Who Are Eligilbe to Receive Zakaat (Islamic Charity)? زکاۃ کی ادائیگی کے مصارف

By Hafiz Hashim Qadri Misbahi, for WordForPeace.com
 
نظام اجتماعیت کے ساتھ مطلوب و پسندیدہ ہے۔ اسی طریقہ پر نبی ﷺ اور خلفاء کا عمل بھی تھا۔  اسی چیز کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے۔  ان کے مالوں میں سے زکوۃ وصول کر کے ان کو پاک و صاف کر دو۔ (سورہ توبہ آیت ۱۰۳) نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے لیکن فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے۔  اس طرح زکوۃ بھی بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہبھی ادا ہو جاتی ہے مگر اسکی فرضیت کے مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔  یہی سبب تھا کہ حضرت ابو بکر ؓ کے عہد خلافت میں بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکواۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطور خود اس کو صرف کر دیں گے۔ تو آپ نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں داخل کرنے پر مجبور کیا۔  آج کڑوڑوں صاحبِ نصاب کی موجودگی کے باوجود اجتماعی زکواۃ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے زکواۃ کو انفرادی طور پر صرف کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔  اسکی وجہ سے آج مسلم معاشرہ میں کوئی خیر و برکت نہیں نظر آتی۔
 
زکاۃ کی ادائیگی کے مصارف 
مصارف زکوۃ کے سلسلے میں قرآنِ حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورہ توبہ، آیت نمبر ۶۰) “زکواۃ تو ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار ہوں۔ جو اُسے تحصیل کر کے لائیں اور جن کے دِلوں کو اسلام سے اُلفت دی جائے اور گر دنیں (مصیبت سے نجات دلانے) چھوڑانے میں، قرض داروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا اور االلہ علم و حکمت والا ہے (کنز الایمان)
عامل وہ لوگ ہیں جو زکواۃ وصول کرنے کے لئے بادشاہِ اسلام کیطرف سے مقرر
 ہوں۔ ان کی تنخواہ زکواۃ سے دیجائے آگر چہ وہ غنی ہوں (بشرطِ سید ہاشمی نہ ہوں۔ سید حضرات اگر عامل (تحصیلدار) ہوں تو انہیں دوسرے مال سے تنخواہ دو زکواۃ سے نہ دو۔)   یعنی وہ کفار جن کے ایمان کی اُمید ہو۔ یا وہ نو مسلم جن کے دلوں میں ابھی ایمان جاگزیں نہیں ہوا ہے یا وہ سخت کافر جس کے فتنے کا اندیشہ ہو۔ پہلی اور تیسری قسم خارج ہو چکی ہیں۔ دوسری صورت اب بھی مصرفِ زکواۃ ہے اس طرح کہ مکاتب غلام کو زکواۃ سے مال دو۔  مکاتب وہ غلام ہے جسے مولا نے کہہ دیا ہو کہ اتنا روپیہ دے دے تو تُو ازاد ہے۔ یعنی بے سامان غازی ہو۔  اس سے یہ معلوم ہوا کہ زکواۃ صرف ان لوگوں کو دی جائے جو اسکے مستحق ہیں۔  لہذا مسجد، خانقاہ، مردے کے کفن میں نہ دی جائے ان کا کوئی مالک نہیں ہوتا۔ مسافر گر چہ مالدار ہو مگر سفر میں تنگ دست ہو گیا ہو تو اُسے بھی زکواۃ دے سکتے ہیں (تفسیر نورالعرفاں صفحہ  ۳۱۲)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ اور حکم الہٰی
نبی ﷺ جب صدقات تقسیم فرماتے تو بیمار دل لوگ طرح طرح کے اعتراضات کرتے۔  اللہ تعالیٰ نے صدقات کے مستحقوں کا ذکر فرما کر معترضین کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا کہ مبادا کسی وقت کوئی مسلمان اس مَد کی امدنی کو بے جا صرف نہ کرنے لگے۔  نیز زکوۃ شریعت اسلامیہ کا ایک اہم ترین (چوتھا) رُکن ہے اس لئے بھی اس کو وضاحت سے بیان کرنا ضروری تھا۔ 
 
 زکواۃ کے یہ آٹھ (۸) مصارف سورہ توبہ کی مذکورہ آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں۔  فِیْ سَبِْیلِ اللّٰہ:  یہ ایک جامع اصطلاح ہے. جہاد سے لے کر دعوتِ دین اور تعلیم دین کے سارے کام ’’فی سبیل للہ‘‘ کے حکم میں داخل ہیں. ائمہ سلف کی بڑی اکثریت اس بات کی قا ئل ہے کہ یہاں فی سبیل للہ سے مُراد جہاد فی سبیل للہ ہے اور اس کا اِطلاق اُن تمام کوششوں پر ہوتا ہے جو کلمتہ للہ کو بلند کرنے اور اللہ کے دین کو غالب آنے کے لئے کی جائیں خواہ وہ دعوت و تبلیغ کیلئے یا اشاعت دین اسلام کیلئے کی جائیں۔  مولانا احمد رضا نے فروغ دین و عقائد کیلئے دس نکاتی پروگرام تحریر فرمایا ہے۔
۱۔ عظیم اشان مدارس کھولے جئیں۔ باقاعدہ  تعلیمیں ہوں۔
۲۔ طلباء کو وظا ئف ملیں کہ خواہی نہ خواہی گرویدہ ہوں
۳۔ اُن میں جو تیار ہوتے جائیں تنخواہیں دے کر ملک میں پھیلائے جائیں کہ تحریر ً و تقریرً و وعظً و مناظرۃً اسعت دین و مذہب کریں وغیرہ وغیرہ۔
حدیث پاک میں اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’ آخر زمانہ میں دین کا کام بھی درھم و دینار سے چلے گا‘‘ اور کیوں نہ ہو کہ صادق و مصدوق ﷺ کا کلام ہے (فتاویٰ رضویہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۳۳)  علامہ یوسف القرضاوی نے فی سبیل للہ کے ضمن میں لکھا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی فی سبیل للہ سے جو اولین دور کی اہم ترین چیز مُراد لی جائے گی وہ ہے صحیح اسلامی زندگی کا احیا جو اسلام کے تمام احکام و عقائد، تصورات شعار، شرعی قوانین اور اخلاق و اداب روبکار لانے کیلئے ہو۔  اللہ سے دعا ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو زکوۃ کے مسائیل صحیح طرح سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطاء فرمائے۔ آمین    
08092540876

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *