Why Do the Mufits In India Lack the Logical Progression

 ہندوستان میں مفتیوں کے سماجی و مذہبی افکار میں منطقی نقطہ نظر کا فقدان کیوں ؟

word for peace,

 غلام رسول دہلوی 

چند دنوں قبل ہی دارالعلوم دیوبند نے اپنی ایک نظریاتی شاخ تبلیغی جماعت کو “گمراہ”، ‘‘گمراہ گر نظریات کی اشاعت کرنے والی’’ ، اور “قرآن و حدیث کی غلط ترجمانی کرنے والی جماعت” قرار دیکر اس کے خلاف ایک فتوی جاری کیاتھا۔ اور مدرسے کے احاطے کے اندر جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کر دیا تھاجیسا کہ 10اگست کے اردو روزناموں میں اس کی رپورٹ شائع ہوئی تھی۔ اس طرح، دیوبند نے ایک پیغام دیا تھا کہ اب یہ تعمیری خطوط پر ترقی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن بڑی حیرت کی بات ہے کہ اس مدرسے کے حکام- (فتوی جاری کرنے والے) علماء اور مفتیوں کا موقف جماعت سے مختلف معلوم نہیں ہوتا۔ اپنے ہر نئے عجیب و غریب فتوی کے ساتھ وہ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ انہیں رجعت پسندانہ افکار و نظریات کے حامل ہیں جن کی تبلیغ و اشاعت بالعموم تبلیغی جماعت کرتی ہے۔

دیوبند کے علماء ایک طویل زمانے سے ایسے قدامت پرست اور رجعت پسندانہ فتوے جاری کر رہے ہیں جو مسلمانوں کی روزمرہ کی زندگی کا مذاق بنتاہے۔ انہوں نے پھر ایسا ہی ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو سوشل میڈیا سائٹس پر اپنے یا اپنے خاندان کے افراد کی تصاویر پوسٹ کرنے سے منع کیا ہے۔ فتویٰ سہارنپور میں واقع دارالعلوم دیوبند سے بدھ کے دن اس وقت جاری کیا گیا جب ایک شخص نے یہ دریافت کیا کہ کیا سوشل میڈیا سائٹس پر تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت اسلامی شریعت میں ہے۔

اس فتوی میں دیوبند کے مفتی طارق قاسمی نے کہا ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا سائٹس پر اپنی یا خاندان کے افراد کی تصاویر پوسٹ کرنے کی اجازت اسلام میں نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “جب اسلام میں غیر ضروری طور پر تصاویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہے تو سوشل میڈیا پر ان تصاویر کو پوسٹ کرنے کی اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے”۔

در اصل اسلامی فقہ کی قرون وسطی اور غلط نصوص پر مبنی اس طرح کے فتاوے عہد حاضر میں امت مسلمہ کے لئے اجتماعی ذلت اور شرمندگی کا باعث ہیں۔ در اصل مفاد پرستی کی پیداوار اسلام فوبیا کی سازشوں سے کہیں زیادہ اسلام کے لئے ذلت کا سبب ایسے فتوے ہیں۔ اور پوری دنیا میں مسلمانوں کی دقیانوس تصویر کے پیچھے بھی ایک وجہ ایسا فتویٰ ہی ہے۔

 اس سے قبل دیوبند کے دارالافتاء نے یہ فتویٰ جاری کیا تھا کہ عورتوں کو بیوٹی پارلر جانے، ابرو بنوانے اور بال کٹوانے پر پابندی عائد ہونی چاہئے۔ دیوبند کے علماء نے ان تمام کاموں کو “اسلام کے اصولوں کے خلاف” قرار دیا ہے۔ دارالافتاء کے سربراہ مفتی ارشد فاروقی نے کہا ہے کہ خوبصورت نظر آنے کے لئے عورتوں کا ابرو سنوارنا “اسلام کے اصولوں کے خلاف” ہے۔ انہوں نے اپنے فتویٰ میں کہا ہے کہ: “اگر ابرو بڑھ جائیں تو وہ (عورتیں) تراش سکتی ہیں لیکن خوبصورت نظر آنے کے لئے ایسا کرنا غیر اسلامی ہے اور یہی حکم مردوں کا بھی ہے’’۔ حیرت کی بات ہے کہ سہارنپور کے دیگر بہت سے دیوبند علماء نے اس فتوی کی تائید کی ہے۔ ٹیلی گراف میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مولانا لطف الرحمٰن صادق قاسمی نے کہا کہ: ” بیوٹی پارلر جانے والی خواتین گنہگار ہیں۔ اس فتویٰ سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے کہ خوبصورت نظر آنے کے لئے انہیں بیرونی سطح پر کچھ بھی نہیں کرنا چاہئے”۔

لوگوں کو تعجب ہوتا ہے کہ کیا دیوبند کے علماء اب بھی قرون وسطی کے دور میں پھنسے ہوئے ہیں اور جدید سائنسی ترقیات کے ساتھ مکمل طور پر غیر ہم آہنگ ہیں۔ دنیا کے دیگر مذہبی معاشرے اہم سماجی، ثقافتی اور جغرافیائی و سیاسی مسائل کا مقابلہ کر رہے ہیں، جبکہ قرون وسطی اور دقیانوسی ذہنیت کے حامل علماء انتہائی فرسودہ فقہی دلائل کے ذریعہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے ان قدامت پرست مذہبی فرمانوں سے صرف اس تصور کی تائید ہوتی ہے کہ مسلمان ترقی پسند اور تازہ خیالات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

بظاہر دیوبند کا دارالافتاء اپنے مضحکہ خیز فتوں کی بنیاد پر میڈیا کی توجہ کی تلاش میں ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں یہ ‘‘جن گن من’’ ، ‘‘وندے ماترم’’ ، اور ‘‘بھارت ماتا کی جئے’’ جیسے قوم پرست نعروں کے خلاف فتوی جاری کرنے کے لئے میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے، جو اس وقت ایک حساس سیاسی مسئلہ بن گیا تھا۔

مذہبی حلقے میں فتویٰ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے برصغیر ہندوستان میں فتوویٰ کی روایت کی تاریخ کا سراغ لگانا ضروری ہے۔ فتویٰ جاری کرنے والے اداروں اور اسلام میں مفتیوں کی حیثیت پر ایک معروضی بحث و  مباحثہ انتہائی ضروری ہے۔

قرآن ہمیشہ انسانوں کی بنائی ہوئی فقہ کی اندھی تقلید پر استدلال اور تحقیق و تفتیش کو ترجیح دینے کا حکم دیتا ہے ، جبکہ مذہب کے معاملات میں اسلام کے عام پیروکاروں کو مناسب رہنمائی اور مشاورت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کو یہ اہم سوال کھڑا کرنا ضروری ہے کہ کیوں ہندوستان کا صدیوں پرانا روایتی روحانی اسلام سعودی وہابی فتوی کی روایت کی تقلید میں اپنی انفرادیت اور خوبصورتی کھو رہا ہے۔ سعودی عرب میں ہی سب سے پہلی بار سلطنت کے علماء نے اسلامی احکامات جاری کرنے اور مذہبی معاملات میں سعودی بادشاہوں کو مشورہ دینے کے لئے فتوی جاری کرنے کی ایک مستقل کمیٹی تشکیل دیا۔ اس عہدے پر تقریبا 21 سعودی شیوخ اور مفتیوں کو اس وقت کی شاہ فہد کی مذہبی حکومت نے اچھی تنخواہ پر مقرر کیا تھا۔ صداقت قادری کی ایک تحقیق کے مطابق سعودی مفتیوں نے دنیا بھر میں غیر عرب مسلمانوں کے درمیان 80 فیصد تک اپنے نظریات کی اشاعت کی ہے۔ اپنی کتاب “Heaven on Earth: A Journey Through Shari’a Law from the Deserts of Ancient Arabia”میں صداقت قادری لکھتے ہیں کہ انہوں (سعودی علماء) نے بہت سے مسلمانوں کے درمیان تربیت یافتہ علماء کی رائے کو دوبارہ متعارف کرایا جو مذہبی تعبیر و تشریح خود کرنے کے عادی ہو چکے تھے، بلکہ انہوں نے فتوی کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا، جو روایتی طور پر مقامی اور نسبتا مخفی اور روایت و معمولات کے ساتھ مشروط تھا۔ “

ستم ظریفی یہ ہے کہ “آن لائن فتویٰ” خدمات اور ویب سائٹس کی کوئی کمی نہیں ہے جو آج مقامی سیاق و سباق، روایت و معمولات، ثقافت اور قومی اقدار سے قطع نظر سعودی فتوی کو غیر عرب مسلم معاشروں اور خاص طور پر بر صغیر ہند کے ہر ہر خطے میں منتقل کر رہی ہیں۔ اس طرح کے فتوے IslamQA.info، fatwa-online.com، AskImam.org، اور ان جیسے دیگر آن لائن فتوی پورٹلز پر بکثرت دیکھے جا سکتے ہیں۔ بے شمار ہندوستانی مولوی آن لائن فتوی کی فیکٹریاں چلانے میں سعودی وہابی مفتیوں کی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ ایک مشکل چیلنج ہے جس کا سامنا ہندوستانی مسلمانوں کو اس نوعیت کے ہر فتوی کے نتیجے میں کرنا پڑتا ہے۔ لہذا، ہمیں اپنے آزاد مذہبی حقوق پر نظریاتی دست اندازی کو براہ راست چیلنج کرنے کی ضرورت ہے، جو ہمارا آئین ہم تمام ہندوستانیوں کو عطا کرتا ہے۔ ہندوستانی سماجی اور ثقافتی اقدار کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی جو کہ آئین ہند کے آرٹیکل 25 کا نچوڑ ہے –بنیادی طور پر ایک ایسا عنوان ہے جس پر گفتگو ہونی چاہئے- ہندوستان کے اندر مسلم معاشرے میں اسے تحفظ فراہم کی جانی چاہیے۔ دیوبند کے مفتیوں جیسے ہندوستانی مسلم معاشرے میں موجود بیکار علماء اس آفاقی حق کے لئے نقصان دہ ہیں۔ وہ مسلم ممالک میں رہنے والے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو ہی صرف اس سے محروم کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، بلکہ وہ اس ملک کی کثیر ثقافتی اقدار میں موجود اسلام کی پیروی کرنے والے ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اس سے محروم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ایسے بدنام زمانہ اسلام پسند مبلغ اور مفتی اکثر ہندوستانی مسلم عوام پر “اپیل” کے نام پر غیر مطلوب “فتوی” جاری کرتے ہیں۔ یاد کریں آسام کے 46 مولویوں نے کس طرح ایک پمفلٹ پر دستخط کئے تھے جس کے بارے میں انہوں نے دعوی کیا کہ وہ کوئی اسلامی فتوی نہیں ہے بلکہ ایک نوجوان مسلم گلوکار ناہید آفرین کے خلاف صرف ایک اپیل ہے۔ اگر چہ وہ اسے ایک فتوی نہیں بلکہ ایک ‘اخلاقی اپیل’، سمجھیں پھر بھی کس طرح 46 مولوی کے آفرین پر “اللہ کے غضب” کی دعا کرنے کا اور ان کے اس انتباہ کا جواز پیش کیا جا سکتا ہے کہ آفرین کے “گناہوں” کی وجہ سے اس کے والدین جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔

اس نازک موڑ پر ایسے ماہر اسلامی فقہاء کو جن کے اندر مسلم مذہبی امور کی اچھی سوجھ بوجھ ہے ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ کی ضرورت ہے۔ وہ ہندوستان میں فروغ پانے والے قدامت پرست فتاوے کے سنگین خطرات کو نظر انداز نہیں کر سکتےجو مسلم معاشرے کے ایک بڑے طبقے کو خوفزدہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت زیادہ توجہ طلب ہے کہ اکثر اسلامی علماء مسلم معاشرے کے اس سخت نظریاتی بحران پر غور نہیں کرتے۔ اس نظریاتی کشمکش کو ختم کرنے کے لئے مؤثر طریقوں پر غور و فکر کئے بغیر مسلم معاشرے کی سماجی و ثقافتی ترقی اور سالمیت صرف ایک خیال خام ہی رہے گی۔ یہ صورت حال اس امر کا مطالبہ کرتی ہے کہ علمائے اسلام ثابت شدہ سائنسی ترقیات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں ترقی پسند اسلامی روایات کو شامل کرتے ہوئے مذہبی نظریات کو وسعت دینے میں پوری سنجیدگی کے ساتھ مصروف عمل ہو جائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ دیگر مذاہب کے رہنماؤں نے تازہ سائنسی نظریات کے لئے اپنے دروازے کھول دئے ہیں جبکہ مسلم علماء کے سماجی و مذہبی افکار میں اب بھی منطقی نقطہ نظر کا فقدان ہے۔

Check Also

In the era of virtual terrorism, all cyber-enabled nations are equal

WordForPeace.com By Daniel Wagner A victory in information warfare can be much more important than victory …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *