Spreading Hate in the name of Faith Protection & Jihad جہاد اور دھرم رکشا کے نام پر بڑھتا ظلم

WordForPeace.com
عبد المعید ازہری
جہاد اور ظالمانہ قتل و غارت گری دو الگ فکر اور عمل کے نتیجے ہیں۔ اگر چہ دونوں لفظوں کا تعلق اسلام سے ہے لیکن الگ پس منظر میں ہے۔ ظالمانہ قتل و غارت گری کے خلاف جہاد کرنا اسلامی تعلیمات و ترغیبات کا حصہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اپنی انانیت اور بد عنوانی کے لئے جہاد کا استعمال کرنا نہ تو اسلام کا حصہ ہے اور نہ اس کی تعلیمات و ترغیبات کسی امن پسند مذہب و فرد سے ملتی ہیں۔ جہاد دو طرح کے ہیں۔ ایک جنگ میں جہاد دوسرا نفس سے جہاد۔پیغمبر اسلام نے بارہا نفس کو پاس کرنے، اس میں اٹھ رہی غلط خواہشات کو مٹانے، پنپ رہی برائیوں سے خود کو دور رکھنے اور اپنے آپ کو کسی پر ظلم کرنے سے بچانے کا نام جہاد ہے۔ یہی بڑا جہاد ہے۔ اس کے بارے بے شمار قرآنی آیات اور نبوی ارشادات کا ورود ہوا ہے۔ایک انسان کے دل میں دوسرے انسان کے خلاف پیدا ہونے والے جذبات کا تعلق نفس سے ہے۔ اسی بنیاد پر وہ دوسروں پر ظلم کرتا ہے۔ زمین پر فساد برپا کرتا ہے۔ خدا کے بندوں پر ناحق ظلم کرتا ہے۔ ان کے حقوق کو غصب کرتا ہے۔ یا یوں کہیں کہ جانے انجانے میں خدائی کا دعوا کر بیٹھتا ہے۔ اسی لئے اس طرح کے برے افکار و خیالات سے نفس اور نیت کو پاک کرنا سب سے بڑا جہاد ہے۔اس جہاد پر عمل کرنے والوں کی تاریخیں آج تک زندہ ہیں اور لوگوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ایسا جہاد کرنے والوں کو خدا کریم بھی پسند کرتا ہے اور انہیں اپنے اسرار رموز سے بھی واقف کراتا ہے۔ انہیں کے بارے قرآن کا ارشاد ہے کہ جب انسان خدا کی نگہبانی کا اقرار کر لیتا ہے۔ اس کے احکام پر عمل پیرا ہو کر تقوی کے راستے ولایت کا راستہ اختیار کر لیتا ہے تو پھر رب کی قدرت و کرشمائی کا عالم اس بندے پر یہ ہوتا ہے کہ چلتا تو بندہ ہے لیکن اقدام خدا کا ہوتا ہے۔ دیکھتا بندہ ہے لیکن بصارت رب کی ہوتی ہے۔ پکڑتا اور ہاتھ بندہ بڑھاتا ہے لیکن قدرت رب کریم کی ہوتی۔ ایسے صفت کو مومن کی فراست بھی کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ مومن کی فراست کے مقابلے میں آنے سے بچو کہ بولتا تو وہ لیکن گویائی خدا کی ہوتی ہے۔کیونکہ اب وہ خدا کا دوست ہو جا تا ہے۔ تقوی اور صفائی کا عمل جہاد کے ذریعے جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے دوستی اتنی مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ اسی اعتبار سے اس کی قدرت اور اختیارات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
جہاد کا دوسرا معنی جنگ اور آلات حرب و ضرب سے لڑائی بھی ہے۔ یہ بھی اسلام میں موجود ہے۔ لیکن قرآن کی جتنی آیتیں اس لفظ کے ساتھ وارد ہوئی ہیں ہر جگہ اس کا ایک پس منظر ہے۔ بغیر کسی سیاق و سباق، غرض و غایت اور مقاصد کے نہیں ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت لازمی ہے کہ جہاں اس بات میں کو ئی پس پیش نہیں اور من و عن درست ہے کہ اسلام تلوار کی زور پر نہیں بلکہ کردار کی فطرت سے پھیلا ہے۔ وہیں اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اسلام میں تلوار کا تصور بھی ہے۔ جنگیں اور غزوات ہوئی ہیں۔ خود پیغمبر اسلام بھی شامل ہوئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی نظام میں ایسا نہیں ہے کہ برائی کو ختم کرنے کے لئے آلات و حرب و ضرب کا استعمال غیر مناسب تصور کیا گیا ہو۔ سناتن دھرم اور فکر جس کی تاریخ کافی قدیم ہے۔ وہاں بھی جب دھرم کو ادھرم سے خطرہ لاحق ہوتا ہے تو جنگ کے اپدیش، تعلیمات و ترغیبات ملتی ہیں۔ لیکن کسی بھی جنگ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے سامنے بھی لو گ ہتھیار سے لیث ہوں۔ جنگ پر آمادہ ہوں۔ آپ نہیں ماروگے تو وہ مار دیں گے۔ یا خدا کی مخلوق پر ان کاظلم جاری و ساری رہے گا۔ ایسے میں لازم ہو جاتا ہے کہ انسان کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے اگر تلوار اٹھانی پڑے تو بے جھجھک اٹھائی جائے ۔ لیکن کسی نہتے پر وار کرنا غیر اسلامی اور غیر مذہبی عمل ہے۔بے گناہوں کا خون بہانا جرم اور ظلم ہے۔ خواہ اس کا مرتکب کسی بھی مذہب و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے حکومتیں اپنی انتظامیہ کو ہتھیار سے لیث کرتی ہیں تاکہ اگر کوئی ظالم کسی بے گناہ کو ظلم کا شکار بنائے تو اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کسی مجرم کو سزا دینا یا کسی ظالم کے خلاف آلات کا استعمال کرنا بے جا و نامناسب نہیں ہے۔
تاریخی واقعات شواہت بکثرت موجود ہیں کہ اسلام کو کسی بھی ملک کی سرحد میں تلوار کی زور پر داخل نہیں کیا گیا۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اسلام پہنچ گیا اس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو تلوار داخل ہوئی ہے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ اسلام پہنچ گیا لیکن کبھی بھی اسلام کے نام پر تلوار اٹھی ہی نہیں۔ جہاد تو مسلمانوں نے صرف اپنی قوم کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے نہیں اٹھایا بلکہ دوسری قوموں کو بھی محفوظ رکھنے کے لئے انسان دوستی اور فطرت کی حفاظت کے لئے جہاد کیا ہے۔ہاں کچھ سرفروں نے اپنے مفاد اور سیاسی ہتھکنڈوں کی وجہ سے اس پاک و پاکیزہ نام کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ دہشت گردی کو جہاد کے لباس میں پیش کر کے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ اسیے میں ہر ایک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کو سمجھیں۔آج کے دہشت گرد تو خود مسلمانوں کو کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ وہ کو ن ساجہاد کر
رہے ہیں۔ کسی غیر مسلم کو یوں ہی بے قصور قتل کرنا کون سا جہاد ہے۔جبکہ خود پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے کسی بے گناہ کو قتل کر دیا میں میں اس کے لئے دعا کروں گا۔ جنگ کی شرطوں میں یہ شامل ہے کہ جب تک مد مقابل حملہ کے لئے تیار نہ ہو اس سے جنگ یا اس پر وار کرنا جائز نہیں۔
جنگ وقتل کا یہ تصور صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ تقریبا ہر نظرئیے میں ملتا ہے۔ کسی بے گناہ کے قتل کی اجازت کوئی بھی مذہب نہیں دیتا۔ ایسا کرنے والے سب سے پہلے اپنے ہی مذہب کے دشمن ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر امن پسند انسان اپنے مذہب کے نام ہو رہی دہشت گردی، تشدد ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف خود کھڑا ہو تاکہ دوسری قوموں سے یہ کہا جا سکے کہ ہمارے گھر سے منسوب شخص کی غلط
کار کے خلاف ہم کھڑے ہیں ۔ آپ اپنے گھر کی صفائی کے لئے کب کھڑے ہوں گے۔

Check Also

Rise in terror attacks in Pakistan and General Election polls: international implications

WordForPeace.com With the Pakistani General Election just a week away, statistics touted very recently have …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *