد لو اور ان کاجزیہ ختم کردو۔

( تاریخ طبری : ج 4ص 49، والفاروق: ص 346)

اسی طرح خالدبن ولید کا حیرہ والوں سے ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں انہوں نے یہ تحریر کیا کہ اگر ہم تمہاری حفاظت کریں تب ہم کو جزیہ دینا،ورنہ نہ دینا۔ ( تاریخ طبری :ج3ص368)

ذمیوں سے جزیہ اس وقت بھی ساقط ہوجائے گا جب وہ دار الاسلام سے دفاعی کا رروائی انجام دیں ،عتیہ فرقد نے آذر بائیجان والوں کے ساتھ مل کر ایسا کیاتھا کہ ان کو بقدر طاقت جزیہ دینا پڑے گا،البتہ جو لوگ کسی سال فوج کے ساتھ کام دیں گے اس سال کا جزیہ ان سے نہیں لیا جائے گا۔ ( تاریخ طبری :ج4ص155)

اسی طرح عورت، بچے،بوڑھے،راہب او رمسلمانوں کے خدمت گزار جیسے لوگوں سے بھی جزیہ معاف ہوگا،کیونکہ یہ لوگ جنگ کی صلاحیت رکھتے ۔

غیر اسلامی ملکوں میں مسلمان: دین اسلام نے غیر اسلامی ملکوں میں اقامت پذیر مسلمانوں کے لیے مستقل احکام او رضابطے مقرر کیے ، فقہاء نے ان کا ذکر کتابوں میں کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سیرت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کی صاف زندگی کامطالعہ کریں جو شروع اسلام میں مکہ معظمہ میں زندگی بسرکرتے تھے ،جب قریش مکہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہ پر ظلم وستم کرنا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کومشورہ دیا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کرجائیں اور نجاشی بادشاہ کے جوار میں رہیں ،اس طرح وہ حضرات نجاشی کے ملک حبشہ میں بہترین پڑوس میں رہنے لگے ۔

مہاجرین اسی حالت میں تھے کہ اچانک ایک حبشی ،نجاشی کی مخالفت پر اتر آیا اور اس کی حکومت میں کش مکش کرنے لگا،اس سے مسلمان بہت رنجیدہ ہوئے اور ڈرے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ شخص غلبہ پالے کہ وہ مقدس صحابہ رضی اللہ عنہ کے حقوق او رمرتبہ کو نہیں جانتا تھا ، اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ نجاشی او رنیل کے دوسری سمت پر رہنے والے اس شخص کے درمیا ن کش مکش کو جانیں، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان دہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا، کون ایسا ہے جو باہر نکلے او ران لوگوں کے واقعات کامشاہدہ کر کے آکر ہمیں خبر دے؟ زبیر بن العوام نے کہا: میں اس کام کو انجام دیتا ہوں ، ان لوگوں نے کہا،تم یہ کام کروگے؟ او روہ سب سے کم سن تھے، سب نے ایک مشک میں ہوا بھر دی ،انہوں نے اسے اپنے سینے کے نیچے رکھا اور اس پر تیرتے چلے گئے ،یہاں تک کہ نیل کے اس کنارے پر پہنچے جہاں ان لوگوں کے ملنے کی جگہ تھی ، ہم اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے کہ نجاشی اپنے دشمن پر غلبہ پائے اور اپنے ملک میں اسے پوری قدرت حاصل رہے، واللہ! ہم اسی حالت میں ہونے والی بات کے منتظر تھے کہ اچانک زبیر رضی اللہ عنہ نکلے، وہ دوڑتے چلے آرہے تھے اور اپنی چادر سے اشارہ کررہے تھے کہ لوگو! خوش ہوجاؤکہ نجاشی نے فتح پائی اور اللہ تعالیٰ نے دشمن کو برباد کردیا اور نجاشی کا اقتدار بحال ہوگیا۔( سیرت ابن ہشام : ج 1ص338)

اسلام کی تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں کہ مسلمانوں کے ملک پر غیر مسلم طاقت بالا دستی قائم ہوئی ،تو علما ء اور فقہاء نے مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور ان کی مراعات کے تعلق سے احکام مرتب فرمائے ، چنانچہ ایران اور عراق پر جب تاتار قابض ہوئے توعلماء نے غیر مسلم ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے قوانین بنائے، اور دارالاسلام اور دارلحرب کا امتیاز و فرق واضح کرتے ہوئے یہ بتایا کہ جن ممالک میں اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں ، او روہاں نماز و روزہ وغیرہ فرائض کی ادائیگی ہوتی ہو، تو کفار کے غالب ہونے کے باوجود وہ دارالاسلام ہیں، فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ ’’ یہ ممالک جن پر کفار حکمراں ہوں، جائز ہے کہ وہاں جمعہ و عیدین کا قیام کیا جائے، اور مسلمانوں کی باہم رضا مندی سے قاضی کا انتخاب کیا جائے، علت کا وجود حکم کا متقاضی ہے،تاتاریوں نے جن شہروں پر اپنا تسلط جمایا وہ پہلے دارالاسلام رہے ہیں، تسلط کے بعداذان ، جمعہ و جماعات اور شریعت کے مطابق فتویٰ دینا اور تدریسی خدمت انجام دینا ان کے حکمرانوں کی طرف سے عام تھا، لہٰذا ایسے شہروں کو دارالحرب کہنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی۔ ( فتاویٰ بزازیہ علی حاشیہ الفتاوی الہندیہ : ج 6ص 312)

مسلمان ان حکمرانوں کے پکے وفادار تھے، بادشاہ وقت نصاریٰ سے زیادہ ان پر اعتماد کرتا تھا،نصاریٰ جب جزرۂ صقلیہ پر قابض ہوئے ،تو ان کا حاکم ’’غلیام‘‘ مسلمانوں سے بہت مطمئن تھا، ان پر اعتماد کرتا تھا، اپنے امور میں ان سے تعاون لیتا تھا ، ان کو اونچے عہدوں کا اعزاز بخشتا تھا، یہاں تک کہ اس کے مطبخ کانگراں ایک مسلمان تھا۔ ( دیکھئے رحلہ ابن جبیر : ص267)

حاصل کلام: اسلام مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کے درمیان صلح اور حسن معاملہ کی دعوت دیتا ہے ، اسلام کے سارے عالم میں پھیلنے کا یہی راز ہے ، خود مسلمانوں کی صورت اور ان کی عملی زندگی کا دوسروں پر گہرا اثر پڑتا ہے ، اس دور میں بھی ہم کو اپنے اسلام کا نمونہ پیش کرنا چاہئے ،ارشاد خداواندی ہے: ( ادع الی سبیل ربک با لحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ و جادلھم بالتیی ھیی احسن ،ان ربک ھوا علم بمن ضل عن سبیلہ و ھوأ علم بالمھتدین) ( النحل :125) (آپ اپنے پروردگار کی راہ کی طرف بلائیے حکمت سے، اور اچھی نصیحت سے ، اور ان کے ساتھ بحث کیجئے پسندیدہ طریقہ سے،بے شک آپ کا پروردگار (بھی) خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے، او روہی ہدایت پائے ہوؤں کو ( بھی )خوب جانتا ہے)۔

اشاعت اسلام کی تاریخ کا ہم مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام علمائے ربانیین کی کوششوں سے پھیلا اور افغان ،مالدیپ ،کشمیر تک پہنچا، اکثر اہل کشمیر’’ کشف المحجوب ‘‘ کے مصنف شیخ علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی کوششوں سے اسلام میں داخل ہوئے ۔

جلالۃ الملک محمد السادس۔ حفظہ اللہ ورعا ہ ۔ کی توجہ وعنایت سے آج کی اس مؤتمر کا انعقاد بڑی اہمیت رکھتا ہے ، اس مؤتمر کے تمام مقالات سے اعتدال وسطیت او ررحمت جیسے اوصاف کی عکاسی ہورہی ہے ، جو اسلام کے لیے زیور و زینت کا قائم مقام ہے۔

میرا قیام ہندوستان میں رہتا ہے ، جہاں ایسے واقعات سننے میں آتے ہیں ،جو مسلمانوں کے مثبت برتاؤ اور رویوں کا پرتو ہوتے ہیں ،اور جن کے اسلامی اخلاق و کردار کا اثر غیر مسلم باشندوں پر پڑتا ہے ، ان کے علاوہ غیر مسلموں کے ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں جو کھل کر اسلام کی عظمت او ربزرگی کاگن گاتے ہیں ۔

اسلامی قدروں کا نفاذ اس کے مقاصد پر کار بند ہونا او راس کے مطابق زندگی گزارنا مسلمانوں کے لیے مزید احترام کا باعث ہے زندگی گزارنے کااسلامی طریقہ خود ان کے لیے او ران کے ہمسایوں کے لیے بھی امن و امان او ر صلح و آشتی کا سامان ثابت ہوگا۔

Check Also

Jammu & Kashmir: International Seminar on Sufi Discourses concluded

WordForPeace.com The seminar entitled, “Maktubat wa Malfuzat-i Sufiyah: Ek Giran Qadr ‘ilmi wa ‘Adbi Sarmayah” …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *