Urdu

علامہ فضل حق خیرآبادی علمی وراثت،مشن اورتحریک کانام: خوشترنورانی Khushtar Noorani on Allama Fazl e Haque Khairabadi’s intellectual heritage

(1) علامہ فضل حق خیرآبادی کے یوم وفات کی مناسبت سے آل انڈیاعلماومشائخ بورڈکی جانب سے مذاکرے کااہتمامعلامہ فضل حق خیرآبادی علمی وراثت،مشن اورتحریک کانام: خوشترنورانی Khushtar Noorani on Allama Fazl e Haque Khairabadi’s intellectual heritage
نئی دہلی:ورلڈصوفی فورم کے زیراہتمام آل انڈیاعلماومشائخ بورڈکے آفیشیل فیس بک پیج پرامام الہندمجاہدآزادی علامہ فضل حق خیرآبادی کے یوم وفات کی مناسبت سے ایک مذاکرے کا انعقادکیاگیاہے،جس میں معروف اسکالرومحقق ڈاکٹرخوشترنورانی(امریکہ)،معروف مقررمولاناسیدسیف الدین اصدق چشتی (ڈائرکٹرتحریک پیغام اسلام، جمشیدپور)اسلامی اسکالرمفتی منظرمحسن اور سید نورین علی حق نے شرکت کی۔اس پروگرام کوآل انڈیاعلماومشائخ بورڈکے آفس انچارج مولانامختاراشرف نے موڈریٹ کیا۔ علامہ فضل حق خیرآبادی کاتعارف کراتے ہوئے پروگرام کے موڈریٹرمختاراشرف نے کہاکہ آج کے اس پروگرام کاموضوع علامہ فضل حق خیرآبادی:حیات وخدمات ہے۔تاریخ شاہدہے کہ جب جب کسی قوم نے اپنے محسنین ومربین کوفراموش کیاہے تووہ قوم زوال پذیرہوئی ہے۔ہم نے بھی اپنے محسنین کوفراموش کیاہے۔شایداسی لیے قوم مسلم کوزوال وانخطاط نے آگھیراہے۔آج کے اس پروگرام میں ہمارے ساتھ اہم اسکالرزموجودہیں،جن سے ہم علامہ کی حیات وخدمات پرگفتگوکریں گے۔علامہ فضل حق خیرآبادی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔انھوں نے ایک طرف دینی تعلیم کے لیے بے تحاشاکام کیااورمنطق وفلسفے کے امام کہے گئے تودوسری جانب جنگ آزادی میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔زوال کے عہدمیں علامہ فضل حق خیرآبادی امیدکی ایک کرن تھے۔
معروف محقق اورماہ نامہ جام نورکے چیف ایڈیٹرڈاکٹرخوشترنورانی نے کہاکہ علامہ فضل حق خیرآبادی میری نظرمیں کسی ایک فردیاشخصیت کاکانام نہیں ایک پوری وراثت،ایک پورے مشن اور ایک پوری تحریک کانام ہے۔خاندانی،علمی،فکری،سماجی اورتحریکی وسیاسی نقطہ نظرسے علامہ کی شخصیت بہت نمایاں ہے۔انیسویں صدی کی شخصیات میں بلاشبہ اگرہندوستان میں کسی ایک شخص کوامام الہندکہاجاسکتاہے تووہ علامہ فضل حق خیرآبادی کی شخصیت ہے۔علامہ نے جہاں ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ میں نمایاں کارنامے انجام دیے وہیں انھوں نے اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے بھی ناقابل فراموش کارنامہ انجام دیاہے۔ گزشتہ دوصدیوں میں جس نے بھی کسی مدرسے سے تعلیم حاصل کی ہے۔اس کاشجرہ علمی خانوادۂ علامہ فضل حق تک پہنچتاہے۔فراموش کردہ شخصیات پرکام کرنااوروقت اورحالات کے پیش نظران کے افکاروآراکواجاگرکرنامیرامشن ہے۔میں علامہ فضل حق خیرآبادی پربھی اسی جذبے کے تحت کام کیاہے۔میری کتاب علامہ فضل حق خیرآبادی:چندعنوانات این سی پی یوایل سے شائع ہوچکی ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈاکٹرواحدنظیرعلامہ فضل حق خیرآبادی اورمرزاغالب کے آپسی مراسم پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ مرزاغالب جیساخودداراوراناپرست شاعربھی علامہ کواپنامحسن سمجھتاتھا۔صدرالصدورصدرالدین آزردہ غالب کی مشکل گوئی کوناپسندکرتے تھے۔لیکن غالب ان کی باتوں کونظراندازکردیتے تھے۔علامہ نے جب مرزاغالب کوان کی مشکل گوئی کی طرف متوجہ کیاتوانھوں نے علامہ کے مشورے کولائق اعتناجانااوراس پرعمل کیا۔گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل اسی کی طرف اشارہ ہے۔جب علامہ دہلی چھوڑ کرعارضی طورپرجانے لگے تومرزاغالب کواس کابڑاقلق تھا۔غالب اپنے خطوط میں بھی علامہ فضل حق خیرآبادی کاتذکرہ کرتے ہیں۔علامہ فضل حق نے مرزاغالب کے کلام پراصلاح بھی دی ہے۔علامہ خیرآبادی خودایک پرگوشاعربھی تھے۔زمانہ جاہلیت کے چالیس ہزاراشعارانھیں ازبرتھے۔ان کے تقریباچارہزاراشعارشائع ہوچکے ہیں۔
مولاناسیدسیف الدین اصدق چشتی نے کہاکہ علامہ فضل حق خیرآبادی کی ذات والاصفات ہندیوں کے لیے نعمت مترقبہ ہے۔وہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں ہندوستانیوں کے قائد ہیں۔علامہ نے کبھی بھی یہ نہیں سوچاکہ یہ میدان میرانہیں ہے۔وہ ہرمیدان میں متحرک نظرآتے ہیں۔تاریخ لکھتے ہوئے مورخین نے انصاف سے کام نہیں لیا۔ہرزمانے میں علامہ کی خدمات کوشعوری طورپرفراموش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔خانقاہیوں اورصوفیوں سے تعلق رکھنے والوں نے ہرعہدمیں فعال کرداراداکیاہے۔آج کے ہندوستانیوں کوعلامہ فضل حق خیرآبادی سے سبق لیناچاہئے،جنھوں نے ہمیشہ خودکوہندوستانی بناکرپیش کیاکبھی بھی کسی بھی تعصب کاشکارنہیں ہوئے۔
مفتی منظرمحسن نے کہاکہ علامہ فضل حق خیرآبادی کی حیات وخدمات پراکیسویں صدی میں کافی کام ہواہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتابوں،مضامین اوران کی خدمات کو اردوکے علاوہ دیگرزبانوں میں بھی ترجمہ کرناچاہئے اوران کی خدمات کودوسروں تک بھی پہنچاناانتہائی ضروری ہے۔آج کے ہندوستانیوں تک اگرعلامہ کی خدمات،شخصیت اورکارنامے کودوسروں تک پہنچاناہے توان کی کتابوں کے علاوہ ان سے متعلق کتابیں بھی دوسری زبانوں میں ترجمہ کرناہوگا۔بالخصوص ہندی زبان میں علامہ کوپیش کرناازحد ضروری ہے۔
سیدنورین علی حق نے علامہ فضل حق خیرآبادی کی حیات وخدمات پرگفتگوکرتے ہوئے کہاکہ علامہ مروجہ مولویت کی اصطلاح سے بہت آگے کی چیز تھے۔وہ علمائے وقت کے سامنے عالم ربانی اورعالم راسخ تھے،مجاہدین آزادی کی صفوں میں مجاہدآزادی تھے۔قانون داں تھے،انقلابی تھے،امام معقل ومنقول تھے۔امتدادزمانہ کے ساتھ علامہ فضل حق خیرآبادی کی اہمیت اوران کی خدمات کے وسیع تردائرے کوزیادہ بہترطریقے سے سمجھاجاسکتاہے کہ انھوں نے اپنے عہدمیں کس طرح علمی وفکری اورسیاسی سطح پرکام کیا۔وہ ایک طرف ایک صوفی حضرت شاہ دھومن دہلوی کی بارگاہ میں باریاب ہوتے تھے تودوسری جانب بادشاہ وقت بہادرشاہ ظفراورجرنیل وکرنیل سے بھی ان کے خوش گوارتعلقات تھے۔انھوں نے باضابطہ میدان جنگ میں بھی حصہ لیا۔اکیسویں صدی میں ان کی خدمات اورکارنامے پرکام ہوئے ہیں،مگراس کادائرہ مزیدوسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

CAPTCHA ImageChange Image

Back to top button
Translate »