Sincere Appeal to the People of Sufismاہل تصوف کی خدمت میں درد مندانہ اپیل

WordForPeace.com

محمد عثمان حیدر

متعلم ایم فل، اسلامی فکرو ثقافت،گفٹ یونیورسٹی،گوجرانوالہ، پاکستان 

ایک عرصے سے مشاہدہ کر رہا ہوں،خوب دل جلا رہا ہوں،کئی بار سوچا اندر کی بات کہہ ڈالوں پھر کچھ سوچ کر خاموش رہا اور خیال کو بس خیال تک ہی برقرار رکھا بلکہ اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کی ،یہ الگ بات ہے، اپنی ایسی کسی کوشش میں کبھی کامیاب نہ ہو سکا، اب عالم یہ ہے کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے اور خاموشی بھی ایک طرح کا جرم محسوس ہوتی ہے.سوچتا ہوں ہم اگر اپنی غلطیوں پر غور نہیں کریں گے تو یہ عمارت مزید خستہ حال ہو جائے گی ،یہ درخت اور زیادہ دیمک زدہ ہو جائے گا اور کسی روز تباہی ہمیں مکمل طور پر آ لے  گی.اسی خوف کے زیر اثر اور اصلاح کے جذبہ کے تحت چند گزارشات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں اور امید رکھتا ہوں میری بات پر میرے قبیلے کے لوگ غور کریں گے اور نتیجتا اصلاح کا بیڑہ اٹھائیں گے۔

جناب من !

تصوف اصل میں طریقہءتربیت ہے.آدمی ایک اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے،اپنے ایمان کی کمزوریوں کااور اخلاق و کردار میں کوتاہیوں کا پتہ لگاتا ہے اور اللہ والے کی زیر نگرانی اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔

یہ اللہ والا کون ہے ؟

یہ ایک اسی جیسا انسان ہے ،اسی کی طرح خطاؤں اور غلطیوں کا پتلا ہے لیکن اس نے ایک درجہ میں اپنے نفس پر قابو پا لیا ہے اور اللہ سے تعلق اس درجہ میں مضبوط کر لیا ہے کہ ہم عام لوگوں کی نسبت وہ اس رب پر توکل زیادہ رکھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ سارے معاملات میں اسباب کے درجے میں اپنی جانب سے مکمل کوشش کرے اور پھر نتائج اللہ پر چھوڑ دے، بہ تقاضائے بشر اس سےاگر

کوئی  غلطی سرزد بھی ہوتی ہے تو یہ توبہ کرنے میں جلدی کرتا ہے،اس کا دل اور طبیعت اب نیکی کی جانب میلان رکھتی ہے،اسے کسی درجہ میں اعمال میں چاشنی اور حلاوت نصیب ہو گئی ہے،اس کا دل خیر خواہی اور خدمت کے جذبات سے لبریز ہے،یہ لحظہ بہ لحظہ خلوتوں اور جلوتوں میں خیالات کی صورت اپنے پالنہار سے ہم کلام ہوتا ہے جیسے دنیاوی محبوب سے ہم کلام ہوا جاتا ہے لیکن دونوں کی کیفیات میں زمین و آسمان کا فرق روا ہوتا ہے،دل کے سارے درد اسی سے بیان کرتا ہے،تکالیف پر بھی شکر بجا لانے کی کوشش کرتا ہے،دنیاوی  ضروریات کا پورا احساس رکھتا ہے اور فرائض کی ادائیگی میں حتی الوسع کوتاہی نہیں برتتا لیکن خود پر اسے ایسے سوار نہیں ہونے دیتا کہ بس اسی کا اثیر ہوجائے اور مکمل طور پر تعیشات میں پڑجائے اور ان کا اس درجہ میں عادی ہو جائے کہ اختیاری طور پر یا بامر مجبوری وہ چھوڑنی پڑ جائیں تو اس کی جان پر بن آئے اور تقریبا ناممکن دکھائی دے۔

جناب عالی !

ان صفات سے مزین اور مرقع شخص ” اللہ والا” ہے میںیہ ہر گز نہیں کہہ رہا کہ صرف” یہی اللہ والا “ہے کیوں کہ ہر وہ شخص جسے صحیح طور پر ایمان کی دولت نصیب ہوگئی اور وہ گناہ تو کرتا ہے لیکن ساتھ میں احساس ندامت بھی رکھتا ہے اور نیکی کرتا ہے تو یہ سوچ کر دل ہی دل میں خوش ہوتا ہے کہ شکر ہے ” میں نے اللہ کی مانی ہے اور اچھا کام کیا ہے” لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اب چاہے اسے نیک اعمال میں کبھی کبھی رغبت محسوس ہوتی ہو، نیک اعمال کرتے وقت بہت ہلکے درجے کی چاشنی نصیب ہوتی ہو “بہ خدا” یہ بھی اللہ والا ہے اور اس سے کتنے ہی درجے نیچے اتر آئیے،کتنے ہیں،جو بہ ظاہر بہت عام دکھائی دیتے ہیں پر وہ خانقاہوں پر بیٹھے دسوں مجاوروں پر بھاری ہوتے ہیں. میںیہاں بات صرف ان اللہ والوں کی کر رہا ہوں جن کی صفات کا پہلے ذکر کیا ہے کہ یہ مندرجہ بالا خوبیوں سے مزین ہوتے ہیں اور کسی لالچ کے بغیر امت کی اصلاح کا بیڑہ اٹھاتے ہیں اور اپنے پاس ہر آنے والے میں ان خوبیوں کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں جو مسلمان کی شان ہے۔

برصغیر میں اسلام تاجروں کے ذریعے داخل ضرور ہوا ہے لیکن اس کی ترویج و اشاعت اور اس قدر پھیلاوء کا سہرا انھیں ” اللہ والوں ” کے سر جاتا ہے جنھیں “صوفیاء کرام” کہا جاتا ہے۔

اب غور طلب پہلو یہ ہے کہ اب وہ چاشنی پوری طرح اپنی اسی ہمہ گیریت کے ساتھ کیوں نظر نہیں آتی،کبھییہ عالم تھا کہ غیر مسلم بھی متاثر ہو جاتے تھے۔لوگ اصل کو چھوڑ کر نقل کے پیچھے کیوں دوڑ رہے ہیں،کہ،مصلحین کی خانقاہوں کی بجائے ننگ دھڑنگ ملنگوں کے ڈیرے آباد ہیں۔خانقاہیں اور پیر اب ویسے کیوں مرجع الخلائق نہ رہے،کہ،اب یہاں آتے بھی ہیں تو وہ کمزور عقیدہ لوگ ،جنھیںیہ خوش گمانی ہے کہ میری ساری حرام کاریاں صرف اللہ اس لیے معاف کر دے گا کہ میں “سائیں” کا مرید خاص ہوں  اور اس کی وجہ یہ ہے،کہ،میں اتنا نظرانہ پیش کرتا ہوں عام لوگ سوچیں بھی تو انھیں پسینے پھوٹنے لگتے ہیں۔ لوگوں کا خانقاہ پر آنے کا مقصد اور مطلب تبدیل کیوں ہو گیا ہے۔ پہلے رب سے تعلق جوڑنے کے لیے آتے تھے، اب صرف مالی و دنیوی بندشوں اور آزمائشوں میں گھرے ہونے کی وجہ سے حاضر ہوتے ہیں ۔

ان تبدیلیوں کی وجوہات کیا ہیں ؟

میری نظر میں اس کی وجہ موجودہ “اللہ والوں” کے بعض رویے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ مرید کم ہوتے تھے مشائخ صرف چہروں سے پہچانتے ہی نہیں تھے بلکہ ان کے دنیاوی معاملات اور مکمل روحانی کیفیات کا ادراک رکھتے تھے اور دلجمعی کے ساتھ اصلاح کی پوری کوشش کرتے تھے،اب یہ عالم ہے کہ “دنیاوی اغراض کے مارے “غول کے غول آتے ہیں، مشائخ تربیت تو کیا کریں گے وہ اس کا نام،شہر،پیشہ،مزاج اور روحانی کیفیات تک سے واقف نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود انھیں مرید کر لیا جاتا ہے اور جس کا لازمی نتیجہیہ نکلتا ہے کہ مریدوں کی تعداد تو بڑھ جاتی ہے لیکن مصلحین کی جماعت تیار نہیں ہو پاتی کیوں کہ مشائخ اپنیذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہوتے ہیں.ہمارے خیال میں مشائخ کو اس پریشان کن صورت حال کو روکنے کے لیے اپنے  قریبی ساتھیوں کے ذہن سے یہ بات کھرچنا ہوگی کہ اس وقت پوری روئے زمین پر ہمارے شیخ سے بڑھ کر کوئی بھی اللہ والا نہیں ہے،ایسے خوابوں کے بیان سے پرہیز لازم ہے جو سن کر یہ گمان  ہوتا ہے کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لا کر ہر سچے طالب کو اسی شیخ کی جانب بھیج دیتے ہیں ” کہ جاؤ  وہی صحیح راستے پر ہیں ان کا ہاتھ تھام لو”. اور انھیںیہ بات سمجھانا ہوگی کہ شیخ کی نجی بیانات و کیفیات کو مجمع عام میں اس طرح مت بیان کریں کہ وہ فرشتہ صفت معلوم ہونے لگے اور اس کے بشری تقاضے بھی خلاف شریعت و عقیدت معلوم ہونے لگیں۔

دوسرا مشائخ کو اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا۔

بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں کہ مشائخ تو اختیاری طور پر “فقر” اپناتے ہیں تاکہ ظاہری شان و شوکت اصلاح کے کام میں رکاوٹ نہ بنے اور غریب لوگ بھی کسی ہچکچاہٹ کے بغیر حاضر ہو سکیں.فقر کا مطلب یہ ہے کہ اپنی دنیاوی ضروریات اور حقوق و فرائض میں تو کوتاہی نہ برتی جائے لیکن ایک سادگی اور وقار ہو،دنیاوی وجاہت اور مال سے ایک گونہ بے نیازی ہو،ہر عام ،خاص اور امیر ،غریب کی بآسانی رسائی ہو ،شیخ کی کم سے کم “اختیاری محبت” میں کوئی کمی نہ ہو تاکہ آنے والے کو کوئی جگہ اور مجلس تو ایسی نصیب ہو جہاں اس کے ظاہری معیار زندگی کو دیکھ کر اس سے برتاؤ نہ کیا جائے بلکہ خدا کا” بندہ” سمجھ کر برتاؤ کیا جائے۔

کیا ظلم ہے اب مرشد سے مصافحہ بھی جان جوکھوں کا کام ہے،ایک خاص حلقہ کے سوا جن میں اکثر اہل ثروت ہوتے ہیں کسی غریب اور سچے طالب سے ملنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سورہ  عبس کی ابتدائی آیات کو بھلا بیٹھے ہیں  اور وہ اس درجہ میں ہمارے ذہنوں سے  محو ہو گئی ہیں کہ ہمیں اللہ کی ڈانٹ اور ناراضی کا خوف بھی لاحق نہ رہا۔

اور پھر ماحول میں باقاعدہ طور پر یہ بات پیدا کر دینا کہ شیخ کی مصروفیات ایسی ہیں کہ “نہ ملنا “مجبوری کی بنا پر ہے اور اس مصروفیت کو باقاعدہ عظمت کی دلیل جاننا تکلیف دہ امر ہے۔

تیسرا مشائخ تو بیک وقت مخدوم بھی ہوتے تھے اور خادم بھی ہوتے تھے ایک جانب اصلاح بھی کرتے تھے اور دوسری جانب اپنے ہاتھوں سے غریب مزدوروں کے منہ میں نوالے بھی ڈالتے، ان کی دعوت پر کچے گھروں میں ان کے مفلوک الحال بچوں کے سر پر جا کر دست شفقت بھی رکھتے  اور ہنستے مسکراتے روکھی سوکھی بھی کھاتے اور جاتے وقت بچوں کے بہانے اتنا کچھ بھی دے آتے تھے کہ ان کے چند دن اچھے گزر سکیں۔

خدمت کے سبھی کاموں میں چاہے وہ کسی قسم کے ہو ں  پیش پیش رہتے تھے۔

کیا اب ایسا ممکن  ہے ؟

اب حال تو یہ ہے کہ شیخ تو ایک وقت میں مختلف انواع و اقسام سے سجے دسترخوان کو رونق بخشتے ہیں اور ساتھ محلےمیں رہنے والے مرید کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں ۔حالاں کہ اب تو پہلے کی نسبت فراوانی ہے اور کتنے ہی مرید ایسے ہوتے ہیں جنھیںمتوجہ کر دیا جائے تو وہ بہ خوشی اعانت کرتے ہیں۔

شیخ کی مخدومیت کا عالم یہ ہے کہ دوسرے کی مدد تو درکنار اپنے جوتے کا تسمہ باندھنا بھی مزاج پر گراں گزرتا ہے اور وہ بھی کسی مرید سے بندھوایا جاتا ہے باقی معاملات میں معاملہ کس حد کو پہنچا ہوا ہے. الامان،الحفیظ.

چوتھا پہلے شیوخ برکت و زیارت کے واسطے کم اور اصلاح کے واسطے زیادہ ہوتے تھے جو بھی آتا تھا کوئی نہ کوئی اچھی بات،بہتر رویہ اور للہیت لے کر جاتا تھا اب تو عالم یہ ہے کہمشائخ نفسیاتی طور پر خود کو ایک مصلح کم اور برکت کا منبع زیادہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آنے والے زیارت تک محدود رہتے ہیں اور مرید ہوجانے کو ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

ہمارے خیال میں ان رویوں سے اجتناب ضروری ہے وگرنہ لوگ انھیں ننگ ڈھڑنگ ،ایمان،علم اور اخلاق سے عاری لوگوں کے ہاتھوں اپنا ایمان بربادکرتے رہیں گے ،عزتیں تار تار ہوتی رہیں گی اور صوفیاء اور تصوف کے خلاف آوازیں فضا میں مزید زوروشور سے سنائی دیں گی جس کی بڑی وجہ کوئی اور نہیںوہ خود ہوں گے۔

آخر میں دست بستہ عرض ہے میری گزارشات عمومی صورت حال کی غماز ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں آج بھی اگر ڈھونڈنے نکلیں تو ایسے صوفیاء اور مشائخ مل جاتے ہیں جو پہلوں کییاد ہیں،ان کے دل خیر کے جذبات سے لبریز ہیں،طبیعت میں وہی شان سکندری ہے،مزاج میں قصر نفسی ہے ، شفقت و محبت کا پیکر ہیں اور خدمت خلق کے جذبہ سے مزین ہیں۔یہ بات کسی خوش فہمی کی بنیاد پر نہیں کہی جا رہی بلکہ ایسے اللہ والوں کی زیارت اور صحبت ہم گنہ گاروں کو بھی نصیبہے۔

اس لیےیہ کہنا کہ مکمل طور پر مایوسی اور پریشانی کا عالم ہے نادرست ہے.۔

امید ہے ہماری گزارشات پر احباب غور فرمائیں گے۔

Check Also

(India) A Mosque for all: Masjid-e-Quba invites people of other faiths to show what goes on inside a mosque

WordForPeace.com By Nikhat Fatima Many non-Muslims may have visited mosques as part of a tourist …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *