Something About the Procession on the Birth Anniversary of Prophet Muhammad (SAW) کچھ جلوس محمدی ﷺ کے بارے میں

WordForPeace.com

Suhail Arshad

پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کے روزِ پیدائش پر جلوس محمدیﷺ نکالنے کی روایت بنگال میں زیادہ پرانی نہیں ہے ۔ بنگال میں غالباً کلکتہ کے مسلم اکثریتی علاقے مٹیابرج سے جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا سلسلہ تقریباً دس سال پہلے شروع ہواتھا اور دیکھتے دیکھتے یہ سلسلہ بنگال کے دوسرے شہروں اور قصبوں میں بھی شروع ہوا۔ اس موقع پر جلسے بھی ہوتے ہیں اور مسلمانوں میں جوش و خروش بھی کافی ہوتاہے۔گذشتہ کچھ برسوں میں اس موقع پر سجاوٹ اور نمائش میں لاکھوں روپئے خرچ کرنے کا چلن بھی چل پڑا ہے ۔ اس موقع پر جھنڈے، بینر اور پوسٹر کی فروخت بھی کافی ہونے لگی ہے ۔ لوگ چھوٹے چھوٹے جھنڈے اپنی سائیکلوں اور بائیک پر لگانے میں بھی فخر سمجھتے ہیں او ر اس طرح جھنڈوں اور بینروں کے کاروبار کو بھی اس موقع پر کافی فروغ ہوتاہے ۔ مگر جلوس محمدی کی تاریخ ہندوستان میں بہت پرانی نہیں ہے ۔ اس کا سلسلہ بیسویں صدی ہی میں ہندوستان میں شروع ہوا۔ یہ سلسلہ ہندوستان میں غالباً کانپور سے 1913میں شروع ہو۔ا س کا اہتمام جمعیت علماے ہند دیوبند کی کانپور شاخ نے کیاتھا۔ جمعیت علما ء کی ایک پریس ریلیز سے اس کی تاریخ اندازہ ہوتاہے۔

’’جمیعت علماء شہر کانپور کے زیر قیادت و زیر اہتمام نکالا جانے والا عظیم الشان و ایشیا کا سب سے بڑا جلو س محمدی گزشتہ 104برسوں سے رجبی روڈ گراؤنڈ (پریڈ گراؤنڈ)سے نکلتا چلا آرہاہے ۔اس سے قبل شہر میں کسی نوعیت کا کوئی مسلم مذہبی جلوس نہیں نکالا جاتاتھا۔ پوری دنیا کو انسانیت ، خیر سگالی ، رواداری ، محبت اور اتحاد کا پیغام اور درس دینے والے رحمت اللعالمین کے یوم ولادت با سعادت کے موقع پر مسلمان اپنے گھروں پر یا باہر کسی میدان میں میلاد شریف یا سیرت النبی ﷺکے جلسوں کا انعقاد کرلر لیا کرتے تھے۔پریڈ گراؤنڈپریڈ ایسٹ انڈیا کمپنی کے تحت انگریزی (برطانوی ) فوج کی چھاؤنی کا ایک حصہ تھا اور عوام کا اس علاقے میں داخلہ ممنوع تھا۔ 1913 میں مسجد مچھلی بازار کے واقعہ کے بعد جب مہاتما گاندھی سمیت متعدد قومی و ملی لیڈروں مولانا ابوالکلام آزاد بیرسٹر آصف علی سمیت پچاسوں ہندو مسلم مذہبی رہنما، سیاستداں ماہرین قانون اور خدمت گار ان سماج کانپور آئے جنہوں نے برطانوی حکومت کو للکارتے ہوئے کانپور شہر میں فوج کے چھاؤنی علاقہ میں سرکار اور ضلع انتظامیہ کی متعدد رکاوٹوں کے باوجود پریڈ گراؤنڈ میں عین اس روز داخل ہوئے جس روز سرور کائنات ﷺ کا یوم ولادت تھا۔ ان کے ساتھ چلنے والوں میں سینکڑوں مسلمان اور کثیر تعداد میں ہندو بھائی بھی تھے جنہوں نے عدیم المثال اتحاد کا مظاہر ہ کیا جسے دیکھ کر حکومت برطانیہ سکتے میں رہ گئی اور ان کو روکنے کی جرات نہیں کرسکی۔اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر پریڈ میں جلسہ کیا اور جلسہ کے اختتام پر سبھی شرکاء جلوس کی شکل میں قبرستان گئے جہاں انہوں نے عقائد کے مطابق شہید مسجد مچھلی بازار کو خراج عقیدت پیش کیا۔

د وسرے سال 1914میں یوم ولادت النبی ﷺ کے موقع پر مذکورہ بالا واقعی کی یاد میں رجبی گراؤنڈ پر ایک جلسہ عام ہوا اور ایک جلوس بھی نکالا گیا جو آگے چل کر ہر سال نکالا جانے لگا۔ان جلوسوں میں سماج کے سبھی دانشور طبقات کے لوگ مشہور علمائے دین ، وکلا ، بیرسٹر ایٹ لا، ڈاکٹر ، حکیم ، انجینئر ، ماہرین تعلیم ، اساتذہ ، اخبار نویس ، ادبا اور شعرا کرام وغیرہ حصہ لیاکرتے تھے۔ ا س میں سبھی مذاہب کے لوگ شامل و شریک ہوتے تھے۔ 1945-46میں انگریزوں کے دور حکومت میں مختلف اسباب و عوامل کے نتیجہ میں یہ جلو س نہیں نکلا۔ آزادی کے بعد بھی یہ جلوس نہیں نکل سکا کیونکہ حالا ت انتہائی کشیدہ تھے ۔ 1948میں یہ حال تھا کہ شہر میں کوئی بھی فرد کوئی بھی تنظیم اس جلوس کو نکالنے و اٹھانے کی ہمت نہیں کرپاری تھی۔ اس وقت جمعیت علما کانپور شہر نے جلوس نکالنے کا بیڑہ اٹھایا ۔ اس وقت جمیت علما کانپور کے صدر قاضی مختار احمد تھے۔ جنہوں نے مجاہد آزادی با با محمد خضر اپنے ساتھی اور مجاہد آزادی مولانا عبدالباقی افغانی ، قاضی شہر مولانا قاضی احمد حسین ، صحافی و مدیرحشمت اللہ ، بزرگ صحافی مدیر احمد حسین باروی ، شمیم احمد فاروقی ، منشی صابر حسین ، لیاقت حسین بھارتی ، محمد رشید ساحر ہاشمی ، خواجہ عبدالسلام ، نواب یوسف علی ایڈوکیٹ، عبدالحمید قریشی ایڈوکیٹ، مجاہد آزادی کریم بخش آزاد ، حاجی صغیر احمد ، حاجی محمد سلیم ، حافظ عبدالمومن ، حافظ محمدمحسن ، حافظ حمید احمد ، گرو، محمد فریق اور محدہاشم سوداگر کے ساتھ ملکر ان کے تعاو ن ا اشتراک سے آزادی کے بعد کا پہلا جلوس محمد یﷺ پریڈگراؤنڈ سے نکالا۔ تب سے اب تک جمیعت علما شہر کانپور کے زیر اہتمام یہ جلوس نکل رہاہے۔‘‘

اس سے اندازہ ہوتاہے کہ جلوس محمدی کا آغاز کسی ایک فرقے کے عشق رسولﷺ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ جمعیت علمائے ہند نے بھی اس کے اہتمام میں نہ صرف جوش و خروش کا مظاہر ہ کیا بلکہ انگریزوں کے دور میں اس تنظیم نے جان ہتھیلی پرلیکر اس کا اہتمام کیا ۔ آزادی سے قبل اس کی نوعیت مذہبی نہیں تھی بلکہ خاص حالات میں اس کا اجرا کیا گیا تھا اور اس میں غیر مسلم شخصیات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ مگر آزادی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی اتنی تھی کہ اس میں ہندوؤں کی شرکت نہیں ہوسکی اور یہ ایک مذہبی جلوس میں تبدیل ہوگیا۔اس کے بعد سے پورے ملک میں اس کا سلسلہ دھیرے دھیرے چل پڑا۔

بنگال میں چونکہ اس کا سلسلہ نیا ہے اس لئے غیر مسلموں کے اندر اس کا منفی ردعمل ہواہے ۔ انہوں نے بھی رام جلوس نکالنا شروع کیا ہے ۔ ان کے افراد بھی موٹر سائیکلوں اور بائیک پر زعفرانی جھنڈے لگانے شروع کردئیے ہیں اور اپنے محلوں میں زعفرانی جھنڈے گاڑکر ہندوتوا کے جذبے کا اظہار کرتے ہیں ۔ کچھ فرقہ پرست عناصر اس موقع پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بھی لگاتے ہیں جس سے فرقہ وارنہ کشیدگی بڑھتی ہے ۔ گزشتہ سال پوجا کے موقع پر ہندواکثریتی علاقوں میں ایسے بھی کیسٹ بجائے گئے جن میں مسلمانوں کے خلاف منافرت انگیز نعرے تھے اور ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے اور ماتر بھومی کی رکشاکیلئے تلوار اٹھانے کی بات بھی کی گئی تھی۔مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ بھی دیاگیا تھا۔جبکہ اس سے قبل اس طرح کا منظر نامہ کم از کم بنگال میں نہیں تھا۔ لہذا ، ہمیں خود احتسابی کرنی ہوگی کہ کہیں جوش ایمانی میں ہم اپنے برادران وطن کے اندر عدم تحفظ یا خطرے کا احساس تو پید انہیں کررہے ہیں۔ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہم نعت پاک کے جو کیسیٹ بجاتے ہیں ان میں صرف نعت ہوں بیچ بیچ میں اشتعال انگیز نعرے نہ ہوں ۔ اور اگر ایسے کیسیٹ کہیں سنائی دیں تو فوراً اس پر توجہ دیں کیونکہ ملک میں فرقہ وارانہ ماحول تیا رکرنے کے لئے فاشسٹ طاقتیں بھی سرگرم ہیں او ر وہ مسلمانوں کے جذبات کا استحصال کرکے خود انہیں مصیبت میں ڈال سکتی ہیں ۔

مسلمانوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تمام مسلمانوں پر اس میں شامل ہونے کو فرض قرار دیتاہے جبکہ کسی بھی جلوس میں شامل ہونا سب کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو اس جلوس میں شریک نہ ہو اس میں عشق رسول ﷺ کم ہے۔ گزشتہ سال ایک مراسلہ بھی نظر سے گزرا جس میں اس دن دکانیں بند کرکے جلوس میں شامل نہ ہونے والوں کو مطعون کیاگیاتھا اور انہیں دولت کا لالچی و حریص قراردیاگیا تھا۔روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو درد سے نہ تڑپا ہوگا مگر سارے مسلمان ان کی حمایت میں نکلنے والے احتجای جلوسوں میں شریک نہ ہوسکے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جو لوگ ان جلوسوں میں شریک نہ ہوسکے وہ روہنگیا مسلمانوں سے ہمدردی نہیں رکھتے تھے یا ان جلوسوں کے مخالف تھے یا برمی حکومت کو حق بجانب سمجھتے تھے۔ْ

ہندو اس ملک میں اکثریت میں ہیں ۔ اگر ہندو تنظیمیں بھی ہر شہر میں رام جلوس نکالنے لگیں اور ان پر بھی ان جلوسوں میں شریک ہونا دھرم کی رو سے فرض کردیا جائے اور اس دن شہر کے تمام ہندو سڑکوں پر آجائیں تو کیا صورت حال پیدا ہوگی۔ اور اگر کوئی فرقہ پرست تنظیم کا فردکسی جلوس میں شر انگیزی کردے اور جلوس متشدد ہوجائے تو پھر کیاہوگا اس کا تصور محال نہیں ہے۔

لہذا، زمانے کی ہوا کو دیکھتے ہوئے ہم اپنے تمام تہواروں کو سادگی اور امن کے ساتھ منائیں اور ایسا کوئی عمل نہ کریں جس سے برادران وطن کو بدگمانی ہو اور ایک عدم اعتماد کی فضا قائم ہو۔اس تہوار کو مسلکی زاوئیے سے نہ دیکھا جائے ۔ نمائش میں لاکھوں روپئے خرج کرنے کے بجائے اسی رقم کا استعمال مسکینوں کو کھلانے پر خرچ کیاجائے کیونکہ قرآن میں مسکینوں اور بھوکوں کو کھلانے کی سخت تاکید آئی ہے ۔اس موقع پر مائیک کا استعمال بہت ہی کم ہو تاکہ عوام کو اپنے دنیاوی اور دینی معمولات کی ادائیگی میں رخنہ نہ پڑے اور ہم گناہ گار نہ بنیں۔

Source: http://newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad/something-about-the-procession-on-the-birth-anniversary-of-prophet-muhammad-(saw)-کچھ-جلوس-محمدی-ﷺ-کے-بارے-میں/d/113370

Check Also

Pseudo-Sufis In India: How Tasawwuf (Islamic Mysticism) Is Being Transformed Into Dargahiyyat (Petty Business Of Shrine Custodians)

By Ghulam Rasool Dehlvi, Editor, WordForPeace.com Islam emerged in India as the spiritual legacy of …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *