Use of Loudspeakers in light of Qur’an & Hadith مساجد، جلسہ گاہ اور شادی ہال تک لاوڈاسپیکر کا غلط استعمال

مفتی محمد عبداللہ 

Mufti Muhammad Abdullah, WordForPeace.com

اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ، اس میں انسانی زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات کا واضح او رجامع حل موجود ہے ، اسلام نے جہاں انفرادی زندگی کے متعلق انسان کی رہنمائی کی ہے وہیں اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے تعلق سے بھی کچھ ہدایات اور تعلیمات دی ہیں، اگر انسان ان تعلیمات و ہدایات کو اپنائے تو ایک خوشگوار اور صالح معاشرہ تشکیل پائے گا ، اور ساتھ ہی ساتھ انسان دنیا اور آخرت کی سعادت و کامیابی سے بہر ہ ور ہوگا ۔ اجتماعی اور معاشرتی زندگی کے تعلق اسلام سے بنیادی طور پر یہ ہدایت دیتا ہے کہ انسان اس طرح زندگی گزارے کہ اس کے قول و فعل اور حرکاتوسکنات سے کسی کو ٹھیس نہ پہنچے ، اس کی طرز معاشرت اور رہن سہن کسی کی دل آزاری کا باعث نہ بنے ، ایک حدیث شریف میں آپ نے کامل و مکمل انسان اس شخص کو قرار دیا ہے جس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ ہیں ۔ (بخاری شریف، حدیث نمبر :10) ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا کہ ایسا شخص مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں جس کی حرکتوں سے اس کا پڑوسی پریشان اور کبیدہ خاطر رہتا ہو ۔ ( بخاری شریف، حدیث نمبر :6016) آج ہمارے معاشرے میں کچھ ایسی سنگین غلطیاں پائی جاتی ہیں جن میں عام ابتلاء پایا جاتا ہے ، اور ان غلطیوں کی سنگینی کا احساس ہمارے دلوں سے رخصت ہوچکا ہے، ان غلطیوں میں سے ایک لاوڈاسپیکر کا غلط اور ظالمانہ استعمال سیاسی اجتماعات و پروگرام او رمذہبی و دینی جلسوں میں بھی کیا جاتا ہے ، اسی طرح مساجد میں قرأت اور تکبیر ات انتقالیہ پہنچانے کیلئے بھی اس آلہ کا استعمال کیا جاتا ہے، اس حد تک تو اس کا استعمال پسندیدہ اور مستحق ہے ۔

لیکن عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ ارباب جلسہ ساونڈ باکس جلسہ گاہ سے باہر نصب کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں آواز محلے کے گھر گھر میں اس قوت کے ساتھ پہنچتی ہے کہ کوئی شخص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، نہ کوئی آرام کرسکتا ہے نہ کوئی یکسوئی سے اپنا کام انجام دے سکتا ہے ، اسی طرح شہروں کے اندر عموما شادی ہالوں میں رات دیر گئے لاوڈاسپیکر پر گانے بجانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس کی وجہ سے پتہ نہیں قرب و جوار میں رہنے والے کتنے لوگ کی نیندیں حرام ہوتی ہیں ؟ کتنے مریض وبیمار بے چینی سے کروٹ بدلتے رہتے ہیں ؟ گانا بجانا فی نفسہ ناجائز اور حرام ہے، پھر گانے کی آواز کو دور تک اس قوت سے پہنچانا کہ وہ دوسروں کے لئے باعث زحمت ہو اس میں دوہری برائی ہے، اسی طرح بعض مساجد کے اندر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جماعت کے وقت باہر کا اسپیکر کھول دیا جاتا ہے، اور نماز مائیک پر ادا کی جاتی ہے ، اور لوگوں کو قرآن سننے پر مجبور کیا جاتا ہے، اس میں جہاں لوگوں کی یکسوئی میں فرق آتا ہے او رانہیں ایذاء پہنچتی ہے، وہیں اس میں قرآن کریم کی بے حرمتی اور اس کے تقدس کی پامالی بھی ہے، دوسرے یہ محلے میں مسلمانوں کے ساتھ دوسری قومیں بھی بستی ہیں، مسلمانوں کے اس طرز عمل سے وہ اسلام اور مسلمانوں سے قریب ہونے کے بجائے ان سے متنفر ہوتے ہیں، اسلام کی صاف و شفاف ہدایات و تعلیمات کے متعلق غلط تاثرات ان کے ذہنوں میں راہ پاتے ہیں۔ لاوڈاسپیکر کا غلط استعمال مساجد، جلسہ گاہ اور شادی ہال تک ہی کیا محدود ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی لاوڈاسپیکر نصف کرتا ہے تو اسے یہ فکر نہیں ہوتی کہ لاوڈاسپیکر کی آواز ضرورت تک محدود ہے یا پھر اس کی آواز ضرورت سے زائد دور تک پہنچ کر دوسروں کے لئے باعث زحمت بن رہی ہے۔

اسی طرح بس او رٹرین کے سفر کے دوران یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ اپنے موبائل فون کا اسپیکر پوری قوت کے ساتھ کھول دیتے ہیں ، او رنعت ، نظم او رگانے وغیرہ سنتے ہیں، انہیں ذرا فکر نہیں ہوتی کہ یہ چیز مسافرین کے لئے باعث زحمت بن سکتی ہے اور ان کو گراں گزر سکتا ہے، بلکہ اگر ان کو اس سے منع کیا جائے تو بجائے اس کے کہ وہ آواز کی مقدار کم کرلیں الٹا منع کرنے والے کو ڈانٹتے ہیں ، او راس پر طعن و تشنیع کرتے ہیں ہمارے معاشرہ کی یہ صورت حال نہایت تکلیف دہ ہے۔قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ (لقمان آیت نمبر :19) اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آواز پست رکھنے کا حکم دیا ہے، اور ضرورت سے زیادہ اپنی آواز بلند کرنے سے منع فرمایا ہے ، لیکن معاشرہ میں عام طور پر اس قرآبی حکم کو نظر انداز کردیا گیا ہے، لاوڈاسپیکر او رمائک کے غلط استعمال سے لوگوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے یقیناًیہ گناہ کبیرہ ہے،لیکن قریب قریب پورا معاشرہ دانستہ یا نادانستہ اس گناہ میں مبتلا ہے، اور طرفہ یہ کہ اس گناہ کی سنگینی کا احساس تقریباً دلوں سے نکل گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہر انسان کے لئے مشعل راہ ہے، اور پوری نوع بشری کی فلاح و کامیابی آپ کی تعلیمات و ہدایات کو اپنانے او ران کو حرز جاں بنانے میں مضمر او رپوشیدہ ہے، آپ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتے تھے، اور قدم قدم پر ملحوظ رکھتے تھے کہ ہمارے قول یاعمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ، چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک رات آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے یہاں تھے، آپ کو گمان ہوا کہ عائشہ سوچکی ہیں، آپ بستر سے اٹھے او رچپکے سے اپنی چادر لی ، اور آہستہ سے جوتے پہنے ، پھر ہلکے سے دروازہ کھولا ، اور جنت البقیع تشریف لے گئے ۔ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر :974) تاکہ کہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی نیند میں خلل نہ آئے، حالانکہ بیوی اپنے شوہر سے طبعی اور فطری محبت کی وجہ سے اتنی سی تکلیف گوارا کر لیتی ہے ، اور بیویاں اس سلسلہ میں چشم پوشی سے کام لیتی ہیں،اس کے باوجودآپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی نیند کا خیال رکھا ،آپ اپنے اس طرز عمل سے گویا امت کو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ انسان حتی الوسع اس بات کی کوشش کرے کہ اس کی ذات سے اور اس کی حرکات و سکنات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے ۔ آپ کی عادت طیبہ تھی کہ جب گھر میں داخل ہوتے تو اتنی آہستہ آواز سے سلام کرتے کہ جاگنے والا سن لے ، اور سونے والا نہ جاگے (مسند احمد بن حنبل ، رقم الحدیث : 23822).

 آپ کے اس عمل میں امت کیلئے یہ سبق مضمر او رپوشیدہ ہے کہ انسان اس طرح زندگی بسر کرے کہ اس کے قول یا عمل سے کسی کی دل آزادی نہ ہو، اس کے فعل اور طرز معاشرت سے کسی کے دل کو ٹھیس نہ پہنچے ۔

Check Also

Live life to the fullest: the exciting nature of happiness

By Rashid Payota Let me begin with a real life instance that touched my inner-self: …

One comment

  1. Hi there Dear, are you in fact visiting this site on a regular basis,
    if so then you will absolutely take good know-how.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *