Why Syria’s Grand Mufti Cautioned India against external calls for jihad? شام کے مفتی اعظم نے ہندوستان کو ‘جہاد کےخارجی محرکات’ سے کیوں خبردار کیا؟

WordForPeace.com

غلام رسول دہلوی

جنگ زدہ مسلم ممالک میں اسلامی تاریخ کی سنگین ترین فرقہ وارانہ کشمکش یعنی شیعہ سنی تقسیم کی جنگ زوروں پر ہے۔ شام اس شدیدی ترین جنگ کا موجودہ مرکز رہا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ  شام کے مفتی اعظم اور وہاں کی سب سے بااثر اسلامی شخصیت شیخ احمد بدرالدین حسون نے بیان دیا ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں “سنی اور شیعہ” دونوں ہیں۔

ایک عربی اخبار کے مطابق انہوں نے کہا کہ “میں عمل میں سنی ہوں عقیدت مندی میں شیعہ ہوں۔ میری جڑیں سلفی [راستباز] ہیں، اور میں تقویٰ و طہارت میں صوفی ہوں” (1)۔

تاہم، 25 ستمبر کو ہندوستان کے اپنے حالیہ دورے میں شام کے عرب جمہوریہ کے مفتی اعظم نے بنیاد پرست اسلامی فرقہ- وہابیت کے خلاف لوگوں کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں اور خاص طور پر مدارس کے طلباء کو “وہابیوں کی جانب سے جہاد کے بیرونی محرکات” سے متنبہ کیا ۔ پورے عالم اسلام میں تباہی مچانے والی ‘فرقہ وارانہ دہشت گردی’ پر زبردست خدشات کا اظہار کرتے ہوئے شیخ حسون نے یہ کہا کہ یہ ہندوستان کے سیکولر اور تکثیریت پسند سماجی ساکھ کو بھی خطرے میں ڈال دیگی۔

خاص طور پر شام کے مفتی اعظم  ہندوستان میں شامی سفیر ریاض عباس اور اپنے سیاسی مشیر مازن نصری کے ہمراہ ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کے دو روزہ دورے پر تھے۔ اس موقع پر ہندوستان کے ‘کثیر ثقافتی نظام حکومت’، کے لئے اس کی تعریف کرتے ہوئے شیخ حسون نے ہندوستان اور شام کے درمیان ایک قریبی مماثلت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ شام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ “ہندوستانی جمہوریہ کی ہی طرح” ہے۔ انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا “عرب خطے میں صرف شام ہی ایک ایسا ملک ہے جس میں 25 مختلف فرقے موجود ہیں” اور جو “مشرق وسطی میں پہلا سیکولر ملک” ہے۔

شیخ حسون نے  ہندوستانیوں سے سب سے اہم اپیل یہ کی کہ وہ ‘خارجی ایجنٹوں  اور داخلی دہشت گرد عناصر سے دور رہیں’ اور ‘وہابی انتہا پسندی کے خلاف متحد رہیں’۔ ہندوستان میں شامی سفیر  ریاض عباس نے بھی اپنے اس  بیان میں اس امر کی توثیق کی کہ ، “وہابیت عوام ، اسلام اور ہندوستانیوں کی دشمن ہے  اور انہیں وہابیوں سے گریز کرنا چاہئے”۔

حکومت ہند کو ‘وہابیت کے نظریاتی حملوں’ کا مقابلہ کرتے ہوئے محتاط رہنے کے لئے شام کے مفتی اعظم کا مشورہ اہم رخ اختیار کر گیا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ بہت سے تجزیہ کاروں نے اس کے اہم نظریاتی محرکات کو نظر انداز کر دیا ہے۔ وہ اس بات کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے کہ کیوں شام کی اعلیٰ ترین اسلامی اتھارٹی نے  ہندوستانی مسلمانوں اور ان کے مدرسوں کو ‘وہابیوں کی جانب سے جہاد کے خارجی مطالبات’ پر توجہ نہ دینے کی تنبیہہ کی اور کیوں ہندوستان کو محفوظ کرنے کے لئے اس معاملے پر تمام مذہبی سربراہان کو پوری سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرناچاہئے۔

درحقیقت وہابیت سنی یا شیعہ کی طرح مرکزی دھارے کا کوئی اسلامی فرقہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ قرون وسطی کے مذہبی عالم شیخ ابن تیمیہ کی طرف سے پیش کردہ ایک علیحدگی پسند تکفیری فقہ پر مبنی ایک انتہا پسند نظریہ ہے جسے 18 ہویں صدی کے قدامت پرست اسلام پسند نظریہ ساز شیخ ابن عبد الوھاب نجدی نے رواج بخشا۔ عربی میں اپنی ایک مشہور کتاب، “کتاب توحید ‘ میں  نجدی نے لکھا:” ایک انسان اگر چہ شرک کو ترک کر دے لیکن اس کا اسلام اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ کفار اور  مشرکین کے تئیں دشمنی کا اظہار صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ اپنے اعمال و کردار کے ذریعہ نہ کر دے”۔۔۔۔۔۔۔ “کفر اور اسلام ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ ایک کی پیش رفت سے دوسرے کی پسپائی لازم ہے ان دو متضاد عقائد کے درمیان بقائے  باہمی ناقابل تصور ہے”۔۔۔۔۔۔” اسلام کی عزت کفر اور کافر کی توہین میں مضمر ہے۔ جو کسی کافر کا احترام کرتا ہے وہ مسلمانوں کی توہین کا مرتکب ہے۔ ان کی عزت کا مطلب محض انہیں احترام سے نوازنا اور کسی بھی مجلس میں انہیں اعزاز دینا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں ان کی مصاحبت اختیار کرنا اور ان پر توجہ دینا بھی شامل ہے۔ انہیں دائرہ بازو کے اندر رکھا جانا چاہئے جس طرح کتے رکھے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ “

ایسی علیحدگی پسند تحریروں نے تکفیریت کی زہریلی فقہ کا راستہ کھولا جس میں ایک مسلمان کو مرتد یا دائرہ اسلام سے خارج قرار دیکر پوری دنیا میں بے گناہ شہریوں کے بے دریغ قتل کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسلامی تاریخ کا ایک معروضی مطالعہ اس عالمی اور تاریخی رجحان کو واضح کرتا ہے۔

14ہویں صدی کے ایک بنیاد پرست اسلامی فقیہ ابن تیمیہ کے ماردین کے مشہور فتوی میں جس کا ذکر ان کی کتاب مجموعہ الفتاویٰ کے 28 ویں جلد میں ہے، شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر واقع ایک شہر ماردین میں غیر جنگجو شہریوں کے قتل عام کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ داعش کے ترجمان دابق کے (شمارہ 6، صفحہ 40) پر بھی ابن تیمیہ کے اس خطرناک فتوی کو نقل کیا گیا ہے اور اس کی بنیاد پر اعتدال پسند مسلم علماء اور عام شہریوں کے قتل کا فقہی جواز پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ ان کی نظر میں ‘مرتد’ ہیں۔

لیکن ماردین کے اس ظالمانہ فتوی کے زبردست رد عمل میں مرکزی دھارے کے مسلم علماء اور خاص طور پر اس وقت کے حنفی اور صوفی علماء نے ابن تیمیہ کی کھل کر تردید کی۔ انہوں نے ابن تیمیہ کے ایک اور فتوی کی تردید کی جس میں انہوں نے  “جہاد مع الکفار” (کافروں کے خلاف جنگ) میں مصروف عمل لوگوں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

اب، ابن تیمیہ کے فتویٰ کا موازنہ آج کے سب سے بڑے اسلام پسند فقیہ اور اخوان المسلمین کے نظریاتی پیشوا اور قطر کے سلفی عالم دین شیخ یوسف القرضاوی کے قتویٰ کے ساتھ کریں جن کا فتویٰ وہابی سلفی کمیونٹی کے لئے ایک اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ در اصل ماردین پر ابن تیمیہ کا فتوی قرضاوی کے فتویٰ سے مختلف نہیں ہے جس میں انہوں نے شامی مسلح افواج، شہریوں، علماء اور یہاں تک کہ عام شہریوں کو بھی قتل کرنے کا مذہبی فرمان جاری کیا ہے جس میں قرضاوی نے انہیں ‘جاہل’ اور ‘ناخواندہ افراد” قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ [مذہب] میں ہر اس شخص کو نشانہ بنانے کی “اجازت ہے جو شامی حکومت کی حمایت کرتا ہے” (2) ۔

دلچسپ بات یہ ہے قرضاوی ایسے سب سے پہلے معاصر اسلام پسند فقیہ ہیں جنہوں نے ‘بعض حالات’ میں ایک جنگی حربہ کے طور پر خودکش بم حملے کو جائز قرار دیا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ ٹیلی ویژن پر اپنے ہفتہ وار پروگرام “شریعت اور زندگی” (الشریعہ و الحیات) کے ذریعے یہ فتویٰ پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ پرتشدد جہاد اور خودکش بم حملے کے جواز میں قرضاوی کے فتویٰ نے کفار اور مرتدین کے خلاف جنگ میں سرگرم عمل لوگوں کو فقہی جواز فراہم کیا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ان کے فتووں نے شہادت کی کارروائیوں کو “اللہ کے لیے جہاد کی ایک اعلی ترین شکل قرار دیکر” فروغ دیا اور قانونی جواز بھی فراہم کیا ہے (3)۔

قطر کے سلفی فقیہ  قرضاوی نے کہا کہ “یہ صرف میرا ہی ماننا نہیں ہے کہ جن کے پا س کوئی ہوائی جہاز اور ٹینک نہیں ہے ان کے لئے اپنے دفاع کے طور پر خودکش بم دھماکوں کو انجام دینا ایک جائز طریقہ ہے بلکہ دیگر سینکڑوں علماء کی بھی یہی رائے ہے”۔

قرضاوی ہی کی طرح ‘اردگان کے اعلیٰ فتوی حامی’ کی حیثیت سے مشہور ترکی کے ایک اسلامی فقیہ شیخ اہئریٹن کرامان (Hayrettin Karaman) نے بھی تشدد، بدسلوکی اور ترکی میں بے گناہ شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کی تائید کی ہے۔ کرامان نے  صدر ترکی کی غلطیوں کی توثیق اور ان کی ذمہ داریوں سے برأت میں کئی مذہبی فتوے جاری کئے ہیں۔ انہوں نے اردگانی اخبار ینی شفق (Yeni Şafak) میں ترک شہریوں کے قتل اور ان پر ظلم و ستم کو “چھوٹے جرائم” قرار دیتے ہوئے  کئی مضامین لکھے ہیں (4)۔

قطر کے یوسف قرضاوی اور ترکی شیخ کرامان کی طرح ہندوستان میں سیاسی علماء اور تکفیری وہابی مبلغین نے بھی دہشت گردی کی بعض سرگرمیوں کا جواز پیش کرنے کے لئے غیر معمولی فقہی بنیادیں فراہم کی ہیں۔ وہ ایک طویل عرصے سے اپنی مذہبی تقریبات میں ‘جہادِ کشمیر’ اور ‘غزوۂ ہند’ (ہندوستان کے خلاف جہادی مہم) کی دعوت دے رہے ہیں۔ کشمیر میں ایک زبردست وہابی مبلغ مشتاق ویری باقاعدہ طور پر  وادی کی سلفی مساجد میں انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی سے بھری ہوئی تقریریں کر رہے ہیں۔ ان کی بہت ساری نفرت انگیز تقریریں نوجوان کشمیریوں کی توجہ داعش کی جانب مبذول کر رہی ہیں۔ ان کی علیحدگی پسند بنیادوں  کی طرح مالاپورم میں ایک مشہور سلفی عالم دین شمس الدین فرید نے بھی کیرالہ میں ایک انتہا پسند مذہبی بیان جاری کیا ہے۔ وہ ایک متنازعہ فیہ اسلام پسند مبلغ ذاکر نائیک کے راستے پر ہیں جن پر ہندوستان میں پابندی عائد کر دی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ‘ایک جنگی حربہ’ کی صورت میں خودکش بم حملے کے  جواز میں کئی تقریریں کی ہیں (5)۔

“وہابیوں کی جانب سے جہاد کے خارجی محرکات” کے بارے شام کے مفتی اعظم  کے انتباہ کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی حکومت کو داخلی سلامتی کی حفاظت کے لیے احتیاط کے ساتھ کام کرنا چاہئے۔ اس تناظر میں ایک سب سے اہم کام یہ ہے کہ جنوبی ہندوستان میں جو سیاسی اسلام پسند تنظیمیں اخوان یا اخوان المسلمین کے ساتھ اتحاد قائم کر رہی ہیں ان کی تفتیش کی جانی چاہئے۔ اس ضمن میں کیرل کی انتہا پسند اسلامی تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) ایک تازہ ترین معاملہ ہے۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا جو کہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہونے کا دعوی کرتی ہے اس کا اخوان المسلمین کے ساتھ اتحاد ہے۔ مبینہ طور پر اس پر کیرالہ کی ایڈوکی میں ایک عیسائی پروفیسر کا ہاتھ کاٹنے اور (اسلامک اسٹیٹ الہندی ماڈیول) چلانے جیسی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔ ایک ایسا معاملہ سامنے آ چکا ہے جس کے مطابق پی ایف آئی نے اسلامک اسٹیٹ الہندی کے ساتھ مل کر جنوبی ہندوستان کے نام چین لوگوں اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تیار کیا تھا جیسا کہ حکومت کے لئے این آئی اے کی رپورٹ سے ظاہر ہے (6)۔

گزشتہ چند سالوں میں شیخ القرضاوی کی تعلیمات سے متاثر اخوان المسلمین کی تحریک کو بڑے پیمانے پر ہندوستان کے سلفی حلقوں میں اور خاص طور پر کیرالہ اور مالابار کے ساحلی علاقوں میں مالی امداد اور عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس جہت میں منظم طریقے سے پیش قدمیاں کی جارہی ہیں تاکہ دو سیاسی اسلام پسند نظریہ سازوں کی تعلیمات کو کیرالہ کے مسلم نوجوانوں کے ذہن میں منتقل کیا جاسکے؛ (1) مصری عالم دین اور اخوان کے سرکردہ رکن  سید قطب جنہوں نے مصر میں دیگر باغی اسلام پسند تنظیموں کا تصور پیش کیا۔ (2) مولانا ابوالاعلیٰ مودودی جن کی تحریروں نے اس حد تک اسلامی معتقدات و معمولات کو سیاست کا رنگ دیا  کہ انہوں نے اسلام کے ہر ایک روحانی عقیدہ اور عمل کو ایک سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا۔ اس قسم کا انتہا پسند نظریہ جس نے امن و محبت پر مبنی روحانی مذہب اسلام کو سیاسی اقتدار کے مذہب میں تبدیل کر دیا ہے مغربی ایشیاء میں افراتفری کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ لیکن زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب یہ قطر کے اشارے پر ہندوستان میں تباہی مچانے کی تیاری میں ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ اخوان المسلمین جنوبی ہندوستان میں مسلم نوجوانوں کو اپنے جھانسے میں لے رہی ہے۔ لیکن ایک طرف تو اخوان کے بنیاد پرست نظریات پورے جنوبی ایشیا میں پھیل رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف مرکزی دھارے کے ہندوستانی مسلمان اس کے کمزور تکثیریت پسند اقدار کے بارے میں فکر مند ہیں جس پر انہیں فخر ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ ہندوستان خانقاہوں اور درگاہوں جیسے روحانی مسلم مراکز معیاری تعلیم کے مراکز میں تبدیل کرے تاکہ وہ نوجوان مسلم ذہنوں کو گمراہ ہونے سے بچا سکیں۔ اتنے کم وسائل کے ساتھ جو انہیں دستیاب ہیں وہ اتنا بڑا کام انجام نہیں دے سکتے۔ لیکن کیا خاموش تماشائی بنے رہنے کے علاوہ ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے؟

Source

http://www.newageislam.com/urdu-section/why-shaikh-ahmad-badruddin-hassoun-cautioned-india-to-pay-heed–%D8%B4%D8%A7%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D8%A7%D8%B9%D8%B8%D9%85-%D8%B4%DB%8C%D8%AE-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A8%D8%AF%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%AF%D9%8A%D9%86-%D8%AD%D8%B3%D9%88%D9%86-%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%8C%D9%88%DA%BA-%DB%81%D9%86%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D9%88–%D8%AC%DB%81%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%DB%92-%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%8C-%D9%88%DB%81%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%D8%AD%D8%B1%DA%A9%D8%A7%D8%AA–%D9%BE%D8%B1-%D8%AA%D9%88%D8%AC%DB%81-%D8%AF%DB%8C%D9%86%DB%92-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D8%A6%DB%92-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D8%9F/d/113286:

Check Also

LeT’s online magazine “Wyeth” like Dabiq of ISIS spreads extremist ideology

WordForPeace.com Banned Pakistan-based terror group Lashkar-e-Taiba (LeT) headed by globally designated terrorist and the mastermind …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *