What’s the difference between Islam and Darul Islam?

WordForPeace.com

احمدجاوید

مرشد پورے جوش میں تھا، مجلس میں مریدوں کی تعداد اگرچہ زیادہ نہ تھی، لیکن ان میں سے ہرشخص کئی کئی شخصوں پر بھاری ہوگا۔ ایک ڈاکٹر،دواساتذہ، ایک صحافی،دوعلمائے دین اوردوتین یونیورسٹی کےمختلف شعبوں کےطلبہ اورریسرچ اسکالرز۔ایسے منتخب سامعین کب کسی کوروزروز میسر آتے ہیں ،یہ لوگ معروف معنوں میں اس کےمرید نہ تھے ،وہ خود بھی روایتی پیری مریدی کاقائل نہ تھا، اس لیے اس پر ان کا اعتقاد زیادہ اٹوٹ ہے،وہ بے تکان بولتا جارہا تھا اور حاضرین مسحور تھے۔

موضوع پھر وہی دارالحرب اور دارالاسلام تھا، وہی بحث جوپچھلی صدی کے اوائل میں یہاں اس وقت تیز ہوئی تھی، جب ترکی میں سلطنت عثمانیہ کازوال قریب تھا ، دنیائے عرب میں قومی تحریکوں اور ہندوستان میں تحریک خلافت و ہجرت نے زورپکڑی تھی،اس کا سارا زور اسی ایک نکتے پرمرکوز تھا کہ خلافت کے زوال سے امت نے کیا کھویا۔مرشد کی نشست کے برابر بیٹھے اس شخص نے،جسے مرشد نے ازراہ قدر دانی اپنے برابر بٹھالیاتھا، محسوس کیا کہ یہ کوئی فرشی نشست نہیں، گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار کوئی فوج یا کم از کم لشکر اسلام کا کوئی دستہ ہے جو ابھی اٹھے گا اور دارالحرب پر ٹوٹ پڑےگا۔اس نے چونک کر سر اٹھایا، اپنے دائیں بائیں دیکھا، یہ اس کا وہم تھا،وہ چند لوگ تھے، نہتے سرجھکائے ہوئے بیٹھے تھے۔ ان کے چہروں پربے بسی تھی، کرب تھا، فکرو تشویش تھی اور وہ پوری توجہ سے مرشد کو سن رہے تھے،جو بڑے وفور میں اسلام اور شوکت اسلام کی بحالی کے لیے جہادکی بات کررہا تھا۔

’’ہاں! یہ صحیح ہے کہ خلافت کے زوال نےامت مسلمہ کو دنیا بھر میں ذلیل و رسوا کردیا ،لیکن یہ تو بتائیں کہ اسلام کیا ہےاور اس کی اصل شوکت و عظمت کن باتوں میں ہے، کیا اسلام کا مقصود و مدعا مسلمانوں کی حکومت ہے یا قانون کی حکمرانی،آیا اسلام بھی حاکم و محکوم کاتصور رکھتا ہےیا اس کی نگاہ میں سارے انسان برابرہیں ؟‘‘ سوال نے جیسے غبارے کی ہوانکال دی اور مرشد ایک گہری فکر میں ڈوب گیا۔اس کے برابر نہایت لاپرواہی سے بیٹھا ہوا وہی شخص اب زور زور سے بول رہا تھا۔’’کون سا دارالاسلام کیسا دارالحرب؟ کیا ذمی اور کیا حربی؟کیامومن اور کون کافر؟ سعودی عرب کے لیےاس وقت یمن دارلحرب ہے،یمن کے انقلابیوں کے لیے سعودی عرب۔ پھر یمن میں بھی متحارب جماعتوں اورقبائل کے لیےالگ الگ علاقوں اور گروہوںکاحکم ان کی اپنی اپنی سہولت کے مطابق الگ الگ۔جو علاقے میرے لیے دارالاسلام ہیں ، وہ آپ کے لیے دارالحرب۔مصر میں آپ اخوان اور ڈاکٹر محمدمرسی کے اسلام کے ساتھ ہیں یا سعودی شاہ اور امریکا و اسرائیل کے حمایت یافتہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے اسلام کے ساتھ؟ شام میں حزب البعث العربیہ ، اس کے قائد بشار الاسد اور ان کے حلیفوں روس اور ایران کے ساتھ جو انقلابیوں سے جنگ لڑرہے ہیں یا ان کے ساتھ جو ملک کے ستر اسی فیصد شہروں اور دیہاتوں پر قابض ہیں؟ پھر ان میں بھی جبہۃ النصرۃ اور ان کے حلیفوں کے ساتھ یا تحریر السوریہ اور فری سیریا آرمی کے ساتھ ،جو ایک دوسرے پراور ان کے مقبوضہ علاقوں پر حملے کررہے ہیں؟آٹھ سے زائد مسلح و غیر مسلح جماعتیں ہیں، سب کے سب مسلمان ہیں، کم و بیش یہی صورت حال آج دنیا کے ہر حصے میں ہے، خود بر صغیر ہندوپاک، بنگلہ دیش اور افغانستان کو ہی لے لیجیے ، صورت حال بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ ایک سے زائد گروہ ہیں، جو دوسروں کو مرتد،کافرو مشرک، گمراہ اور گردن زدنی تک سمجھتے ہیں۔ مسئلہ اب اتنا سیدھا سادہ اور آسان نہیں ہےاورشاید عہد وسطی میں بھی نہیں تھا۔‘‘مرشدکی خاموشی اور لمبی ہوگئی۔حاضرین گردنیں جھکائے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھ رہے تھے، ایک رنگ آرہا تھااور ایک جارہاتھا۔

’’آپ دارالاسلام بنائیں، شوق سے بنائیں، لیکن پہلے یہ تو بتائیں کہ آپ کا اسلام کیا ہے؟ ‘‘اس نے اپنی بات میں زور پیدا کیا۔ مرشد کی خاموشی اس کا حوصلہ بڑھارہی تھی۔ ’’ابھی اسی ہفتے میں رالے گان سدھی سے آیا ہوں،مہاراشٹر کا یہ دیہات کبھی زمین پرنرک تھا، قحط کا شکار، سماجی برائیوں اور شراب کی لت کا ماراہوا۔فوج کے ایک سبک دوش سپاہی نے گاؤں کی کایا پلٹنے کی ٹھانی۔پہلے تو یہاں کے باشندوں نے مل جل کر بڑے بڑےتالاب کھودے، پینے کے پانی کی قلت بھی دور ہوگئی، فصلیں بھی لہلہا اٹھیں۔اب گاؤں میں اناج بینک قائم کیا۔ اس موضع کی حدود میںاب کوئی بھوکا نہیں سوسکتا تھا۔پھر پنچایت نے فیصلہ کیا کہ یہاں کوئی شراب کو ہاتھ نہیں لگا سکتا،نہ کسی کی ہمت کسی عورت پر بری نظر ڈالنے کی ہے، کیوں کہ اس کے لیے اب مجرم کو سخت سزا دی جاتی تھی۔انا ہزارے کو اب کون نہیں جانتا، اس نے تو اپنے گاؤں کو دارالاسلام بنا لیا۔کسی نے نہیں روکا، آپ بھی بنائیں، کس نے روکا ہے؟ جمہوری معاشرے آپ کو پرامن طریقے سے اپنی مرضی کی دنیابنانے، اپنی پسند کا معاشرہ قائم کرنے اور اپنی خوشی کی زندگی بسر کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ سیکولر جمہوری ریاستوں کے تعلق سے آپ کی کیارائے ہے، ہندوستان اور اس جیسی ریاستیں دارالاسلام ہیں یا نہیں، لیکن کیا یہ دارالحرب ہیں ؟‘‘

وہ خاموش ہوا تو مرشد نے گردن اٹھائی:’’ آپ ٹھیک کہتے ہیں، بنیادی طور پر اسلام قانون کی حکمرانی ہے، ذاتی اور انفرادی زندگی میں بھی اور قومی یااجتماعی زندگی میں بھی۔ کسی زور زبردستی سے اس منزل کو نہیں پایا جاسکتا، جس کا نام اسلام ہے، اسی لیے لااکراہ فی الدین فرمایا، یہی فلسفہ ھدی للمتقین میں ہے۔یہ شریعت ہو یا کوئی اور قوانین و ضوابط ، ملک و معاشرے کو پرامن ومنظم رکھنے اور زندگی کی رفتار کو آسان بنانے کے لیے بنائے جاتے ہیں ،لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب لوگوں کے دلوں میں قانون کا احترام ہو، قانون کا نفاذکرنے کے ذمہ دار ادارے اور افرادخود بھی اس کا احترام کریں اور وہ اس کی راہ میں اپنے مفادات یا اپنی پسند ناپسند کو نہ آنے دیں۔ اس کی مثال سڑکوں پر ٹریفک سگنل کی ہے کہ اگر آپ لال، پیلی اور ہری بتیوں کی خلاف ورزی نہیں کرتے، خود کو اس کے سپرد کردیتے، اشاروں پر عمل کرتے اورسگنل توڑنے سے باز رہتے ہیں تو آمدورفت آسان رہتی ہے، راہ گیروں کو پریشانی نہیں ہوتی اور شہر کی رفتاربرقراررہتی ہے۔ اس کے برعکس جس شہر میں ٹریفک سگنل توڑنے کا رجحان عام ہوتا ہے ، جہاں کے لوگ خود کو اشاروں کا تابع نہیں رکھتے، بتیوں کے جلنے بجھنے کا انتظار نہیں کرتے اورجن کےدلوں میں ان کا احترام نہیں، خود بھی گھنٹوں جام میں پھنسے رہتے ہیں،دوسروں کے لیے بھی پریشانیوں کاباعث بنتے ہیں، اس شہر کی سڑکوں پر آئے دن افراتفری رہتی ہے اور زندگی کی رفتار اپنے تقاضے کھو دیتی ہے۔آپ نے سڑکوں پر ایسے لوگوں کو اپنی جانیں گنواتے بھی دیکھا ہوگا اور ان کی جلدبازی کی زد میں قیمتی جانیں جاتی بھی دیکھی ہوںگی۔ قانون نافذ کرنے والے ہاتھ اگر ٹریفک سگنل پر کھڑے رشوت خور اہلکار کی طرح بے ایمان اوردوسرے لوگ ٹریفک سگنل توڑنے والے راہ گیروں کی طرح بےخوف ہوجائیں تو سماج کی جو حالت ہوتی ہے، اس کی بدترین مثالیں آج ہمارے ملک اور معاشرےہیں‘‘۔

مرشد نے ایک لمبی ٹھنڈی سانس لی ، اس کا بدلا ہوا لب و لہجہ اس کی مجلس کے حاضر باشوں کے لیے حیران کن تھا،لیکن راوی کے ذہن میں ایک اور ہی کہانی چل رہی تھی۔ سلطان المشائخ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین ایک ہندو نوجوان ہردیو سے مخاطب ہیں، آپ کی آنکھوںمیں آنسو ہیں اور آپ فرمارہے ہیں ’’ہم سب خدا کے ذمی ہیں، کوئی انسان کسی انسان کا ذمی نہیں ہوسکتا، کیوں کہ کسی کے اختیار میں نہیں کہ وہ دوسرے انسان کی ویسی حفاظت کرسکے جیسی خدا اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے‘‘۔ اتنا سننا تھا کہ پاس ہی موجود ایک شخص نے چیخ ماری اور مرغ بسمل کی طرح صحن میں تڑپنے لگااور مجمع حیران کہ ماجرا کیا ہے۔

علاء الدین خلجی نے اسی سال دکن پر فوج کشی کی تھی اورتلنگانہ کے مرہٹہ راجہ رام دیو نےاسے تاوان وخراج دے کربہ مشکل ریاست بچائی تھی۔راجہ نے دہلی کے حالات معلوم کرنے کے لیے اپنے چند جاسوس بھیجے ، ہردیو ان ہی میں سے ایک تھا۔وہ اُس دن امیر خسروکے گھر سے لوٹ رہا تھا،راستے میںایک دکاندار سے اس نے چیزوں کی قیمت دریافت کی، یہ بھی پوچھا کہ یہ کن ملکوں کی ہیں؟نووارد جان کر دکاندار نے بھی اس سے اس کا حال دریافت کرلیا۔ تاجر نےاس کی زبان سے امیر خسرو اور حضرت نظام الدین کا نام سنا تو بہت خفا ہوا۔کہنے لگا یہ دونوں بے دین ہیں، علی الاعلان گانا سنتے ہیں۔نووارد کو اس کی یہ بات بری لگی ،لیکن وہ صرف اتنا کہہ سکا کہ میں ان کے خلاف اب اور زیادہ سننا نہیں چاہتا۔دکاندار حیران تھا کہ یہ شخص ابھی کہتا تھا کہ وہ ہندو ہے، لیکن اسے ایک مسلمان فقیر سے اتنی ہمدردی کہ اس کے خلاف کچھ سننا نہیں چاہتا۔ جب اس نے کہا کہ ’’میں نے ان کی مجلس کو دیکھا ہے اور ان کی باتوں کو سنا ہے۔ کل رات ان کے مقبول مرید امیر خسرو کے گھر تھا۔ میں نے ان میں کوئی بات مکر وفریب کی نہیں دیکھی…‘‘  تو اس مسلمان کا غصہ مزید بھڑک اٹھا۔ اس نے کہا کہ تم بت پرست ہو، تمہارا دوست خسرو بھی بت پرست ہے اور اس کا پیربھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔اب ہر دیو بھی اپنے غصے کو نہیں چھپا سکا۔ اس نے کہا کہ میں یہاں اب اور ٹھہرنا نہیں چاہتا۔ مجھے بہت صدمہ ہوا کہ میں یہاں کیوں ٹھہرا؟دکاندار ہنسا اور کہنے لگا کہ میں صاف اور کھرا آدمی ہوں، تم مسافر اور اجنبی ہو اور اسلام کے ذمی ہو۔ اس واسطے میں نے تم کو برائی سے بچانا ضروری سمجھا۔ ہردیو نے اس سے پوچھا کہ ذمی کا کیا مطلب ہے؟ دکاندار نے بتایا دارالاسلام کی غیر مسلم رعایا،یعنی جس کی حفاظت حکومت اسلامیہ کے ذمہ ہو، اس کو اسلامی شریعت میں ذمی کہتے ہیں اور چوں کہ میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں، سب ہندوئو ں کو ذمی سمجھتا ہوں اور ان کی ہر قسم کی حفاظت کا خیال رکھنا اپنا فرض جانتا ہوں۔ ہردیو نے اس سے کہا کہ تمہارے ا س خیال سے مجھے خوشی ہوئی اور اسی ہمدردی کے ناطے میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم ایک دفعہ حضرت نظام الدین کی خدمت میں جائو، ان کی مجلس کو دیکھو تاکہ تم اس گناہ سے بچو جس میں نادانستہ مبتلا ہو۔ سنی سنائی باتوں پر تم ان کو برابھلا کہتے ہو۔

وہ اسی شام ہردیو کے ساتھ حضرت نظام الدین کی مجلس میں آیا، خانقاہ میں داخل ہوا تو وہاں بہت بھیڑتھی۔ مجلس میںجگہ نہیں تھی، لہٰذا ہردیو اہل مجلس کی پشت پر بیٹھ گیا ،لیکن ترک تاجرسیدھا حضرت کے سامنے جابیٹھا۔یہ بات ہردیو اور اہل مجلس کو ناگوارگزری، لیکن تھوڑی دیرمیں وہ کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت کی باتیں سن کر اس نے چیخ ماری اور وہ حضرت کے قدموں میں سر رکھ کر رونے لگا۔ وہ روتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے معاف کیجیے، میں بڑی گمراہی میں تھا۔ پھر حضرت نے فرمایا آج وہ ہندو مہمان ہر دیو کہاں ہے؟ وہ پیچھے سے کھڑا ہوگیا اور ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ غلام یہاں حاضر ہے۔حضرت نےاس کی طرف دیکھا، آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آپ فرمارہے تھے:ہم سب خدا کے ذمی ہیں، کوئی انسان کسی انسان کا ذمی نہیں ہوسکتا(سب زمین اور سارے ملک اسی کی مملکت ہیں، کیا دارالحرب اور کیا دارالاسلام)…ترک تاجر نے پھر ایک چیخ ماری اور وہ تڑپنے لگا۔

راوی کی محویت ٹوٹی تو وہاں کوئی نہیں تھا، مرشد اور اس کے مریدین محفل برخاست کرکے جاچکے تھے۔ماحول پرایک عجیب و غریب رقت طاری تھی اور سات سو سال کے فاصلے ایک نقطے میں سمٹ آئے تھے۔

Source: http://jaamenoor.online/2018/03/31/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/

Check Also

(India) Catholic priest surprises Muslims speaking at Kerala mosque

WordForPeace.com Vechoor: For a change, a Catholic priest in Kerala chose a mosque to deliver his …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *